فضائل درود پاک لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
فضائل درود پاک لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ماہِ مبارک ربیع الاوّل --- میلادالنبیﷺ ، بعثتِ رحمتِ عالمﷺ اور وصال نبویﷺ کا مہینہ

0 Comments

ماہِ مبارک ربیع الاوّل تین اہم واقعات کے لحاظ سے انتہائی اہمیت و عظمت والا مہینہ ہے۔

اول:  کہ اس ماہِ مبارک میں نبی رحمت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت ہوئی۔

دوم:  اسی ماہِ مبارک میں آپ علیہ الصلاۃ والسلام کو نبوت کے منصبِ جلیلہ سے سرفراز فرمایا گیا۔

سوم:  اسی ماہِ ربیع الاوّل کی بارہ تاریخ کو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس جہانِ فانی سے پردہ فرمایا۔

اب قابلِ غور و فکر بات یہ ہے کہ ماہِ مبارک ربیع الاوّل کو کس طرح سے منایا جائے اور اس میں کیا اعمال کئے جائیں۔

دورِ حاضر میں جو ایک رواج چل نکلا ہے کہ بڑے بڑے جلسے اور جلوس نکالے جاتے ہیں اور جشنِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منایا جاتا ہے کیا یہ درست ہے؟  اس کی تاریخی حقیقت کیا ہے ؟ اور اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ ماہِ ربیع الاوّل کو کس انداز سے گزارا جائے۔

حقیقت میں  اس انداز اور طور طریقے سے ربیع الاوّل منانے کی تاریخ کچھ زیادہ پرانی نہیں چند دہائیوں پر مشتمل ہے۔ اس سے پہلے ہم نے خود اپنے بڑوں  سے سنا اور انہیں کرتے بھی دیکھا کہ وہ اس ماہ کی بارہ تاریخ کو بارہ وفات کے نام سے یاد کرتے تھے۔  اور حسبِ توفیق کچھ پکا کر غرباء ، اقرباء اور  ہمسائیوں میں تقسیم کرتے اور مرحومین کیلئے دعا کرتے۔ چونکہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی وفات پر تمام ائمہ دین متفق ہیں کہ بارہ ربیع الاوّل کو ہوئی  تو اس  دن کو دعا کرنا اور  حسبِ توفیق کھانا پکا کر غرباء میں تقسیم کرنا بظاہر کچھ ایسا غیرشرعی عمل نہیں تھا البتہ اس عمل کی بھی قرآن و حدیث اور صحابہ کرام کی زندگیوں سے کوئی دلیل  نہیں ملتی۔ میں سمجھتا ہوں چونکہ یہ عمل بھی اپنا  بنایا گیا یا ایجاد کردہ تھا  اور دین میں جب بھی کوئی نئی بات یا نیا  طریقہ  کوئی اپنی مرضی سے ایجاد کرتا ہے تو وہ رکتا نہیں بلکہ دن بدن اس میں بگاڑ آتا رہتا ہے اور یہی معاملہ اس عمل کے ساتھ ہوا کہ وہ سادگی آہستہ آہستہ ختم ہو گئی  اور دکھاوے کیلئے اسی دن کو میلاد النبی کے نام سے منایا جانے لگا پھر کچھ عرصے بعد اسے عید میلاد النبی  کا نام دے دیا گیا  اب چونکہ مسلمانوں کی تو عیدیں بھی شرعی حدود و قیود کی پابند ہوتیں ہیں تو یار لوگوں نے سوچا کہ کیوں نہ اسے جشن کا نام دیا جائے کیونکہ جب  نام ہی جشن ہو گا تو جشن تو کسی حدود و قیود کا پابند نہیں ہوتا ۔ جشن میں تو جس کا جو دل چاہے کرے اور جس طرح سے مرضی منائے ۔ سو اب یہ دن یعنی بارہ ربیع الاوّل ، جشن ِ عید میلاد النبی ﷺ کے نام سے منایا جاتا ہے  حالانکہ آپ ﷺ کی ولادت کی مختلف روایات ہیں جن میں اکثریت ائمہ دین کے نزدیک 9 ربیع الاوّل کی روایات زیادہ معتبر ہیں  جبکہ آپ ﷺ کی وفات پہ تو تمام ائمہ دین کا اتفاق ہے کہ بارہ ربیع الاوّل کے دن ہوئی اور وفات کا دن غم کا دن ہوتا ہے جبکہ دورِ حاضر میں جس دن نبی رحمتﷺ کا وصال ہوا  اس دن جشن منایا جاتا ہے ۔ العیاذ باللہ

تیسری اور سب سے اہم بات  جو   خود اللہ تبارک وتعالیٰ قرآن کریم میں بیان فرماتا ہے۔ فرمایا: لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ(164)

بلاشبہ یقینا اللہ نے ایمان والوں پر احسان کیا جب اس نے ان میں ایک رسول انھی میں سے بھیجا، جو انہیں  اس کی آیات سناتا اور ان کا تزکیہ کرتا اور انھیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے، حالانکہ بلاشبہ وہ اس سے پہلے  کھلی گمراہی میں تھے۔

یعنی قرآن کریم کی زبانی جو سب سے اہم اور بڑی سعادت مؤمنین کیلئے ہے وہ ہے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا ان کی طرف رسول مبعوث فرمایا جانا ۔

ولادتِ باسعادت تو تمام جہانوں کیلئے سعادت بنی لیکن بندہ مومن کی لئے سعادت آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بعثت عالی ہے ۔  کیونکہ جب آپ ﷺ مبعوث ہوئے تو بندہ مومن تک اللہ کا پیغام پہنچا، آپ ﷺ نے اللہ کی آیات، اللہ کے احکامات لوگوں تک پہنچائے اور انہیں پاک کیا ہر قسم کے شرک و کفر سے ، ان کے دلوں میں نورِ ایمان بھر دیا ، انہیں برکاتِ نبوت عطا کیں  پھر انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دی  جو لوگ اس سے پہلے واضح طور پر گمراہی میں تھے۔ آپ ﷺ کا دنیا میں بھیجا جانا اور نبی مبعوث کئے جانے کا مقصد اس آیت میں بڑی و ضاحت سے بیان فرما دیا گیا لیکن دورِ حاضر میں  ہمارے علمائے دین بجائے اس کے کہ لوگوں کو آپ ﷺ کی بعثت کا مقصد بتاتے اور لوگوں تک تعلیمات و برکاتِ نبوت پہنچاتے انہیں جلسوں اور جلوسوں میں لگا دیا ، امتِ مسلمہ کو  جشن منانے پہ لگا دیا ۔ کیونکہ  جب بات ولادتِ باسعادت کے بجائے بعثتِ رحمتِ عالم کی آئے گی تو پھر بات قرآن کریم کی آئے گی، پھر حدیث و سنت کا معاملہ آئے گی، پھر اپنی زندگیوں کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالنا پڑے گا، پھر اتباعِ محمد الرسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کرنا پڑے گا۔ اسی وجہ سے ہم بعثتِ نبوی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی طرف غور ہی نہیں کرتے اور سال میں ایک بار ولادتِ باسعادت کی خوشی  منا کر خود فریبی میں مبتلا ہیں کہ شاید عشقِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا یہی تقاضہ ہے جو ہم نے پورا کر دیا۔

میرے بھائی ایسا نہیں ہے عشقِ مصطفیٰ تو اطیعواللہ واطیعوا لرسول سکھاتا ہے، عشقِ مصطفیٰ تو صحابہ کرام جیسا ایمان عطا کرتا ہے، عشقِ مصطفیٰ تو زندگیوں میں انقلاب لے کر آتا ہے اور زندگی کے ہر عمل کو شریعتِ اسلامیہ کے سانچے میں ڈھال دیتا ہے۔ہم نے ولادت کی خوشی کو ایک تہوار کی شکل دے دی کہ سال میں ایک دفعہ دل کھول کے خرچ کر دیا اور پھر سارا سال مسجدوں کا منہ نہیں دیکھتے ، زندگی ویسی کی ویسی خلافِ شرع گزارتے رہتے ہیں ۔ حتی ٰ کہ شکل سے پتہ ہی نہیں چلتا کہ مسلمان ہے بھی کہ نہیں کیونکہ  نبی رحمت ﷺ کا امتی تو دور سے دکھائی دیتا ہے  کہ یہ باریش چہرہ ضرور مسلمان کا ہے، یہ جو چہرے پہ داڑھی سجائے ہوئے ہے یہ آپ ﷺ کا امتی ہے۔ عشقِ مصطفیٰ کا اولین تقاضا یہ ہے کہ زندگی سنت کے مطابق گزاری جائے ، اسلام کو اپنے روز مرہ کے امور میں شامل کیا جائے ، کوئی بھی کام کرنے سے پہلے یہ سوچا جائے کہ آپ ﷺ کا طریقہ کیا ہے۔ کیونکہ  سنت سے اچھا کوئی طریقہ، کوئی اسلوب نہیں ہو سکتا۔

عرض یہ ہے کہ اس ماہِ مبارک کو ولادتِ باسعادت، وصال نبویﷺ یا بعثتِ عالی جس بھی  وجہ کو دیکھ کے منایا جائے  طریقہ اور اسلوب قرآن و سنت سے لیا جائے گا ، کام اور عمل صرف وہی کئے جائیں جن کی اسلام نے اجازت و حکم دے رکھا ہے اور درود و تلاوت کی محافل منعقد کی جائیں، مسجدوں میں شور و غل مچا کے مسجدوں کی بے حرمتی کے بجائے  سیرت النبی ﷺ  پہ بیانات ہوں، عوام کو تفرقہ بازی کے بجائے سنتِ خیر الانام اور اسوہ حسنہ سے متعارف کرایا جائے  ، آواز کا جادو جگانے کے بجائے ادب و احترا م سے آپ ﷺ کی شان ِ اقدس میں نعتیہ کلام پیش کیا جائے تو  کوئی مضائقہ نہیں لیکن اگر بڑے بڑے جلوسوں، جلسوں، کھانوں اور چراغاں پہ بے دریغ خرچ کرنا اور زیادہ سے زیادہ پیسہ لینے والے نام نہاد علماء لا کر خود کو عاشقِ رسول سمجھنا ہے  تو یہ خود فریبی ہے  ایسی کوئی رہنمائی نہ تو قرآن و حدیث سے ملتی ہے نہ ہی صحابہ کرام نے ایسا کوئی عمل کیا اور نہ ہی چودہ سو سال میں کسی مکتبہ فکر کے ائمہ دین سی ایسی کوئی بات ثابت ہے۔ تمام ائمہ دین نے اس ماہ مبارک کو انتہائی ادب و احترام سے منانے کا حکم دیا  اور اس کی حدود و قیود بھی بتلائیں اور کیا اعمال کئے جائیں یہ بھی بتلایا ۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں اپنی زندگیاں سنت کے مطابق گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تادمِ آخر صراطِ مستقیم پہ قائم رہنے کی توفیق  و ہمت عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

طالبِ دعا : ابو محمد زبیر اویسی

فضیلتِ درود پاک

0 Comments


ابی بن کعب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ   جب دو تہائی رات گزر جاتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھتے اور فرماتے: لوگو! اللہ کو یاد کرو، اللہ کو یاد کرو، کھڑکھڑانے والی آ گئی ہے اور اس کے ساتھ ایک دوسری آ لگی ہے، موت اپنی فوج لے کر آ گئی ہے۔ موت اپنی فوج لے کر آ گئی ہے“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں آپ پر بہت صلاۃ ( درود ) پڑھا کرتا ہوں سو اپنے وظیفے میں آپ پر درود پڑھنے کے لیے کتنا وقت مقرر کر لوں؟ آپ نے فرمایا: ”جتنا تم چاہو“، میں نے عرض کیا چوتھائی؟ آپ نے فرمایا: ”جتنا تم چاہو اور اگر اس سے زیادہ کر لو تو تمہارے حق میں بہتر ہے“، میں نے عرض کیا: آدھا؟ آپ نے فرمایا: ”جتنا تم چاہو اور اگر اس سے زیادہ کر لو تو تمہارے حق میں بہتر ہے، میں نے عرض کیا دو تہائی؟“ آپ نے فرمایا: ”جتنا تم چاہو اور اگر اس سے زیادہ کر لو تو تمہارے حق میں بہتر ہے، میں نے عرض کیا: وظیفے میں پوری رات آپ پر درود پڑھا کروں؟ ۔ آپ نے فرمایا: ”اب یہ درود تمہارے سب غموں کے لیے کافی ہو گا اور اس سے تمہارے گناہ بخش دیئے جائیں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

جامع الترمذي۔2457

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنِ الطُّفَيْلِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَهَبَ ثُلُثَا اللَّيْلِ قَامَ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوا اللَّهَ، ‏‏‏‏‏‏اذْكُرُوا اللَّهَ جَاءَتِ الرَّاجِفَةُ تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ جَاءَ الْمَوْتُ بِمَا فِيهِ جَاءَ الْمَوْتُ بِمَا فِيهِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أُبَيٌّ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ،‏‏‏‏ إِنِّي أُكْثِرُ الصَّلَاةَ عَلَيْكَ فَكَمْ أَجْعَلُ لَكَ مِنْ صَلَاتِي ؟ فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا شِئْتَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ الرُّبُعَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ مَا شِئْتَ فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ ،‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ النِّصْفَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ مَا شِئْتَ فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ فَالثُّلُثَيْنِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ مَا شِئْتَ فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ ،‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ أَجْعَلُ لَكَ صَلَاتِي كُلَّهَا،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ إِذًا تُكْفَى هَمَّكَ وَيُغْفَرُ لَكَ ذَنْبُكَ ،

‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.