تصوف و طریقت لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
تصوف و طریقت لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پانچواں لطیفہ، اخفاء - کنوزِ دل شرح رموزِ دل تصنیفِ لطیف حضرت مولانا محمد اکرم اعوانؒ - سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ

0 Comments

 

ویڈیو دیکھنے کیلئے لنک پر کلک کریں

 حصہ اوّل                                                    حصہ دوم

اس کا مقام سینے کے درمیان ہے۔جہاں سینے کی ہڈی پیٹ سے ملتی ہے گویا پہلے لطائف کے درمیان۔اس پر آقائے نامدار حضرت محمدﷺ کا فیض اور انوارات آتے ہیں۔یہ پانچویں آسمان سے آتے ہیں۔ان کا رنگ سبز ہوتا ہے۔سبحان اللہ ! کوئی کیا کیا شمار کر سکتا ہے کہ اول و آخر تمام انبیاء کرامؑ کو جو نعمتیں ،برکات، علوم اور معجزات نصیب ہوئے وہ سب آپﷺ کے واسطے ہوئے کہ آپﷺ نبیوں کے بھی نبی اور امام الانبیاء ہیں۔

حسنِ      یوسف،دمِ    عیسیٰ،یدِ     بیضاداری

آنچہ    خوباں    ہمہ     دارند   تو     تنہا   داری

 تو  آپﷺ سے جو برکات نصیب ہوتی ہیں وہ ان تمام کمالات کو حاوی ہوتی ہیں۔یہ بات کہ آدمی کی فطری استعداد خا ص ہوتی ہیں اس میں وہ زیادہ ترقی کر جاتا ہے مگر دوسری خصوصیات سے محروم نہیں رہتا۔

سب سے پہلے اور سب سے قیمتی بات!کہ عقائد میں تمام انبیاؑء ایک ہیں۔سب   عقیدہ توحید،رسالت،کتاب،آخرت،ملائکہ،حساب کتاب،جنت و دوزخ پر متفق ہیں۔تو گویا سالک کی اصلاح،عقیدہ کے متعلق بہت اعلیٰ اور یقینی ہو جاتی ہیں۔فقیر نے پچیس برس اپنے شیخ کے ساتھ گزارے حالانکہ حضرت رحمتہ اللہ علیہ)قلزمِ فیوضات حضرت مولانا اللہ  یار خان ؒ)  نہ صرف متبحر عالم تھے بلکہ بہت ہی بلند پایہ مناظر بھی تھے اور مناظر حضرات کا مزاج ہوتا ہے کہ ہر معاملہ میں کرید بھی کرتے ہیں اور تنقید بھی۔مگر حضرت رحمتہ اللہ علیہ نے آنے والے سے کبھی نہیں پوچھا کہ عقیدہ کیا ہے؟اعمال میں کتنی پابندی کرتے ہو؟یا کس ماحول میں رہتے ہو؟

آپ رحمتہ اللہ علیہ نے لطائف پہ توجہ دی اور پابندی کی تلقین کر دی۔فقیر کا مشاہدہ ہے کہ بندے کے اندر جستجو پیدا ہو جاتی اور وہ اپنی اصلاح خود کرتا۔فرائض کا پابند بلکہ  تہجد گزار بن جاتا اور کلبوں  اور ناچ گھروں  سے نکل کر مساجد کی آبادی کا سبب بن جاتا۔ یہ برکات حضور اکرمﷺ کی توجہ اور انواراتِ مبارکہ کی ہوتی ہیں۔ حضور اکرمﷺ ساری انسانیت،سارے زمانوں اور سارے معاملات کے امام اور رسول ہیں۔امورِدنیا میں،زندگی کے ہر شعبے میں    آپﷺ کے نقوشِ کفِ پائے مبارک موجود ہیں جو نہ صرف راہنمائی فرماتے ہیں بلکہ زندگی کو سہل بناتے ہیں اور سو فیصد کامیابی کی ضمانت دیتے ہیں اور دنیاوی کاموں پر آخرت اور اُخروی کامیابی بطورِ انعام نصیب ہوتی ہے  لہٰذا  جو بندہ زندگی کے شعبے سے متعلق ہو اس میں اُسے بہت کامیابی نصیب ہوتی ہے کہ اسے کام کرنے کا سلیقہ بھی آجاتا ہے اور وہ ہر کام پورے خلوص سے بھی کرتا ہے۔ایک بات اور ! کہ نہ صرف کام کرنے کا سلیقہ اور شعور نصیب ہوتا ہے بلکہ استعداد دِکار بھی نصیب ہو جاتی ہے۔یعنی: گلشن   میں   علاجِ   تنگی     داماں بھی     ہے

طالب کو کام کرنے کی صلاحیت بھی ربِ کریم عطا فرما دیتا ہے اور یہ لوگ دُنیا و آخرت میں کامیاب ترین لوگ ہوتے ہیں۔

حضور اکرمﷺ کی برکات گنوانا  ناممکن ہے اور اللہ کی عطا کو شمار کرنا بھی ناممکن۔لیکن سب سے عجیب بات کہ پھر اس کے دعویداروں کو بھی بھٹکتے دیکھا۔وجہ یہ  ہے کہ تمام برکات کے حصول کی بنیاد خلوص پر ہے اور یہ نعمت دل کے فیصلے پر رکھ دی گئی ہے۔وَيَهْدِي إِلَيْهِ مَنْ يُنِيبُ   شوریٰ۔13

یعنی جو خلوصِ دل سے آرزو کرتا ہے اللہ کریم اُسے ہدایت نصیب فرماتے ہیں۔اب یہ خلوص ایسی دولت ہے جو عظمت میں پہاڑوں سے بلند تر مگر نزاکت میں شیشہ دل سے بھی نازک تر ہے۔درست ہو تو طلبِ حق پیدا ہوتی ہیں۔اللہ کریم اپنے اُن بندوں سے ملا دیتے ہیں جہاں سے برکاتِ رسالت نصیب  ہو کر دل روشن ہوتے ہیں اور یہ نور بڑھتا چلا جاتا ہے۔لیکن انسان  پھر انسان ہے۔ نفس اور شیطان تاک میں ہیں جو پہلے تو اس نعمت سے دور رکھنے میں لگے رہے لگر جب  بندے کو احساس ہوتا ہے ،وہ اس طرف آتا ہے اور یہ دولت نصیب ہوتی ہے تو وہ بھی پہلو بدل لیتے ہیں اور پھر گمان پیدا کرنے لگتے ہیں کہ اب تم بہت  پارسا ہو گئے ہو،تمہارا مقام بہت بلند ہو گیا ہے،تمہاری  دُعا تو دُعا،تم جو کہہ دیتے ہو وہ ہو جاتا ہے۔پھر ان کے ساتھ باقی  کمی کالانعام پوری کر دیتے ہیں۔جو ہاتھ چومنا شروع  کر دیتے ہیں اور کبھی گھٹنے چھونے لگتے ہیں اور ہمہ وقت دعاؤں کے طالب اور ان کے  بدلے روپیہ پیسہ نچھاور کرنے لگتے ہیں۔

 اب  یہ معاملہ بہت نازک اور صرف اور صرف عظمتِ الہٰی کا تقاضا کرتا ہے اور لاشے محض ہونے کے یقین پہ اس کی بنیاد ہے۔جب بندہ کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونے کی طرف آنا چاہتا ہے،جس کا سبب نفس،شیطان اور عوام بنتے ہیں تو اس پہاڑوں سے عظیم مگر شیشہ دل سے نازک رشتے میں بال آجاتا ہے اور پھر راستہ قدرو منزلت کی طرف بدل جاتا ہے۔اللہ کریم اس سے محفوظ رکھے۔آمین۔

چنانچہ اس کا دولت و سرمایہ یقین اور خلوص ہے۔جو فقیر کے مطابق ایک ہی کیفیت کے دو نام ہے۔اگر یہ دولت نصیب ہو تو کیا ہوتا ہے؟یہ صرف جانا جا سکتا ہے، بیان کرنا یا لکھنا نا ممکن ہے ۔جسے شوق ہو وہ کر کے دیکھے۔ہاں یہ کہا جا سکتا ہے اور  بلاِخوف تردید کہا جا سکتا ہے کہ ایسا طالب جسے لطائف خمسہ نصیب ہو جائیں دنیا وآخرت کے ہر شعبے میں کامیاب ثابت ہوتا ہے اور یہ کمال اللہ کے رسول ﷺ کا ہے کہ جن کی برکات کا پرتو  لوہے کو کندن بنا دیتا ہے۔

 ذرا حیات طیبہ ﷺ پہ غور کیجیے  تو بچپن سے یعنی دنیاوی آسرایا کوئی ظاہری سبب نہیں۔پھر لڑکپن میں حضرت عبدالمطلب کی رحلت  اور آپﷺ کا اپنے چچا ابو طالب کے زیرِ کفالت آنا، وہ آپﷺ کی مدد کیا فرماتے خود آپﷺ اُجرت پر بکریاں چراتے اور اُجرت اپنے چچا کو عطا کرتے۔ پھر آپﷺ کی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا سے شادی  ہوئی تو آپﷺ نے چچا سے فرمایا کہ ایک بیٹا مجھے دے دیں میں اس کی پرورش  کروں گا اور آپ کا بوجھ بانٹ لوں۔پھر اعلان نبوت پر روئے زمین کے کفر و شرک اور ظلم و جور کے مقابل صرف اللہ کریم کی مدد سے کھڑا ہو جانا اور پھر ہجرت فرمانا کہ قرآن کریم فرماتا ہے: وَمَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ   سورۃ النور ۔54

" کہ میرے رسول کی ذمہ داری تو میرا پیغام پہچانا ہے اور بس۔"

مگر جوں جوں پیغام قبول ہوتا گیا۔ان لوگوں کو آگے کی راہنمائی فرماتے گئے حتیٰ کہ ضرورت پیش آئی کہ اتنے لوگ مشرف بہ اسلام ہو گئے کہ اب آزاد زمین اور آزاد ریاست کا وجود چاہیے تو مدینہ منورہ ہجرت فرمائی۔گھر بار ،دوست،رشتہ دار،مال و دولت،جاگیر جائیداد تمام مہاجرین نے قربان کی اور مدینہ منورہ جلوہ افروز ہوئے اور ایک آزاد ریاست کی ابتدا ہوئی۔ اور پھر مدینہ منورہ کے دس سال ایک جہدِ مسلسل ہیں یہ صرف اور صرف آپﷺ کی شان کو زیبا ہے کہ ان دس سالوں کے تمام امور،صرف غزوات و سرایا کی تعداد اسی (80) سے زیادہ ہے۔ پھر ریاست کے تمام امور، قوانین اور ضابطے اور ان پر عمل۔نہ صرف اس ریاست کے لیے بلکہ روئے زمین پر  بسنے والوں کے لیے۔قیامت تک کے لیے ہمیشہ سند کا درجہ رکھتے ہوں۔ اور پھر پورا جزیرہ نمائے عرب کا ریاست میں شامل ہو کر قیصر و کسریٰ کے مقابل اور روئے زمین کے تمام ظالمانہ نظام کے مقابل،عادلانہ نظام کا اجراء۔ یہ محنت نہ ہو تو  وہ پیر سمجھ  سکتا ہے جو مریدوں کی کمائی پہ پلتا ہے اور نہ صرف  وہ سیاستدان جو آج نظام کو کیا بدلے گا اپنا حلیہ تک اسلامی نہیں بنا سکتا کہ کفر نا راض نہ ہو جائے۔

آپﷺ نے امانت اُن جاں نثاروں کے سپرد فرمائی جو خود آپﷺ نے تیار فرمائے تھے اور انھوں نے ربع صدی میں روئے زمین پر نہ صرف پیغامِ حق کو عام کر دیا بلکہ ایسی اسلامی ریاست بنا دی جو ہسپانیہ سے مغربی ہند اور چین تک اور روس سے افریقہ تک اسلامی نظا مِ حکومت کی روشن مثال تھی۔

 یہ لطیفہ روشن ہو جائے تو سالک دنیاوی آسروں کا محتاج نہیں رہتا۔  دن رات دین کی عملی تعبیر کے لیے کوشاں اور ایک انقلاب آفرین ہستی بن جاتا ہے۔نہ صرف خود دینِ حق پر عامل ہوتا ہے  بلکہ ایک عالم کو اس سے برکات نصیب ہوتی ہیں اور لوگ عملاً دینِ حق پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔

 ان پانچ لطائف کا نصیب ہونا  بھی اللہ کریم کا بہت بڑا احسان اور نعمت غیر مترقبہ ہے۔ حضرت جی ؒ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے ایک نکاح کے جھگڑے کا فیصلہ کرنے کیلئے قصبہ لیٹی(تلہ گنگ) بلایا گیا چونکہ  متعلقہ خاتون سے بھی حقائق جاننا ضروری تھا لہذا جب خاتون سے تنہائی میں استفسار کرنا تھا تو میں نے کہا کہ کوئی ایک صالح اور عمر رسیدہ بندہ میرے ساتھ کر دو جس کے سامنے بات جان سکو تو انہوں نے قاضی صاحب کو ساتھ بٹھا دیا ۔بات ہوئی، فیصلہ ہو گیا جب میں وہاں سے رخصت ہوا تو قاضی صاحب بھی ساتھ تھے کہ مجھے بس  کے اڈے تک   پہنچا کر آئیں ، راستے میں کہنے لگے کہ حضرت اللہ ،اللہ کرتا ہوں ، دندہ شاہ بلاول  والے حضرت صاحب جو حضرت شاہ بلاول کی اولاد میں سے تھے، نے مجھے لطائف پہ اسباق شروع کرائے ،غالباً دو سال میں ایک لطیفہ کراتے تھے لہٰذا میں دس سالوں میں پانچ لطائف سیکھ سکا مگر الحمد للہ میرے پانچوں لطائف منور ہیں اور مسلسل محنت کر رہا ہوں مگر عالم یہ ہے کہ میرے رہائش گاؤں سے باہر ڈیرے پر ہے جب کبھی گاؤں جانا ہو اور اونچی جگہ سے گاؤں پر نظر پڑے تو لگتا ہے کہ گاؤں درندوں، سانپوں  اور اژدہوں سے بھرا پڑا ہے ۔حضرت ؒ فرماتے تھے کہ میں سمجھ گیا کہ یہ تو مراقبہ رویتِ اشکال ہے جو باقاعدہ کرایا جاتا ہے مگر ان کے لطائف اس قدر روشن ہیں کہ انہیں اس کی جھلک گاہے بگاہے نظر آجاتی ہے انسان گناہ کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ اس کی روح کی شکل بدل کر حیوانی ہو جاتی ہے اگر ایمان باقی رہے تو حلال جانور کی شکل ہوتی ہے ، مگر مسلسل گناہ سے اگر ایمان بھی ضائع ہو جائے تو پھر موذی جانور وں اور درندوں جیسی شکل ہو جاتی ہے اور عموماً جس درندے یا جانور سے عادات کی مشابہت ہو ویسی شکل بنتی ہے ، بظاہر وجود تو انسانی رہتا ہے مگر کردار ویسا ہی ہو جاتا ہے چنانچہ حضرت  جی ؒ فرماتے کہ جب میں نے بات سمجھائی (اور طالب کو بھی کمال درجے کا پایا) تو قاضی صاحب عرض کرنے لگے کہ میرے حضرت کا وصال ہو گیا مگر وہ مجھے بتایا کرتے تھے کہ لطائف سات ہیں کاش کوئی ایسا اللہ کا بندہ مل جاتا جو مجھے سات لطائف تو کرا دیتا حضرت ؒ نے فرمایا : قاضی صاحب اگر میں ہی وہ بندہ بن جاؤں تو؟ حضرت جیؒ کی شہرت عالمِ دین ، مفتی اور مناظر کی تھی اور کجا تصوف! تو قاضی صاحب کو بہت حیرت ہوئی اور فوراً دامن سے وابستہ ہو گئے قاضی صاحب کے شیخ کے منازل فنا بقا سے آگے سالک المجذوبی تک تھے جو بہت اعلیٰ منازل تھے لیکن قاضی صاحب جس چشمہ فیض  سے وابسطہ ہوئےــ بحمدللہ۔۔۔ فنا بقا ، سالک المجذوبی ،عرش حتیٰ کہ نو عرشوں سے بالا عالمِ امر کے کتنے ہی دوائر کو طے کرتے ہوئے انتہائی بلند منازل پہ ان کا وصال ہوا  جو صدیوں میں گنتی کے حضرات کو نصیب ہوتے ہیں ۔ یہاں آج کے طالب یوں نہ سوچیں کہ ہمیں تو ایک ہی نشست میں ساتوں لطائف کرا دیں گے مگر یہ احوال تو نصیب نہیں ۔ گزارش ہے کہ احوال کا مدار مجاہدہ پر ہے ۔ اوّل ، اکلِ حلال   دوم ، صدقِ مکال اور سوم ذکرِ دوام  بھلا کوئی کر  کےدیکھے تو پتہ چلے ۔ ہم چوبیس گھنٹوں میں شاید  چوبیس منٹ بھی ذکر کو دے نہیں پاتے تو کیفیات کیا خاک ہوں گی یاں یہ مقامِ شکر ہے کہ کم از کم عقیدہ  تو درست رہتا ہے اور ایمان قائم  مگر اس پہ مجاہدہ ضرور کرنا چاہیئے کہ یہی وقت جسے ہم محض دنیا کمانے میں صرف کر رہے ہیں آخرت کمانے کا بھی ہے ۔ اللہ کریم توفیق ارزاں فرمائے ۔ آمین

آپ ﷺ کے معجزات کا شمار ہو سکتا ہے نہ برکات کا مگر ایک بات جو میں عرض کرنا چاہوں گا وہ یہ ہے کہ عنداللہ ایک جذبہ مطلوب و محبوب ہے اور وہ ہے محبت، محبت بظاہر ایک بہت عام سا لفظ ہے اور بات بات پہ استعمال ہوتا ہے لیکن دیکھا جائے تو بہت کمیاب ہے لوگ ذاتی مفاد کیلئے جو تعلقات بناتے ہیں عموماً انہیں محبت کا نام دیتے ہیں ۔ مثلا اولاد  سے محبت ہے  لیکن اگر اولاد کما کر نہ دے تو محبت کا فور ہو جاتی ہیں۔اگر والدین اور اولاد کی محبت کا یہ حال ہے تو باقی محبتوں کی بحث فضول ہے۔ہاں اگر کہیں واقعی کوئی ذرہ محبت کا ہو تو وہاں محبت کرنے والا اپنا نہیں محبوب کا خیال رکھتا ہے اور ہر حال میں اس کی خوشنودی کا طلب گار رہتا ہے۔محبت کرنے والا محبوب کا غلام ہو جاتا ہے۔اور اپنی  تمناوں اور آرزوں کو محبوب کی رضا پر قربان کر دیتا ہے۔اگرچہ نجات کے لیے ایمان و اطاعت کافی ہے مگر قربِ ذات کے لیے محبت شرط ہے اور اس کا راستہ اطاعت ہے۔

إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ  آل عمران۔31

کا ارشاد کافی ہے کہ خلوصِ دل سے اطاعتِ رسول ﷺ محبتِ الہیٰ  پیدا کرتی ہے۔

 محبت ایک کیفیت کا نام ہے اور کیفیات دیکھنے،سننے،جاننے سے پیدا ہوتی ہیں مگر اللہ کی ذات علومِ انسانی سے بلند ہے تو جب انسان کے علوم کی رسائی ہی نہیں تو محبت کیسے ہو گی؟فرمایا:

 تم میرا اتباع کرو گے تو اللہ تم سے محبت کرے گا اور محبتِ الٰہی کے جواب میں تمہارے دل میں بھی اللہ کریم سے محبت پیدا ہو جائے گی جو مطلوب ہے۔ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ  سورۃ البقرہ۔165  کہ مومنین اللہ سے شدید محبت کرتے  ہیں۔

یہ تو ایک راستہ ہے۔دوسرا راستہ ہے آپﷺ سے دلی محبت۔جو تعلق سے پیدا ہوتی ہیں اور نبی سے ایسا تعلق جو صرف خلوصِ قلبی پہ منحصر ہو،سینے میں دل  رکھتا ہے،مسجد نبوی کا ستون جس سے حضورﷺ ٹیک لگا کر خطبہ دیا کرتے تھے اُس کا تعلق تو محض وجودِ اقدس سے مس ہونے کا تھا مگر اُس جسم اطہر کے ساتھ مس ہونے نے اس میں اِس قدر جذباتِ محبت کی دوری  برداشت نہ کر سکا اور چیخ چیخ کر رونے لگا۔

اُستنِ       حنانہ    در    ہجرِ     رسول

نالہ   ہائی    زدچوں     اصحابِ عقول

حنانہ ستون کا نام تھا تو فرمایا حنانہ ستون فراقِ رسولﷺ میں زندہ انسانوں کی طرح بلک بلک کر رونے لگا۔آپﷺ نے دستِ مبارک پھیرا،تسلی دی۔صحابہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دم سے چپ نہ ہوا بلکہ آہستہ آہستہ ہچکیاں لیتے ہوئے خاموش ہوتا ہے،چپ  ہوا۔ خشک لکڑی تھی،لکڑی ہی رہی مگر دردِ محبت سے لبریز  ہو گئی۔انسان  تو مکلف مخلوق ہے اور استعداد رکھتا ہے۔اگر واقعی دامنِ پاک وابستہ ہو جائے تو کس قدر درد سمیٹے گا۔

سالک کو پانچویں لطیفہ سے ان سب نعمتوں سے حصہ ملتا ہے۔شرط صرف یہ ہے کہ شیخ ِ کامل ہو جو توجہ دے سکے۔اور سالک خلوص اور صدق دل سے توجہ  قبول کرے۔پھر وہ یقینِ محکم،عملِ پیہم،محبت فاتحِ عالم کا مصداق بن جاتا ہے۔اور یہ رب جلیل کا عظیم احسان ہے۔

چوتھا لطیفہ، خفی - کنوزِ دل شرح رموزِ دل تصنیفِ لطیف حضرت مولانا محمد اکرم اعوانؒ - سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ

0 Comments

 

 اس کا مقام سینے پر دوسرے لطیفے کے اوپر ہے اور اس پر حضرت  عیسیٰ علیہ الصلوٰۃو السلام کے انوارات آتے ہیں۔جو چوتھے آسمان سے آتے ہیں اور ان کا رنگ گہرا نیلا ہوتا ہے۔اللہ کریم نے فرمایا ہے کہ عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ و السلام کی مثال آدم علیہ الصلوٰۃ و السلام جیسی ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ نہ صرف تخلیق میں بلکہ بہت سے کمالات میں بھی مماثلت ہے اور برکات میں بھی۔

 جیسے ان کی ولادت قدرت سے ہوئی بظاہر کوئی سبب نہ تھا۔ایسے ہی سالک کے بہت سے امور قدرتی طور پر حل ہوتے رہتے ہیں۔جس طرح انھوں نے بچپن میں توحید باری،اپنی نبوت،امورِ دنیا و آخرت کا اظہار فرمایا۔ایسے ہی سالک کو اللہ کریم کی طرف سے علوم عطا ہوتے ہیں۔اگرچہ بظاہر کوئی سبب نہیں ہوتا۔آپ کی بے شمار کرامات تھیں جو قرآنِ کریم میں بھی مذکور ہیں۔سالک کو ان کیفیات سے حصہ نصیب ہوتا ہے اور حق بات پہچانے کی جرات نصیب ہوتی ہیں۔دشمنانِ حق سے اللہ کی حفاظت اور عبادات واذ کار کی توفیق عطا ہے اور سب سے بڑی بات کہ سالک کو حق کی تائید اور نا حق کو مٹانے کا جذبہ و توفیق بخشے جاتے ہیں کہ کائنات کا نظام عدل پر قائم ہے۔یہ قدرتِ باری ہے کہ عدل ہر کام اور ہر شے میں ضروری ہے۔ آپ  دال روٹی ہی دیکھ لیں۔نمک،مرچ یا کسی چیز میں کمی بیشی ہو جائے تو کھانا بے مزہ ہو جاتا ہے۔دوا کے نسخے میں اجزاء کی کمی بیشی ہو جائے تو نفع کی بجائے نقصان کا اندیشہ ہوتا ہے۔ایسے ہی امور دنیا میں نور اور ظلمت میں بھی توازن رہتا ہے۔اگر صرف ظلمت غالب آجائےتونظامِ کائنات تباہ ہو جائے۔جیسے اگر ہمیشہ کے لیے رات ہو جائے تو کچھ بھی نہ ہو سکے گا۔یونہی دن رات کی طرح ہر شےمیں ایک توازن رہتا ہے اور جہاں لاکھوں لوگ برائی کرتے ہیں وہاں اللہ کریم ایسے بندے بھی پیدا فرما دیتا ہے جو ایک ایک بندہ ایسے کردار اوربرکات کے ایسے معیار کا حامل ہوتا ہے کہ ان کی ظلمتِ گناہ کا مقابلہ اس پر وارد ہونے والے انوارات کرتے ہیں اور نبوت کے بعد آپﷺ کے صحابہ،تابعین،تبع تابعین اور ان کے  بعداولیاءِ امت یا علمائے ربانی ہی اس کی  سعادت سے سرفراز فرمائے گئے۔لہٰذا یہ نظام اسی طرح سے رواں دواں ہے مگر عجیب بات ہے کہ عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ و  السلام کو زندہ آسمان پر اٹھایا لیا گیا اور آخری عہد میں پھر زمین پر جلوہ گر ہو کر غلبہ حق کا سبب بنیں گے۔ فقیر کی سمجھ میں اس کی ایک حکمت یہ آئی کہ ایسا دور آئے گا کہ ظلمت گناہ اس قدر بڑھ جائے گی کہ انواراتِ ولایت اس کا مقابلہ نہ کر سکیں گے تو نورِ نبوت کی ضرورت ہو گی اور نبوت تو مکمل ہو چکی،کوئی نیا نبی مبعوث نہ ہو گا۔ اللہ کریم رب ہے سب ضرورتوں سے آگاہ بھی ہے اور انھیں پوری بھی کرتا ہے چنانچہ اس نے اپنے کرم سے عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ و السلام کو آسمان پر اٹھایا۔ضرورت کے وقت نزول فرمائیں گے اور شریعت محمدیﷺ کا اجراء کریں گے۔ان کی قوت اور انوارات نبوت کے ہوں گے جو اس ظلمت  کو شکست دیں گے۔

چوتھا لطیفہ کرنے سے یہ برکات سالک پر بھی وارد ہوتی ہیں اور وہ کفر و شرک اور گناہ کی تاریکیوں کے مقابلے میں مینارہ نور ثابت ہوتا ہے اور یہ اتنی بڑی سعادت ہے کہ سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ہاں رزقِ حلال،صدقِ مقال اور خلوصِ نیت اور مجاہدہ شرط ہے۔پھر عطائے باری کا تماشا دیکھے۔

میاں! لکھا تو بہت کچھ جا سکتا ہے مگر محض کتاب کا حجم بڑھانا مقصود نہیں،بات سمجھانا مقصود ہے اور باتوفیق الٰہی فقیر کا خیال ہے کہ سمجھنے کے لیے لکھا گیا کافی ہے۔

تیسرا لطیفہ،سِرّی - کنوزِ دل شرح رموزِ دل تصنیفِ لطیف حضرت مولانا محمد اکرم اعوانؒ - سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ

0 Comments

لطیفہ سری کا مقام پہلے لطیفے کے اوپر ہے۔اس پر حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ  و السلام کا فیض آتا ہے جو تیسرے آسمان سے آتا ہے۔اس کے انوارات کا رنگ سفید ہوتا ہے۔کبھی لگاتار سفید روشنی اور کبھی گالوں کی بارش،کبھی سفید بادلوں کا جھرمٹ ،غرض اپنی اپنی استعداد کے مطابق ہر کوئی مشاہدہ کرتا ہے۔

حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام   کی حیات مبارکہ پر نظر ڈالیں تو ولادت کے ساتھ ہی دریا میں ڈال دیے گئے۔عجیب آزمائش شروع ہو گئی مگر اس کے ساتھ ایک بات اور بھی ہے کہ ان کے طفیل ان کی والدہ ماجدہ کو بھی شرف ہمکلامی سے نوازا گیا۔

ارشاد ہے: وَأَوْحَيْنَا إِلَى أُمِّ مُوسَى ۔ القصص: 7    ہم نے والدہ موسیؑ سے بات کی۔

سبحان اللہ! گویا یہاں سالک کو تو نصیب ہوتا ہے الحمد اللہ مگر اس کے طفیل  اس کے متعلقین کو بھی برکات پہنچتی ہیں۔

پھر دریا سے شاہی محل میں پہنچ گئے اور فرعون کے ہاں بچپن،لڑکپن اور جوانی تک مقیم رہے۔کہا جاتا ہے کہ معاشرہ اور ماحول انسان کو بدل دیتا ہے مگر فرعون کا شاہی محل اور اس کا ماحول موسیٰ علیہ الصلوٰۃ و السلام کو تو نہ بدل سکا۔چنانچہ ان برکات کا انعکاس سالک پر بھی ہوتا ہے اور وہ ماحول میں ڈھلنے کی بجائے ماحول کو بدلنے کی صلاحیت سے نوازا جاتا ہے۔

جوانی میں ایک قبطی کا حادثاتی طور پر عدل کی حمایت میں ان کے ہاتھوں مارا جانا،فرعون کا ان کے قتل کا قصد اور ان کا ہجرت فرمانا اور مدین چلے جانا،وہاں شعیب علیہ الصلوٰۃ و السلام کی بچیوں سے ملاقات،پھر ان کے ہاں شادی بھی ایک عجیب مرحلہ ہے کہ جب کنویں پہ پہنچے تو دیکھا کہ چروا ہے ریوڑوں کو پانی پلا رہے ہیں اور دو بچیاں الگ سے کھڑی ہیں۔پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ ان کے والد ضعیف ہیں،کوئی اور ہے نہیں جو ریوڑ لے کر آئے۔ جب دوسرے لوگ چلے جائیں گے تو ہم ریوڑ کو پانی  پلائیں گی۔ حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃو السلام نے آگے بڑھ کے ڈول کھنچا اور ان کے ریوڑ کو پانی پلایا۔ وہ چلی گئیں تو ایک سایہ دار جگہ پر بیٹھ گئے اور دعا کی: رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ  ۔ القصص: 24

یا اللہ نہ گھر بار،نہ واقف کار،سخت احتیاج کا عالم ہے۔خیر عطا فرما۔تو ان  بچیوں میں سے ایک،جس کے چلنے کے انداز سے بھی حیا ٹپک رہی تھی،انھیں بلا نے آئی۔گویا عورت ہر سوال کا جواب تھی۔رشتہ داری بھی ہو گئی،ٹھکانا بھی مل گیا،روزگار بھی کہ باحیا عورت تمام نعمتیں  ساتھ لاتی ہیں۔

پھر روانگی،طور پہ تجلیاتِ باری کا مشاہدہ اور کلامِ الٰہی اور پھر فرعون کو دعوتِ حق دینے کا حکم۔ایک ایسے سرکش بادشاہ کو جو اپنی خدائی کا دعویدار تھا، دعوتِ الی اللہ ۔پھر جادو گروں سے مقابلہ۔ان دونوں مقامات پر توکل علی اللہ کی عظیم مثال اور پھر برسوں قبطیوں اور فرعون سے مقابلہ و مجادلہ۔ پھر بنی اسرائیل کو لے کر ہجرت،سمندر سے راستہ ملنا،کوہ طور پر حاضری،کلامِ الٰہی اور کتاب کا عطا ہونا،پھر آگے سفرِ جہاد،غرض ایک جہدِ مسلسل ہے۔بظاہر ہر کام، کی ابتداء مشکلات سے ہوتی ہے اور انتہا عطائے الٰہی پر۔ آپ علیہ السلام کی حیات بے شمار عجائبات کی طویل داستان ہے جسے  یہاں سمونا ممکن نہیں۔

جب سالک کے لطیفہ پر ان کے انوارات آتے ہیں تو ان میں وہ سب طرح کی برکات ہوتی ہیں۔اپنی حیثیت کے مطابق ہر سالک ان سے مستفید ہوتا ہے ۔اللہ کریم پر بھروسہ نصیب ہوتا  ہے۔حق بات سے بڑے سے بڑے جابر کے سامنے کہنے کا حوصلہ پاتا ہے اور حق پر استقامت نصیب ہوتی ہے۔نیز دمِ واپسیں تک غلبہ حق کے لیے مسلسل جدوجہد کرتا ہے۔یہ بات اور ہے کہ نقلی صوفی نکمے ہوتے ہیں ورنہ جنھیں یہ نعمت نصیب ہوتی ہے وہ انقلاب آفرین شخصیات بن جاتی ہیں اور شاید میں یہ بات بار بار لکھ چکا ہوں کہ ہر سالک کو اس کی استعداد کے مطابق حصہ ملتا ہے۔ سب ایک سا حصہ نہیں پاتے۔ ہر ایک کے خلوص اور مجاہدہ،دونوں کا مقام اپنا اپنا ہوتا ہے۔اسی اعتبار سے برکات سے حصہ نصیب ہوتا ہے۔

دوسرا لطیفہ،روح - کنوزِ دل شرح رموزِ دل تصنیفِ لطیف حضرت مولانا محمد اکرم اعوانؒ - سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ

0 Comments

 اسے لطیفہ روح کہتے ہیں اور یہ قلب کے مقابل دائیں طرف ہے۔اس پر دو اولوالعزم رسولوں کے انوارات آتے ہیں۔یہ انوارات دوسرے آسمان سے آتے ہیں۔ان کا رنگ سنہری مائل سرخ ہوتا ہے۔یہی مقام ہے جہاں سے فرشتہ روح قبض کرتا ہے۔مراقبہ موتو اقبل ان تموتو کرایا جائے تو سالک قبض روح کی حالت کا مشاہدہ کر سکتا ہے۔جن دو ہستیوں کے انوارات اس پہ آتے ہیں ان میں پہلے حضرت نوح علیہ الصلوٰۃ و  السلام ہیں اور دوسرے حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ و السلام۔ ان دونوں حضرات کے حالات مبارکہ میں تقریباً  یک رنگی ہے کہ نوح علیہ السلام نے نو سو پچاس برس تبلیغ کی دراں حالیکہ ان کی قوم بہت بگڑ چکی تھی اور اتنے طویل عرصے کی محنت کے باوجود  ایمان والے مرد وزن کی تعداد تقریبا اسی(80) کے قریب تھی۔کتنا کٹھن اور بے مثال مجاہدہ تھا اور کیا استقلال تھا آپ کی تبلیغ میں۔ان کی قوم کے بگاڑ کا ایک سبب ان کی مادی ترقی بھی تھی کہ انھوں نے اس دور میں ایسی ایجادات کر لیں جو آج تک، اتنی مادی ترقی کے باوجود نہیں ہو سکیں مثلاً انھوں نے ایک ایسا محلول تیار کر لیا تھا جو اگر سنگ مرمر جیسے سخت پتھر پر ڈالا جاتا تو وہ موم ہو جاتا۔جو مختلف شکلوں میں ڈھالا جاتا اور پھر سخت ہو جاتا۔مگر اس میں یہ خصوصیت پیدا ہو جاتی کہ دن میں سورج کی روشنی جذب کرتا اور ساری رات روشن رہتا۔چنانچہ گھروں،گلیوں اور راستوں پہ انھیں نصب کر دیا جاتا تھا اور وہ رات بھر روشن رہتے تھے۔مغربی محققین کو کھدائی میں کہیں ایک بوتل ہاتھ لگ گئی تھی۔جس سے انہوں نے تجربہ تو کر لیا مگر بوتل گر کر ٹوٹ گئی لہٰذا اس کے اجزاء کا پتہ نہ چل سکا۔اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے باغات،ذرائع آب رسانی،فصلیں اور طرز رہائش کس قدر ترقی یافتہ ہوں گے۔

چنانچہ عہد حاضر کی طرح انہوں نے عظمتِ الٰہی کو فراموش کر دیا اور تعلیماتِ نبوت کو ناقابلِ عمل قرار دیا جس کے نتیجے میں طوفان برپا ہوا اور سوائے ایمان لانے والوں کے سب غرق ہو گئے۔حضرت نوح  ؑ   کا ایک سگا بیٹا بھی غرق ہونے والوں میں تھا۔بلکہ سورۃ ھود میں جو ارشاد ہے: يَا أَرْضُ ابْلَعِي مَاءَكِ وَيَا سَمَاءُ أَقْلِعِي کہ اے زمین پانی جذب کر لے اور آسمان  برسنا روک دے تو جہاں پانی جذب ہوا میری سمجھ کے مطابق وہی جگہ برموداٹرائی اینگل((Bermuda triangleہے کہ جس  کی زدمیں آج بھی کوئی شے آتی ہے زمین کی تہوں میں اتر جاتی ہے۔وہ بحری جہاز ہو یا ہوائی جہاز،پھر اس کا کوئی نشان نہیں ملتا۔

 چنانچہ آپ کی کشتی کوہ جودی پہ رکی اور آپ علیہ السلام نے پھر اسی محنت اورجذبے سے دنیا آباد کی اور آدمِ ثانی کہلائے استقامت،عقیدے اور اعمال میں،اور اسی بنیاد پر پھر انسانیت کی آبیاری فرمائی۔

لہذا ان برکات کا پر تو جب سالک پر وارد ہوتا ہے تو عقیدے کی اصلاح،استقامت اور دنیا میں حق پر عمل اور اس کی اشاعت میں پامردی جیسے اوصاف نصیب ہوتے ہیں۔حق کی اشاعت میں تائیدِ  باری نصیب ہوتی ہے۔نیز باطل قوتوں کے خلاف دعا قبول ہو کر امدادِ غیبی کا سبب بنتی ہیں۔اسی دوسرے لطیفے یعنی  لطیفہ روح پر دوسرے انوارات حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ہوتے ہیں جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ دونوں حضرات کے انوارات مل کر سرخی مائل سنہری نظر آتے ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی اولوالعزم رسول ہیں۔بچپن میں گھر سے ابتدا ہوئی تو خود والد سے اختلاف ہوا کہ ان کے والد شاہی بت کدہ کے لیے بت بنایا کرتے تھے۔عموما لوگ اپنے بڑوں  کی پیروی کرتے ہیں مگر انبیاء علیہم السلام صرف اللہ کے حکم کی اطاعت کرتے ہیں جو انھیں وحی الٰہی سے نصیب ہوتا ہے۔پھر معاشرے سے ٹکر ہوئی۔جب آپؑ نے بت کدہ کے بت توڑ دیے اور بات بادشاہ تک پہنچی،دربار شاہی میں بات ہوئی،آپ نے بادشاہ کو لاجواب کر دیا تو اس نے جھلا کر آپ کو آگ میں ڈالنے کا حکم دیا۔ مگر اللہ نے آگ کو حکم دیا کہ تو بے شک آگ ہے،جلانا تیرا کام ہے،مگر تو آگ ہی رہ کر میرے خلیل کے لیے بادِ بہاری بن جا۔ یہ جو کہا جاتا ہے کہ آگ گلزار ہو گئی،یہ بات قرآن کے ارشاد کے مطابق سمجھ نہیں آتی کہ وہاں گلزار بننے کا حکم نہیں۔بلکہ فرمایا:  يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَى إِبْرَاهِيمَ کہ اے آگ جلانا چھوڑ کر میرے خلیل کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی کا باعث بن جا۔لہٰذا آگ لکڑیاں کو تو جلاتی رہی مگر خلیل اللہ علیہ السلام کے لیے بہار ساماں ہو گئی۔

پھر آپؑ نے ہجرت کی اور بے شمار مشکلات کا سامنا استقامت سے فرمایا۔پھر بڑھاپے میں حضرت اسماعیل علیہ السلام جیسے فرزند سے نوازا تو اہلیہ محترمہ اور بچے کو بیت اللہ شریف کے مقام پر چھوڑنے کا حکم ہوا۔ چنانچہ مائی صاحبہ کا صبر،پھر پانی کی تلاش،زمزم کا نکلنا اور پھر حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی،غرض ایک مسلسل مجاہدہ، ایثار اور صبرواستقامت کی داستان ہے۔ جس میں قدم قدم پر رحمتِ باری تعالیٰ لپک لپک کر ہاتھ تھام لیتی ہے۔ایک عجیب داستان ہےجسے عشق کی نگاہ سے دیکھا جا سکتا ہے ورنہ مادی نگاہ کی ان جذبات و  کیفیات تک رسائی نہیں۔

چنانچہ سالک کو بھی ان تمام کمالات کا عکس نصیب ہوتا ہے اور وہ اپنی حیثیت کے مطابق ان سے حصہ پاتا ہے۔ یاد رہے! اس کے لیے صدق ِدل،خلوصِ نیت اور مجاہدہ شرط ہے ان برکات کو جاننے والے ہی جان سکتے ہیں۔اس طرح آج تک  قلمبند نہیں ہوئے۔ نہ جانے بندہ فقیر نے یہ جراءت کیوں کی؟ شاید زمانہ صرف مادی کمالات میں کھو گیا تو اللہ کریم کو منظور ہوا کہ اصل کمالاتِ انسانی کیا ہیں؟اور کیسے حاصل ہوتے ہیں؟ان سے بھی عامتہ الناس کو آگاہی ہو اور اس نے فقیر کو توفیق بخشی اور ان شاءاللہ یہ دنیا میں پھیلے گا اور طالبان حق کی راہنمائی ضرور کرے گا۔ہاں دیکھنے کی بات یہ ہے کہ جسے نصیب ہوا س میں کیا تبدیلی آتی ہیں؟یہ وہ خود ہی بہتر جان سکتا ہے۔ کہ ہر شخص کا حال مختلف ہوتا ہے اور مجبوریاں بھی الگ الگ ہوتی ہیں۔لہٰذا نتائج بھی الگ الگ مرتب ہوتے ہیں۔ہاں یہ بات یقینی ہے کہ فائدہ ہر فرد کو ہوتا ہے کہ یہ برکات اور انوارات کبھی بے نتیجہ نہیں رہتے بھلا اللہ کریم کا نام ہو اور آقائے نا مدادﷺ کے قلبِ اطہر کی برکات ہوں تو بے نتیجہ تو ہر گز نہیں رہ سکتیں۔ ہاں ہر فرد کی فیض کو قبول کرنے کی استعداد مختلف ہوتی ہے۔لہذا نتائج افراد کی استعداد کے مطابق مرتب ہوتے ہیں اور آخرت کا یقین اس حد تک نصیب ہوتا ہے جسے علما استخصار فرماتے ہیں یعنی آخرت کی حقیقتیں جیسے سامنے نظر آتی ہیں۔ یہ نعمت انسانی زندگی کو سنوارنے کا سب سے موثر اور اعلیٰ سبب بنتی ہے۔

مقامات لطائف اور ان پہ برکات پہلا لطیفہ،قلب - کنوزِ دل شرح رموزِ دل تصنیفِ لطیف حضرت مولانا محمد اکرم اعوانؒ - سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ

0 Comments

یہ اسی گوشت کے لوتھڑے کے اندر ہے جو سارے بدن کو خون پہنچاتا ہے۔ایک لطیفہ ربانی ہے جو عالم امر سے ہے۔اس پر حضرت آدم علیہ السلام کے انوارات آتے ہیں،جو آسمان اول  سے آتے ہیں اور زر درنگ کے انوارات ہوتے ہیں۔ انبیاء علیہم السلام،میں حضورﷺ تو امام الانبیاء ہیں باقی حضرات نبی ہیں،رسول ہیں اور اولوالعزم ہیں۔یہ حضرات پانچ ہیں،حضرت آدم علیہ السلام،حضرت نوح علیہ السلام،حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ  علیہ
السلام جن کا فیض ابتدائی چار لطائف پہ نصیب ہوتا ہے۔ان سب کی اپنی اپنی خصوصیات ہیں۔جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ پہلے لطیفے پر آدم علیہ السلام کے انوارات،آسمان اول سے آتے ہیں زرد رنگ کے ہوتے ہیں اور مختلف خصوصیات کے حامل ہوتے  ہیں۔سب سے پہلی بات کہ جس طرح ان سے بھول ہوئی تو فورا متوجہ الی اللہ ہوئے اور تقرب الٰہی حاصل ہوا۔یہ لطیفہ کرنے سے یہی احساس منتقل ہوتا ہے اور خلوصِ دل سے توبہ نصیب ہوتی ہے اور بندہ حضورِ حق میں ہر خطا کی معافی اور توفیق ِاطاعت کا طلب گار ہوتا ہے۔دوسرا  جس طرح انھیں علمِ لدنی نصیب ہوا اور فرمایا: کہ آدم علیہ السلام کو اشیائے عالم کے اسماء سکھا دیے۔ہر شے کا نام،خصوصیت،طریقہ استعمال اور نفع نقصان بتا دیا۔اسی طرح طالب کو استعدادِ حصولِ علم نصیب ہوتی ہے۔اور دین ودنیا کے جس شعبے میں محنت کرتا ہے،اعلیٰ مقام پاتا ہے۔یاد رہے کہ علوم عقیلہ اور دنیا میں بھی غیر مسلم اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور دین تو خیر حصہ ہی مومن کا ہے۔اسی لیے آج کے ترقی یافتہ علوم کی بنیاد مسلمان محققین کی مرہونِ منت ہے جو سب ذاکر اور ولی اللہ تھے۔آج اگر ہم نے یہ نعمت ترک کر دی ہے تو کافر کے دستِ نگر ہو گئے ہیں۔

یہ آدم علیہ السلام ہی ہے جنھوں نے زمین سے اگانا شروع کیں۔ جڑی بوٹیوں اور دھاتوں کا استعمال شروع فرمایا۔ تو سالک کو ان تمام امور کی استعداد نصیب ہوتی ہے۔

تیسری بات یہ کہ اس عالم میں آپ سری لنکا کے پہاڑ پہ اترے۔اماں حوا عرب میں تھیں۔آپ نے تین سو سال مجاہدہ کیا،سفر کیا، اللہ کریم سے رو رو کر دعائیں کیں تو  اس میں کتنی جسمانی محنت،کتنی دماغی کاوش اور کتنا دردِ دل شامل ہوا۔آخر عرفات میں جبل ِ رحمت پہ ملاقات ہوئی۔تو کیفیات سالک کو بھی استعداد اور طلب میں خلوص کے مطابق نصیب ہوتی ہے۔وہ عبادات میں مجاہدہ کرنے والا،دنیا کے امور سے واقف اور مشکل ترین کام کرنے کی ہمت پاتا ہے اور ان سب انوارت کے باوجود اس کا رابطہ رب کریم سے رہتا ہے۔مدد بھی طلب کرتا ہے اور کمی یا کوتاہی پر بخشش بھی کہ انسان کا مزاج عجیب شے ہے،کبھی اسے اپنی کاوش میں کامیابی نصیب ہوتی ہے تو تکبر کا شکار ہو جاتا ہے اور کہتا ہے یہ میرا کمال ہے مگر جس کا قلب ذاکر ہو اللہ کریم کی طرف متوجہ ہو وہ اس مصیبت سے محفوظ رہتا ہے اور کامیابی کو اللہ کریم کی عطا سمجھتا ہے اور اس کا شکر ادا کرتا ہے۔نہ صرف کامیابی بلکہ محنت کرنے کا حوصلہ اور توفیق کو بھی اللہ کریم کی عطا جانتا ہے اور اس میں مزید عجز اور انکسار پیدا ہوتا ہے۔

اسی طرح اگر ناکامی ہوتی ہے تو ردِعمل میں بیزاری کے ساتھ ساتھ تقدیر کو اس کا ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش بھی کرتا ہے اور یوں تقدیر کے نام پر دراصل اللہ پر الزام لگاتا ہے۔لیکن اگر قلب ذاکر ہو تو تاثر مختلف ہوتا ہے کہ اپنی کوشش پر تو خوش ہوتا ہے اور پھر یہ سوچتا ہے کہ کہیں کوئی کمی مجھ سے ہی رہ گئی جو مطلوبہ نتائج نہ مل سکے اور اگر کوشش بھی درست تھی تو یہ شے یا نتیجہ،اپنے نتیجہ اور مال کے اعتبار سے یقینا میرے حق میں بہتر نہ تھا ۔جب بھی میرے مالک نے بدل دیا۔

اسے یقین ہوتا ہے کہ کوشش اور محنت کا اجرا سے اللہ کریم سے ضرور نصیب ہو گا۔لہذا ناکامی میں بھی ایک کامیابی نظر آتی ہے اور یوں کبھی مایوس نہیں ہوتا،نہ اس کی  آس ٹوٹتی ہے۔وہ محنت ومشقت کو بھی اللہ کریم کی عطا جانتا ہے    اور آرام وسکون کو بھی اس کی بخشش۔چنانچہ اس کی زندگی پر سکون اور آرام دہ ہو جاتی ہے۔

جیسا کہ ارشاد ہے جنت میں کسی کو کوئی دکھ نہ ہو گا۔ اس بات کا ہلکا سا شائبہ ذاکرین کی حیاتِ دنیا میں بھی موجود ہے۔ اس عالم کی زندگی بھی پر لطف ہو جاتی ہے اور آخرت بھی سنور جاتی ہے۔

یوں صرف قلب کا ذاکر ہو جانا ایسا ہے جیسے ان بے شمار نعمتوں کے دروازے اس پر کھول دیے گئے ہوں اور وہ ایک ایسے بڑے دربار میں پہنچ چکا ہوجہاں ہر طرف ،ہر قسم کی نعمتیں اس کی منتظر ہوں۔دیکھیں کہ وہ اس میں کیا کیا حاصل کرتا ہے۔

یہ صرف کہنے کی باتیں نہیں، کرنے کے کام ہیں کہ مشتِ غبار میں وہ انوارات اثر پزیر ہوں جو اولوالعزم کے قلوب پہ وار ہوتے ہیں،تو وہ کیا بن  سکتے ہیں۔مزید بے شمار چیزیں ہوں گی جو سب میں جانتا بھی نہیں اور یہاں لکھنا ممکن بھی نہیں۔

کشف و مشاہدہ کی اقسام - نبی کے معجزے اور ولی کی کرامت کا فرق - کنوزِ دل شرح رموزِ دل تصنیفِ لطیف حضرت مولانا محمد اکرم اعوانؒ - سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ

0 Comments


 ویڈیو دیکھنے کیلئے لنک پہ کلک کریں

اول یہ ہے کہ اللہ کریم پردہ اورکوئی چیزواضح دکھائی دے اور سمجھ میں آجائے مگر یہ سب اللہ کریم کی عطا پر منحصر ہوتا ہے جو بات واضح فرمانا چاہے اُس کا احسان اور جب چاہےاس کا احسان اور جب چاہے،وہ کرے۔جیسے حضرت یعقوب ؑ سے حضرت یوسف ؑجدا  ہوئے اور انہیں خبر نہ ہو سکی مگر جب اللہ کریم نے بتانا  چاہا  تو  برسوں  بعد جب ان کی بھائیوں سے ملاقات ہوئی اور آپ نے کرتہ مبارک دیا کہ میرے والد گرامی کی آنکھوں پہ پھیرو،تندرست ہو جائیں گی اور قافلہ مصر سے نکلا  تو حضرت یعقوبؑ  نے  کنعان  میں فرمایا  آج  یوسف ؑ  کی خوشبو آ رہی  ہے، حالانکہ دونوں حضرات  اللہ کے  نبی  تھے  پھر  ولی  کی  کیا حیثیت؟

دوسرا  طریقہ  الہام والقاء  ہے یعنی  بات  دل  میں اتر  جاتی ہے  اور  اس پر  یقین  کامل  نصیب  ہوتا  ہے۔  جیسے موسیٰ  کی  والدہ  کو حکم دیا  کہ  بچے  کو  دریا  میں  ڈال  دو  فرمایا: وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى  یعنی  ہم  نے موسیٰ علیہ السلام  کی  والدہ سے بات کی۔یہ اسی طرح ہوتی ہے کہ ان کے دل میں بات  اتر گئی  اور انہیں  اس قدر یقین  ہوا کہ واقعی بچہ دریا میں ڈال دیا۔ مگر یہ صرف ان کے لیے تھا۔اگر بنی اسرائیل کی دوسری عورتیں ان کے وجدان  پر عمل کر کے بچے دریا میں ڈال دیتیں تو وہ غرق ہوجاتے۔ یہ قسم الہام یا  وجدان کہلاتی ہے۔ان تینوں صورتوں میں تھوڑا  فرق ہوتا  ہے۔ جو آزمایا  جا   سکتا  ہے،لکھنا  شاید ممکن  نہ ہو۔

تیسری قسم یہ ہے کہ فرشتہ ظاہر ہو کر بات کرے جیسے حضرت مریم علیہ السلام کا واقعہ کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام  ان پر انسانی شکل میں ظاہر ہوئے اور بات پہنچائی۔ یہ دونوں عظیم خواتین نبی  نہ تھیں۔ سو صوفی کے مشاہدے،کشف یا  الہام و القاء  اور وجدان کی یہ صورتیں دین پر یقین کو مستحکم کرتی  ہیں۔ کتاب وسنت کو سمجھنے کی توفیقِ عمل نصیب ہوتی ہے۔

لہٰذا یہ کہنا کہ صوفی نکمے  ہوتے ہیں،سخت غلط فہمی ہے۔یہ لوگ ہمیشہ بہت زیادہ کام کرتے ہیں کہ انھیں توفیقِ الٰہی نصیب ہوتی ہے۔ہاں نقالوں کی بات الگ ہے۔مگر ہمارے نام نہاد دانشور نقالوں کے قصّے لکھ کر دین کے اس اہم جزو کو بدنام کر کے مسلمانوں کو اس سے محروم کرنے کا سبب  بن  رہے ہیں۔العیاذ باللہ!

کشف ومشاہدہ  کا  ایک  درجہ اور ہےجس میں اشیاء یا بات  واضح نہیں ہوتی بلکہ تعبیر کی محتاج  ہوتی ہے اور ایسی  بات  یا مشاہدہ  جب  طالب ،شیخ  کو پیش  کرتا ہے تو  وہ  اسے تعبیر سے آگاہ  فرماتا  ہے۔ نیز یہ سب نبی کے معجزہ  کی فرع  ہوتی  ہے۔  جیسے نبی کو  نبوت کے ثبوت کے طور پر معجزات عطا  ہوتے  ہیں جو دلیلِ نبوت ہوتے ہیں۔ لہٰذا   ولی کو باتباعِ نبوت کرامات عطا  ہوتی   ہیں جو  دین  کے قیام  اور حق کے اثبات کے لیے  ظاہر ہوتی ہیں۔ جس طرح  نبی  کا  معجزہ  دلیل نبوت  ہوتا ہے ایسے ہی  ولی  کی  کرامت بھی  دین کی حقانیت  کی دلیل کے طور پر ظاہر ہوتی ہے۔ کسی فرد کی بڑائی مقصود نہیں  ہوتی اور کرامات بھی فعل اللہ تعالیٰ  کا  ہوتا  ہے تو  کرامت، فعل اللہ تعالیٰ  کا،اظہار  نبی  کے  ہاتھ  پہ  ہو تو  معجزہ کہلاتا  ہے۔

کرامت چونکہ معجزہ کی فرع ہے لہٰذا نبی کا اتباع ضروری  ہے  ورنہ  نصیب  نہ  ہو گی۔  نیز  کشف وکرامت  از قسم ثمر  ہیں اور ثمرات  ہمیشہ  وہبی  ہوتے  ہیں کہ اللہ کریم کی عطا  ہوتے  ہیں لہٰذا  بندے کی طلب کا نتیجہ نہیں ہوتے کہ  جب  چاہا  کرامت  کا اظہار کر دیا۔ ہاں جب  اللہ چاہے اس کا اظہار ہوتا ہے  اور چونکہ یہ ازقسم ثمرات ہیں لہٰذا  اخروی اجر کے قائم مقام ہوتی ہیں۔ حضرت جی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ جن سےکرامات کا ظہور ہوا  حشر کو خواہش کریں گے کہ کاش یہ نہ ہوا  ہوتا  تو  ہمارا  اجر اور زیادہ ہوتا۔ ہاں دنیا کے حصول یا اپنی  بڑائی  کے اظہار کے لیے کچھ لوگ عجائبات کا اظہار کرتے ہیں۔اول تو وہ شعبدہ ہوتا ہے  جو صرف ہاتھ کی صفائی  ہوتی ہے۔دوسرے استدراج  ہوتا ہے جو شیطانی قوت کے بل بوتے پر کیا جاتا ہے۔مگر وہ نہ تو بالائے آسمان کی بات ہوتی ہے،نہ برزخ کی۔ محض امور دنیا کے بارے وہ بھی اس حد تک جہاں تک مادی آلات کی رسائی  ہو سکتی ہے۔لیکن ان سب امور کو سمجھنے کے لیے توفیق الٰہی اور شعور و آگہی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جیسے نبی اکرمﷺ کا معجزہ کہ ابو جہل کی مٹھی میں کنکریوں نے کلمہ پڑھا اور بد بخت نے کہا کہ یہ جادو ہے۔اب بتایا یہ جاتا ہے کہ کنکریوں نے کلمہ پڑھا۔ یہ معجزہ ہے۔ حالانکہ بات اس سے بہت ہی بڑی ہے۔کنکر،پتھر،جمادات ونباتات  حتٰی کہ ذرہ ذرہ اللہ کی تسبیح کرتا ہے۔ جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَاِنْ مِّنْ شَىْءٍ اِلَّا يُسَبِّـحُ بِحَـمْدِهٖ  کائنات کی ہر چیز اللہ کی تسبیح اور حمد کرتی ہے۔تو پتھر،کنکر،پہاڑ،دریا ہر آن ذکر الٰہی میں مصروف ہیں۔ہمیں ادراک نہیں ہوتا۔ آپﷺ نے انسانی سماعتوں کو  اس وقت وہ لطافت عطا کر دی کہ انھیں کنکریوں کا ذکر سنائی دینے  لگا ادر یہ کمال  ہے کہ بد ترین کفار نے بھی سنا کہ مومن کا سننا تو بڑی بات نہیں۔بلکہ صوفیاء میں آج بھی مراقبہ کرایا  جاتا ہے جس میں جمادات ونباتات سے کلام کرنا سکھایا جاتا ہے۔بندہ کے روبرو ایک بزرگ ساتھی حضرتؒ(مولانا اللہ یار خان رحمتہ اللہ علیہ) کی خدمت میں بیان کر رہے تھے کہ فلاں شخص کی بیٹھک میں،جہاں انھیں ٹھہرنا پڑا تھا،مجھے چھت کی لکڑیاں کہہ رہی تھیں کہ،قاضی صاحب خوش بخت  لکڑیاں ہیں جو مساجد کی چھت بن گئیں اور رات دن اللہ کا ذکر سنتی اور دیکھتی ہیں۔ایک ہم ہیں کہ زنا کے نظارے کرنا پڑتے ہیں۔تو حضرت ؒ نےفرمایا کہ وہ تو نیک آدمی ہے(جس کی بیٹھک تھی)تو عرض کیا کہ اس کے بیٹے،بھتیجے جو نوجوان ہیں ان کا کردار ایسا ہے۔

یہ فیض ہے آپﷺ کا کہ چودہ صدیاں بعد والا بندہ مومن جمادات سے بات کر لیتا  ہے اور ان کی سن لیتا ہے۔معجزہ  یہ ہے کہ بد ترین کافر ایک وقت کےلیے ایسا کر دیا کہ اُس نے جمادات کی باتیں سن لیں۔معجزہ نبویﷺ  کا اصل تابناک پہلو  یہ  ہے جس کی طرف آج شایدکسی کی نظر بھی نہیں جاتی۔

یہی حال کرامات اولیاء کا ہوتا ہے۔کرامت یہ ہے کہ کتنے لوگوں کی اصلاح  ہوئی۔عقائد درست ہوئے  یا  اعمال کی اصلاح  نصیب  ہوئی اور یہی اہل اللہ کا کمال ہے کہ وہ اقامت دین کا کام کر جاتے ہیں۔جو کام تقریروں،تحریروں اور بڑے بڑے جلسوں سے نہیں ہوتا وہ خاموشی سے کر جاتے  ہیں۔دلوں کو ذا کر  بنا  کر روشن کر دیتے  ہیں۔جس کے سبب عملی زندگی کی اصلاح ہوتی ہے۔ بندہ نے حضرت جی ؒ  کی ربع صدی کی رفاقت میں دیکھا کہ کسی آنے  والے کو  ٹوکتے  نہ تھے اور نہ ہی پوچھتے تھے کہ دیوبندی، بریلوی ،اہل حدیث،کون ہو؟مگر دوسرے ہی روز اس بندے کو  خود سے اصلاح عقائد واعمال کی فکر دامن گیر ہو جاتی تھی۔کہ کمال بھی برکاتِ نبوت  کا  ہے  جو  اہل اللہ کے طفیل نصیب  ہوتی  ہیں۔


ذکرِ قلبی اور لطائفِ روحانی - کنوزِ دل شرح رموزِ دل تصنیفِ لطیف حضرت مولانا محمد اکرم اعوانؒ - سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ

0 Comments

 ذکرِ قلبی

ارشاد نبویﷺ ہے کہ جسم کے اندر گوشت  کا ایک لوتھڑا ہے اگر وہ درست اور صالح ہے تو  سارا  بدن  صالح  ہے، اگر   وہ  فساد زدہ  ہے تو  سارا  بدن فساد کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔ (ألَا اِنَّ فِی الْجَسَدِ لَمُضْغَۃً اِذَا صَلُحَتْ صَلُحَ الْجَسَدُ کُلُّہ وَاِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّہ ، الَاَ وَہِیَ الْقَلْبُ) تو قلب سے مراد،گوشت کے لوتھڑے یعنی دل( جو خون پمپ کرنے کی مشین ہے) کے اندر ایک لطیفہ ربانی ہے۔اور عالم امر سے ہے۔

لطائف

جس طرح بدن کے اعضاء رئیسہ ہیں اسی طرح روح کے اعضاء رئیسہ ہیں۔بدن مادی ہے،اعضاء بھی مادی ہیں۔مگر روح عالم امر سے ہے لہٰذا     اس کے اعضائےرئیسہ بھی عالم امر سے ہیں ان کو لطائف کہا جاتا ہے۔

حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ اپنے مکتوبات میں تحریر فرماتے ہیں  کہ انسان  پانچ نہیں دس چیزوں سے بنا ہے۔پانچ اجزائے بدن ہیں اور پانچ لطائف روحانی۔بدن کے اجزاءمٹی، آگ،ہوا،پانی اور ان کے ملنے سے نفس بنا۔جبکہ روح کے پانچ لطائف ہیں۔قلب،روح،سری،خفی اور اخفا۔یہ پانچوں لطائف ہر روح میں موجود ہیں  اور انھیں میں انوارات کو قبول کرنے،محسوس کرنے اور کیفیات پانے کی استعداد ہے۔

یہ پانچویں لطائف تو بنیاد ہیں۔حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ نے تو ان پروارد  ہونے والے انوارات کے رنگ بھی تحریر فرمائے ہیں۔نیز مختلف سلاسل  میں ان پانچویں کو بنیاد  مانا جاتا ہے۔اپنے اپنے ذوق کے مطابق بعض نے لطائف بیان فرمائے کہ سات ہیں اور بعض کے نزدیک گیارہ بھی ہیں۔یہ تو جیہات ذوقی ہیں۔یعنی کشف ومشاہدہ اپنا اپنا ہے۔لیکن سب کی بنیاد یہی پانچ ہیں اور پھر پانچ کا حاصل بھی ایک ہے لطیفہ قلب۔کہ سب اذکار کا حاصل آخر اسی کی روشنی اور جلا ہے۔

ہمارے ہاں سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ میں سات لطائف پہ ذکر کیا جاتا ہے۔جن میں چھٹا لطیفہ نفس ہے،ساتواں لطیفہ سلطان الاذکار۔نیز ان کے مقامات بیان ہوئے ہیں اور یہ اختلاف اپنے اپنے ذوق اور مشاہدے پر مبنی ہے ورنہ منزل سب کی ایک ہے اور شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے رائے  کا  اختلاف باعث برکت ہوا کرتا ہے ۔ الحمدللہ۔ہر آدمی کی اپنا مزاج اور اپنا ذوق ہوتا ہے۔کسی کو ایک طریقہ زیادہ مفید ہے تو کسی کو دوسرا۔یہی وجہ ہے کہ بعض شیوخ طالب کو دوسرے شیخ کے پاس  بھیج دیتے تھے کہ تمہارا حصہ وہاں ہے۔اس سے یہ سمجھنا صحیح نہیں ہے کہ ولایت کوئی جاگیر ہے اور مختلف لوگوں کے پاس اس کے مختلف حصے ہیں بلکہ  وہ ان کا ذوق دیکھ کر اندازہ فرماتے تھے کہ انھیں وہاں سے فائدہ ہو گا۔وگرنہ تو ہر مومن ولی اللہ ہے۔یہ رسید ہے اس بات کی کہ اللہ ہر مومن کا دوست ہے اور اسے ایک درجہ ولایت کا حاصل ہے ہاں مشائخ اسے پالش فرماتے ہیں اور مزید قرب الہی نصیب ہوتا ہے۔مزید توفیق عمل نصیب ہوتی ہے تو قرب الہی میں مزید ترقی نصیب ہوتی ہے اور درجہ احسان یعنی حضور حق کا ادراک نصیب ہوتا ہے۔ 

ذکر کی اقسام - کنوزِ دل شرح رموزِ دل تصنیفِ لطیف حضرت مولانا محمد اکرم اعوانؒ - سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ

0 Comments

 

       ایمان لانا ایک عمل ہے اور اس میں اللہ کریم کی یاد موجود ہے لہٰذا ذکر ہے۔

       دین کا علم حاصل کرنا بہترین اعمال میں سے ہے اور اللہ کی یاد اس میں موجود ہے لہٰذا ذکر ہے۔

       (الف)ہر عمل(جو بھی ہو) خواہ فرض ہو یا واجب ،سنت ہو یا مباح اس میں اللہ کریم کی یاد موجود ہے لہٰذا ذکر ہے۔اس میں عبادت سے لے کر امورِ دنیا تک سب شامل ہیں۔ یہ ذکرِ عملی کہلاتا ہے۔نیز اس میں ذکر لسانی بھی شامل ہوتا ہے کہ عبادات میں تلاوت، تسبیحات ذکر لسانی ہیں۔ اسی طرح دین پڑھنا، پڑھانا، تبلیغ، سب ذکر میں شامل ہیں کہ ان میں اللہ کریم کی یاد موجود ہے۔

            (ب) اگلی قسم ذکرِ لسانی ہے، تسبیحات، اوراد، درود شریف، تلاوت یہ سب ذکرِ لسانی میں شامل ہیں۔

           
(ج) اس سے آگے تیسری قسم ذکرِ قلبی ہے۔

            قلب ایک لطیفہ ربانی ہے جو اس گقشت کے لوتھڑے کے اندر ہے جس کے بارے ارشادِ نبوی علیہ الصلوٰۃ و السلام کے ارشاد کا مفہوم ہے کہ جسم کے اندر ایک لوتھڑا ہے۔ اگر یہ درست ہے تو سارا بدن درست ہے اور اگر یہ کراب ہے تو سارا بدن خراب ہے۔ جان لو یہ دِل ہے ۔ او کما قال رسول اللہ ﷺ

اس (ذکرِ قلبی ) کے احکام بھی موجود ہیں ۔ حتیٰ کہ صاحبِ تفسیرِ مظہریؒ نے تو لکھا ہے کہ ذکرِ قلبی کا حصول ہر مسلمان مردو عورت پر واجب ہے اور احکام کیلئے صرف دو حوالے پیش کیے ہیں۔

       حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کو فرعون کے پاس روانہ فرماتے ہوئے ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَلَا تَنِيَا فِي ذِكْرِي    (طہ۔42)             یعنی میرے ذکر کی طرف توجہ ثانوی نہ ہو جائے۔          

نبی کا ہر ذرہ بدن نہ صرف ذاکر ہوتا ہے بلکہ ذاکر گر ہوتا ہے کہ جو چیز مَس ہو جائے ذاکر ہو جاتی ہے۔ لہٰذا نبی کی شان سے عدم ذکر تو ممکن نہیں ہاں فرعون ایک جابر و ظالم حکمران ،کرّوفر، لاؤ لشکر اور شان و شوکت والا دربار اور وہ اپنی خدائی کا دعویدار، اسے دعوتِ اقرارِ توحید دینا وہ بھی بے سرو سامانی کی حالت  میں ، یہ کام اللہ کا نبی ہی کر  سکتا ہے۔

تاکید فرمائی کہ اس حال میں بھی اوّل توجہ میرے ذکر کی طرف رہے اور فرعون سے کلام ثانوی درجہ میں ہو۔ یہ صورت ذکرِ قلبی کے علاوہ کوئی نہیں ہو سکتی۔

        دوسرا حکم خود سورۃ مزمل میں آتا ہے۔ آقائے نامدار ﷺ کو خطاب فرما کر فرمایا:

وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَتَبَتَّلْ إِلَيْهِ تَبْتِيلًا سورۃمزمل۔8

کہ اپنے پروردگار کے نام کا ذکر کریں یعنی اللہ،اللہ،اللہ اس درجہ کریں کہ ماسوا اللہ(اللہ کے سوا) کسی کی خبر نہ رہے۔ یہاں تلاوت کا حکم الگ گزر چکا تو یہ سب ، ذکرِ اسم ِ ذات اور ذکرِ قلبی ہے۔ ہاں توفیق اللہ کریم کے پاس ہے کہ سمجھنےنکا شعور عطا فرمائے۔