مقصدِ تصنیف رموزِ دل شرح کنوزِ دل - تصنیفِ لطیف حضرت مولانا محمد اکرم اعوانؒ - سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ

0 Comments

 


اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنْ، وَالصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی  حَبِیْبِہٖ مُحَمَّدٍ وَّآلِہٖ وَصَحْبِہٖ اَجْمَعِیْنَ اَمَّا بَعْدُ! فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ،بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

بندہ نے چند سطور رموزِ دل کے نام سے طالبین کی راہنمائی کیلئے سپردِ قلم کیں۔ مقصد یہ تھا کہ سلوک و تصوف ایک بحرِ نا پیدا کنار ہے اور اس میں ایک لفظ اور ایک بات کی کئی تعبیرات ہو سکتی ہیں لہٰذا شیخ کے ارشادات یا توجہ اور مراقبات کی  تعبیرات میں یکسوئی رہے اور ہر کوئی اپنی الگ تعبیر نہ سمجھے۔ اگرچہ اس میں کوئی خاص اختلاف نہیں ہوتا ۔ اصولی بات تو ایک ہی ہوتی ہے۔ فروعی طور پر اپنی سمجھ ، علم اور استعداد کے مطابق کچھ فرق آ سکتا ہے ۔ یہ فرق بھی خطرے سے خالی نہیں کہ شیطان کچھ بھی القا ء کر کے اس میں فساد پیدا کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ تو اگر تعبیرات بھی  سمجھ میں  آجائیں تو اللہ کریم اس خطرے سے بچنے کا سبب بنا دیتا ہے۔ چنانچہ مختصراً ایک کتابچہ تحریر کر دیا گیا ہے۔ مگر حالات کی ستم ظریفی دیکھئے کہ ذکر اذکار یا سلوک و تصوف کا سرے سے انکار اور اسے ثابت کرنے پہ زورِ قلم صرف کرنا اب علم کی شان سمجھا جا رہا ہے۔ حالانکہ اب سے صرف نصف صدی پہلے تک بر صغیر کے علماء کے حالات پڑھیں تو ملتا ہے کہ فلاں مدرسے سے تحصیلِ علم کے بعد اتنا عرصہ فلاں بزرگ کی خدمت میں رہے اور خرقہ خلافت حاصل کیا۔ اس کے بعد حضرات میدانِ عمل میں قدم رکھتے تھے ۔ مگر آج سارا زورِ قلم ذکر اذکار کے انکار پر صرف کیا جارہا ہے اور اسس کی خاطر  بڑے خوبصورت جال بنے جاتے ہیں ۔ جیسے بندہ نے کل ایک مضمون دیکھا جس میں فاضل مصنف نے سارا زورِ قلم یہ ثابت کرنے پہ صرف فرمایا کہ قرآن کریم میں جہاں بھی ذکر کا لفظ آیا ہے اس سے قرآن ِ کریم ہی مراد ہے۔اس کے علاوہ کوئی ذکر نہیں۔ بہت اچھی بات ہے ۔ قرآن کریم ذکر ہے ، مگر یہ کہنا بے دلیل ہو گا کہ صرف قرآن ہی  ذکر ہے۔ کیا حدیث شریف ذکر نہیں ہے؟ کیا تسبیحات یا درود شریف ذکر نہیں ہے؟ کیا تبلیغ ذکر نہیں ہے؟ کیا عبادات، نماز ،روزہ ، حج،زکوٰۃ ذکر نہیں ہیں؟

قرآن ِ کریم میں جہاں جہاں ذکر کا حکم ہوا ہے کیا ہر جگہ تلاوتِ قرآن کریم مراد لی جا سکتی ہے؟ جیسے لڑائی میں حکم  ہے:

فَاثْبُتُوا وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ۔  الانفال:٤٥

کہ ثابت قدم رہو اور اللہ کا ذکر کثرت سے کرتے رہو ۔

تو کیا ممکن ہے کہ حالتِ جنگ میں لڑائی بھی جاری رکھیں اور تلاوت بھی؟

الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ ۔          آل عمران: ١٩١

تو کیا کھڑے، بیٹھے،لیٹے ہوئے تلاوت ممکن ہے؟ یا

فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللَّهِ وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ۔               سورۃالجمعہ:١٠

سورۃ  جمعہ میں ہے کہ نماز کے بعد اپنے کام پہ جاؤ، مزدوری کرو، رزقِ حلال کماؤ اور اللہ کا ذکر کثرت سے جاری رکھو۔ ذکر کو اگر قرآنِ کریم مانا جائے تو کیا یہ عمل ممکن ہے؟

ہاں یہ درست ہے کہ قرآنِ کریم ذکر ہے، افضل ترین ذکر ہے مگر یہاں 'قرآن بھی ذکر ہے' تو درست ہے، یہ درست نہیں کہ 'قرآن ہی ذکر ہے'۔

ذکر میں اور بھی بہت سے چیزیں ، حتیٰ کہ عقائد سے ایمان اور اعمال تک شامل ہیں۔

0 Comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔