تیسرا لطیفہ،سِرّی - کنوزِ دل شرح رموزِ دل تصنیفِ لطیف حضرت مولانا محمد اکرم اعوانؒ - سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ

0 Comments

لطیفہ سری کا مقام پہلے لطیفے کے اوپر ہے۔اس پر حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ  و السلام کا فیض آتا ہے جو تیسرے آسمان سے آتا ہے۔اس کے انوارات کا رنگ سفید ہوتا ہے۔کبھی لگاتار سفید روشنی اور کبھی گالوں کی بارش،کبھی سفید بادلوں کا جھرمٹ ،غرض اپنی اپنی استعداد کے مطابق ہر کوئی مشاہدہ کرتا ہے۔

حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام   کی حیات مبارکہ پر نظر ڈالیں تو ولادت کے ساتھ ہی دریا میں ڈال دیے گئے۔عجیب آزمائش شروع ہو گئی مگر اس کے ساتھ ایک بات اور بھی ہے کہ ان کے طفیل ان کی والدہ ماجدہ کو بھی شرف ہمکلامی سے نوازا گیا۔

ارشاد ہے: وَأَوْحَيْنَا إِلَى أُمِّ مُوسَى ۔ القصص: 7    ہم نے والدہ موسیؑ سے بات کی۔

سبحان اللہ! گویا یہاں سالک کو تو نصیب ہوتا ہے الحمد اللہ مگر اس کے طفیل  اس کے متعلقین کو بھی برکات پہنچتی ہیں۔

پھر دریا سے شاہی محل میں پہنچ گئے اور فرعون کے ہاں بچپن،لڑکپن اور جوانی تک مقیم رہے۔کہا جاتا ہے کہ معاشرہ اور ماحول انسان کو بدل دیتا ہے مگر فرعون کا شاہی محل اور اس کا ماحول موسیٰ علیہ الصلوٰۃ و السلام کو تو نہ بدل سکا۔چنانچہ ان برکات کا انعکاس سالک پر بھی ہوتا ہے اور وہ ماحول میں ڈھلنے کی بجائے ماحول کو بدلنے کی صلاحیت سے نوازا جاتا ہے۔

جوانی میں ایک قبطی کا حادثاتی طور پر عدل کی حمایت میں ان کے ہاتھوں مارا جانا،فرعون کا ان کے قتل کا قصد اور ان کا ہجرت فرمانا اور مدین چلے جانا،وہاں شعیب علیہ الصلوٰۃ و السلام کی بچیوں سے ملاقات،پھر ان کے ہاں شادی بھی ایک عجیب مرحلہ ہے کہ جب کنویں پہ پہنچے تو دیکھا کہ چروا ہے ریوڑوں کو پانی پلا رہے ہیں اور دو بچیاں الگ سے کھڑی ہیں۔پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ ان کے والد ضعیف ہیں،کوئی اور ہے نہیں جو ریوڑ لے کر آئے۔ جب دوسرے لوگ چلے جائیں گے تو ہم ریوڑ کو پانی  پلائیں گی۔ حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃو السلام نے آگے بڑھ کے ڈول کھنچا اور ان کے ریوڑ کو پانی پلایا۔ وہ چلی گئیں تو ایک سایہ دار جگہ پر بیٹھ گئے اور دعا کی: رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ  ۔ القصص: 24

یا اللہ نہ گھر بار،نہ واقف کار،سخت احتیاج کا عالم ہے۔خیر عطا فرما۔تو ان  بچیوں میں سے ایک،جس کے چلنے کے انداز سے بھی حیا ٹپک رہی تھی،انھیں بلا نے آئی۔گویا عورت ہر سوال کا جواب تھی۔رشتہ داری بھی ہو گئی،ٹھکانا بھی مل گیا،روزگار بھی کہ باحیا عورت تمام نعمتیں  ساتھ لاتی ہیں۔

پھر روانگی،طور پہ تجلیاتِ باری کا مشاہدہ اور کلامِ الٰہی اور پھر فرعون کو دعوتِ حق دینے کا حکم۔ایک ایسے سرکش بادشاہ کو جو اپنی خدائی کا دعویدار تھا، دعوتِ الی اللہ ۔پھر جادو گروں سے مقابلہ۔ان دونوں مقامات پر توکل علی اللہ کی عظیم مثال اور پھر برسوں قبطیوں اور فرعون سے مقابلہ و مجادلہ۔ پھر بنی اسرائیل کو لے کر ہجرت،سمندر سے راستہ ملنا،کوہ طور پر حاضری،کلامِ الٰہی اور کتاب کا عطا ہونا،پھر آگے سفرِ جہاد،غرض ایک جہدِ مسلسل ہے۔بظاہر ہر کام، کی ابتداء مشکلات سے ہوتی ہے اور انتہا عطائے الٰہی پر۔ آپ علیہ السلام کی حیات بے شمار عجائبات کی طویل داستان ہے جسے  یہاں سمونا ممکن نہیں۔

جب سالک کے لطیفہ پر ان کے انوارات آتے ہیں تو ان میں وہ سب طرح کی برکات ہوتی ہیں۔اپنی حیثیت کے مطابق ہر سالک ان سے مستفید ہوتا ہے ۔اللہ کریم پر بھروسہ نصیب ہوتا  ہے۔حق بات سے بڑے سے بڑے جابر کے سامنے کہنے کا حوصلہ پاتا ہے اور حق پر استقامت نصیب ہوتی ہے۔نیز دمِ واپسیں تک غلبہ حق کے لیے مسلسل جدوجہد کرتا ہے۔یہ بات اور ہے کہ نقلی صوفی نکمے ہوتے ہیں ورنہ جنھیں یہ نعمت نصیب ہوتی ہے وہ انقلاب آفرین شخصیات بن جاتی ہیں اور شاید میں یہ بات بار بار لکھ چکا ہوں کہ ہر سالک کو اس کی استعداد کے مطابق حصہ ملتا ہے۔ سب ایک سا حصہ نہیں پاتے۔ ہر ایک کے خلوص اور مجاہدہ،دونوں کا مقام اپنا اپنا ہوتا ہے۔اسی اعتبار سے برکات سے حصہ نصیب ہوتا ہے۔

0 Comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔