کنوزِ دل شرح رموزِ دل لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
کنوزِ دل شرح رموزِ دل لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

تیسرا لطیفہ،سِرّی - کنوزِ دل شرح رموزِ دل تصنیفِ لطیف حضرت مولانا محمد اکرم اعوانؒ - سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ

0 Comments

لطیفہ سری کا مقام پہلے لطیفے کے اوپر ہے۔اس پر حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ  و السلام کا فیض آتا ہے جو تیسرے آسمان سے آتا ہے۔اس کے انوارات کا رنگ سفید ہوتا ہے۔کبھی لگاتار سفید روشنی اور کبھی گالوں کی بارش،کبھی سفید بادلوں کا جھرمٹ ،غرض اپنی اپنی استعداد کے مطابق ہر کوئی مشاہدہ کرتا ہے۔

حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام   کی حیات مبارکہ پر نظر ڈالیں تو ولادت کے ساتھ ہی دریا میں ڈال دیے گئے۔عجیب آزمائش شروع ہو گئی مگر اس کے ساتھ ایک بات اور بھی ہے کہ ان کے طفیل ان کی والدہ ماجدہ کو بھی شرف ہمکلامی سے نوازا گیا۔

ارشاد ہے: وَأَوْحَيْنَا إِلَى أُمِّ مُوسَى ۔ القصص: 7    ہم نے والدہ موسیؑ سے بات کی۔

سبحان اللہ! گویا یہاں سالک کو تو نصیب ہوتا ہے الحمد اللہ مگر اس کے طفیل  اس کے متعلقین کو بھی برکات پہنچتی ہیں۔

پھر دریا سے شاہی محل میں پہنچ گئے اور فرعون کے ہاں بچپن،لڑکپن اور جوانی تک مقیم رہے۔کہا جاتا ہے کہ معاشرہ اور ماحول انسان کو بدل دیتا ہے مگر فرعون کا شاہی محل اور اس کا ماحول موسیٰ علیہ الصلوٰۃ و السلام کو تو نہ بدل سکا۔چنانچہ ان برکات کا انعکاس سالک پر بھی ہوتا ہے اور وہ ماحول میں ڈھلنے کی بجائے ماحول کو بدلنے کی صلاحیت سے نوازا جاتا ہے۔

جوانی میں ایک قبطی کا حادثاتی طور پر عدل کی حمایت میں ان کے ہاتھوں مارا جانا،فرعون کا ان کے قتل کا قصد اور ان کا ہجرت فرمانا اور مدین چلے جانا،وہاں شعیب علیہ الصلوٰۃ و السلام کی بچیوں سے ملاقات،پھر ان کے ہاں شادی بھی ایک عجیب مرحلہ ہے کہ جب کنویں پہ پہنچے تو دیکھا کہ چروا ہے ریوڑوں کو پانی پلا رہے ہیں اور دو بچیاں الگ سے کھڑی ہیں۔پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ ان کے والد ضعیف ہیں،کوئی اور ہے نہیں جو ریوڑ لے کر آئے۔ جب دوسرے لوگ چلے جائیں گے تو ہم ریوڑ کو پانی  پلائیں گی۔ حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃو السلام نے آگے بڑھ کے ڈول کھنچا اور ان کے ریوڑ کو پانی پلایا۔ وہ چلی گئیں تو ایک سایہ دار جگہ پر بیٹھ گئے اور دعا کی: رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ  ۔ القصص: 24

یا اللہ نہ گھر بار،نہ واقف کار،سخت احتیاج کا عالم ہے۔خیر عطا فرما۔تو ان  بچیوں میں سے ایک،جس کے چلنے کے انداز سے بھی حیا ٹپک رہی تھی،انھیں بلا نے آئی۔گویا عورت ہر سوال کا جواب تھی۔رشتہ داری بھی ہو گئی،ٹھکانا بھی مل گیا،روزگار بھی کہ باحیا عورت تمام نعمتیں  ساتھ لاتی ہیں۔

پھر روانگی،طور پہ تجلیاتِ باری کا مشاہدہ اور کلامِ الٰہی اور پھر فرعون کو دعوتِ حق دینے کا حکم۔ایک ایسے سرکش بادشاہ کو جو اپنی خدائی کا دعویدار تھا، دعوتِ الی اللہ ۔پھر جادو گروں سے مقابلہ۔ان دونوں مقامات پر توکل علی اللہ کی عظیم مثال اور پھر برسوں قبطیوں اور فرعون سے مقابلہ و مجادلہ۔ پھر بنی اسرائیل کو لے کر ہجرت،سمندر سے راستہ ملنا،کوہ طور پر حاضری،کلامِ الٰہی اور کتاب کا عطا ہونا،پھر آگے سفرِ جہاد،غرض ایک جہدِ مسلسل ہے۔بظاہر ہر کام، کی ابتداء مشکلات سے ہوتی ہے اور انتہا عطائے الٰہی پر۔ آپ علیہ السلام کی حیات بے شمار عجائبات کی طویل داستان ہے جسے  یہاں سمونا ممکن نہیں۔

جب سالک کے لطیفہ پر ان کے انوارات آتے ہیں تو ان میں وہ سب طرح کی برکات ہوتی ہیں۔اپنی حیثیت کے مطابق ہر سالک ان سے مستفید ہوتا ہے ۔اللہ کریم پر بھروسہ نصیب ہوتا  ہے۔حق بات سے بڑے سے بڑے جابر کے سامنے کہنے کا حوصلہ پاتا ہے اور حق پر استقامت نصیب ہوتی ہے۔نیز دمِ واپسیں تک غلبہ حق کے لیے مسلسل جدوجہد کرتا ہے۔یہ بات اور ہے کہ نقلی صوفی نکمے ہوتے ہیں ورنہ جنھیں یہ نعمت نصیب ہوتی ہے وہ انقلاب آفرین شخصیات بن جاتی ہیں اور شاید میں یہ بات بار بار لکھ چکا ہوں کہ ہر سالک کو اس کی استعداد کے مطابق حصہ ملتا ہے۔ سب ایک سا حصہ نہیں پاتے۔ ہر ایک کے خلوص اور مجاہدہ،دونوں کا مقام اپنا اپنا ہوتا ہے۔اسی اعتبار سے برکات سے حصہ نصیب ہوتا ہے۔

دوسرا لطیفہ،روح - کنوزِ دل شرح رموزِ دل تصنیفِ لطیف حضرت مولانا محمد اکرم اعوانؒ - سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ

0 Comments

 اسے لطیفہ روح کہتے ہیں اور یہ قلب کے مقابل دائیں طرف ہے۔اس پر دو اولوالعزم رسولوں کے انوارات آتے ہیں۔یہ انوارات دوسرے آسمان سے آتے ہیں۔ان کا رنگ سنہری مائل سرخ ہوتا ہے۔یہی مقام ہے جہاں سے فرشتہ روح قبض کرتا ہے۔مراقبہ موتو اقبل ان تموتو کرایا جائے تو سالک قبض روح کی حالت کا مشاہدہ کر سکتا ہے۔جن دو ہستیوں کے انوارات اس پہ آتے ہیں ان میں پہلے حضرت نوح علیہ الصلوٰۃ و  السلام ہیں اور دوسرے حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ و السلام۔ ان دونوں حضرات کے حالات مبارکہ میں تقریباً  یک رنگی ہے کہ نوح علیہ السلام نے نو سو پچاس برس تبلیغ کی دراں حالیکہ ان کی قوم بہت بگڑ چکی تھی اور اتنے طویل عرصے کی محنت کے باوجود  ایمان والے مرد وزن کی تعداد تقریبا اسی(80) کے قریب تھی۔کتنا کٹھن اور بے مثال مجاہدہ تھا اور کیا استقلال تھا آپ کی تبلیغ میں۔ان کی قوم کے بگاڑ کا ایک سبب ان کی مادی ترقی بھی تھی کہ انھوں نے اس دور میں ایسی ایجادات کر لیں جو آج تک، اتنی مادی ترقی کے باوجود نہیں ہو سکیں مثلاً انھوں نے ایک ایسا محلول تیار کر لیا تھا جو اگر سنگ مرمر جیسے سخت پتھر پر ڈالا جاتا تو وہ موم ہو جاتا۔جو مختلف شکلوں میں ڈھالا جاتا اور پھر سخت ہو جاتا۔مگر اس میں یہ خصوصیت پیدا ہو جاتی کہ دن میں سورج کی روشنی جذب کرتا اور ساری رات روشن رہتا۔چنانچہ گھروں،گلیوں اور راستوں پہ انھیں نصب کر دیا جاتا تھا اور وہ رات بھر روشن رہتے تھے۔مغربی محققین کو کھدائی میں کہیں ایک بوتل ہاتھ لگ گئی تھی۔جس سے انہوں نے تجربہ تو کر لیا مگر بوتل گر کر ٹوٹ گئی لہٰذا اس کے اجزاء کا پتہ نہ چل سکا۔اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے باغات،ذرائع آب رسانی،فصلیں اور طرز رہائش کس قدر ترقی یافتہ ہوں گے۔

چنانچہ عہد حاضر کی طرح انہوں نے عظمتِ الٰہی کو فراموش کر دیا اور تعلیماتِ نبوت کو ناقابلِ عمل قرار دیا جس کے نتیجے میں طوفان برپا ہوا اور سوائے ایمان لانے والوں کے سب غرق ہو گئے۔حضرت نوح  ؑ   کا ایک سگا بیٹا بھی غرق ہونے والوں میں تھا۔بلکہ سورۃ ھود میں جو ارشاد ہے: يَا أَرْضُ ابْلَعِي مَاءَكِ وَيَا سَمَاءُ أَقْلِعِي کہ اے زمین پانی جذب کر لے اور آسمان  برسنا روک دے تو جہاں پانی جذب ہوا میری سمجھ کے مطابق وہی جگہ برموداٹرائی اینگل((Bermuda triangleہے کہ جس  کی زدمیں آج بھی کوئی شے آتی ہے زمین کی تہوں میں اتر جاتی ہے۔وہ بحری جہاز ہو یا ہوائی جہاز،پھر اس کا کوئی نشان نہیں ملتا۔

 چنانچہ آپ کی کشتی کوہ جودی پہ رکی اور آپ علیہ السلام نے پھر اسی محنت اورجذبے سے دنیا آباد کی اور آدمِ ثانی کہلائے استقامت،عقیدے اور اعمال میں،اور اسی بنیاد پر پھر انسانیت کی آبیاری فرمائی۔

لہذا ان برکات کا پر تو جب سالک پر وارد ہوتا ہے تو عقیدے کی اصلاح،استقامت اور دنیا میں حق پر عمل اور اس کی اشاعت میں پامردی جیسے اوصاف نصیب ہوتے ہیں۔حق کی اشاعت میں تائیدِ  باری نصیب ہوتی ہے۔نیز باطل قوتوں کے خلاف دعا قبول ہو کر امدادِ غیبی کا سبب بنتی ہیں۔اسی دوسرے لطیفے یعنی  لطیفہ روح پر دوسرے انوارات حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ہوتے ہیں جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ دونوں حضرات کے انوارات مل کر سرخی مائل سنہری نظر آتے ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی اولوالعزم رسول ہیں۔بچپن میں گھر سے ابتدا ہوئی تو خود والد سے اختلاف ہوا کہ ان کے والد شاہی بت کدہ کے لیے بت بنایا کرتے تھے۔عموما لوگ اپنے بڑوں  کی پیروی کرتے ہیں مگر انبیاء علیہم السلام صرف اللہ کے حکم کی اطاعت کرتے ہیں جو انھیں وحی الٰہی سے نصیب ہوتا ہے۔پھر معاشرے سے ٹکر ہوئی۔جب آپؑ نے بت کدہ کے بت توڑ دیے اور بات بادشاہ تک پہنچی،دربار شاہی میں بات ہوئی،آپ نے بادشاہ کو لاجواب کر دیا تو اس نے جھلا کر آپ کو آگ میں ڈالنے کا حکم دیا۔ مگر اللہ نے آگ کو حکم دیا کہ تو بے شک آگ ہے،جلانا تیرا کام ہے،مگر تو آگ ہی رہ کر میرے خلیل کے لیے بادِ بہاری بن جا۔ یہ جو کہا جاتا ہے کہ آگ گلزار ہو گئی،یہ بات قرآن کے ارشاد کے مطابق سمجھ نہیں آتی کہ وہاں گلزار بننے کا حکم نہیں۔بلکہ فرمایا:  يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَى إِبْرَاهِيمَ کہ اے آگ جلانا چھوڑ کر میرے خلیل کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی کا باعث بن جا۔لہٰذا آگ لکڑیاں کو تو جلاتی رہی مگر خلیل اللہ علیہ السلام کے لیے بہار ساماں ہو گئی۔

پھر آپؑ نے ہجرت کی اور بے شمار مشکلات کا سامنا استقامت سے فرمایا۔پھر بڑھاپے میں حضرت اسماعیل علیہ السلام جیسے فرزند سے نوازا تو اہلیہ محترمہ اور بچے کو بیت اللہ شریف کے مقام پر چھوڑنے کا حکم ہوا۔ چنانچہ مائی صاحبہ کا صبر،پھر پانی کی تلاش،زمزم کا نکلنا اور پھر حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی،غرض ایک مسلسل مجاہدہ، ایثار اور صبرواستقامت کی داستان ہے۔ جس میں قدم قدم پر رحمتِ باری تعالیٰ لپک لپک کر ہاتھ تھام لیتی ہے۔ایک عجیب داستان ہےجسے عشق کی نگاہ سے دیکھا جا سکتا ہے ورنہ مادی نگاہ کی ان جذبات و  کیفیات تک رسائی نہیں۔

چنانچہ سالک کو بھی ان تمام کمالات کا عکس نصیب ہوتا ہے اور وہ اپنی حیثیت کے مطابق ان سے حصہ پاتا ہے۔ یاد رہے! اس کے لیے صدق ِدل،خلوصِ نیت اور مجاہدہ شرط ہے ان برکات کو جاننے والے ہی جان سکتے ہیں۔اس طرح آج تک  قلمبند نہیں ہوئے۔ نہ جانے بندہ فقیر نے یہ جراءت کیوں کی؟ شاید زمانہ صرف مادی کمالات میں کھو گیا تو اللہ کریم کو منظور ہوا کہ اصل کمالاتِ انسانی کیا ہیں؟اور کیسے حاصل ہوتے ہیں؟ان سے بھی عامتہ الناس کو آگاہی ہو اور اس نے فقیر کو توفیق بخشی اور ان شاءاللہ یہ دنیا میں پھیلے گا اور طالبان حق کی راہنمائی ضرور کرے گا۔ہاں دیکھنے کی بات یہ ہے کہ جسے نصیب ہوا س میں کیا تبدیلی آتی ہیں؟یہ وہ خود ہی بہتر جان سکتا ہے۔ کہ ہر شخص کا حال مختلف ہوتا ہے اور مجبوریاں بھی الگ الگ ہوتی ہیں۔لہٰذا نتائج بھی الگ الگ مرتب ہوتے ہیں۔ہاں یہ بات یقینی ہے کہ فائدہ ہر فرد کو ہوتا ہے کہ یہ برکات اور انوارات کبھی بے نتیجہ نہیں رہتے بھلا اللہ کریم کا نام ہو اور آقائے نا مدادﷺ کے قلبِ اطہر کی برکات ہوں تو بے نتیجہ تو ہر گز نہیں رہ سکتیں۔ ہاں ہر فرد کی فیض کو قبول کرنے کی استعداد مختلف ہوتی ہے۔لہذا نتائج افراد کی استعداد کے مطابق مرتب ہوتے ہیں اور آخرت کا یقین اس حد تک نصیب ہوتا ہے جسے علما استخصار فرماتے ہیں یعنی آخرت کی حقیقتیں جیسے سامنے نظر آتی ہیں۔ یہ نعمت انسانی زندگی کو سنوارنے کا سب سے موثر اور اعلیٰ سبب بنتی ہے۔

مقامات لطائف اور ان پہ برکات پہلا لطیفہ،قلب - کنوزِ دل شرح رموزِ دل تصنیفِ لطیف حضرت مولانا محمد اکرم اعوانؒ - سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ

0 Comments

یہ اسی گوشت کے لوتھڑے کے اندر ہے جو سارے بدن کو خون پہنچاتا ہے۔ایک لطیفہ ربانی ہے جو عالم امر سے ہے۔اس پر حضرت آدم علیہ السلام کے انوارات آتے ہیں،جو آسمان اول  سے آتے ہیں اور زر درنگ کے انوارات ہوتے ہیں۔ انبیاء علیہم السلام،میں حضورﷺ تو امام الانبیاء ہیں باقی حضرات نبی ہیں،رسول ہیں اور اولوالعزم ہیں۔یہ حضرات پانچ ہیں،حضرت آدم علیہ السلام،حضرت نوح علیہ السلام،حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ  علیہ
السلام جن کا فیض ابتدائی چار لطائف پہ نصیب ہوتا ہے۔ان سب کی اپنی اپنی خصوصیات ہیں۔جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ پہلے لطیفے پر آدم علیہ السلام کے انوارات،آسمان اول سے آتے ہیں زرد رنگ کے ہوتے ہیں اور مختلف خصوصیات کے حامل ہوتے  ہیں۔سب سے پہلی بات کہ جس طرح ان سے بھول ہوئی تو فورا متوجہ الی اللہ ہوئے اور تقرب الٰہی حاصل ہوا۔یہ لطیفہ کرنے سے یہی احساس منتقل ہوتا ہے اور خلوصِ دل سے توبہ نصیب ہوتی ہے اور بندہ حضورِ حق میں ہر خطا کی معافی اور توفیق ِاطاعت کا طلب گار ہوتا ہے۔دوسرا  جس طرح انھیں علمِ لدنی نصیب ہوا اور فرمایا: کہ آدم علیہ السلام کو اشیائے عالم کے اسماء سکھا دیے۔ہر شے کا نام،خصوصیت،طریقہ استعمال اور نفع نقصان بتا دیا۔اسی طرح طالب کو استعدادِ حصولِ علم نصیب ہوتی ہے۔اور دین ودنیا کے جس شعبے میں محنت کرتا ہے،اعلیٰ مقام پاتا ہے۔یاد رہے کہ علوم عقیلہ اور دنیا میں بھی غیر مسلم اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور دین تو خیر حصہ ہی مومن کا ہے۔اسی لیے آج کے ترقی یافتہ علوم کی بنیاد مسلمان محققین کی مرہونِ منت ہے جو سب ذاکر اور ولی اللہ تھے۔آج اگر ہم نے یہ نعمت ترک کر دی ہے تو کافر کے دستِ نگر ہو گئے ہیں۔

یہ آدم علیہ السلام ہی ہے جنھوں نے زمین سے اگانا شروع کیں۔ جڑی بوٹیوں اور دھاتوں کا استعمال شروع فرمایا۔ تو سالک کو ان تمام امور کی استعداد نصیب ہوتی ہے۔

تیسری بات یہ کہ اس عالم میں آپ سری لنکا کے پہاڑ پہ اترے۔اماں حوا عرب میں تھیں۔آپ نے تین سو سال مجاہدہ کیا،سفر کیا، اللہ کریم سے رو رو کر دعائیں کیں تو  اس میں کتنی جسمانی محنت،کتنی دماغی کاوش اور کتنا دردِ دل شامل ہوا۔آخر عرفات میں جبل ِ رحمت پہ ملاقات ہوئی۔تو کیفیات سالک کو بھی استعداد اور طلب میں خلوص کے مطابق نصیب ہوتی ہے۔وہ عبادات میں مجاہدہ کرنے والا،دنیا کے امور سے واقف اور مشکل ترین کام کرنے کی ہمت پاتا ہے اور ان سب انوارت کے باوجود اس کا رابطہ رب کریم سے رہتا ہے۔مدد بھی طلب کرتا ہے اور کمی یا کوتاہی پر بخشش بھی کہ انسان کا مزاج عجیب شے ہے،کبھی اسے اپنی کاوش میں کامیابی نصیب ہوتی ہے تو تکبر کا شکار ہو جاتا ہے اور کہتا ہے یہ میرا کمال ہے مگر جس کا قلب ذاکر ہو اللہ کریم کی طرف متوجہ ہو وہ اس مصیبت سے محفوظ رہتا ہے اور کامیابی کو اللہ کریم کی عطا سمجھتا ہے اور اس کا شکر ادا کرتا ہے۔نہ صرف کامیابی بلکہ محنت کرنے کا حوصلہ اور توفیق کو بھی اللہ کریم کی عطا جانتا ہے اور اس میں مزید عجز اور انکسار پیدا ہوتا ہے۔

اسی طرح اگر ناکامی ہوتی ہے تو ردِعمل میں بیزاری کے ساتھ ساتھ تقدیر کو اس کا ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش بھی کرتا ہے اور یوں تقدیر کے نام پر دراصل اللہ پر الزام لگاتا ہے۔لیکن اگر قلب ذاکر ہو تو تاثر مختلف ہوتا ہے کہ اپنی کوشش پر تو خوش ہوتا ہے اور پھر یہ سوچتا ہے کہ کہیں کوئی کمی مجھ سے ہی رہ گئی جو مطلوبہ نتائج نہ مل سکے اور اگر کوشش بھی درست تھی تو یہ شے یا نتیجہ،اپنے نتیجہ اور مال کے اعتبار سے یقینا میرے حق میں بہتر نہ تھا ۔جب بھی میرے مالک نے بدل دیا۔

اسے یقین ہوتا ہے کہ کوشش اور محنت کا اجرا سے اللہ کریم سے ضرور نصیب ہو گا۔لہذا ناکامی میں بھی ایک کامیابی نظر آتی ہے اور یوں کبھی مایوس نہیں ہوتا،نہ اس کی  آس ٹوٹتی ہے۔وہ محنت ومشقت کو بھی اللہ کریم کی عطا جانتا ہے    اور آرام وسکون کو بھی اس کی بخشش۔چنانچہ اس کی زندگی پر سکون اور آرام دہ ہو جاتی ہے۔

جیسا کہ ارشاد ہے جنت میں کسی کو کوئی دکھ نہ ہو گا۔ اس بات کا ہلکا سا شائبہ ذاکرین کی حیاتِ دنیا میں بھی موجود ہے۔ اس عالم کی زندگی بھی پر لطف ہو جاتی ہے اور آخرت بھی سنور جاتی ہے۔

یوں صرف قلب کا ذاکر ہو جانا ایسا ہے جیسے ان بے شمار نعمتوں کے دروازے اس پر کھول دیے گئے ہوں اور وہ ایک ایسے بڑے دربار میں پہنچ چکا ہوجہاں ہر طرف ،ہر قسم کی نعمتیں اس کی منتظر ہوں۔دیکھیں کہ وہ اس میں کیا کیا حاصل کرتا ہے۔

یہ صرف کہنے کی باتیں نہیں، کرنے کے کام ہیں کہ مشتِ غبار میں وہ انوارات اثر پزیر ہوں جو اولوالعزم کے قلوب پہ وار ہوتے ہیں،تو وہ کیا بن  سکتے ہیں۔مزید بے شمار چیزیں ہوں گی جو سب میں جانتا بھی نہیں اور یہاں لکھنا ممکن بھی نہیں۔

کشف و مشاہدہ کی اقسام - نبی کے معجزے اور ولی کی کرامت کا فرق - کنوزِ دل شرح رموزِ دل تصنیفِ لطیف حضرت مولانا محمد اکرم اعوانؒ - سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ

0 Comments


 ویڈیو دیکھنے کیلئے لنک پہ کلک کریں

اول یہ ہے کہ اللہ کریم پردہ اورکوئی چیزواضح دکھائی دے اور سمجھ میں آجائے مگر یہ سب اللہ کریم کی عطا پر منحصر ہوتا ہے جو بات واضح فرمانا چاہے اُس کا احسان اور جب چاہےاس کا احسان اور جب چاہے،وہ کرے۔جیسے حضرت یعقوب ؑ سے حضرت یوسف ؑجدا  ہوئے اور انہیں خبر نہ ہو سکی مگر جب اللہ کریم نے بتانا  چاہا  تو  برسوں  بعد جب ان کی بھائیوں سے ملاقات ہوئی اور آپ نے کرتہ مبارک دیا کہ میرے والد گرامی کی آنکھوں پہ پھیرو،تندرست ہو جائیں گی اور قافلہ مصر سے نکلا  تو حضرت یعقوبؑ  نے  کنعان  میں فرمایا  آج  یوسف ؑ  کی خوشبو آ رہی  ہے، حالانکہ دونوں حضرات  اللہ کے  نبی  تھے  پھر  ولی  کی  کیا حیثیت؟

دوسرا  طریقہ  الہام والقاء  ہے یعنی  بات  دل  میں اتر  جاتی ہے  اور  اس پر  یقین  کامل  نصیب  ہوتا  ہے۔  جیسے موسیٰ  کی  والدہ  کو حکم دیا  کہ  بچے  کو  دریا  میں  ڈال  دو  فرمایا: وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى  یعنی  ہم  نے موسیٰ علیہ السلام  کی  والدہ سے بات کی۔یہ اسی طرح ہوتی ہے کہ ان کے دل میں بات  اتر گئی  اور انہیں  اس قدر یقین  ہوا کہ واقعی بچہ دریا میں ڈال دیا۔ مگر یہ صرف ان کے لیے تھا۔اگر بنی اسرائیل کی دوسری عورتیں ان کے وجدان  پر عمل کر کے بچے دریا میں ڈال دیتیں تو وہ غرق ہوجاتے۔ یہ قسم الہام یا  وجدان کہلاتی ہے۔ان تینوں صورتوں میں تھوڑا  فرق ہوتا  ہے۔ جو آزمایا  جا   سکتا  ہے،لکھنا  شاید ممکن  نہ ہو۔

تیسری قسم یہ ہے کہ فرشتہ ظاہر ہو کر بات کرے جیسے حضرت مریم علیہ السلام کا واقعہ کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام  ان پر انسانی شکل میں ظاہر ہوئے اور بات پہنچائی۔ یہ دونوں عظیم خواتین نبی  نہ تھیں۔ سو صوفی کے مشاہدے،کشف یا  الہام و القاء  اور وجدان کی یہ صورتیں دین پر یقین کو مستحکم کرتی  ہیں۔ کتاب وسنت کو سمجھنے کی توفیقِ عمل نصیب ہوتی ہے۔

لہٰذا یہ کہنا کہ صوفی نکمے  ہوتے ہیں،سخت غلط فہمی ہے۔یہ لوگ ہمیشہ بہت زیادہ کام کرتے ہیں کہ انھیں توفیقِ الٰہی نصیب ہوتی ہے۔ہاں نقالوں کی بات الگ ہے۔مگر ہمارے نام نہاد دانشور نقالوں کے قصّے لکھ کر دین کے اس اہم جزو کو بدنام کر کے مسلمانوں کو اس سے محروم کرنے کا سبب  بن  رہے ہیں۔العیاذ باللہ!

کشف ومشاہدہ  کا  ایک  درجہ اور ہےجس میں اشیاء یا بات  واضح نہیں ہوتی بلکہ تعبیر کی محتاج  ہوتی ہے اور ایسی  بات  یا مشاہدہ  جب  طالب ،شیخ  کو پیش  کرتا ہے تو  وہ  اسے تعبیر سے آگاہ  فرماتا  ہے۔ نیز یہ سب نبی کے معجزہ  کی فرع  ہوتی  ہے۔  جیسے نبی کو  نبوت کے ثبوت کے طور پر معجزات عطا  ہوتے  ہیں جو دلیلِ نبوت ہوتے ہیں۔ لہٰذا   ولی کو باتباعِ نبوت کرامات عطا  ہوتی   ہیں جو  دین  کے قیام  اور حق کے اثبات کے لیے  ظاہر ہوتی ہیں۔ جس طرح  نبی  کا  معجزہ  دلیل نبوت  ہوتا ہے ایسے ہی  ولی  کی  کرامت بھی  دین کی حقانیت  کی دلیل کے طور پر ظاہر ہوتی ہے۔ کسی فرد کی بڑائی مقصود نہیں  ہوتی اور کرامات بھی فعل اللہ تعالیٰ  کا  ہوتا  ہے تو  کرامت، فعل اللہ تعالیٰ  کا،اظہار  نبی  کے  ہاتھ  پہ  ہو تو  معجزہ کہلاتا  ہے۔

کرامت چونکہ معجزہ کی فرع ہے لہٰذا نبی کا اتباع ضروری  ہے  ورنہ  نصیب  نہ  ہو گی۔  نیز  کشف وکرامت  از قسم ثمر  ہیں اور ثمرات  ہمیشہ  وہبی  ہوتے  ہیں کہ اللہ کریم کی عطا  ہوتے  ہیں لہٰذا  بندے کی طلب کا نتیجہ نہیں ہوتے کہ  جب  چاہا  کرامت  کا اظہار کر دیا۔ ہاں جب  اللہ چاہے اس کا اظہار ہوتا ہے  اور چونکہ یہ ازقسم ثمرات ہیں لہٰذا  اخروی اجر کے قائم مقام ہوتی ہیں۔ حضرت جی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ جن سےکرامات کا ظہور ہوا  حشر کو خواہش کریں گے کہ کاش یہ نہ ہوا  ہوتا  تو  ہمارا  اجر اور زیادہ ہوتا۔ ہاں دنیا کے حصول یا اپنی  بڑائی  کے اظہار کے لیے کچھ لوگ عجائبات کا اظہار کرتے ہیں۔اول تو وہ شعبدہ ہوتا ہے  جو صرف ہاتھ کی صفائی  ہوتی ہے۔دوسرے استدراج  ہوتا ہے جو شیطانی قوت کے بل بوتے پر کیا جاتا ہے۔مگر وہ نہ تو بالائے آسمان کی بات ہوتی ہے،نہ برزخ کی۔ محض امور دنیا کے بارے وہ بھی اس حد تک جہاں تک مادی آلات کی رسائی  ہو سکتی ہے۔لیکن ان سب امور کو سمجھنے کے لیے توفیق الٰہی اور شعور و آگہی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جیسے نبی اکرمﷺ کا معجزہ کہ ابو جہل کی مٹھی میں کنکریوں نے کلمہ پڑھا اور بد بخت نے کہا کہ یہ جادو ہے۔اب بتایا یہ جاتا ہے کہ کنکریوں نے کلمہ پڑھا۔ یہ معجزہ ہے۔ حالانکہ بات اس سے بہت ہی بڑی ہے۔کنکر،پتھر،جمادات ونباتات  حتٰی کہ ذرہ ذرہ اللہ کی تسبیح کرتا ہے۔ جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَاِنْ مِّنْ شَىْءٍ اِلَّا يُسَبِّـحُ بِحَـمْدِهٖ  کائنات کی ہر چیز اللہ کی تسبیح اور حمد کرتی ہے۔تو پتھر،کنکر،پہاڑ،دریا ہر آن ذکر الٰہی میں مصروف ہیں۔ہمیں ادراک نہیں ہوتا۔ آپﷺ نے انسانی سماعتوں کو  اس وقت وہ لطافت عطا کر دی کہ انھیں کنکریوں کا ذکر سنائی دینے  لگا ادر یہ کمال  ہے کہ بد ترین کفار نے بھی سنا کہ مومن کا سننا تو بڑی بات نہیں۔بلکہ صوفیاء میں آج بھی مراقبہ کرایا  جاتا ہے جس میں جمادات ونباتات سے کلام کرنا سکھایا جاتا ہے۔بندہ کے روبرو ایک بزرگ ساتھی حضرتؒ(مولانا اللہ یار خان رحمتہ اللہ علیہ) کی خدمت میں بیان کر رہے تھے کہ فلاں شخص کی بیٹھک میں،جہاں انھیں ٹھہرنا پڑا تھا،مجھے چھت کی لکڑیاں کہہ رہی تھیں کہ،قاضی صاحب خوش بخت  لکڑیاں ہیں جو مساجد کی چھت بن گئیں اور رات دن اللہ کا ذکر سنتی اور دیکھتی ہیں۔ایک ہم ہیں کہ زنا کے نظارے کرنا پڑتے ہیں۔تو حضرت ؒ نےفرمایا کہ وہ تو نیک آدمی ہے(جس کی بیٹھک تھی)تو عرض کیا کہ اس کے بیٹے،بھتیجے جو نوجوان ہیں ان کا کردار ایسا ہے۔

یہ فیض ہے آپﷺ کا کہ چودہ صدیاں بعد والا بندہ مومن جمادات سے بات کر لیتا  ہے اور ان کی سن لیتا ہے۔معجزہ  یہ ہے کہ بد ترین کافر ایک وقت کےلیے ایسا کر دیا کہ اُس نے جمادات کی باتیں سن لیں۔معجزہ نبویﷺ  کا اصل تابناک پہلو  یہ  ہے جس کی طرف آج شایدکسی کی نظر بھی نہیں جاتی۔

یہی حال کرامات اولیاء کا ہوتا ہے۔کرامت یہ ہے کہ کتنے لوگوں کی اصلاح  ہوئی۔عقائد درست ہوئے  یا  اعمال کی اصلاح  نصیب  ہوئی اور یہی اہل اللہ کا کمال ہے کہ وہ اقامت دین کا کام کر جاتے ہیں۔جو کام تقریروں،تحریروں اور بڑے بڑے جلسوں سے نہیں ہوتا وہ خاموشی سے کر جاتے  ہیں۔دلوں کو ذا کر  بنا  کر روشن کر دیتے  ہیں۔جس کے سبب عملی زندگی کی اصلاح ہوتی ہے۔ بندہ نے حضرت جی ؒ  کی ربع صدی کی رفاقت میں دیکھا کہ کسی آنے  والے کو  ٹوکتے  نہ تھے اور نہ ہی پوچھتے تھے کہ دیوبندی، بریلوی ،اہل حدیث،کون ہو؟مگر دوسرے ہی روز اس بندے کو  خود سے اصلاح عقائد واعمال کی فکر دامن گیر ہو جاتی تھی۔کہ کمال بھی برکاتِ نبوت  کا  ہے  جو  اہل اللہ کے طفیل نصیب  ہوتی  ہیں۔


ذکرِ قلبی اور لطائفِ روحانی - کنوزِ دل شرح رموزِ دل تصنیفِ لطیف حضرت مولانا محمد اکرم اعوانؒ - سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ

0 Comments

 ذکرِ قلبی

ارشاد نبویﷺ ہے کہ جسم کے اندر گوشت  کا ایک لوتھڑا ہے اگر وہ درست اور صالح ہے تو  سارا  بدن  صالح  ہے، اگر   وہ  فساد زدہ  ہے تو  سارا  بدن فساد کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔ (ألَا اِنَّ فِی الْجَسَدِ لَمُضْغَۃً اِذَا صَلُحَتْ صَلُحَ الْجَسَدُ کُلُّہ وَاِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّہ ، الَاَ وَہِیَ الْقَلْبُ) تو قلب سے مراد،گوشت کے لوتھڑے یعنی دل( جو خون پمپ کرنے کی مشین ہے) کے اندر ایک لطیفہ ربانی ہے۔اور عالم امر سے ہے۔

لطائف

جس طرح بدن کے اعضاء رئیسہ ہیں اسی طرح روح کے اعضاء رئیسہ ہیں۔بدن مادی ہے،اعضاء بھی مادی ہیں۔مگر روح عالم امر سے ہے لہٰذا     اس کے اعضائےرئیسہ بھی عالم امر سے ہیں ان کو لطائف کہا جاتا ہے۔

حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ اپنے مکتوبات میں تحریر فرماتے ہیں  کہ انسان  پانچ نہیں دس چیزوں سے بنا ہے۔پانچ اجزائے بدن ہیں اور پانچ لطائف روحانی۔بدن کے اجزاءمٹی، آگ،ہوا،پانی اور ان کے ملنے سے نفس بنا۔جبکہ روح کے پانچ لطائف ہیں۔قلب،روح،سری،خفی اور اخفا۔یہ پانچوں لطائف ہر روح میں موجود ہیں  اور انھیں میں انوارات کو قبول کرنے،محسوس کرنے اور کیفیات پانے کی استعداد ہے۔

یہ پانچویں لطائف تو بنیاد ہیں۔حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ نے تو ان پروارد  ہونے والے انوارات کے رنگ بھی تحریر فرمائے ہیں۔نیز مختلف سلاسل  میں ان پانچویں کو بنیاد  مانا جاتا ہے۔اپنے اپنے ذوق کے مطابق بعض نے لطائف بیان فرمائے کہ سات ہیں اور بعض کے نزدیک گیارہ بھی ہیں۔یہ تو جیہات ذوقی ہیں۔یعنی کشف ومشاہدہ اپنا اپنا ہے۔لیکن سب کی بنیاد یہی پانچ ہیں اور پھر پانچ کا حاصل بھی ایک ہے لطیفہ قلب۔کہ سب اذکار کا حاصل آخر اسی کی روشنی اور جلا ہے۔

ہمارے ہاں سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ میں سات لطائف پہ ذکر کیا جاتا ہے۔جن میں چھٹا لطیفہ نفس ہے،ساتواں لطیفہ سلطان الاذکار۔نیز ان کے مقامات بیان ہوئے ہیں اور یہ اختلاف اپنے اپنے ذوق اور مشاہدے پر مبنی ہے ورنہ منزل سب کی ایک ہے اور شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے رائے  کا  اختلاف باعث برکت ہوا کرتا ہے ۔ الحمدللہ۔ہر آدمی کی اپنا مزاج اور اپنا ذوق ہوتا ہے۔کسی کو ایک طریقہ زیادہ مفید ہے تو کسی کو دوسرا۔یہی وجہ ہے کہ بعض شیوخ طالب کو دوسرے شیخ کے پاس  بھیج دیتے تھے کہ تمہارا حصہ وہاں ہے۔اس سے یہ سمجھنا صحیح نہیں ہے کہ ولایت کوئی جاگیر ہے اور مختلف لوگوں کے پاس اس کے مختلف حصے ہیں بلکہ  وہ ان کا ذوق دیکھ کر اندازہ فرماتے تھے کہ انھیں وہاں سے فائدہ ہو گا۔وگرنہ تو ہر مومن ولی اللہ ہے۔یہ رسید ہے اس بات کی کہ اللہ ہر مومن کا دوست ہے اور اسے ایک درجہ ولایت کا حاصل ہے ہاں مشائخ اسے پالش فرماتے ہیں اور مزید قرب الہی نصیب ہوتا ہے۔مزید توفیق عمل نصیب ہوتی ہے تو قرب الہی میں مزید ترقی نصیب ہوتی ہے اور درجہ احسان یعنی حضور حق کا ادراک نصیب ہوتا ہے۔ 

ذکر کی اقسام - کنوزِ دل شرح رموزِ دل تصنیفِ لطیف حضرت مولانا محمد اکرم اعوانؒ - سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ

0 Comments

 

       ایمان لانا ایک عمل ہے اور اس میں اللہ کریم کی یاد موجود ہے لہٰذا ذکر ہے۔

       دین کا علم حاصل کرنا بہترین اعمال میں سے ہے اور اللہ کی یاد اس میں موجود ہے لہٰذا ذکر ہے۔

       (الف)ہر عمل(جو بھی ہو) خواہ فرض ہو یا واجب ،سنت ہو یا مباح اس میں اللہ کریم کی یاد موجود ہے لہٰذا ذکر ہے۔اس میں عبادت سے لے کر امورِ دنیا تک سب شامل ہیں۔ یہ ذکرِ عملی کہلاتا ہے۔نیز اس میں ذکر لسانی بھی شامل ہوتا ہے کہ عبادات میں تلاوت، تسبیحات ذکر لسانی ہیں۔ اسی طرح دین پڑھنا، پڑھانا، تبلیغ، سب ذکر میں شامل ہیں کہ ان میں اللہ کریم کی یاد موجود ہے۔

            (ب) اگلی قسم ذکرِ لسانی ہے، تسبیحات، اوراد، درود شریف، تلاوت یہ سب ذکرِ لسانی میں شامل ہیں۔

           
(ج) اس سے آگے تیسری قسم ذکرِ قلبی ہے۔

            قلب ایک لطیفہ ربانی ہے جو اس گقشت کے لوتھڑے کے اندر ہے جس کے بارے ارشادِ نبوی علیہ الصلوٰۃ و السلام کے ارشاد کا مفہوم ہے کہ جسم کے اندر ایک لوتھڑا ہے۔ اگر یہ درست ہے تو سارا بدن درست ہے اور اگر یہ کراب ہے تو سارا بدن خراب ہے۔ جان لو یہ دِل ہے ۔ او کما قال رسول اللہ ﷺ

اس (ذکرِ قلبی ) کے احکام بھی موجود ہیں ۔ حتیٰ کہ صاحبِ تفسیرِ مظہریؒ نے تو لکھا ہے کہ ذکرِ قلبی کا حصول ہر مسلمان مردو عورت پر واجب ہے اور احکام کیلئے صرف دو حوالے پیش کیے ہیں۔

       حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کو فرعون کے پاس روانہ فرماتے ہوئے ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَلَا تَنِيَا فِي ذِكْرِي    (طہ۔42)             یعنی میرے ذکر کی طرف توجہ ثانوی نہ ہو جائے۔          

نبی کا ہر ذرہ بدن نہ صرف ذاکر ہوتا ہے بلکہ ذاکر گر ہوتا ہے کہ جو چیز مَس ہو جائے ذاکر ہو جاتی ہے۔ لہٰذا نبی کی شان سے عدم ذکر تو ممکن نہیں ہاں فرعون ایک جابر و ظالم حکمران ،کرّوفر، لاؤ لشکر اور شان و شوکت والا دربار اور وہ اپنی خدائی کا دعویدار، اسے دعوتِ اقرارِ توحید دینا وہ بھی بے سرو سامانی کی حالت  میں ، یہ کام اللہ کا نبی ہی کر  سکتا ہے۔

تاکید فرمائی کہ اس حال میں بھی اوّل توجہ میرے ذکر کی طرف رہے اور فرعون سے کلام ثانوی درجہ میں ہو۔ یہ صورت ذکرِ قلبی کے علاوہ کوئی نہیں ہو سکتی۔

        دوسرا حکم خود سورۃ مزمل میں آتا ہے۔ آقائے نامدار ﷺ کو خطاب فرما کر فرمایا:

وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَتَبَتَّلْ إِلَيْهِ تَبْتِيلًا سورۃمزمل۔8

کہ اپنے پروردگار کے نام کا ذکر کریں یعنی اللہ،اللہ،اللہ اس درجہ کریں کہ ماسوا اللہ(اللہ کے سوا) کسی کی خبر نہ رہے۔ یہاں تلاوت کا حکم الگ گزر چکا تو یہ سب ، ذکرِ اسم ِ ذات اور ذکرِ قلبی ہے۔ ہاں توفیق اللہ کریم کے پاس ہے کہ سمجھنےنکا شعور عطا فرمائے۔

ایک غلط فہمی اور اس کا ازالہ - کیا تصوف اسلامی ہندو یوگیوں، عیسائیوں یا یہودیوں کی ایجاد ہے؟ کنوزِ دل شرح رموزِ دل تصنیفِ لطیف حضرت مولانا محمد اکرم اعوانؒ - سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ

0 Comments

 

پیشتر اس کے کہ قلب یا ذکرِ قلبی کا ذکر کیا جائے ایک غلط فہمی کا ازالہ ضروری ہے اور وہ یہ کہ تصوف ہندو یوگیوں سے حاصل کیا گیا ہے ہو یہود و نصاریٰ کی ایجاد رہبانیت سے لیا گیا ہے اور یوں ایک ملغوبہ وجود میں آیا جس نے عقائد کو تو نقصان پہنچایا ہی ، ساتھ میں لوگوں کو عمل سے بھی بیگانہ کر دیا۔ یہ بات میں نے اچھے اچھے دانشوروں کی تحریروں میں  بھی پائی بلکہ زوالِ امت کے اسباب میں تصوف کو بھی شامل کیا گیا۔ دراصل یہ تصوف کو نہ جاننے کی وجہ سے ہوا کہ ہمارے دانشور حضرات نے بغیر  پڑھے اور بغیر سمجھے یہ فیصلہ دے دیا ۔

            اسلام میں تصوف کیا ہے؟ یہ سمجھنا ضروری ہے۔ تصوف میرے نزدیک لفظ تزکیہ کا ترجمہ ہے جس سے مراد دل کی صفائی ہے اور صفائے دل کا پہلا نتیجہ یہ ہے کہ عقائد نتھر کر صاف ہو جاتے ہیں ۔ عظمتِ باری کا یقین ، رسالت پر ایمان اور ضروریاتِ دین کے ساتھ پختہ تر ایمان نصیب ہوتا ہے۔ جیسا کہ ترتیبِ قرآن کریم سے ظاہر ہے:

يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ            کہ دعوت کے بعد پہلا کام ، جو قبول کرے اس کا تزکیہ ہے اور اس کے بعد تعلیمِ کتاب و حکمت ہے۔ تو واضح ہے کہ بغیر تزکیہ کے بندہ کتاب و حکمت سے استفادہ کی اہلیت ہی نہیں پاتا اور اس درجہ یقین نصیب نہیں ہو سکتا  جو اتباع  اور اطاعت پر مجبور  کر دے اور نافرمانی سے روکنے کی  طاقت  رکھتا  ہو ،  جو مطلوب ہے۔ بھلا ہندوؤں کی تعلیمات سے یہ نعمت نصیب ہونا  کیسے ممکن ہے ؟  ہاں ہندوؤں کے ہاں بھی  بڑی  شدید  چلہ کشیاں  پائی  جاتی ہیں  مگر یاد رہے کہ اگر بھوکے رہ کر اور نیند نہ لے کر ارتکازِ توجہ کا ایک درجہ حاصل بھی کر لیا جائے تو اس سے ایمان نصیب نہیں ہوتا ، نہ کشفِ الٰہیات نصیب ہوتا ہے کہ برزخ منکشف ہو ،  بالائے آسمان کا مشاہدہ ہو ۔  یہ ناممکن ہے۔  ہاں جو چیزیں  مادی آلات سے  دیکھی جا  سکتی  ہیں اس کا نظر آنا ممکن ہے جیسے ٹی وی وغیرہ سے دور کے واقعات دیکھے جا سکتے ہیں  بلکہ یہ بھی کتب میں ملتا ہے کہ افریقہ میں جنگلیوں کا  ایک ایسا قبیلہ پایا گیا  جو دور سے آپس میں بات بھی کر لیتے تھے ۔ اگر کوئی  گھر سے باہر جاتا تو وقتِ مقررہ پر وہ متوجہ ہوتا ، دوسرا گھر میں متوجہ ہوتا تو بات کر لیتے تھے۔ اس پر روس کی حکومت نے کوشش شروع کی تھی کہ ایسا طریقہ فوجی مقاصد کیلئے اختیار کیا جائے ۔ پھر ان سے ہو سکا یا نہیں ، اللہ کریم جاننے والے ہیں ۔ اسی طرح ایک ہندو یوگی حضرت استاذالمکرم(قلزم فیوضات حجرت مولانا اللہ یار خان رحمتہ اللہ علیہ) کی خدمت میں حاضر ہوا تھا جس نے بتایا کہ اس نے بہت محنت کی ہے جس کے نتیجے میں اسے یہ کمال حاصل ہے کہ جب وہ متوجہ ہوتا ہے تو ایک شکل ظاہر ہو جاتی ہے  جسے وہ جہاں کہے پہنچا دیتی ہے۔ تو حضرت رحمتہ اللہ علیہ نے پوچھا کہ تمہیں اس شکل سے اُنس محسوس ہوتا ہے یا ڈر لگتا ہے ؟تو اس نے کہا ڈر لگتا ہے مگر وہ میری بات مانتی ہے ۔ حضرت رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا وہ شیطان ہے کہ شیطان ، انسان کا دشمن ہے خواہ کافر ہی کیوں نہ ہو اور دشمن سے ڈر ہی لگے گا۔

            تو اس سب کا اسلامی تصوف سے کوئی واسطہ نہیں  کہ تصوف اسلامی میں اس طرح کی چلہ کشی کا کوئی تصور نہیں بلکہ  یہ زندگی بھر کا مجاہدہ ہے کہ ہر کام شریعت کے مطابق کیا جائے اور یہ ایسا چلہ ہے جو نہ تو آسان ہے ، نہ ہی اس کا کوئی بدل ہو سکتا ہے۔

            عہدِ رسالت مآب ﷺ میں ایمان کے بعد جس کو ایک نگاہ نصیب ہوئی اس کا تزکیہ ہو گیا ۔ جس نے آپﷺ کو دیکھا یا آپ ﷺ کی نگاہ ِ پاک جس پہ پڑ گئی وہ درجہ صحابیت پہ فائز ہوا جو بعد نبوت اعلیٰ ترین مقام ہے مگر یہ یاد رہے کہ ذکرِ اسم ِ ذات کا حکم ان سب کیلئے بھی تھا اور آج بھی ہر مسلمان مردو خاتون کیلئے ہے۔

            دوسری بات کہ خلافِ اسلام چلہ کشہ خواہ ہندو فلسفہ سے ہو یا یونانی، انسان کو  دنیوی اعتبار سے ناکارہ بنا دیتی ہے اور اس کی استعدادِ کار ختم ہو جاتی ہے ، مگر تزکیہ جہاں ایمان ِ کامل عطا کرتا ہے وہاں استعدارِ کار بہت بڑھ جاتی ہے اور ایک آدمی زندگی میں کئی آدمیوں جتنا کام کر جاتا ہے ۔ آپ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے لے کر چودہ صدیوں کے حقیقی صوفیاء اور علماء ربانیین کو دیکھئے تو یہ بات واضح ہو جائے گی۔ ا س پر کسی دوسری دلیل کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ بلکہ ایک عام مسلمان کلمہ گو  دنیوی امور میں بھی کافر کی نسبت زیادہ استعدادِ کار رکھتا ہے چہ جائیکہ صوفی۔ یہ حضرات نکمّے نہیں،  نِچَلّے ہوتے ہیں اور زندگی بھر کام کرتے چلے جاتے ہیں کہ کام کرنا اور شریعت کے مطابق کرنا ہی ان کی زندگی کا مقصد بن جاتا ہے اور دوسری عجیب بات یہ بھی  ان حضرات میں پائی جاتی ہے  کہ ایک وقت میں زندگی کے مختلف شعبوں میں کام کرتے ہیں اور ہر شعبے میں کامیاب رہتے ہیں جو سوائے صوفیاء کے کہیں نہیں ملتا۔ بڑے بڑے لوگ ایک اور صرف ایک شعبے میں نام کماتے ہیں جبکہ صوفیاء زندگی کے ہر شعبے میں دوسروں کی راہنمائی  فرماتے ہیں ۔ پھر یہ حکم لگانا کہ یہ لوگ کام نہیں کرتے  کس قدر ناانصافی کی بات ہے ۔ لوگ دماغ سے کام کرتے ہیں جو دوسرے آلات سمع و بصر وغیرہ کا محتاج اور حالات و واقعات سے متاثر ہوتا ہے مگر صوفیاء دِل سے کام کرتے ہیں  جو صرف جذبات پر فیصلہ کرتا ہے جو اس کے اندر پیدا ہوتے ہیں ۔ دِل خارجی اثرات سے بالاتر ہوتا ہے اور جب اس کے اندر اللہ کا ذکر مقیم ہوتا ہے تو اس کا ہر فیصلہ اطاعتِ الٰہی کے مطابق ہوتا ہے۔ نیز حسبِ استطاعت کبھی بیکار نہیں رہتا  بلکہ دماغ، دِل کے تابع اور اعضاء و جوارح دماغ کے تابع ہو کر، اس کی ساری قوت بہترین کام پہ لگی رہتی ہے۔

            ہاں جن لوگوں کو شیخِ کامل نہ ملا اور انھوں نے آخرت کی بجائے دنیا کے  کمالات یا شہرت و دولت پانے کے لیے وطیفے پڑھے اور چلے کاٹے ان کی بات دوسری ہے ۔ ایسے لوگوں پہ یہ حکم  لگایا جا سکتا ہے کہ یہ ہندو ازم یا کسی اور سے متاثر ہوئے اور انھیں صوفی کہنا یا سمجھنا بھی ہرگز  درست نہیں۔

            جہاں تک صوفیاء اور اہل اللہ کا تعلق ہے تو ساری محنت رضائے باری کے لیے کرتے ہیں کہ ذکرِ الٰہی سے توفیق عمل بھی نصیب ہوتی ہے اور گناہ سے بچنے کی توفیق بھی ۔ رضائے باری کے حصول کا واحد ذریعہ اتباعِ رسالت اور اجتناب عن المعاصی یعنی گناہ سے پرہیز ہے۔ صوفیاء کو بھی کشف و مشاہدہ ہوتا ہے۔ اس میں مندرجہ ذیل باتوں پہ نگاہ رکھنا ضروری ہے۔

اوّل۔    کشف و مشاہدہ مقصد نہیں ہوتا۔ ہاں کشف و مشاہدہ ہو جائے تو اللہ کریم کی عطا ہے۔

دوم۔     کشف قدرتِ باری پہ ایمان کو اور مستحکم کرتا ہے اور احکام کی بنیاد سمجھ آتی ہے نیز وضاحت بھی نصیب ہوتی ہے۔

سوم۔    یہ امورِ دنیا یا لوگوں سے اپنا آپ منوانے کیلئے نہیں ہوتا بلکہ اپنے عجز کا احساس شدید تر ہو جاتا ہے۔

چہارم۔  اگر کشف شریعت کے مطابق ہو تو درست، اگر خلاف ہو تو پھر صاحبِ کشف کو غلطی لگی  ہے ۔ وہ قابلِ عمل نہیں ہو گا۔

پنجم۔     اگر کشف میں کوئی بات ظاہر ہو یا کوئی کام کرنے کا اشارہ ملا تو صرف وہ خو د، جو صاحبِ کشف ہے۔ اس پر عمل کرے دوسرا کوئی فرد اس کے کشف کا مکلّف نہیں اور نہ اس پر عمل کرنے کا پابند ہے لہٰذا امورِ دنیا میں تو اس کی ضرورت نہ رہی۔

مقصدِ تصنیف رموزِ دل شرح کنوزِ دل - تصنیفِ لطیف حضرت مولانا محمد اکرم اعوانؒ - سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ

0 Comments

 


اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنْ، وَالصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی  حَبِیْبِہٖ مُحَمَّدٍ وَّآلِہٖ وَصَحْبِہٖ اَجْمَعِیْنَ اَمَّا بَعْدُ! فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ،بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

بندہ نے چند سطور رموزِ دل کے نام سے طالبین کی راہنمائی کیلئے سپردِ قلم کیں۔ مقصد یہ تھا کہ سلوک و تصوف ایک بحرِ نا پیدا کنار ہے اور اس میں ایک لفظ اور ایک بات کی کئی تعبیرات ہو سکتی ہیں لہٰذا شیخ کے ارشادات یا توجہ اور مراقبات کی  تعبیرات میں یکسوئی رہے اور ہر کوئی اپنی الگ تعبیر نہ سمجھے۔ اگرچہ اس میں کوئی خاص اختلاف نہیں ہوتا ۔ اصولی بات تو ایک ہی ہوتی ہے۔ فروعی طور پر اپنی سمجھ ، علم اور استعداد کے مطابق کچھ فرق آ سکتا ہے ۔ یہ فرق بھی خطرے سے خالی نہیں کہ شیطان کچھ بھی القا ء کر کے اس میں فساد پیدا کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ تو اگر تعبیرات بھی  سمجھ میں  آجائیں تو اللہ کریم اس خطرے سے بچنے کا سبب بنا دیتا ہے۔ چنانچہ مختصراً ایک کتابچہ تحریر کر دیا گیا ہے۔ مگر حالات کی ستم ظریفی دیکھئے کہ ذکر اذکار یا سلوک و تصوف کا سرے سے انکار اور اسے ثابت کرنے پہ زورِ قلم صرف کرنا اب علم کی شان سمجھا جا رہا ہے۔ حالانکہ اب سے صرف نصف صدی پہلے تک بر صغیر کے علماء کے حالات پڑھیں تو ملتا ہے کہ فلاں مدرسے سے تحصیلِ علم کے بعد اتنا عرصہ فلاں بزرگ کی خدمت میں رہے اور خرقہ خلافت حاصل کیا۔ اس کے بعد حضرات میدانِ عمل میں قدم رکھتے تھے ۔ مگر آج سارا زورِ قلم ذکر اذکار کے انکار پر صرف کیا جارہا ہے اور اسس کی خاطر  بڑے خوبصورت جال بنے جاتے ہیں ۔ جیسے بندہ نے کل ایک مضمون دیکھا جس میں فاضل مصنف نے سارا زورِ قلم یہ ثابت کرنے پہ صرف فرمایا کہ قرآن کریم میں جہاں بھی ذکر کا لفظ آیا ہے اس سے قرآن ِ کریم ہی مراد ہے۔اس کے علاوہ کوئی ذکر نہیں۔ بہت اچھی بات ہے ۔ قرآن کریم ذکر ہے ، مگر یہ کہنا بے دلیل ہو گا کہ صرف قرآن ہی  ذکر ہے۔ کیا حدیث شریف ذکر نہیں ہے؟ کیا تسبیحات یا درود شریف ذکر نہیں ہے؟ کیا تبلیغ ذکر نہیں ہے؟ کیا عبادات، نماز ،روزہ ، حج،زکوٰۃ ذکر نہیں ہیں؟

قرآن ِ کریم میں جہاں جہاں ذکر کا حکم ہوا ہے کیا ہر جگہ تلاوتِ قرآن کریم مراد لی جا سکتی ہے؟ جیسے لڑائی میں حکم  ہے:

فَاثْبُتُوا وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ۔  الانفال:٤٥

کہ ثابت قدم رہو اور اللہ کا ذکر کثرت سے کرتے رہو ۔

تو کیا ممکن ہے کہ حالتِ جنگ میں لڑائی بھی جاری رکھیں اور تلاوت بھی؟

الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ ۔          آل عمران: ١٩١

تو کیا کھڑے، بیٹھے،لیٹے ہوئے تلاوت ممکن ہے؟ یا

فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللَّهِ وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ۔               سورۃالجمعہ:١٠

سورۃ  جمعہ میں ہے کہ نماز کے بعد اپنے کام پہ جاؤ، مزدوری کرو، رزقِ حلال کماؤ اور اللہ کا ذکر کثرت سے جاری رکھو۔ ذکر کو اگر قرآنِ کریم مانا جائے تو کیا یہ عمل ممکن ہے؟

ہاں یہ درست ہے کہ قرآنِ کریم ذکر ہے، افضل ترین ذکر ہے مگر یہاں 'قرآن بھی ذکر ہے' تو درست ہے، یہ درست نہیں کہ 'قرآن ہی ذکر ہے'۔

ذکر میں اور بھی بہت سے چیزیں ، حتیٰ کہ عقائد سے ایمان اور اعمال تک شامل ہیں۔