منافق کا مطلب اور منافقین کی اقسام۔کیا منافقین دورِ حاضر میں بھی موجود ہیں؟

0 Comments


 اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہُ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْٗ وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْٗ وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْٗیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

سورۃ  البقرہ کی آیت نمبر 8 سے 20 تک چونکہ منافقین کے بارے میں ہیں تو ان آیات کی تفسیر و تشریح سے پہلے ہم نفاق اور منافقین کے بارے میں گفتگو کریں گے۔

منافق کون ہوتا ہے؟

                   جو  شخص ظاہراً تو خود کو مسلمان ظاہر کرے لیکن وہ دل سے کفریہ عقائد پہ قائم ہو  یا اسلامی عقائد کے بارے میں شک و شبہ میں مبتلا ہو، یعنی دل سے یقین نہ رکھتا ہو ایسے شخص  کو شریعتِ اسلامی میں منافق کہا جاتا ہے۔

نفاق دو طرح کا ہوتا ہے:

1۔ اعتقادی نفاق :

                        اعتقادی نفاق یہ ہے کہ ظاہراً تو خود کو مسلمان ظاہر کرے لیکن درپردہ کفر پہ  قائم ہو ۔ منافق اعتقادی کے کفر میں کوئی شبہ نہیں ہوتا۔

 اس قسم کے منافقین کا پہلا اور بڑا گروہ مدینہ میں ظاہر ہوا جن کی اکثریت یہود تھی لیکن وہ خود کو مسلمان ظاہر کرتے تھے اور نہ صرف اسلام کے خلاف کفر کی مختلف سازشوں کا حصہ ہوتے تھے  بلکہ کئی موقعوں پر انہوں نے مسلمانوں کو نقصان بھی پہنچایا۔

 نفاق چونکہ دل کا معاملہ ہے یہ سب پہ ظاہر تو نہیں ہوتا  لیکن اللہ تعالیٰ دل کے حال جانتا ہے  اور منافقین ِ مدینہ کے معاملے میں بھی  اللہ نے حضورعلیہ الصلوۃ و السلام کو آگاہ فرمایا۔ سورۃ البقرہ کی یہ تیرہ آیات  براہِ راست ان لوگوں کے بارے میں ہی ہیں جن میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کا معاملہ واضح اور کھول کر بیان فرما دیا۔

دورِ حاضر میں بھی ایسے لوگوں کا انکشاف ہوتا رہتا ہے جو حقیقت میں تو کافر ہوتے ہیں  لیکن کئی کئی سال تک مسلمانوں کی صفوں میں گھسے رہتے ہیں  اور مسلمانوں کے لئے بہت بڑے بڑے نقصانات کا باعث بنتے ہیں البتہ کوئی دوسرا ان کا معاملہ تب تک نہیں جان سکتا جب تک  اللہ ان کا معاملہ ظاہر نہ فرما دیں یا وہ خود کھل کر سامنے نہ آ جائیں۔

2۔ عملی نفاق:

                        اس قسم کا منافق عقیدے کے لحاظ سے تو پکا مسلمان ہوتا ہے  لیکن اس کا عمل منافقین جیسا ہوتا ہے، اس کی عادات و اطوار منافقین سے ملتے جلتی ہوتی ہیں۔ اس قسم کو عملی نفاق کہتے ہیں۔ اور ایسا شخص عملی منافق ہوتا ہے۔ اس قسم کے لوگ ہمارے معاشرے میں کثرت سے ملتےہیں جو باوجود علم و شعور رکھنے کے  اور ایمان و اسلام کے دعویٰ کے بے عمل ہیں۔

مثلاً بے نمازی شخص  جو مانتا بھی ہے، نماز کی اہمیت کو جانتا بھی ہے ، نتائج سے بھی آگاہ ہے  لیکن نماز نہیں پڑھتا۔ بلکہ میں نے یہاں تک لوگوں سے سنا ہے کہ ہم کمزور ہیں سست ہیں یا وقت نہیں ہمارے پاس مصروفیات بہت زیادہ ہیں، اللہ بڑا غفور و رحیم ہے ، معاف فرما دے گا۔سو د کی حرمت کا اور اس کے نقصانات کا بھی اندازہ ہے پھر بھی باز نہیں آتے یعنی اللہ تبارک وتعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ سے اعلانِ جنگ کرکے یہ لوگ پھر اس کے جائز ہونے کی دلیلیں گھڑ رہے ہوتے ہیں،حق تلفی معاشرہ کا عام وطیرہ بن چکی ہے جس کے پاس طاقت و اختیار ہے وہ دوسرے کی حق تلفی اپنا حق سمجھتا ہے ۔وراثت میں عورتوں کا حصہ نہیں اور کہا جاتا ہے کہ ہم نے بہنوں ،بیٹیوں کو پہلے ہی بہت کچھ دے دیا ہے کیا یہ کافی نہیں۔ حیرانگی کی بات ہے کہ جو اللہ کی نافرمانی پہ ڈٹ چکا ہے، فکر ہی نہیں اپنی بے عملی کی اور خود کو نفس کے اور شیطان کے اس بہکاوے میں مبتلا کر رکھا ہے کہ اللہ بڑا غفور و رحیم ہے ہماری بے عملی کو معاف فرما دے گا ۔ بلا شبہ مغفرت اس کی رحمت سے ہے وہ جس کی چاہے مغفرت فرما دے۔ لیکن خود کو اس کی مغفرت کے قابل تو بنانے کی کوشش کرنی چاہیئے، مقدور بھر اس کے احکامات پہ عمل کرنے کی تو کوشش و جستجو ہو۔ سب کچھ سرے سے چھوڑ کر  بے عملی کی زندگی گزارنا اور پھر اس کی رحمت کی طلب رکھنا تو صرف ایک بہکاوا ہے۔ جو نفس و شیطان ہمارے دل میں ڈالتا ہے۔

یہ عملی نفاق ہے جس سے دورِ حاضر میں بچنا انتہائی مشکل بھی ہےلیکن اتنا ہی ضروری بھی ہے۔ ایسے شخص کو ہم منافق تو نہیں کہیں گے کیونکہ نفاق کا تعلق دل سے ہے اور دل کا حال اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں  لیکن اس طرح کا کردار جو منافق کا ہوتا ہے اگر ہمارا ہو تو ممکن نہیں کہ ایمان سلامت رہے۔

آپ علیہ الصلوۃ و السلام کا فرمان ِ عالی شان ہے کہ : زنا کرنے والا زنا کرتے وقت مومن ہونے کی حالت میں زنا نہیں کرتا،  چور چوری کے وقت ایمان کی حالت میں چوری نہیں کرتا،شرابی شراب پیتے وقت ایمان کی حالت میں شراب نہیں پیتا، لوگوں کا مال لوٹنے والا مال لوٹتے وات ایمان کی حالت میں مال نہیں لوٹتا  اور تم میں جب کوئی خیانت کرے تو  مومن ہونے کی حالت میں خیانت نہیں کرتا پس تم ان چیزوں سے بچو۔

اس حدیث ِ مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ گناہ کے  ارتکاب کے وقت  انسان ایمان سے محروم ہو جاتا ہے اور اگر وہ توبہ نہ کرے اور  ہمیشہ ہمیشہ کیلئے کسی ایسے گناہ میں پھنس جائے یعنی گناہ کو متواتر اختیار کر لے تو پھر ایمان کا باقی رہنا نا ممکن ہے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی

0 Comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔