اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ،
وَالصَّلاۃُ
والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہُ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ
مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔
رَبِّ اشْرَحْ لِیْ
صَدْرِیْٗ
وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْٗ
وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْٗیَفْقَهُوْا
قَوْلِیْ۪
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَإِذَا
قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ
اور جب ان سے کہا جاتا ہے
کہ زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں
قاضی ثناءاللہ مظہری پانی
پتی ؒ تفسیری مظہری میں فرماتے ہیں کہ
" فساد ضد ہے صلاح کی اور یہ دونوں لفظ ہر قسم کی ضرر دینے والی اور نفع
بخشنے والی چیزوں کو عام ہیں یعنی فساد کا لفظ ہر قسم کی تکلیف اور نقصان دینے والی چیزوں کیلئے جبکہ صلاح کا لفظ ہر قسم کی مفید اور نفع
بخش چیزوں کیلئے ہے۔"
شیخ عبد الحق ھقانی دہلوی
ؒ تفسیر ِ حقانی میں فرماتے ہیں " کسی شے کا اعتدال سے باہر ہونا اور جو نفع کہ اس سے خیال کیا جاتا ہے اسکے
قابل نہ رہنا اور اسکی ضد صلاح ہے یعنی جس
طرح فساد کے معنوں میں بگڑنا ہے اسی طرح صلاح کے معنوں میں سنورنا معتبر ہے۔"
قاسمِ فیوضات حضرت مولانا
محمد اکرم اعوان ؒ اکرم التفاسیر میں بیان فرماتے ہیں کہ" جو شخص اپنے طریقے
سے یا اپنی خیال کے مطابق اپنی رائے سے
اصلاح کرنا چاہتا ہے اور اسکی رائے اللہ تبارک وتعالیٰ اور اللہ کے نبی ﷺ کے
ارشادات کے خلاف ہوتی ہے، وہ ایک فساد پیدا کرتی ہے۔"
مزید فرماتے ہیں کہ انسان
جو چیز بناتا ہے اس کے استعمال کا ایک
قاعدہ ہے۔ ایک مکان بنایا گیا اس میں کھڑکیاں بھی ہیں ، روشن دان بھی ہیں ، دروازے
بھی ہیں ۔ اس کے اندر داخلے کیلئے دروازہ رکھا جاتا ہے اب کوئی کہے کہ روشندان میں بھی جگہ ہے میں
سیڑھی لگا کر روشندان سے داخل ہو جاؤں گا اور پھر اس سے نکل جاؤں گا تو یہ فساد ہو گا ، مصیبت پیدا کرے گا، صحیح
طریقہ نہیں ہو گا۔
جس قادرِ مطلق نے کائنات
بنائی ہے اس میں اس میں رہنے سہنے کے، ہر
کام کے طریقے اور راستے مقرر فرمائے
ہیں جو نبی کریم ﷺ نے وضاحت سے ارشاد فرما
دیئے ہیں ۔ اسلام کا صرف زبانی فلسفہ ہی نہیں ارشاد فرمایا گیا بلکہ اللہ کریم نے حضور علیہ الصلٰوۃ و السلام
کو صحابہ کی ایسی مبارک جماعت عطا فرمائی
جس نے حضور ﷺ کے سامنے اللہ تعالیٰ کے
احکامات پہ عمل کیا اور حضورﷺ نے
تصدیق فرمائی۔
دورِ حاضر میں ہمیں ہر
طرف فساد اور بگاڑ دکھائی دیتا ہے اس کا
بنیادی سبب کیا ہے ؟ بنیادی سبب یہ ہے کہ لوگوں نے اپنی عقل اور ناقص رائے پہ عمل شروع کر دیا ہے ۔ ارشاداتِ الٰہی کو ، ان
ضابطوں کو جو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمائے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین
نے کر کے دکھائے، انہیں چھوڑ دیا ہے۔
یہاں جو قابلِ غور بات یہ
کہ کہ جن لوگوں کے بارے میں یہ بات بیان فرمائی جا رہی ہے وہ منافقین ہیں کیونکہ کفار کا فساد تو کوئی
ڈھکی چھپی چیز نہیں لیکن جو منافقین کا
فساد ہے وہ خطرناک بھی ہے اور اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ دورِ حاضر میں ہم
کسی کو شرعاً منافق تو نہیں کہ سکتے ، وحی الٰہی کا سلسلہ بند ہو چکا اور نہ اب
کوئی نبی آئے گا تو کوئی دوسرا ذریعہ نہیں کہ ہم کسی کی نفا ق کو جان سکیں ، اب ان
لوگوں کو منافق نہیں بلکہ فاسق کہا جائے گا جن میں منافقین کی علامات پائی جاتی
ہیں۔ اور ایسے لوگ چونکہ اسلام کے لبادے میں ہوتے ہیں اسلام کے نام سے پہچانے جاتے
ہیں ، خود کو مسلمان کہلواتے ہیں لیکن یہ
خصلتیں یہ عادات و اطوار جو ان تیرہ آیات میں بیان ہوئیں اور اس کے بعد اور بھی
بہت سے قرآنی آیات اور احادیث میں بیان فرمائی گئیں ، یہ بتائیں گی یہ نشانیاں ایسے لوگ کی شناخت کریں گی اور یہ ہی
واحد ذریعہ ہے ایسے لوگوں کی حقیقت جاننے کا اور ان سے بچنے کا ۔ اور نہ صرف ایسے
لوگوں کو پرکھنے کا بلکہ خود کو بھی ان تیرہ آیت کو سامنے رکھ کر پرکھنا چاہیئے کہ
جو علامات منافقین کی بیان ہوئیں کہیں وہ ہم میں تو نہیں پائی جاتیں۔
اس آیتِ کریمہ میں جو بات
بیان فرمائی گئی کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں کہ
ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں تو آپ غور
فرمائیں تو آپ کو آسانی سے سمجھ آ سکتا ہے کہ دورِ حاضر میں ایسے لوگ بکثرت پائے
جاتے ہیں جو دین ِ اسلام میں اپنے رائے
اور پسند و ناپسند کو شامل کر رہے ہوتے ہیں ،
تفرقہ بازی پھیلا کےلوگوں کے درمیان دوریاں اور نفرتیں پیدا کر رہے ہوتے
ہیں، قرآن و احادیث کو اپنی مرضی کے معانی
و مفاہیم پہنا کے لوگوں کے عقائد و اعمال کو خراب کر رہے ہوتے ہیں، مزاروں اور پیر خانوں پہ
جائیں تو عقیدت و محبت کہ نام پہ لوگوں کو
مختلف قسم کی شرکیہ و کفریہ رسومات میں الجھایا ہوتا ہے ۔ خود ساختہ اسلامی سکالر
ز کا روپ دھار کے ایسے مسائل جن پہ
اجماعِ امت ہے اکابریں سے لے اب تک کے
علماءِ دین متفق ہیں ، ان کو موضوع بحث بنا کر ، اکابرین اور ائمہ دین کے محققانہ
اور فروعی اختلافات کو تنازعات کا روپ دے
رہے ہوتے ہیں اور جعلی پیروں اور عاملوں
کو موضوع بنا کر تصوف و طریقت جیسے بنیادی علوم دین کا انکار کر رہے ہوتے
ہیں اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آپ فساد
پھیلا رہے ہو تو کہتے ہیں ہم تو اصلاح کر رہے ہیں ، ہم تو لوگوں کو اصل دین بتا
رہے ہیں ، ہم تو لوگوں کو صراطِ مستقیم پہ لا رہے ہیں ۔
حیرانگی کی بات ہے کہ امت
جس پہ چودہ سو سال سے متفق ہے اور ایک بندہ چودہ صدیوں بعد پیدا ہوا اور کہتا ہے
کہ میں لوگوں کو اصل دین سمجھا رہا ہوں تو کیا چودہ سو سال سے جو علمائے امت، ائمہ
دین ، اکابرینِ امت کے درمیان متفق علیہ
ہے وہ غلط ہے ، وہ درست نہیں اور جو تو بتا رہا ہے وہ درست ہے تو کیا ممکن
ہے کہ یہ امت چودہ سو سال سے گمراہی پہ تھی اور اب تو اصلاح کرنے آگیا ہے ۔ حقیقت
میں انہی لوگوں کے بارے میں فرمای جا رہا ہے کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ فساد نہ
پھیلاؤ تو کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔
شاہ ولی اللہ رحمتہ اللہ
علیہ فرماتے ہیں کہ میں روزہ رسول ﷺ پہ حاضر ہوا اور میں نے اجتہاد کی اجازت
چاہی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ شاہ ولی اللہ
غور کرو اگر ائمہ اربعہ (امام ابو حنیفہ ؒ، امام مالک ؒ، امام شافعی ؒ ، امام حنبل
ؒ )نے کوئی کمی چھوڑی ہے تو تمہیں اجازت ہے۔یہ ایک کشفی معاملہ تھا کوئی اس پہ
یقین کرے نہ کرے اس کی مرضی لیکن اس کے بعد جو اہم بات وہ فرماتے ہیں کہ میں نے
غور کیا کہ کیا کسی معاملے میں کوئی کمی ہے جس پہ میں اپنی اجتہادی رائے پیش کروں
تو غور کرنے پہ معلوم ہوا کہ کوئی معاملہ ایسا نہیں جس میں ائمہ اربعہ نے کوئی کمی
چھوڑی ہو ۔
شاہ ولی اللہ رحمتہ اللہ
علیہ جیسی عظیم ہستی جنہوں نے روئے زمین پہ پہلی بارمکمل قرآن کریم کا کسی اور
زبان( فارسی) میں ترجمہ کیا پھر ان کے بیٹوں
شاہ عبد القادر ؒ اور شاہ رفیع الدین ؒ نے
سب سے پہلے اردو ترجمہ کیا ۔ اتنی بڑی بڑی ہستیوں نے بھی جن ائمہ اربعہ کی
شان بیان فرمائی ہو۔ انہیں تنقید کا نشانہ نہیں بنایا بلکہ فرمایا کہ انہوں نے کسی
مسئلے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ تو اگر
کوئی دورِ حاضر میں نام نہاد مذہبی سکالر اور
ملّا اتنی بڑی بڑی ہستیوں ، ائمہ
کرام، علمائے کرام ،فقہائے کرام،صوفیائے کرام ، اولیائے کرام ، تابعین ،
تبع تابعین اور صحابہ کرام رضوان اللہ
علیہماجمعین تک کو معاف نہ کرے اور ان کو تنقید کا نشانہ بنائے یا ان کے علوم کا
رد کر کے خود کو بہت بڑا عالم تصور کرے، ان کے فروعی اختلافات کا مذاق اڑائے اور دعویٰ اصلاح کا کرے تو ایسے لوگوں سے بچنا
چاہیئے کیونکہ قرآن ان کے فساد پہ مہر ثبت کر رہا ہے فرمایا گیا :
أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ وَلَكِنْ
لَا يَشْعُرُونَ
یقیناً یہی لوگ فساد کرنے
والے ہیں لیکن وہ اس کا شعور نہیں رکھتے۔
حسد،
بغض و عناد، کینہ پروری،اپنی علمی قابلیت کا گھمنڈ و غرور اور تکبر کا شکار ، اور
پھر گستاخانہ طرز تکلم اور انداز کی وجہ
سے ان کا شعور ، انکا فہم و ادراک ، انکی عقل و سمجھ باقی نہیں رہی ۔ اور یہ دعویٰ اصلاح کا کر رہے ہیں جبکہ حقیقت
میں یہ فسادی ہیں۔ دینِ اسلام کے وہ پہلے جن پہ چودہ سو سال سے امت کا اجماع ہے
اور امت متفق چلی آرہی ہے ، جن کےبارے میں امت میں کوئی اختلاف نہیں، انہی معاملات
کے بارے میں یہ اپنی ایک الگ رائے گھڑ رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم اصلاح کر رہے
ہیں حقیقتاً یہ ہی اصل فسادی ہیں۔
اللہ
تبارک و تعالیٰ ہماری ان سے حفاظت فرمائے۔
اللہ
تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم
رہنے کی توفیق و ہمت عطا فرمائے۔
آمین
یا رب العالمین
دعاؤں کا طالب
ابو محمد زبیر اویسی











0 Comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔