اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ،
وَالصَّلاۃُ
والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ
مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔
رَبِّ اشْرَحْ لِیْ
صَدْرِیْ ۙوَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙوَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَأَقِيمُوا الصَّلٰوةَ
وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ وَارْكَعُوا مَعَ الرّٰكِعِينَ(43)
اور
نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔
اس
رکوع میں براہِ راست مخاطبین تو اولادِ یعقوبؑ
یعنی بنی اسرائیل ہیں جو نزول وحی کے وقت یہودِ مدینہ کی شکل میں موجود
تھے، انہیں حکم دیا جارہا ہے کہ نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو، کیونکہ یہود و نصاری
بھی عبادت تو کرتے تھے لیکن انہی پرانے مروجہ طریقوں کے
مطابق کرتے تھے اب چونکہ آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام مبعوث ہو چکے تھے شریعتِ مطہرہ
کی صورت میں اللہ تعالیٰ کے احکامات کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا تو اب عبادت کا کوئی
اور طریقہ یا کسی کی اپنی مرضی یا پسند کے مطابق عبادت نہیں ہو گی، دونوں طرح کی
عبادتوں یعنی مالی اور جسمانی عبادت کا ذکر کر کے فرما دیا گیا کہ اب نماز ویسی ہو گی جیسی محمد الرسول اللہ ﷺ
تعلیم فرمائیں گے ، اب زکوٰۃ و صدقات کا وہ طریقہ قابلِ قبول ہو گا جو شریعتِ
مطہرہ کے مطابق ہو گا۔
فرمایاگیا
وَارْكَعُوا مَعَ الرّٰكِعِينَ رکوع
کرو، رکوع کرنے والوں کے ساتھ
یہود
جو عبادت کرتے تھے اس میں رکوع بھی نہیں تھا اور دوسرا وہ انفرادی عبادت کرتے تھے اس لئے رکوع کا ذکر فرمایا اور اجتماعی رکوع کا
فرمایا گیا ۔ آیت کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ ویسی عبادت کرو جیسے دوسرے لوگ کر رہے
ہیں یعنی اب تمہارا طریقہ عبادت قابلِ قبول نہیں ہو گا اب عبادت ویسے ہو گی جیسی نبی
رحمتﷺ تعلیم فرمائیں گے اور جیسے آپﷺ کے
اصحاب کریں گے، جیسے تمام مسلمان کریں گے
اس لئے فرمایا گیا کہ رکوع کرو رکوع کرنے والوں کے ساتھ، یعنی ایسے
عبادت کرو ، ایسے نماز ادا کرو جیسے اور
لوگ یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کر رہے ہیں، رکوع و سجود کے ساتھ اور
اجتماعی طریقے سے نہ کہ انفرادی طور پہ۔
اس آیتِ کریمہ میں جو واضح حکیمانہ پہلو میں سمجھ سکا ہوں وہ یہ ہے کہ
اگر کوئی اپنے طریقے سے یا آباء و اجداد سے رائج طریقے پہ عبادت کرتا
ہے یا پھر جمہور کے مذہب سے مختلف انفرادی
طور پہ یا کچھ لوگ مل کر بدنی یا مالی عبادت کا کوئی طریقہ اختیار کر لیتے
ہیں اور وہ طریقہ امت کی اکثریت سے مختلف
ہے تو وہ قابل قبول نہیں ہو گا، خلاف ِ شرع، خلاف ِ سنت اور جمہور سے ہٹ کے کوئی طریقہ قابلِ قبول نہیں
ہو گا۔ وہی طریقہ ، وہی عمل ، عبادت کا وہی اسلوب
قابلِ قبول ہو گا جو قرآن و سنت کے مطابق ہو گا ، جس پہ آپ ﷺ کے زمانہ
مبارک سے لے کر اب تک اور تاقیامت امت مسلمہ قائم ہے اور قائم رہے گی۔
دورِ
حاضر پہ غور کیا جائے تو سمجھ آتی ہے کہ نہ صرف بدنی عبادات یعنی نماز وغیرہ
بلکہ مالی عبادات یعنی عشر و زکوٰۃ میں
بھی ہم نے اپنے اپنے طریقے گھڑ لئے ہیں ۔ اذان
کو سنیں تو مختلف قسم کی اذانیں
سننے کو ملتی ہیں اصل کو تو ہم تبدیل نہیں کر سکتے تھے اور کیا بھی نہیں لیکن اذان
سے پہلے اور بعد میں ہم نے اپنی طرف سے اضافہ کر رکھا ہے اور دلیل یہ دی جاتی ہے کہ یہ الفاظ برے نہیں
تو اذان کے ساتھ پڑھنے میں کیا حرج ہے، سادہ سی بات ہے کہ دینِ اسلام میری اور آپ
کی پسند و ناپسند کا معاملہ نہیں ، دینِ اسلام علماء اور اہلِ علم حضرات کی ذاتی
رائے پہ قائم نہیں۔ دینِ اسلام وہی ہے جو چودہ سو سال پہلے اللہ کے نبی ﷺ نے خود
بھی کیا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم
اجمعین کو تعلیم فرمایا اور انہوں نے نہ صرف آپ ﷺ کے زمانے میں آپﷺ کی موجودگی میں اس پہ عمل کیا
بلکہ اس کو تین چوتھائی دنیا پہ نافذ بھی کیا ۔ آج بھی ، کل بھی اور قیامت تک
ویسے ہی کرنا ہے جیسا سنت سے ثابت ہے ، جیسا خلفائے راشدین نے عمل فرمایا، جیسے
چودہ سو سال سے امت کی اکثریت کرتی آرہی ہے۔
اسی
طرح نماز پہ غور کرو تو اس کی بھی اصل میں
تو کوئی تبدیلی نہیں لائی جا سکی تو فروع میں نماز سے پہلے اور بعد میں ایسے رواجی قسم کے اضافے کر دیئے ہیں کہ جس
مسجد میں جاؤ نماز کی ایک الگ صورت نظر
آتی ہے۔
لباس
میں ذاتی پسند و ناپسند اور انفرادیت والے
پہناووں کو سنت کا نام دے رکھا ہے ۔
مالی
عبادت میں زکوٰۃ و عشر جو فرض ہیں ، انہیں چھوڑ کر محض دکھاوے کیلئے لاکھوں کروڑوں
روپے خرچ کر دیئے جاتے ہیں، بڑی بڑی محافل,جلسے جلوسوں اور ذاتی نمائش کیلئے کھانوں کا اہتمام کر کے
لاکھوں روپے کا ضیاع کیا جاتا ہے اور فرض مالی عبادت یعنی زکوٰۃ و عشر وغیرہ
دیا ہی نہیں جاتا۔ دینی معاملات کے نام پہ
بے دریغ خرچ کرنے والوں سے جب زکوٰۃ و عشر کے بارے میں دریافت کیا تو اکثریت ایسے
لوگوں کی ہے جنہیں زکوٰۃ و عشر کے احکامات کا پتہ ہی نہیں اور اگر پتہ ہے تو کبھی
زندگی میں اپنے مال کا حساب ہی نہیں کیا ،
تخمینہ ہی نہیں لگایا کہ مال کتنا ہے اور اس پہ زکوٰۃ کتنی بنتی ہے۔عشر کے معاملے
میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہی جو بالکل عشر
دیتے ہی نہیں اور بہت تھوڑی تعداد وہ ہے جو تھوڑا سا غریبوں کو دے کر خود کو عشر سے بری الذمہ سمجھ لیتے ہیں۔ سادہ سی اور عام فہم بات ہے کہ
اگر کسی کے پاس وقت کم ہے اور مصروفیات بہت زیادہ ہیں اور وہ چار رکعت فرض نماز کی بجائے دو یا تین
پڑھ لے اور کہے کہ وقت کی کمی کیوجہ سے
میں نے چار کی بجائے دو یا تین پڑھ لیں تو
کیا ایسے شخص کی نماز ہو جائے گی۔ ہر گز نہیں ہو گی بلکہ گناہ گار ہو گا۔
اسی
طرح زکوٰۃ و عشر کا بھی جو نصاب ہے اگر
کوئی اس کا حساب لگائے بغیر پورا پورا ادا
نہیں کرتا اور اپنی مرضی اور پسند سے کچھ نہ کچھ دے کر بری الذمہ سمجھتا ہے تو زکوٰۃ و عشر کی ادائیگی نہیں ہو گی یعنی اگر
زکوٰۃ اڑھائی فیصد یا چالیسواں حصہ پانچ ہزار بنتی ہے تو کم از کم رقم پانچ ہزار ہی دینی ہو گی ہاں
اگر کوئی احتیاطاً اضافی دیتا ہے تو زیادہ
بہتر ہے لیکن اگر کوئی یہ سمجھے کہ میں ہر وقت کچھ نہ کچھ غریبوں کی مدد کرتا رہتا
ہوں تو مجھے زکوٰۃ دینے کی ضرورت نہیں تو
ایسا نہیں ہے یہ اس کے صدقات و خیرات شمار ہوں گے اور نفلی مالی عبادت ہو گی ۔ فرض
تب ہی ادا ہو گا کہ جب حساب لگا کے مقررہ مقدار ادا کرے گا۔
یہی
بات اس آیتِ کریمہ میں سمجھائی جا رہی ہے کہ نماز و زکوٰۃ چونکہ فرض عبادتیں
ہیں اس میں تمہاری مرضی اور پسند و ناپسند
نہیں چلے گی بلکہ جیسے سب کر رہے ہیں جو رہنمائی قرآن و سنت سے
ملتی ہے، جیسا آپﷺ نے تعلیم فرمایا، جو طریقہ شریعتِ مطہرہ کے مطابق ہے اور جیسا
جمہور علماء کے نزدیک معتبر ہے ، وہ ہی قابل قبول ہو گا۔
اللہ
تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم
رہنے کی توفیق و ہمت عطا فرمائے۔
آمین
یا رب العالمین
دعاؤں کا طالب
ابو محمد زبیر اویسی
.jpg)










0 Comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔