ذکر کی اقسام - کنوزِ دل شرح رموزِ دل تصنیفِ لطیف حضرت مولانا محمد اکرم اعوانؒ - سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ

0 Comments

 

       ایمان لانا ایک عمل ہے اور اس میں اللہ کریم کی یاد موجود ہے لہٰذا ذکر ہے۔

       دین کا علم حاصل کرنا بہترین اعمال میں سے ہے اور اللہ کی یاد اس میں موجود ہے لہٰذا ذکر ہے۔

       (الف)ہر عمل(جو بھی ہو) خواہ فرض ہو یا واجب ،سنت ہو یا مباح اس میں اللہ کریم کی یاد موجود ہے لہٰذا ذکر ہے۔اس میں عبادت سے لے کر امورِ دنیا تک سب شامل ہیں۔ یہ ذکرِ عملی کہلاتا ہے۔نیز اس میں ذکر لسانی بھی شامل ہوتا ہے کہ عبادات میں تلاوت، تسبیحات ذکر لسانی ہیں۔ اسی طرح دین پڑھنا، پڑھانا، تبلیغ، سب ذکر میں شامل ہیں کہ ان میں اللہ کریم کی یاد موجود ہے۔

            (ب) اگلی قسم ذکرِ لسانی ہے، تسبیحات، اوراد، درود شریف، تلاوت یہ سب ذکرِ لسانی میں شامل ہیں۔

           
(ج) اس سے آگے تیسری قسم ذکرِ قلبی ہے۔

            قلب ایک لطیفہ ربانی ہے جو اس گقشت کے لوتھڑے کے اندر ہے جس کے بارے ارشادِ نبوی علیہ الصلوٰۃ و السلام کے ارشاد کا مفہوم ہے کہ جسم کے اندر ایک لوتھڑا ہے۔ اگر یہ درست ہے تو سارا بدن درست ہے اور اگر یہ کراب ہے تو سارا بدن خراب ہے۔ جان لو یہ دِل ہے ۔ او کما قال رسول اللہ ﷺ

اس (ذکرِ قلبی ) کے احکام بھی موجود ہیں ۔ حتیٰ کہ صاحبِ تفسیرِ مظہریؒ نے تو لکھا ہے کہ ذکرِ قلبی کا حصول ہر مسلمان مردو عورت پر واجب ہے اور احکام کیلئے صرف دو حوالے پیش کیے ہیں۔

       حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کو فرعون کے پاس روانہ فرماتے ہوئے ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَلَا تَنِيَا فِي ذِكْرِي    (طہ۔42)             یعنی میرے ذکر کی طرف توجہ ثانوی نہ ہو جائے۔          

نبی کا ہر ذرہ بدن نہ صرف ذاکر ہوتا ہے بلکہ ذاکر گر ہوتا ہے کہ جو چیز مَس ہو جائے ذاکر ہو جاتی ہے۔ لہٰذا نبی کی شان سے عدم ذکر تو ممکن نہیں ہاں فرعون ایک جابر و ظالم حکمران ،کرّوفر، لاؤ لشکر اور شان و شوکت والا دربار اور وہ اپنی خدائی کا دعویدار، اسے دعوتِ اقرارِ توحید دینا وہ بھی بے سرو سامانی کی حالت  میں ، یہ کام اللہ کا نبی ہی کر  سکتا ہے۔

تاکید فرمائی کہ اس حال میں بھی اوّل توجہ میرے ذکر کی طرف رہے اور فرعون سے کلام ثانوی درجہ میں ہو۔ یہ صورت ذکرِ قلبی کے علاوہ کوئی نہیں ہو سکتی۔

        دوسرا حکم خود سورۃ مزمل میں آتا ہے۔ آقائے نامدار ﷺ کو خطاب فرما کر فرمایا:

وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَتَبَتَّلْ إِلَيْهِ تَبْتِيلًا سورۃمزمل۔8

کہ اپنے پروردگار کے نام کا ذکر کریں یعنی اللہ،اللہ،اللہ اس درجہ کریں کہ ماسوا اللہ(اللہ کے سوا) کسی کی خبر نہ رہے۔ یہاں تلاوت کا حکم الگ گزر چکا تو یہ سب ، ذکرِ اسم ِ ذات اور ذکرِ قلبی ہے۔ ہاں توفیق اللہ کریم کے پاس ہے کہ سمجھنےنکا شعور عطا فرمائے۔

0 Comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔