تفسیر سورۃالفاتحہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
تفسیر سورۃالفاتحہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منافق کا مطلب اور منافقین کی اقسام۔کیا منافقین دورِ حاضر میں بھی موجود ہیں؟

0 Comments


 اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہُ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْٗ وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْٗ وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْٗیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

سورۃ  البقرہ کی آیت نمبر 8 سے 20 تک چونکہ منافقین کے بارے میں ہیں تو ان آیات کی تفسیر و تشریح سے پہلے ہم نفاق اور منافقین کے بارے میں گفتگو کریں گے۔

منافق کون ہوتا ہے؟

                   جو  شخص ظاہراً تو خود کو مسلمان ظاہر کرے لیکن وہ دل سے کفریہ عقائد پہ قائم ہو  یا اسلامی عقائد کے بارے میں شک و شبہ میں مبتلا ہو، یعنی دل سے یقین نہ رکھتا ہو ایسے شخص  کو شریعتِ اسلامی میں منافق کہا جاتا ہے۔

نفاق دو طرح کا ہوتا ہے:

1۔ اعتقادی نفاق :

                        اعتقادی نفاق یہ ہے کہ ظاہراً تو خود کو مسلمان ظاہر کرے لیکن درپردہ کفر پہ  قائم ہو ۔ منافق اعتقادی کے کفر میں کوئی شبہ نہیں ہوتا۔

 اس قسم کے منافقین کا پہلا اور بڑا گروہ مدینہ میں ظاہر ہوا جن کی اکثریت یہود تھی لیکن وہ خود کو مسلمان ظاہر کرتے تھے اور نہ صرف اسلام کے خلاف کفر کی مختلف سازشوں کا حصہ ہوتے تھے  بلکہ کئی موقعوں پر انہوں نے مسلمانوں کو نقصان بھی پہنچایا۔

 نفاق چونکہ دل کا معاملہ ہے یہ سب پہ ظاہر تو نہیں ہوتا  لیکن اللہ تعالیٰ دل کے حال جانتا ہے  اور منافقین ِ مدینہ کے معاملے میں بھی  اللہ نے حضورعلیہ الصلوۃ و السلام کو آگاہ فرمایا۔ سورۃ البقرہ کی یہ تیرہ آیات  براہِ راست ان لوگوں کے بارے میں ہی ہیں جن میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کا معاملہ واضح اور کھول کر بیان فرما دیا۔

دورِ حاضر میں بھی ایسے لوگوں کا انکشاف ہوتا رہتا ہے جو حقیقت میں تو کافر ہوتے ہیں  لیکن کئی کئی سال تک مسلمانوں کی صفوں میں گھسے رہتے ہیں  اور مسلمانوں کے لئے بہت بڑے بڑے نقصانات کا باعث بنتے ہیں البتہ کوئی دوسرا ان کا معاملہ تب تک نہیں جان سکتا جب تک  اللہ ان کا معاملہ ظاہر نہ فرما دیں یا وہ خود کھل کر سامنے نہ آ جائیں۔

2۔ عملی نفاق:

                        اس قسم کا منافق عقیدے کے لحاظ سے تو پکا مسلمان ہوتا ہے  لیکن اس کا عمل منافقین جیسا ہوتا ہے، اس کی عادات و اطوار منافقین سے ملتے جلتی ہوتی ہیں۔ اس قسم کو عملی نفاق کہتے ہیں۔ اور ایسا شخص عملی منافق ہوتا ہے۔ اس قسم کے لوگ ہمارے معاشرے میں کثرت سے ملتےہیں جو باوجود علم و شعور رکھنے کے  اور ایمان و اسلام کے دعویٰ کے بے عمل ہیں۔

مثلاً بے نمازی شخص  جو مانتا بھی ہے، نماز کی اہمیت کو جانتا بھی ہے ، نتائج سے بھی آگاہ ہے  لیکن نماز نہیں پڑھتا۔ بلکہ میں نے یہاں تک لوگوں سے سنا ہے کہ ہم کمزور ہیں سست ہیں یا وقت نہیں ہمارے پاس مصروفیات بہت زیادہ ہیں، اللہ بڑا غفور و رحیم ہے ، معاف فرما دے گا۔سو د کی حرمت کا اور اس کے نقصانات کا بھی اندازہ ہے پھر بھی باز نہیں آتے یعنی اللہ تبارک وتعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ سے اعلانِ جنگ کرکے یہ لوگ پھر اس کے جائز ہونے کی دلیلیں گھڑ رہے ہوتے ہیں،حق تلفی معاشرہ کا عام وطیرہ بن چکی ہے جس کے پاس طاقت و اختیار ہے وہ دوسرے کی حق تلفی اپنا حق سمجھتا ہے ۔وراثت میں عورتوں کا حصہ نہیں اور کہا جاتا ہے کہ ہم نے بہنوں ،بیٹیوں کو پہلے ہی بہت کچھ دے دیا ہے کیا یہ کافی نہیں۔ حیرانگی کی بات ہے کہ جو اللہ کی نافرمانی پہ ڈٹ چکا ہے، فکر ہی نہیں اپنی بے عملی کی اور خود کو نفس کے اور شیطان کے اس بہکاوے میں مبتلا کر رکھا ہے کہ اللہ بڑا غفور و رحیم ہے ہماری بے عملی کو معاف فرما دے گا ۔ بلا شبہ مغفرت اس کی رحمت سے ہے وہ جس کی چاہے مغفرت فرما دے۔ لیکن خود کو اس کی مغفرت کے قابل تو بنانے کی کوشش کرنی چاہیئے، مقدور بھر اس کے احکامات پہ عمل کرنے کی تو کوشش و جستجو ہو۔ سب کچھ سرے سے چھوڑ کر  بے عملی کی زندگی گزارنا اور پھر اس کی رحمت کی طلب رکھنا تو صرف ایک بہکاوا ہے۔ جو نفس و شیطان ہمارے دل میں ڈالتا ہے۔

یہ عملی نفاق ہے جس سے دورِ حاضر میں بچنا انتہائی مشکل بھی ہےلیکن اتنا ہی ضروری بھی ہے۔ ایسے شخص کو ہم منافق تو نہیں کہیں گے کیونکہ نفاق کا تعلق دل سے ہے اور دل کا حال اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں  لیکن اس طرح کا کردار جو منافق کا ہوتا ہے اگر ہمارا ہو تو ممکن نہیں کہ ایمان سلامت رہے۔

آپ علیہ الصلوۃ و السلام کا فرمان ِ عالی شان ہے کہ : زنا کرنے والا زنا کرتے وقت مومن ہونے کی حالت میں زنا نہیں کرتا،  چور چوری کے وقت ایمان کی حالت میں چوری نہیں کرتا،شرابی شراب پیتے وقت ایمان کی حالت میں شراب نہیں پیتا، لوگوں کا مال لوٹنے والا مال لوٹتے وات ایمان کی حالت میں مال نہیں لوٹتا  اور تم میں جب کوئی خیانت کرے تو  مومن ہونے کی حالت میں خیانت نہیں کرتا پس تم ان چیزوں سے بچو۔

اس حدیث ِ مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ گناہ کے  ارتکاب کے وقت  انسان ایمان سے محروم ہو جاتا ہے اور اگر وہ توبہ نہ کرے اور  ہمیشہ ہمیشہ کیلئے کسی ایسے گناہ میں پھنس جائے یعنی گناہ کو متواتر اختیار کر لے تو پھر ایمان کا باقی رہنا نا ممکن ہے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی

تفسیر سورۃ الفاتحہ - آیت نمبر 6،7 - انعام یافتہ، مغضوب اور ضالین سے کون لوگ مراد ہیں؟

0 Comments

 
اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ ۙ وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙ وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙ یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ   (ان لوگوں کے راستے پر جن پر آپ نے انعام کیا۔سوائے ان لوگوں کی راہ کے جن پر آپ نے غضب کیا اور نہ گمراہوں کی۔

سابقہ آیتِ کریمہ میں صراطِ مستقیم طلب کیا گیا اب اس آیتِ کریمہ میں خود اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات نے صراطِ مستقیم کی وضاحت فرما دی اور یہ نشاندہی فرما دی کہ صراطِ مستقیم کونسا رستہ ہے۔نہ صرف یہ کہ صراطِ مستقیم پہ چلنے والے بتلا دیے بلکہ جنہوں نے  صراطِ مستقیم سے رو گردانی کی ان کی بھی نشاندہی فرما دی ۔

اس آیتِ کریمہ میں تین گروہ بیان ہوئے : پہلا گروہ ان لوگوں کا جو صراطِ مستقیم پہ چلے اور ان کی نشانی کیا ہے ؟ ان کی نشانی بتلائی گئی  أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ (جن پہ آپ نے انعام فرمایا) باقی دو گروہ ان لوگوں کے ہیں جنہوں نے صراطِ مستقیم سے روگردانی کی اور وہ جس رستے پہ چلے تو اس کا نتیجہ کیا نکلا؟  ان کی نشانی بیان ہوئی کہ وہ مغضوب اور ضالین ٹھہرے۔

پہلا گروہ انعام یافتہ لوگوں کا ہے جو صراطِ مستقیم پہ چلے اور اجر میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پہ انعام فرمایا۔ یہ انعام یافتہ لوگ کون ہیں؟

قرآنِ کریم میں سورۃ النساء میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے  اس گروہ کی وضاحت فرما دی فرمایا: وَلَهَدَيْنَاهُمْ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا (68) وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا(69)

"اور یقینا ہم انھیں سیدھے راستے پر چلاتے۔ اور جو اللہ اور رسول کی فرماں برداری کرے تو یہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا، نبیوں اور صدیقوں اور شہداء اور صالحین میں سے اور یہ لوگ اچھے ساتھی ہیں۔ "

اس آیتِ کریمہ میں صراطِ مستقیم بھی بتلا دیا گیا  یعنی اللہ تعالیٰ اور آپ علیہ الصلوۃ والسلام کی اطاعت صراطِ مستقیم ہے اور اس پہ اجر یہ ہو گا کہ انعام یافتہ لوگوں کا ساتھ نصیب ہو گا اور مزید یہ بھی بتلا دیا کہ انعام یافتہ لوگ کون ہیں ؟ یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین انعام یافتہ لوگ ہیں اور یہ بہت اچھے ساتھی ہیں۔

انعام یافتہ لوگوں میں سب سے اعلیٰ درجہ انبیاء کرام علیہم السلام کا ہے  جو حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام سے شروع ہوتا ہے اور خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پہ مکمل ہوتا ہے۔ پھر باقی تینوں   گروہ امتیوں کے ہیں۔جن میں سب سے اعلیٰ درجہ انبیاء کے ساتھیوں اور حواریوں کا ہے اور ان میں سب سے اعلیٰ مقام حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ کا ہے۔ جن پہ جب دین  حق پیش کیا گیا تو انہوں نے نہ صرف دینِ حق کی گواہی دی بلکہ انبیاء کے ساتھی ٹھہرے اور اس کے لئے ہر دکھ اور تکلیف برداشت کیا۔جان ہو یا مال ،اولاد ہو یا اہل وعیال   حتیٰ کہ دین حق پہ گھر بار بھی چھوڑنا پڑا تو چھوڑا، جان کی قربانی دینی  پڑی تو وہ بھی دی اور شہادت کے رتبے پہ فائز ہوئے۔ پھر شہدا ء  ہیں جو سب سے بڑی قربانی یعنی جان تک سے گزرے اور دینِ حق اسلام پہ قائم رہے اور اسلام کی ترویج و تبلیغ کے لئے جانوں کے نذرانے پیش کئے۔ اور صالحین جو ہر قسم کے حالات میں خود کو صراطِ مستقیم پہ قائم رکھتے ہیں۔

پہلا گروہ جو انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا ہے جس کر دروازہ  آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہ  ہمیشہ کےلئے  بند ہو چکا ہے۔ لیکن اس کے بعد کے تینوں گروہ تاقیامت موجود رہیں گے۔ اور یہ صراطِ مستقیم والے لوگ ہوں گے ۔یعنی جو بھی قیامت تک خود کو قرآن و سنت کا پابند رکھے گا ،  دینِ حق پہ کاربند رہے گا ، اپنی زندگی شریعتِ مطہرہ کے مطابق گزارے گا،خود کو  سیرتِ محمد الرسول اللہﷺ کے مطابق ڈھالے گا، اصحابِ محمد الرسول اللہ ﷺ  کے رستے پہ چلے گا وہ صراطِ مستقیم پہ ہو گا اور اس کو انعام یہ ملے گا کہ وہ آخرت میں انبیاء و صدیقین و شہداء و صالحین کا ساتھی ہو گا ۔

اسکے بعد دوسرے دو قسم کے لوگ بھی بیان فرما دیئے کہ ان لوگوں کی راہ سے بچا جن پہ آپ کا غضب ہو یا جو گمراہی کا شکا ر ہوئے۔ فرمایا گیا: غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ( سوائے ان لوگوں کی راہ کے جن پہ آپ  کا غضب ہوا یا جو گمراہ ہوئے)

ان دو قسم کے گروہوں یا لوگوں کے بارے میں مختلف اقوال ملتے ہیں ۔ایک اہم روایت جس کو  امام  احمدؒ نے اپنی مسند میں، امام ترمذیؒ نے سنن جبکہ  ابنِ حبان ؒ نے عدی بن حاتم سے نقل کیا ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ مغضوب سے مراد یہود اور ضالین سے مراد نصاریٰ ہیں۔

چونکہ یہود نے ناحق انبیاء کا قتل کیا اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے خلاف بغاوت والا رویہ اپنایا تو ان پہ اللہ تبارک و تعالی کا غضب نازل ہوا اور انہیں مختلف قسم کے عذابوں سے دوچار ہونا پڑا۔ عیسائیوں کی معاملہ ان سے کچھ کم تھا ۔حضورﷺ کے زمانہ مبارک میں بھی یہود اسلام دشمنی میں پیش پیش تھے بنسبت عیسائیوں کے۔قبولِ اسلام میں بھی بنسبت  یہود کے عیسائیوں نے سبقت کی۔ دورِ حاضر میں بھی یہود کی اسلام دشمنی عیسائیوں کے مقابلے میں شدید ہے۔

قرآن کریم  میں بہت سے مواقع پہ غضب کے معاملے کا ذکر یہود کیلئے کیا گیا مثلاً سورۃالبقرہ آیت نمبر 25،سورۃ المائدہ آیت نمبر 60،78 اور 79۔

دورِ حاضر کے مطابق ان تینوں گروہوں  کی جو صورت ہے وہ کچھ اس طرح ہے کہ پہلا گروہ انعام یافتہ لوگوں کا   ہے اور ان پہ سب سے بڑا انعام شریعتِ مطہرہ ہے۔کہ وہ دنیا کی زندگی  اسلام کی تعلیمات کے مطابق گزار رہے ہیں ۔ ترویج و اشاعتِ دین میں ہر وقت سرگرداں رہتے ہیں۔تبلیغِ دین اور تزکیہ نفس میں مشغول رہتے ہیں یعنی اللہ کے نیک بندے، اہل اللہ، علماء،صلحاء،مجاہدین اسلام وغیرہ۔یہ نہ صرف دنیا میں ایمان کی صورت میں انعام یافتہ ہیں بلکہ آخرت میں انہیں ان کے اعمال کا انعام  جنت کی صورت میں ملے گا۔

دوسرا گروہ مغضوب لوگوں کا ہے  جو واضح طور پہ شریعتِ مطہرہ سے انکاری ہیں  یعنی کفار،یہود و نصاریٰ اور دیگر تمام مذاہبِ باطلہ۔ ان پہ  اس سے بڑا غضب کیا ہو گا کہ یہ دنیا میں دینِ حق سے محروم ہیں اور آخرت میں ان کے لئے آگ تیار کر کے رکھی گئی ہے اور  ان کا ٹھکانہ جہنم ہو گا۔

تیسرا گروہ گمراہ لوگوں کا ہے  جنہیں منزل کا  یا سِرے سے ادراک ہی نہیں یا پھر منزل کا تو پتہ ہے لیکن راہ گم کر بیٹھے ہیں۔ صراطِ مستقیم کا یا تو علم ہی نہیں اور اگر علم ہے تو عمل نہیں۔جانتے بوجھتے ہوئے بے عملی کا شکار ہیں۔یا  پھر بدعات و خرافات اور شرکیہ رسومات میں خود کو پھنسا رکھا ہے اور انہیں دین سمجھتے ہیں۔ غیر شرعی رواجات اور اپنی پسند و نا پسند کو دین سمجھے بیٹھے ہیں۔

اس آخری آیت کریمہ میں یہ بات کھول کے بیان کر دی گئی کہ صراطِ مستقیم پہ چلنے سے انعام یافتہ لوگوں میں شمار ہوا جا سکتا ہے جبکہ صراطِ مستقیم سے روگردانی کی صورت میں غضبِ الٰہی اور گمراہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی

تفسیر سورۃ الفاتحہ - آیت نمبر 5 - ہدایت سے کیا مراد ہے اور کیا ہدایت انفرادی ہو سکتی ہے یا اجتماعی معاملہ ہے؟

0 Comments


 اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ ۙ وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙ وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙ یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (  ہم کو سیدھے رستے پر چلائیے)

اس آیتِ کریمہ میں  دو اہم چیزیں سمجھنے والی ہیں پہلی بات جو سابقہ درس میں بھی عرض کی گئی   کہ اکثر مترجم حضرات نے ادب کے صیغے کو مدِ نظر نہیں رکھا اور اس کا ترجمہ فرمایا کہ ہم کو چلا،  ہم کو دکھا،  ہم کو بتلا۔ سب سے بہترین ترجمہ یہاں پہ قاسمِ فیوضات حضرت مولانا محمد اکرم اعوان رحمتہ اللہ علیہ نے اکرم التراجم میں فرمایا کہ : ہم کو سیدھے رستے پہ چلائیے۔ کیونکہ اردو میں ادب کے قرینے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے یہاں پہ بتلائیے،دکھائیے یا چلائیے کے الفاظ موزوں ہیں ۔

دوسری بات جو اکثر فروعی اختلافی مسائل اور مباحث کے طور پہ لی جاتی ہے وہ ہے اھدنا کا ترجمہ ۔اس کا ترجمہ کچھ حضرات نے ہم کو بتا،کچھ نے ہم کو چلا اور کچھ دیگر نے اس کا ترجمہ ہم کو دکھا کیا ہے۔

قاسمِ فیوضات حضرت مولانا محمد اکرم اعوان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اردو  زبان میں اتنی وسعت اور جامعیت نہیں کہ عربی کا حق ادا کر سکے۔اسی وجہ سے کچھ عربی الفاظ کے لئے موزوں ترین لفظ موجود ہی نہیں ہوتا۔بالکل اسی طرح یہ لفظ بھی ہے۔اس کا مفہوم و مطلب ہمیں ترجمہ سے مکمل طور پہ سمجھ نہیں آ سکتا البتہ تفاسیر میں علمائے تفاسیر کی اکثریت نے اس لفظ کو انتہائی خوبصورتی سے وضاحت سے بیان فرمایا ہے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ کمی بیشی معاف فرمائے۔ مجھ ناقص العقل کو جو مفہوم و مطلب اس لفظ کا  سمجھ آسکا  وہ آپ کے گوش گزار کرتا چلوں۔ اس  عربی لفظ ہدایت کے تین درجے ہیں اور تینوں لازم و ملزوم ہیں:

پہلا درجہ ہے راستہ دکھانا،راستہ بتلانا ، اس کی طرف رہنمائی فرمانا، اس کا علم دینا۔

دوسرا درجہ ہے اس پر چلانا، اس پہ گامزن کرنا، اس پہ چلنے کی توفیق و ہمت سے نوازنا۔

تیسرا درجہ اور سب سے اہم درجہ ہے اس پہ قائم رکھنا، اس پہ استقامت دینا۔

یہ تینوں درجے اپنی اپنی جگہ انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور اس تینوں کے بغیر منزل تک پہنچنا ممکن نہیں۔ یعنی اگر رستہ کا پتہ نہیں ہو گا ، صراطِ مستقیم کا فہم و ادراک نہیں ہو گا تو چلیں گے کیسے اور چلنے کے بعد  اگر تادمِ آخر اس پہ قائم نہ رہ سکے اور صراطِ مستقیم پہ استقامت نصیب نہ ہوئی تو سب کچھ بے سود ہو گا۔ یعنی یہ ہدایت لفظ ان تینوں درجوں اور حصوں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ کفار اور گمراہوں کے لئے   ہدایت سے مراد صراطِ مستقیم کا دکھانا یا بتلانا ہو گا جبکہ عام بے عمل مسلمانوں کے لئے اس سے مراد صراطِ مستقیم پہ چلنا جبکہ مومنین کے لئے ہدایت سے مراد صراطِ مستقیم پہ استقامت ہو گا۔

سابقہ آیات میں اللہ تبارک و تعالیٰ کی حمد و ثنا ء کے بعد اس کی ربوبیت، رحمانیت ،رحیمیت اور یومِ جزا کے مالک ہونے کے اقرار کے بعد بندہ خود کو سب میں شامل کر کے عبودیت کی طرف لاتا ہے۔اللہ تبارک وتعالیٰ کو معبودِ برحق مان کے عبادت کو صرف اس کے لئے خاص کرتا ہے پھر اس کے بعد اپنے عجز و انکساری کا اظہار کرتے ہوئے اس سے مدد مانگتا ہے۔ اب اس آیتِ کریمہ سے اس کی مزید وضاحت ہو گئی کہ مدد کس چیز کی مانگی جا رہی تھی،طلب کیا کیا جا رہا ہے۔ یوں تو اس کی بہت ساری مجبوریاں تھیں،بہت ساری ضرورتیں تھیں ،بہت سی پریشانیاں اور خواہشیں تھیں لیکن جو سب سے قیمتی چیز ہے جو سب سے انمول بات تھی وہ تھی صراطِ مستقیم کی ۔ سو اس نے اپنی سب ضرورتوں ،خواہشوں،مجبوریوں اور پریشانیوں کو پسِ پشت ڈال کے اللہ سے صراطِ مستقیم طلب کیا۔کیونکہ باقی سب کچھ عارضی اور وقتی ہے دنیا کی زندگی ایک دن ختم ہو جانی ہے لیکن جو چیز ہمیشہ اس کے ساتھ رہنے والی ہے وہ صراطِ مستقیم ہے ۔ یہ نہ صرف دنیا کی زندگی میں اس کے لئے باعثِ راحت وسکون ہو گا بلکہ قبر و حشر میں بھی اس کے لئے سکون اور اطمینان کا باعث بنے گا۔

صراطِ مستقیم کیا ہے ؟یہ کونسا رستہ ہے ؟ اس کی وضاحت اگلی آیتِ کریمہ میں خود اللہ تبارک تعالیٰ نے بیان فرما دی۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی

تفسیر سورۃ الفاتحہ-آیت نمبر 4 - بندگی صرف اللہ کی ہے اور مدد و نصرت کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے

0 Comments


اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ   ۙ وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙ وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙ یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (ہم آپ ہی کی عبادت کرتے ہیں اور آپ ہی سے مدد چاہتے ہیں)

سب سے پہلی بات جو میں عرض کرنا چاہتا ہوں  جو اکثر تراجم میں ملتی ہے وہ یہ ہے کہ کسی بھی آیت کا ترجمہ کرتے وقت اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذاتِ برحق کے لئے تو ،تم ،تیری،تجھ  جیسے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں  جبکہ یہ الفاظ ادب کے انتہائی خلاف ہیں۔ہم جب آیت کا ترجمہ اردو میں کرتے ہیں تو اردو زبان و ادب کے قوائد کو ملحوظِ خاطر رکھنا چاہیے۔اردو کا اسلوب یہ ہے کہ ادب کے لئے جمع کا صیغہ بولا جاتا ہے مثلاً ہم اپنے والد صاحب کے لئے یا کسی بھی بزرگ اور قابلِ احترام ہستی کے لئے "تو،تم، تیری  وغیرہ" الفاظ استعمال نہیں کرتے ۔یہ نہیں کہتے کہ تو میرا استاد ہے یا تم میرے والد ہو بلکہ کہتے ہیں کہ آپ میرے استاد ہیں یا آپ میرے والد ہیں۔آپ نے یہ کہا،آپ نے یہ کیا ،آپ فلاں جگہ تشریف لے گئے۔ تو جب ہم اپنے اساتذہ ، والدین یا دوسری قابلِ احترام شخصیات کے لئے یہ الفاظ استعمال نہیں کرتے تو بھلا یہ کیسے درست ہے کہ ہم اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذاتِ برحق کے لئے یہ الفاظ استعمال کریں۔

تقریبا ً تمام تراجمِ قرآن میں سے صرف قاسمِ ٖفیوضات حضرت مولانا محمد اکرم اعوان رحمتہ اللہ علیہ نے اکرم التراجم میں یہ اسلوب اختیار کیا اور  سورۃ الفاتحہ کی اس چوتھی آیت کا ترجمہ کچھ اس طرح فرمایا:ہم آپ ہی کی عبادت کرتے ہیں اور آپ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔

دوسری اہم بات جو اس آیتِ کریمہ میں واضح ہے کہ اس سے پہلے حمد بیان ہوئی رحمانیت و رحیمیت جیسی  عظیم صفات بیان ہوئیں۔یومِ جزا کے مالک کا اقرار کیا گیا ۔اب بات بندگی کی طرف آتی ہے۔اب بات طالب کی ہونے لگی ہے اب بات مانگی کی  کی جانے لگی ہے ۔ تو جب بات بندگی کی آئے گی جب بات طلب کی آئے گی جب بات مانگنے کی آئے گی تو اکیلے رہنے سے بات نہیں بننے والی۔ بلکہ بندہ خو دکو سب کے ساتھ شامل کرے گا  بندہ خود کو اکیلے نہیں رہنے دے گا تو بات بنے گی۔ یعنی اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بات جب بندگی کی ہو ،معاملہ جب معبودِ برحق سے ہو، معاملہ جب طالب و مطلوب کا ہو ،معاملہ جب خالق و مخلوق کا ہو تو اکیلے رہنے سے بات نہیں بننے والی بلکہ خود کو گروہ میں ،جماعت میں،نیکوکاروں کے ساتھ،پرہیزگاروں کے ساتھ،اہل حق کے ساتھ شامل کرنا پڑے گا۔ یعنی جو اکثریت کو چھوڑ کر ایک الگ رستے پہ چلا اور اس رستے کو صراط مستقیم خیال کیا،اس کو حق سمجھا جس پہ وہ اکیلا ہے تو یہ ممکن نہیں کہ وہ حق پہ ہو اور ہدایت  کے رستے پہ ہو بلکہ گمراہ ہے۔ صراطِ مستقیم جمہور کا رستہ ہے ، ہدایت کا رستہ اکثریت کا رستہ ہے ۔یہاں ہم والی بات ہے میں والی نہیں۔جو اگلی آیتِ کریمہ میں مزید وضاحت سے بیان ہوئی۔

تیسرا   اہم نکتہ جو اس آیت کا سابقہ آیات سے ربط واضح کرتا ہے   کہ بندہ جب تک اللہ تبارک و تعالیٰ تمام قسم کی خوبیوں اور بڑائیوں کا مالک، تمام جہانوں کا پروردگار، رحمٰن و رحیم اور انصاف کے دن کا مالک  قلبی یقین کے ساتھ تسلیم نہ کرے  بات بندگی تک آتی ہی نہیں۔ معاملہ خالق و مخلوق والا بنتا ہی نہیں۔ رابطہ ،بندے اور اللہ تبارک وتعالیٰ والا بحال ہی نہیں ہوتا۔

ان تمام صفات کے اقرار کے جب یقینِ قلبی حاصل ہو جائے  جب یہ یقین ہو جائے کہ اللہ کے علاوہ کوئی لائقِ حمد نہیں ،آپ کے ذاتِ واحد کے علاوہ کو ئی پروردگار نہیں،وہ رحمٰن ہے ،وہ رحیم ہے ،وہ مالک ِ یومِ جزا ہے تو پھر بندہ کہتا ہے کہ جب حقیقت اس طرح ہے تو پھر اس ذاتِ واحد کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں اور جب کوئی لائقِ عبادت نہیں آپ کے علاوہ،جب کوئی آپ کا شریک نہیں، جب کوئی آپ کے علاوہ رازق نہیں،جب کوئی آُ کے علاوہ مالک نہیں تو پھر کیسے کوئی ہماری مدد کر سکتا ہے تو آپ ہی ہماری مدد فرمائے ۔ہم آپ ہی کی عبادت کرتے ہیں اور آپ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔

پہلے حصے میں شرک کی نفی کی گئی کہ ہم صرف آپ ہی کی عبادت کرتے ہیں ، آپ کے علاوہ کوئی معبود نہیں،آپ  ہی معبودِ برحق  ہیں۔ آیتِ کریمہ کے دوسرے حصے میں اپنی عاجزی کا اظہار ہے اپنی قوت و طاقت کی نفی ہے کہ ہم عاجز و لاچار ہیں آپ ہی ہماری مدد فرمائیے۔

پہلے حصے میں اس بات کا اظہار ہے کہ ہم عابد ہیں اور آپ معبودِ برحق دوسرے حصے میں اس بات کا اظہار ہے کہ ہم مخلوق ہیں آپ خالق ہے ،ہم عاجز و لاچار ہیں آپ  قادر و قوی و عزیز ہے۔

ایک اہم بات جو ضروری ہے اور میرے مشاہدے و تجربے سے گذری ہے کہ اکثریت مسلمان یہ آیت  روزانہ دن میں پانچ بار ہر نماز کی ہر رکعت میں یہ آیتِ کریمہ تلاوت کرتے ہیں ۔ اور کوئی مسلمان ایسا نہیں جس کو یہ آیت یاد نہ ہو اکثریت کو اس کا ترجمہ بھی آتا ہو گا لیکن یقینِ قلبی شاید بہت کم لوگوں کو نصیب ہے اور اکثریت کا حال یہ ہے کہ ہر نماز میں مدد اللہ سے طلب کرنے کے بعد پھر مادی اسباب و ذرائع پہ بھروسہ کیے بیٹھے ہوتے ہیں ۔دعائیں اللہ سے اور بھروسہ اسباب پہ۔ مادی ذرائع و اسباب بلا شبہ جائز ہیں اور اسباب و ذرائع اختیار کرنے کا حکم ہے لیکن یہ یقین ضروری ہے کہ اصل قدرت و طاقت انسان یا اسباب و ذرائع میں نہیں بلکہ اصل طاقت و اختیار اللہ تبارک  وتعالیٰ کے پاس ہے ۔ اسباب و ذرائع بھی اسی ذاتِ برحق نے ہمارے لئے پیدا فرمائے اور وہی انہیں ہمارے لئے فائدہ مند بنا رہا ہے۔

مثلا ً : دوا سبب ہے لیکن شفا اللہ کے اختیار میں ہے اور دوا کو سبب بھی اس ذات نے بنایا۔

کاروبار یا ملازمت سبب ہیں رازق وہ عظیم ذات ہے اور یہ سبب بھی آپ ہی کی ذاتِ واحد نے عطا فرمائے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی

تفسیر سورۃ الفاتحہ-آیت نمبر 2,3 - رحمانیت و رحیمیت اور روزِ جزا کے مالک سے کیا مراد ہے؟

0 Comments

اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِ یْ ۙ وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙ وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙ یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ "بڑے مہربان   نہایت رحم کرنے والے"

ان دونوں  صفات کے بارے میں تسمیہ کی تفسیر میں کچھ باتیں عرض کیں۔ یہ دونوں اللہ تبارک و تعالیٰ کے بہت ہی پیارے صفاتی نام ہیں۔

رحمٰن کیا ہے؟ رحمٰن اللہ تبارک و تعالیٰ دنیا میں ہے کیونکہ دنیا میں اس نےمسلمان ہو یا کافر، مومن ہو یا منافق،نیکوکار ہو یا بدکار سب کو تمام قسم کی دنیاوی و مادی نعمتوں سے نواز رکھا ہے۔وہ کسی بھی قسم کے گناہ پہ کسی کی روزی بند نہیں کرتا حتیٰ کہ کافر جو سرے سے اس کی ذات کا ہی انکاری ہے اس کو بھی تمام قسم کی دنیاوی نعمتیں دے رکھی ہیں ۔ جس طرح اس کی ربوبیت تمام جہانوں کے لئے ہے اس طرح اس کی رحمانیت بھی بہت وسیع ہے۔

قاسمِ فیوضات حضرت امیر محمد اکرم اعوان رحمتہ اللہ علیہ اکرم التفاسیر میں بیان فرماتے ہیں کہ میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ ایک چٹان کو توڑا گیا تو اس کے اندر سے ایک گول پتھر نکلا جب اس کو توڑا گیا تو اس کی اندر ایک خلا تھا ۔چھوٹا سا دائرہ اور اس کی اندر ایک اڑنے والی مخلوق تھی۔زندہ بھی تھی ،چل پھر بھی رہی تھی ،کھا پی بھی رہی تھی۔نوے فٹ ایک چٹان کے اندر اسے پیدا بھی کیا اور اسے رزق بھی دے رہا ہے۔یہ اس کی رحمانیت ہے یہ اس کی ربوبیت ہے۔

مچھلی کا بچہ پیدا ہوتا ہے تو تیرنا شروع کر دیتا ہے ،جانور کا بچہ پیدا ہوتا ہے تو کھڑا ہو جاتا ہے اسے پتہ ہے کہ میری روزی ماں کے تھنوں میں ہے۔ہاتھی کا بچہ پیدا ہوتا ہے تو وہ ماں کی پچھلی ٹانگوں کے بجائے اگلی ٹانگوں کی طرف جاتا ہے ، اسے پتہ ہے کہ میری روزی اگلی ٹانگوں کی درمیان ہے کیونکہ ہاتھی کا دودھ اگلی ٹانگوں کے درمیان ہوتا ہے۔شیر کا بچہ پیدا ہوتا ہے تو  تین مہینے تک آنکھیں نہیں کھولتا کیونکہ اسے پتہ کہ میرا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا  جبکہ ہرن کا بچہ پیدا ہوتے ہی  دوسرے لمحے ماں کے ساتھ بھاگ رہا ہوتا ہے کیونکہ اسے پتہ ہے کہ میں نے اپنی حفاظت کرنی ہے اور اس کے لئےمجھے بھاگنا ہے۔

ہر ایک کی نہ صرف ضرورتیں پوری کیں بلکہ احساسِ ضرورت بھی عطا کر دیا کہ تجھے اس چیز کی ضرورت ہے پھر اسے  تکمیل کا ذریعہ بھی سمجھا دیا کہ اس طرح تیری ضرورت پوری ہو گی اتنی وسیع ربوبیت بھی ا س کی رحمانیت کا ایک شعبہ ہے۔

الرحمٰن الدنیا ۔وہ سب کے لئے رحمٰن ہے۔پھر مومنوں پہ خاص عنایت کی انہیں نورِ ایمان عطا کر دیا۔یہ اس کی رحیمیت ہے۔ نورِ ایمان رحیمیت ہے کہ یہ نعمت نہ صرف دنیا بلکہ برزخ میں بھی ساتھ رہے گی حشر میں بھی ساتھ رہے گی  اور پھر جنت میں لے جائے گی۔

اسی لئے فرمایا گیا کہ  "الرحمٰن الدنیا والرحیم الاخرۃ" کہ رحمان تو وہ سب کے لئے ہے لیکن رحیم مومنین  کے لئے  کہ انہیں دنیا میں بھی نورِ ایمان جیسی عظیم نعمت عطا فرمائی اور آخرت میں جنت عطا فرمائے گا اور سب سے بڑی نعمت دیدارِ باری تعالیٰ سے عطا فرمائے گا ۔

پھر فرمایا: مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ ۔انصاف کے دن کے مالک ہیں، بدلے کے دن ، یوم حساب کے مالک ہیں ،یومِ جزا کے مالک ہیں،یومِ حشر کے مالک ہیں۔

اس دن کسی اور کی بادشاہی نہیں ہو گا کسی اور کا اختیار نہیں ہو گا ۔صرف وہ ذات ِ برحق ہو گی ۔سوال اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات فرمائے گی ، بازپرس  اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات فرمائے گی ،حساب اللہ تبارک وتعالیٰ کہ ذات  فرمائے گی اور جواب بندے کو دینا ہو گا ۔ کوئی عذر نہیں ہو گا کوئی بہانہ نہیں ہو گا اور سب سے بڑی بات کہ اس کے بعد اب کوئی موقع نہیں ہو گا ۔

یہ بہت بڑی صفت بیان ہوئی ہے اگر اس بات کا یقین اور ایمان قلبِ انسانی میں راسخ ہو جائے تو کیسے ممکن ہے کہ کوئی گناہ کا ارتکاب کرے،کیسے ممکن ہے کہ کوئی اللہ تبارک و تعالیٰ کی نافرمانی کرے۔

عقیدہ آخرت اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ہے۔جب یہ یقین ہو کہ میں نے اللہ کے حضور پیش ہونا ہے ۔اللہ تبارک و تعالی کی ذات مجھ سے سوال فرمائے گی اور میرے پاس کوئی عذر کوئی بہانہ نہیں ہوگا تو ممکن ہی نہیں کہ کوئی زندگی میں اس دنیا میں اللہ تبارک وتعالیٰ کی   نافرمانی کرے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارا عقیدہ آخرت یا تو سرے سے ہے ہی نہیں یا انتہائی کمزور ہے۔ میں نے ان گنہگار کانوں سے سنا ہے کہ جب کسی سے آخرت کے بارے میں بات کی جنت کی نعمتوں یا دوزخ کی سختیوں کی بات کی تو جواب ملتا ہے۔دیکھا جائے گا ،آخرت کا کس کو پتہ ہے جب جائیں گی تو دیکھا جائے گا اور انتہائی لاپرواہی سے یہ کہا جاتا ہے ۔ تو جب آخرت کا عقیدہ اتنا کمزور ہو ،اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونے کی فکر ہی نہ ہو، کسی قسم کا کوئی خوف ہی نہ ہو تو کیسے ممکن ہے کہ ایمان باقی رہے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ ہماری اور ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی

تفسیر سورۃ الفاتحہ۔آیت نمبر 1-الحمدللہ رب العالمین کا مفہوم-رب العالمین کا مطلب

0 Comments


اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْۙوَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْۙوَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْۙیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

قاسمِ فیوضات حضرت مولانا محمد اکرم اعوان رحمتہ اللہ علیہ اکرم التفاسیر میں اپنے شیخ قلزمِ فیوضات حضرت مولانا اللہ یار خان رحمتہ اللہ علیہ کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ وہ فرمایا کرتے تھے "سورۃ الفاتحہ پورے قرآنِ کریم کا خلاصہ ہے، بسم اللہ شریف سورۃ الفاتحہ کا خلاصہ ہے اور اس کی پہلی "ب" سارے قرآن، سارے دین کا خلاصہ ہے۔ یہ "ب" تلبس کی ہے ۔تلبس کا مطلب ہوتا ہے جوڑنا۔ کسی چیز کو کسی چیز کے ساتھ جوڑنا۔ فرمایا سارے  دین کا خلاصہ سارے دین کا حاصل یہ ہے کہ اللہ کا بندہ ، اللہ کے ساتھ جڑ جائے۔

سورۃ الفاتحہ چونکہ قرآن کریم کا خلاصہ  اور حاصل ہے تو اس میں بہت ساری حکمتیں بیان ہوئیں ہیں۔ سب سے پہلی حکمت یہ ہے کہ ہمیں اس میں دعا مانگنے کا طریقہ  و سلیقہ سکھایا گیا ہے اور وہ اسلوب و طریقہ یہ ہے کہ جب بھی مانگا جائے ،جب بھی دعا کرنی ہو ،جب بھی التجا کرنی ہو  تو سب سے پہلے اس ذات واحد اللہ تبارک و تعالیٰ کی ثنا ء اور تسبیح و حمد بیان کی جائے۔ پھر اس کے بعد اپنی  عاجزی،اپنی بندگی اپنی حاجت مندی کو بیان کیا جائے یعنی اپنے کچھ بھی نہ ہونے اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے سب کچھ ہونے کا تصور و یقین ِ کامل۔پھر اس کے بعد مقصود یعنی جو مانگنا ہے وہ بارگاہِ رب العزت کے سامنے پیش کیا جائے۔

کیا مانگنا ہے ،کس سے مانگنا ہے اور کیسے مانگنا ہے  غور کرنے پہ پتہ چلتا ہے کہ یہ سب اس سورۃ میں بیان فرمایا گیا۔

پھر ایک اور قیمتی نکتہ یہ پتہ چلتا ہے کہ جب بھی اللہ سے مانگا جائے تو بات صرف اپنی نہ کی جائے، بلکہ خود کو سب  میں شامل کر دیا جائے کیونکہ جب بات اکیلے کی ہوتی ہے تو بات اور ہے لیکن جب بات سب کی ہوتی ہے تو بات بہت بڑی اور مختلف ہو جاتی ہے۔جب بات سب کی آئے گی تو ان سب میں آدم علیہ السلام سے لے کر خاتم النبیین محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک سب انبیاء بھی آجائیں گے۔اس میں سب صحابہ کرام،صدیقین،شہداء اور صالحین بھی آجائیں گے۔ تو خود کو اکیلا نہیں بلکہ سب کے ساتھ شامل کر دینا چاہیے۔ اس میں شامل مقرب و اعلیٰ ہستیوں کے ساتھ ساتھ ہمارا بھی بھلا ہو جائے گا جیسے اس سورۃ میں یہ نہیں ارشاد ہوا کہ میں تیری ہی عبادت کرتا ہوں اور میں تجھ ہی سے مدد مانگتا ہوں بلکہ فرمایا : ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔

اس سورۃ کی ابتدا میں جو سب سے پہلے بات تعلیم فرمائی گئی وہ یہ ہے کہ پہلے خود کو تمام قسم کے شرکوں سےپاک کر کے پھر معاملہ اللہ کے ساتھ کیا جائے۔اس بات کا اظہار اس سورۃ کے پہلے لفظ سے واضح ہو جاتا ہے۔ ارشادِ باری تعالی ہے:

الحمد للہ۔ تمام طرح کی تعریفیں، تمام خوبیاں، تمام کمالات، بڑائیاں۔سب کی سب حمد کے ساتھ الف لام کے اضافے سے خاص کر دی گئیں اللہ تبارک و تعالیٰ کے لئے۔ وگرنہ عام طور پہ تعریف اور خوبیوں کا بیان  ظاہراً غیراللہ کے لئے بھی کیا جا رہا ہوتا ہے۔لیکن حقیقت میں ہم جب بھی کسی کی تعریف بیان کرتے ہیں یا کسی کی کوئی خوبی یا وصف بیان کر رہے ہوتے ہیں  مثلاً کوئی علم والا ہے تو اس کے علم کی تعریف ،کوئی حسن والا ہے تو اس کے حسن کی تعریف، کوئی صحت مند ہے تو اس کی صحت کی تعریف۔ حقیقت میں یہ تعریف اس کی نہیں  ہوتی بلکہ اس ذات برحق کی تعریف ہوتی ہے جس نے اس کو یہ وصف،خوبی یا کمال عطا کیا ہوتا ہے۔ تو تعریف و حمد کی حقیقی سزاوار و حقدار وہ ذات واحد ہی ہے ۔تمام طرح کی تعریفوں کے لائق اللہ تبارک و تعالیٰ ہی ہے ۔ وہ خوبی تصویر کی نہیں بلکہ مصور کی ہے کمال مصور کا ہے بڑائی مصور کے لئے ہے۔کائنات میں جس جس کے پاس جو کچھ بھی ہےوہ صرف اللہ کا ہے ۔اصل مالک وہ ذات ہے۔وہ قائم ہے اور باقی رہنے والی ذات ہے باقی ہر چیز فانی ہے۔تو سب خوبیاں اللہ کی ہیں سب کمالات اس ذات کے ہیں باقی جو کچھ بھی ہے وہ اس کی عطا ہے اس کی خوبیوں کا مظہر ہے اس کی عظمت کا اظہار ہے۔

پھر اس دعوے پہ دلیل پیش کی گئی۔دعویٰ تھا  الحمداللہ(تمام طرح کی تعریفیں صرف اللہ کو سزاوار ہیں) اور اس پہ کیا ہی خوبصورت دلیل دی گئی فرمایا گیا رب العالمین(تمام جہانوں کا پالنے والا)کیوں یہ خوبیاں،یہ تعریفیں ،یہ حمد صرف اللہ کے لئے ہے؟ اس لئے کہ وہ رب العالمین ہے وہ تمام جہانوں کا پالنے والا ہے وہ تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔

مفسرین بیان فرماتے ہیں کہ اٹھارہ ہزار عالم ہیں۔کچھ نے یہ بھی فرمایا کہ چوبیس ہزار عالم ہیں۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ان عالمین کا حقیقی علم  صرف اللہ تبارک و تعالی ٰ کی ذات کے پاس ہے ۔ یہ عالمین انسان کی دسترس سے باہر ہیں ۔کوئی مادی علم ،کوئی مادی ذریعہ،کسی بھی قسم کے جدید علوم ،جدید سائنسی ترقی ان عالمین کو نہیں پہنچ سکتی۔ان عالمین کے کلی علم سے آشنا نہیں ہو سکتی۔
 اللہ کریم فرما رہے ہیں کہ میں ان عالمین کا رب ہوں۔ یہ رب لفظ بہت ہی وسیع معانی و مفہوم والا لفظ ہے۔رب العالمین،یعنی میں تمام عالمین کو پالنے والا ہوں،میں تمام عالمین کا پروردگار ہوں،تمام جہانوں کا پالنہار ہوں۔

جب بات عالمین  کے رب  کی آئے گی تو میں عرض کرتا چلوں کہ ہم سمجھتے ہیں کہ دنیا میں جتنی بھی جاندار چیزیں ہیں اللہ انہیں رزق دے رہا ہے لیکن ایسا نہیں ہے بلکہ ہر چیز کی تمام اشیاء کی ایک حیات ہے ۔حیوان و نباتات ہوں یا چرند پرند،زمین و آسمان ہوں یا سیارےو ستارے،ہر چیز کی ایک حیات ہے ،ہر چیز کی ایک زندگی ہے ۔وہ زندگی اس کو اللہ تبارک و تعالی نے عطا کی ہوئی ہے اور پھر ہر مخلوق کی ضروریات مختلف ہیں ،ان کی زندگی کی بقا کا طریقہ و انداز مختلف ہے ۔ان کی اس زندگی کو قائم و باقی کس نے رکھا ہوا ہے کون ہے جو ان کی  ضروریات پوری فرما رہا ہے۔مثلاً سورج کی زندگی کیا ہے؟ سورج کی زندگی حدت ہے وہ روشنی مہیا کرتا ہے اگر اس میں یہ حدت نہیں رہے گی ،وہ روشنی مہیا نہیں کرے گا تو یہ اس کی موت ہے۔اس کو یہ حدت ، یہ روشنی ۔یہ خاصیت کون دے رہا ہے؟ یقینا ً اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات واحد ہے ۔اسی طرح تمام مخلوقات اپنے اپنے کام پہ لگی ہوئی ہیں اپنے اپنے فرائض سر انجام دے رہی ہیں اور اس کے لئے انہیں جو خواص چاہییں،اس کے لئے ان کی جو ضروریات ہیں وہ کون پوری فرما رہا ہے؟ یقینا ً اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات۔تو بہت وسیع مفہوم ہے اس رب لفظ کا ،پروردگار لفظ کا ،پالنہار لفظ کا ۔حقیقی پروردگار حقیقی پالنہار صرف اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات ہے باقی اگر کچھ ہے تو وہ ذرائع ہیں جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات نےہمارے لئے ذریعہ اور سبب بنا دیا ہے اور وہ رب صرف میرا رب  نہیں وہ صرف میرا پروردگار نہیں۔ہمارے علم میں جو کچھ ہے وہ صرف ان کا رب نہیں بلکہ وہ رب العالمین ہے،وہ تما م کے تمام جہانوں کا ر ب ہے ،وہ ہمیں معلوم جہانوں کا بھی رب ہے اور ہزاروں کروڑوں کھربوں جہان جو ہمارے لئے نامعلوم ہیں وہ ان کا بھی رب ہے۔ جو یہاں فرمایا گیا  کہ میں رب العالمین ہوں۔

اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم ِ آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی

تسمیہ(﷽) کی تفسیر و تشریح

0 Comments

اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْۙ وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْۙ وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْۙ یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

بِسمِ اللّٰہ کے بارے آئمہ دین کی دو رائے ملتی ہیں جن میں کچھ اہلِ علم حضرات اس کو ہر سورت کا باقاعدہ حصہ مانتے ہیں جبکہ کچھ کے نزدیک یہ صرف سورۃ نمل کی ایک آیت ہے جبکہ باقی سورتوں میں برکت کے لیے اسے ابتدا میں شامل کیا گیا ہے یہ ایک متبرک آغاز بھی ہے اور باعثِ تفریق بھی یعنی اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں سے دوسری سورہ کی ابتداء ہو رہی ہے۔ احناف کی اس بارے میں یہی رائے ہے البتہ امام شافعی پہلی رائے کے قائل ہیں۔

بسم اللہ کا پہلا لفظ "ب" ہے عربی زبان میں اس کو تلبس کی "ب" کہا جاتا ہے یعنی ملانے والے ،جوڑنے والی۔ تو ﷽ کا لفظی ترجمہ کچھ یوں ہوا کہ" ساتھ نام اللہ کے رحمٰن و رحیم" با محاورہ ترجمہ بنتا ہے" شروع  اللہ کے نام سے جو بڑے مہربان  نہایت رحم کرنے والے ہیں"

اس آیت مبارکہ میں اللہ تبارک وتعالیٰ کے ذاتی نام یعنی لفظ اللہ کے بعد دو صفاتی نام بیان فرمائے گئے۔ الرحمن اور الرحیم۔

یہ دونوں صفاتی نام بڑے ہی قابل غور اور توجہ طلب ہیں۔رحمان اور رحیم کہ مادہ تو ایک ہے پھر بھی یہ ایک ہی مادے والا لفظ دو بار کیوں ذکر کیا گیا اس لیے کے رحمان اور رحیم کے مفہوم جدا ہیں عربی میں الفاظ کو فعل سے تولا جاتا ہے۔

الرحمن۔فعلان کے وزن پر ہے اس وزن پر دوسرے الفاظ مثلاً غضبان غصے میں آیا ہوا عطشان یعنی پیاسا  حیران، پریشان۔ اب یہ تمام صفات عارضی ہیں دائمی نہیں ہیں۔

الرحیم ۔ یہ فعیل کے وزن پر ہے اس وزن پر جتنے الفاظ یا صفات ہیں اُن میں دوام ہوتا ہے جیسے حکیم، علیم۔ اب کوئی دانا ہے تو وہ دائمی ہے عارضی نہیں ہوتا اسی طرح اگر عالم ہے تو بھی عارضی نہیں ہو سکتا۔

تو جو بات ان دونوں الفاظ کی تشریح سے سمجھ آئی وہ یہ ہے کہ رحمٰن وقتی اور عارضی صفت ہے جبکہ رحیم دائمی صفت ہے۔ اسی لیے فرمایا گیا ہے کہ الرحمٰن الدنیا والرحیم لآخرۃ۔یعنی رحمٰن صفت اللہ تبارک وتعالیٰ کی صرف دنیا کے لیے ہے جبکہ رحیم دونوں جہانوں کے لیے ہے۔

دنیا میں وہ رحمٰن صفت کی وجہ سے اسے بھی دے رہا ہے جو اسکا انکاری ہے اور اسے بھی جو ایمان والا ہے ۔ بلکہ بسا اوقات کافروں کو زیادہ نوازا ہوا ہے لیکن نور ایمان رحیمیت ہے نیکی کی توفیق رحیمیت ہے جو نہ صرف دنیا میں بلکہ موت کے بعد قبر میں پھر حشر میں اور پھر اسکے بعد بھی ہمیشہ جس پر رحیمیت ہو گی اس کے ساتھ رہے گی۔

جبکہ کافروں کے لیے وہ دنیا میں تو رحمٰن ہے انکو بھی تمام دنیاوی انعامات مثلاً رزق اولاد اور وسائل کی صورت میں دے رہا ہے لیکن آخرت میں اُن کے وہ ذات بر حق جبار ہو گی قہار ہو گی۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں اپنی رحمٰن اور رحیم صفت کے صدقے صراط مستقیم سمجھنے، اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پر قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طلبگار

ابو محمد زبیر اویسی

سورہ فاتحہ کی فضیلت و اہمیت احادیث کی روشنی میں

0 Comments


مسند احمد میں سیدنا ابوسعید بن معلیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نماز پڑھ رہا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا، میں نے کوئی جواب نہ دیا۔ جب نماز سے فارغ ہو کر میں
 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب تک کس کام میں تھے؟“، میں کہا: یا رسول اللہ ! میں نماز میں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اللہ تعالی کا یہ فرمان تم نے نہیں سنا؟ «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّـهِ وَلِلرَّ‌سُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ» [8-الأنفال:24] ‏‏‏‏ ” اے ایمان والو! اللہ کے رسول جب تمہیں پکاریں، تم جواب دو “، اچھا سنو! میں تمھیں مسجد سے نکلنے سے پہلے بتلا دوں گا کہ قرآن پاک میں سب سے بڑی سورت کونسی ہے؟“ پھر میرا ہاتھ پکڑے ہوئے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد سے جانے کا ارادہ کیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وعدہ یاد دلایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورۃ «الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَ‌بِّ الْعَالَمِينَ» ہے یہی سبع مثانی ہے اور یہی وہ قرآن عظیم ہے جو مجھ کو دیا گیا ہے“ ۔ اسی طرح یہ روایت صحیح بخاری شریف، ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ میں بھی دوسری سندوں کے ساتھ ہے۔ (صحیح بخاری:4474) ‏‏‏‏

واقدی نے یہ واقعہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا بیان کیا ہے۔ موطا مالک میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو آواز دی، وہ نماز میں مشغول تھے، فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے، فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ پر رکھ دیا، اس وقت مسجد سے باہر نکل ہی رہے تھے کہ فرمایا: ”میں چاہتا ہوں کہ مسجد سے نکلنے سے پہلے تجھے ایسی سورت بتاؤں کہ تورات، انجیل اور قرآن میں اس کے مثل نہیں۔‏‏‏‏“ اب میں نے اپنی چال سست کر دی اور پوچھا، یا رسول اللہ ! وہ سورت کون سی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کے شروع میں تم کیا پڑھتے ہو؟“ میں کہا «الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَ‌بِّ الْعَالَمِينَ» پوری سورت تک۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہی وہ سورت ہے، سبع مثانی اور قرآنی عظیم جو مجھے دیا گیا ہے“ ۔ (مسند احمد:412/2:صحیح) ‏‏‏‏

اس حدیث کے آخری راوی ابوسعید رضی اللہ عنہ ہیں۔ اس بنا پر ابن اثیر اور ان کے ساتھ والے یہاں دھوکا کھا گئے ہیں اور وہ انہیں ابوسعید بن معلٰی سمجھ بیٹھے ہیں۔ درحقیقت یہ ابوسعید خزاعی رحمہ اللہ ہیں اور تابعین میں سے ہیں اور وہ ابوسعید انصاری صحابی ہیں رضی اللہ عنہ۔ ان کی حدیث متصل اور صحیح ہے اور یہ حدیث بظاہر منقطع معلوم ہوتی ہے۔ اگر ابوسعید تابعی کا سیدنا ابی رضی اللہ عنہ سے سننا ثابت نہ ہو اور اگر سننا ثابت ہو تو یہ حدیث شرط مسلم پر ہے۔ وَاللهُ اَعْلَمُ

اس حدیث کے اور بھی بہت سے انداز بیان ہیں، مثلاً مسند احمد میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں پکارا تو یہ نماز میں تھے “ التفات کیا، مگر جواب نہ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پکارا، سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے نماز مختصر کر دی اور فارغ ہو کر جلدی سے حاضر خدمت ہوئے السلام علیکم عرض کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دے کر فرمایا: ”ابی! تم نے مجھے جواب کیوں نہ دیا؟“ کہا یا رسول اللہ ! میں نماز میں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی آیت پڑھ کر فرمایا: ”کیا تم نے یہ آیت نہیں سنی؟“ کہا اے اللہ کے رسول ! غلطی ہوئی اب ایسا نہ کروں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم چاہتے ہو کہ میں تمہیں ایک ایسی سورت بتاؤں کہ تورات، انجیل، زبور اور قرآن میں اس جیسی سورت نہ ہو۔‏‏‏‏“ میں کہا ضرور ارشاد فرمائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہاں سے جانے سے پہلے ہی میں تمہیں بتادوں گا“، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرا ہاتھ تھامے ہوئے اور باتیں کرتے رہے اور میں نے اپنی چال دھیمی کر دی کہ ایسا نہ ہو کہ وہ بات رہ جائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر چلے جائیں۔ آخر جب دروازے کے قریب پہنچ گئے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ وعدہ یاد دلایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز میں کیا پڑھتے ہو؟“، میں نے ام القرآن پڑھ کو سنائی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تورات، انجیل، زبور اور قرآن میں اس جیسی کوئی اور سورت نہیں، یہ سبع مثانی ہے“ ۔ (مسند احمد:413/2:صحیح) ‏‏‏‏

ترمذی میں مزید یہ بھی ہے کہ یہی وہ بڑا قرآن ہے جو مجھے عطا فرمایا گیا ہے ، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (سنن ترمذي:2875،قال الشيخ الألباني:صحیح) ‏‏‏‏

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے بھی اس باب میں ایک حدیث مروی ہے۔(سلسلة احادیث صحیحه البانی:1499:صحیح) ‏‏‏‏

مسند احمد کی ایک مطول حدیث میں بھی اسی طرح مروی ہے۔ نسائی کی روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ یہ سورت اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان تقسیم کر دی گئی ہے ۔ ترمذی اسے حسن غریب کہتے ہیں۔(سنن ترمذي:3125،قال الشيخ الألباني:صحیح) ‏‏‏‏

مسند احمد میں سیدنا عبداللہ بن جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت استنجے سے فارغ ہوئے ہی تھے، میں نے تین مرتبہ سلام کیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ بھی جواب نہ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لے گئے اور میں غم و رنج کی حالت میں مسجد میں چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد طہارت کر کے تشریف لائے اور تین مرتبہ ہی میرے سلام کا جواب دیا۔ پھر فرمایا: ”اے جابر بن عبداللہ سنو! تمام قرآن میں بہترین سورت «الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَ‌بِّ الْعَالَمِينَ» آخر تک ہے“ ۔ (مسند احمد:177/4:صحیح بالشواهد) ‏‏‏‏ اس کی اسناد بہت عمدہ ہے۔ ابن عقیل جو اس کا راوی ہے، اس کی حدیث بڑے بڑے ائمہ روایت کرتے ہیں اور عبداللہ بن جابر رضی اللہ عنہ سے مراد ”عبدی صحابی“ ہیں، ابن الجوزی کا بھی یہی قول ہے۔ وَاللهُ اَعْلَمُ

حافظ ابن عساکر کا قول ہے کہ ”یہ عبداللہ بن جابر انصاری و بیاضی ہیں یہ حدیث اور اس جیسی اور احادیث سے استدلال کر کے اسحاق بن راہویہ، ابوبکر بن عربی ابن الحضار وغیرہ اکثر علماء نے کہا ہے کہ بعض آیتیں اور بعض سورتیں بعض پر فضیلت رکھتی ہیں۔‏‏‏‏

یہی ایک دوسری جماعت کا بھی خیال ہے کہ کلام اللہ کل کا کل فضیلت میں ایک سا ہے۔ ایک کو ایک پر فضیلت دینے سے یہ قباحت ہوتی ہے کہ دوسری آیتیں اور سورتیں اس سے کم درجہ کی نظر آئیں گی حالانکہ کلام اللہ سارے کا سارا فضیلت والا ہے۔ قرطبی نے اشعری اور ابوبکر باقلانی اور ابوحاتم ابن حبان بستی اور ابوحبان اور یحییٰ رحمہ اللہ علیہم سے یہی نقل کیا ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ سے بھی یہی روایت ہے۔ یہ مذہب منقول ہے ‏‏‏‏لیکن صحیح اور مطابق حدیث پہلا قول ہے۔ وَاللهُ اَعْلَمُ

سورۂ فاتحہ کے فضائل کی مندرجہ بالاحدیثوں کے علاوہ اور حدیثیں بھی ہیں۔ صحیح بخاری شریف فضائل القرآن میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک مرتبہ سفر میں ایک جگہ اترے ہوئے تھے۔ ناگہاں ایک لونڈی آئی اور کہا کہ یہاں کے قبیلہ کے سردار کو سانپ نے کاٹ کھایا ہے، ہمارے آدمی یہاں موجود نہیں، آپ میں سے کوئی ایسا ہے کہ جھاڑ پھونک کر دے؟ ہم میں سے ایک شخص اٹھ کر اس کے ساتھ ہو لیا ہم نہیں جانتے تھے کہ یہ کچھ جھاڑ پھونک بھی جانتا ہے۔ اس نے وہاں جا کر کچھ پڑھ کر دم کر دیا اللہ کے فضل سے وہ بالکل اچھا ہو گیا، تیس بکریاں اس نے دیں اور ہماری مہمانی کے لیے دودھ بھی بہت سارا بھیجا۔ جب وہ واپس آئے تو ہم نے پوچھا: کیا تمہیں جھاڑ پھونک کا علم تھا؟ اس نے کہا میں نے تو صرف سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کیا ہے ہم نے کہا: اس آئے ہوئے مال کو ابھی نہ چھیڑو، پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھ لو۔ مدینہ میں آ کر ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے کیسے معلوم ہوا کہ یہ پڑھ کر دم کرنے کی سورت ہے؟“ فرمایا: ”اس مال کے حصے کر لو میرا بھی ایک حصہ لگانا“ ۔ صحیح مسلم شریف اور ابوداوَد میں یہ حدیث ہے۔ (صحیح بخاری:2276) ‏‏‏‏

مسلم کی بعض روایتوں میں ہے کہ دم کرنے والے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ ہی تھے۔ مسلم اور نسائی میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مرتبہ جبرئیل علیہ السلام بیٹھے ہوئے تھے کہ اوپر سے ایک زور دار دھماکے کی آواز آئی۔ جبرئیل علیہ السلام نے اوپر دیکھ کر فرمایا آج آسمان کا وہ دروازہ کھلا ہے جو کبھی نہیں کھلا تھا۔ پھر وہاں سے ایک فرشتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا خوش ہو جائیے دو نور آپ کو ایسے دیے گئے ہیں کہ آپ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیے گئے سورۂ فاتحہ اور سورۂ بقرہ کی آخری آیتیں ایک ایک حرف پر نور ہے ۔ (صحیح مسلم:806) ‏‏‏‏

دلائل النبوۃ میں امام بیہقی نے ایک حدیث نقل کی ہے جس میں ہے کہ یہ سورت سب سے پہلے نازل ہوئی، باقلانی نے نقل کیا ہے کہ ایک قول یہ ہے کہ سورۃ فاتحہ سب سے پہلے نازل ہوئی اور دوسرا قول یہ ہے کہ «يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ‌» [74-المدثر:1] ‏‏‏‏ سب سے پہلے نازل ہوئی جیسا کہ صحیح حدیث سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور تیسرا قول یہ ہے کہ سب سے پہلے «اقْرَ‌أْ بِاسْمِ رَ‌بِّكَ الَّذِي خَلَقَ» (96-العلق:1) ‏‏‏‏ نازل ہوئی اور یہی صحیح ہے