اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ،
وَالصَّلاۃُ
والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہُ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ
مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔
رَبِّ اشْرَحْ لِیْ
صَدْرِیْٗ
وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْٗ
وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْٗیَفْقَهُوْا
قَوْلِیْ۪
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَإِذَا
لَقُوا الَّذِينَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَإِذَا
خَلَوْا إِلٰى شَيٰطِيْنِهِمْ قَالُوْۤا إِنَّا مَعَكُمْ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُونَ
اور
جب ایمان والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے اور جب اپنے شریر
سرداروں سے علیحدگی میں ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تمھارے ساتھ ہیں۔ہم تو مذاق کیا
کرتے تھے۔
اس
آیتِ کریمہ میں منافقین کی ایک اور علامت بیان کی گئی کہ جب مومنین سے ملتے تھے تو
کہتے تھے کہ ہم دینِ حق کو قبول کرتے ہیں ، شریعتِ مطہرہ کی حقانیت کو تسلیم کرتے
ہیں، اسلام کی صداقت کو مانتے ہیں اور پھر جب اپنے ہم خیال، شریر اور گمراہ
سرداروں کے پاس جاتے تھے تو کہتے تھے کہ ہم تو تمہارے ساتھ ہیں ہم تو جھوٹا دعویٰ
ایمانی کرکے ان سے مذاق کرتے ہیں حقیقت میں تو ہم ایمان نہیں لائے۔
اس
آیتِ کریمہ میں جو قابل غور پہلو بیان ہوا کہ ایمان والوں ، نیک لوگوں کے ساتھ خود کو نیک اور پکا و سچا مومن ظاہر کرنا جبکہ کافروں ، گنہگاروں ،فاسقوں کے
ساتھ ویسا ہو جانا جیسا وہ لوگ ہیں تو یہ منافقین کی صفت ہے۔
دورِ
حاضر پہ غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ علامت ہمارے ہاں کثرت سے پائی جاتی ہے ۔ہم
جب علماءِ کرام کا وعظ و بیان سن رہے ہوتے ہیں،مبلغینِ اسلام کی صحبت میں بیٹھے
ہوتے ہیں ، اولیاءِ کرام و اہل اللہ کے پاس ہوتے ہیں تو ان کا وعظ و بیان ، انکی نصیحتیں ، انکی
تبلیغ کو نہ صرف بڑے غور سے سن رہے ہوتے
ہیں بلکہ یہ ظاہر کر رہے ہوتے ہیں کہ ہم آپ کی باتوں کو دل و جان سے قبول کرتے
ہیں۔ دینِ اسلام کی حقانیت اور شریعتِ مطہرہ کی تعلیمات پہ ہمیں ذرا برابر بھی
کوئی شک وشبہ نہیں ۔ لیکن پھر جب عام
معاشرے میں بے عمل اور بد کردار لوگوں کی صحبت میں آتے ہیں تو ویسے کے ویسے ہو
جاتے ہیں جیسے وہ لوگ ہیں ، ہمارا عمل تعلیماتِ اسلامیہ کے بر عکس ہوتا ہے ۔ زبان
سے تو اقرار کرتے ہیں لیکن عمل اس کے خلاف کرتے ہیں۔بلکہ یہاں تک میں نے خود لوگوں
سے سنا ہے کہ جب دوست احباب نے کسی اچھی اور نیک محفل کے بارے میں دریافت کیا تو
کہتے ہیں کہ بس اتفاق سے پھنس گیا تھا ، ان لوگوں کا دل رکھنے کیلئے تھوڑی دیر ان
کی باتیں سننی پڑیں۔ ورنہ آپ کو تو پتہ ہی ہے میرا کہ جتنا میں مومن ہوں یا نیک
ہوں۔ اللہ ہمیں اپنی پناہ میں رکھے یہی بات منافقین کیا کرتے تھے کہ ہم تو مذاق
کرتے ہیں حقیقت میں تو ہم تمہارے ساتھ ہیں ،ہم تم جیسے ہی ہیں ،ہم تو بس
دل بہلانے کیلئے، دل رکھنے کیلئے مومنین
کی باتیں سن لیتے ہیں۔
اگلی
آیتِ کریمہ میں ارشاد ہوتا ہے:
اَللّٰهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَيَمُدُّهُمْ فِيْ
طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ
اللہ ان سے مذاق کرتے ہیں
اور انہیں مہلت دیئے جاتے ہیں کہ وہ اپنی سرکشی میں سرگرداں ہو رہے ہیں۔
قاسمِ فیوضات حضرت مولانا
محمد اکرم اعوان رحمتہ اللہ علیہ اکرم التفاسیر میں فرماتے ہیں کہ مذاق کرنا شانِ
باری تعالیٰ سے بعید ہے۔ جب اس طرح کا کوئی لفظ اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف منسوب
کیا جاتا ہے یا اس طرح کی کوئی صفت اللہ
کریم کی طرف منسوب کی جاتی ہے تو اس سے معنیٰ بعید مراد ہوتا ہے۔
معنیٰ بعید وہ ہوتا ہے جو
نتیجہ ہوتا ہے مثلاً آپ کسی سے مذاق کرتے
ہیں کہ میں آپ کو دس ہزار انعام دوں
گا اور آپ دیتے نہیں تو اس میں اس کی سبکی
بھی ہے کہ وقتی طور پہ وہ خوش ہوا ، پچاس بندوں کو بتا دیا پھر اسے ملا کچھ بھی
نہیں نتیجہ میں محرومی حصے میں آئی
تو یہاں فرمای گیا اَللّٰهُ
يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ اللہ ان سے مذاق کرتے ہیں
یعنی اللہ کریم ان سے ایسا سلوک کرتےہیں کہ وہ محروم ہو جاتے ہیں ۔
وہ سمجھتے ہیں کہ ہم مذاق
کر رہے ہیں لیکن اصل میں مذاق ان کے ساتھ
ہو رہا ہوتا ہے کہ وقتی طور پہ تو وہ اپنے اس اداکارانہ رویے سے خوش ہو رہے
ہوتے ہیں لیکن اس کا نتیجہ انہیں عذاب کی
صورت میں ملے گا اور پھر صرف یہی نہیں بلکہ سزا کے طور پہ فرمایا گیا کہ
وَيَمُدُّهُمْ فِيْ طُغْيَانِهِمْ
يَعْمَهُونَ انہیں مہلت دیئے جاتے ہیں کہ وہ اپنی
سرکشی میں سرگرداں ہو رہے ہیں۔ اللہ
تبارک وتعالیٰ انہیں ڈھیل دیے جا رہا ہے انہیں موقع میسر کئے ہوئے ہے تاکہ وہ اپنے
اس رویے میں ،اپنی اس سرکشی میں ہی ہمیشہ
پھنسے رہیں ، اس کو اپنا کمال سمجھتے رہیں
اور مزید بھٹکتے رہیں اور آگے سے آگے جاتے جائیں اور پھر آخرت میں اس عذاب
کا سامنا کریں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے تیار کر رکھا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ایسی
سرکشی سے محفوظ فرمائے۔
اللہ
تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم
رہنے کی توفیق و ہمت عطا فرمائے۔
آمین
یا رب العالمین
دعاؤں کا طالب
ابو محمد زبیر اویسی
