پیشتر اس کے کہ قلب یا ذکرِ قلبی کا ذکر کیا جائے ایک غلط فہمی کا ازالہ ضروری ہے اور وہ یہ کہ تصوف ہندو یوگیوں سے حاصل کیا گیا ہے ہو یہود و نصاریٰ کی ایجاد رہبانیت سے لیا گیا ہے اور یوں ایک ملغوبہ وجود میں آیا جس نے عقائد کو تو نقصان پہنچایا ہی ، ساتھ میں لوگوں کو عمل سے بھی بیگانہ کر دیا۔ یہ بات میں نے اچھے اچھے دانشوروں کی تحریروں میں بھی پائی بلکہ زوالِ امت کے اسباب میں تصوف کو بھی شامل کیا گیا۔ دراصل یہ تصوف کو نہ جاننے کی وجہ سے ہوا کہ ہمارے دانشور حضرات نے بغیر پڑھے اور بغیر سمجھے یہ فیصلہ دے دیا ۔
اسلام
میں تصوف کیا ہے؟ یہ سمجھنا ضروری ہے۔ تصوف میرے نزدیک لفظ تزکیہ کا ترجمہ ہے جس
سے مراد دل کی صفائی ہے اور صفائے دل کا پہلا نتیجہ یہ ہے کہ عقائد نتھر کر صاف ہو
جاتے ہیں ۔ عظمتِ باری کا یقین ، رسالت پر ایمان اور ضروریاتِ دین کے ساتھ پختہ تر
ایمان نصیب ہوتا ہے۔ جیسا کہ ترتیبِ قرآن کریم سے ظاہر ہے:
يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ کہ دعوت
کے بعد پہلا کام ، جو قبول کرے اس کا تزکیہ ہے اور اس کے بعد تعلیمِ کتاب و حکمت
ہے۔ تو واضح ہے کہ بغیر تزکیہ کے بندہ کتاب و حکمت سے استفادہ کی اہلیت ہی نہیں
پاتا اور اس درجہ یقین نصیب نہیں ہو سکتا جو اتباع اور اطاعت پر مجبور کر دے اور نافرمانی سے روکنے کی طاقت رکھتا
ہو ، جو مطلوب ہے۔ بھلا ہندوؤں کی تعلیمات سے یہ نعمت
نصیب ہونا کیسے ممکن ہے ؟ ہاں ہندوؤں کے ہاں بھی بڑی شدید چلہ کشیاں پائی جاتی ہیں
مگر یاد رہے کہ اگر بھوکے رہ کر اور نیند نہ لے کر ارتکازِ توجہ کا ایک
درجہ حاصل بھی کر لیا جائے تو اس سے ایمان نصیب نہیں ہوتا ، نہ کشفِ الٰہیات نصیب
ہوتا ہے کہ برزخ منکشف ہو ، بالائے آسمان
کا مشاہدہ ہو ۔ یہ ناممکن ہے۔ ہاں جو چیزیں مادی آلات سے دیکھی جا سکتی ہیں اس کا نظر آنا ممکن ہے جیسے ٹی وی وغیرہ سے
دور کے واقعات دیکھے جا سکتے ہیں بلکہ یہ
بھی کتب میں ملتا ہے کہ افریقہ میں جنگلیوں کا
ایک ایسا قبیلہ پایا گیا جو دور سے
آپس میں بات بھی کر لیتے تھے ۔ اگر کوئی گھر
سے باہر جاتا تو وقتِ مقررہ پر وہ متوجہ ہوتا ، دوسرا گھر میں متوجہ ہوتا تو بات
کر لیتے تھے۔ اس پر روس کی حکومت نے کوشش شروع کی تھی کہ ایسا طریقہ فوجی مقاصد
کیلئے اختیار کیا جائے ۔ پھر ان سے ہو سکا یا نہیں ، اللہ کریم جاننے والے ہیں ۔ اسی
طرح ایک ہندو یوگی حضرت استاذالمکرم(قلزم فیوضات حجرت مولانا اللہ یار خان رحمتہ
اللہ علیہ) کی خدمت میں حاضر ہوا تھا جس نے بتایا کہ اس نے بہت محنت کی ہے جس کے
نتیجے میں اسے یہ کمال حاصل ہے کہ جب وہ متوجہ ہوتا ہے تو ایک شکل ظاہر ہو جاتی
ہے جسے وہ جہاں کہے پہنچا دیتی ہے۔ تو
حضرت رحمتہ اللہ علیہ نے پوچھا کہ تمہیں اس شکل سے اُنس محسوس ہوتا ہے یا ڈر لگتا
ہے ؟تو اس نے کہا ڈر لگتا ہے مگر وہ میری بات مانتی ہے ۔ حضرت رحمتہ اللہ علیہ نے
فرمایا وہ شیطان ہے کہ شیطان ، انسان کا دشمن ہے خواہ کافر ہی کیوں نہ ہو اور دشمن
سے ڈر ہی لگے گا۔
تو اس سب
کا اسلامی تصوف سے کوئی واسطہ نہیں کہ
تصوف اسلامی میں اس طرح کی چلہ کشی کا کوئی تصور نہیں بلکہ یہ زندگی بھر کا مجاہدہ ہے کہ ہر کام شریعت کے
مطابق کیا جائے اور یہ ایسا چلہ ہے جو نہ تو آسان ہے ، نہ ہی اس کا کوئی بدل ہو
سکتا ہے۔
عہدِ
رسالت مآب ﷺ میں ایمان کے بعد جس کو ایک نگاہ نصیب ہوئی اس کا تزکیہ ہو گیا ۔ جس
نے آپﷺ کو دیکھا یا آپ ﷺ کی نگاہ ِ پاک جس پہ پڑ گئی وہ درجہ صحابیت پہ فائز ہوا
جو بعد نبوت اعلیٰ ترین مقام ہے مگر یہ یاد رہے کہ ذکرِ اسم ِ ذات کا حکم ان سب
کیلئے بھی تھا اور آج بھی ہر مسلمان مردو خاتون کیلئے ہے۔
دوسری
بات کہ خلافِ اسلام چلہ کشہ خواہ ہندو فلسفہ سے ہو یا یونانی، انسان کو دنیوی اعتبار سے ناکارہ بنا دیتی ہے اور اس کی
استعدادِ کار ختم ہو جاتی ہے ، مگر تزکیہ جہاں ایمان ِ کامل عطا کرتا ہے وہاں
استعدارِ کار بہت بڑھ جاتی ہے اور ایک آدمی زندگی میں کئی آدمیوں جتنا کام کر جاتا
ہے ۔ آپ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے لے کر چودہ صدیوں کے حقیقی صوفیاء
اور علماء ربانیین کو دیکھئے تو یہ بات واضح ہو جائے گی۔ ا س پر کسی دوسری دلیل کی
ضرورت باقی نہیں رہتی۔ بلکہ ایک عام مسلمان کلمہ گو دنیوی امور میں بھی کافر کی نسبت زیادہ استعدادِ
کار رکھتا ہے چہ جائیکہ صوفی۔ یہ حضرات نکمّے نہیں، نِچَلّے ہوتے ہیں اور زندگی بھر کام کرتے چلے
جاتے ہیں کہ کام کرنا اور شریعت کے مطابق کرنا ہی ان کی زندگی کا مقصد بن جاتا ہے
اور دوسری عجیب بات یہ بھی ان حضرات میں
پائی جاتی ہے کہ ایک وقت میں زندگی کے
مختلف شعبوں میں کام کرتے ہیں اور ہر شعبے میں کامیاب رہتے ہیں جو سوائے صوفیاء کے
کہیں نہیں ملتا۔ بڑے بڑے لوگ ایک اور صرف ایک شعبے میں نام کماتے ہیں جبکہ صوفیاء
زندگی کے ہر شعبے میں دوسروں کی راہنمائی
فرماتے ہیں ۔ پھر یہ حکم لگانا کہ یہ لوگ کام نہیں کرتے کس قدر ناانصافی کی بات ہے ۔ لوگ دماغ سے کام
کرتے ہیں جو دوسرے آلات سمع و بصر وغیرہ کا محتاج اور حالات و واقعات سے متاثر
ہوتا ہے مگر صوفیاء دِل سے کام کرتے ہیں
جو صرف جذبات پر فیصلہ کرتا ہے جو اس کے اندر پیدا ہوتے ہیں ۔ دِل خارجی
اثرات سے بالاتر ہوتا ہے اور جب اس کے اندر اللہ کا ذکر مقیم ہوتا ہے تو اس کا ہر
فیصلہ اطاعتِ الٰہی کے مطابق ہوتا ہے۔ نیز حسبِ استطاعت کبھی بیکار نہیں رہتا بلکہ دماغ، دِل کے تابع اور اعضاء و جوارح دماغ
کے تابع ہو کر، اس کی ساری قوت بہترین کام پہ لگی رہتی ہے۔
ہاں جن
لوگوں کو شیخِ کامل نہ ملا اور انھوں نے آخرت کی بجائے دنیا کے کمالات یا شہرت و دولت پانے کے لیے وطیفے پڑھے
اور چلے کاٹے ان کی بات دوسری ہے ۔ ایسے لوگوں پہ یہ حکم لگایا جا سکتا ہے کہ یہ ہندو ازم یا کسی اور سے
متاثر ہوئے اور انھیں صوفی کہنا یا سمجھنا بھی ہرگز درست نہیں۔
جہاں تک
صوفیاء اور اہل اللہ کا تعلق ہے تو ساری محنت رضائے باری کے لیے کرتے ہیں کہ ذکرِ
الٰہی سے توفیق عمل بھی نصیب ہوتی ہے اور گناہ سے بچنے کی توفیق بھی ۔ رضائے باری
کے حصول کا واحد ذریعہ اتباعِ رسالت اور اجتناب عن المعاصی یعنی گناہ سے پرہیز ہے۔
صوفیاء کو بھی کشف و مشاہدہ ہوتا ہے۔ اس میں مندرجہ ذیل باتوں پہ نگاہ رکھنا ضروری
ہے۔
اوّل۔ کشف و
مشاہدہ مقصد نہیں ہوتا۔ ہاں کشف و مشاہدہ ہو جائے تو اللہ کریم کی عطا ہے۔
دوم۔ کشف قدرتِ
باری پہ ایمان کو اور مستحکم کرتا ہے اور احکام کی بنیاد سمجھ آتی ہے نیز وضاحت
بھی نصیب ہوتی ہے۔
سوم۔ یہ امورِ
دنیا یا لوگوں سے اپنا آپ منوانے کیلئے نہیں ہوتا بلکہ اپنے عجز کا احساس شدید تر
ہو جاتا ہے۔
چہارم۔ اگر کشف
شریعت کے مطابق ہو تو درست، اگر خلاف ہو تو پھر صاحبِ کشف کو غلطی لگی ہے ۔ وہ قابلِ عمل نہیں ہو گا۔
پنجم۔ اگر کشف
میں کوئی بات ظاہر ہو یا کوئی کام کرنے کا اشارہ ملا تو صرف وہ خو د، جو صاحبِ کشف
ہے۔ اس پر عمل کرے دوسرا کوئی فرد اس کے کشف کا مکلّف نہیں اور نہ اس پر عمل کرنے
کا پابند ہے لہٰذا امورِ دنیا میں تو اس کی ضرورت نہ رہی۔











0 Comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔