رَبِّ اشْرَحْ لِیْ
صَدْرِیْ ۙوَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙوَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: قَالَ
يَا آدَمُ أَنْبِئْهُمْ بِأَسْمَائِهِمْ فَلَمَّا أَنْبَأَهُمْ بِأَسْمَائِهِمْ
قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَكُمْ إِنِّي أَعْلَمُ غَيْبَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ
وَأَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا كُنْتُمْ تَكْتُمُونَ
فرمایا (اے آدم) ان کو ان چیزوں کے نام بتائیں
پھر جب انہوں نے ان کو ان کے نام بتائے فرمایا کیا میں نے تم سے کہا نہیں تھا کہ میں آسمانوں اور
زمین کی تمام پوشیدہ باتیں جانتا ہوں اور جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو
وہ (سب ) بھی جانتا ہوں۔
جو معاملہ سابقہ آیات میں بیان فرمایا جا رہا تھا
اس آیتِ کریمہ میں اسی معاملے کو یعنی دلیلِ علمِ آدم کو مزید تقویت دی گئی۔ سابقہ
آیات میں علمِ آدم ؑ کو فرشتوں پہ دلیل کے طور پہ پیش کیا تو فرشتوں نے مان لیا کہ
آپ کی ذات پاک ہے،ہمیں آپ کی عطا کے علاوہ کچھ علم نہیں۔اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات
ہی علم و حکمت والی ہے۔
فرشتوں
کے اس اقرار پہ اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ
اس کے بعد علم ِ آدم علیہ الصلوۃ والسلام
کا ثبوت پیش کیا گیا جو اس آیتِ کریمہ میں
بیان ہوا:
قَالَ يَا آدَمُ
أَنْبِئْهُمْ بِأَسْمَائِهِمْ فرمایا
(اے آدم ؑ) ان کو ان چیزوں کے نام بتائیں۔
فَلَمَّا أَنْبَأَهُمْ
بِأَسْمَائِهِمْ پھر
جب انہوں نے ان کو ان کے نام بتائے۔
قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَكُمْ
إِنِّي أَعْلَمُ غَيْبَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ
فرمایا کیا میں نے تم سے
کہا نہیں تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی
تمام پوشیدہ باتیں جانتا ہوں ۔
وَأَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ
وَمَا كُنْتُمْ تَكْتُمُونَ
اور جانتا ہوں جو تم ظاہر
کرتے ہو اور وہ بھی جو تم چھپاتے ہو۔
اس آیتِ کریمہ میں بہت سی
حکمتیں بیان ہوئیں۔ قرآن ِ کریم میں جہاں ایک طرف واقعات و حالات بیان ہو رہے ہوتے
ہیں وہیں دوسری طرف اگر غور کیا جائے تو اس واقعے کے بہت سے حکیمانہ پہلو بھی ہوتے
ہیں۔شیخ المکرم حضرت امیر عبد القدیر اعوان
مد ظلہ العالی فرماتے ہیں کہ قرآنی آیات پہ غور کرنے سے
ہر دفعہ ایک نیا مثبت پہلو سمجھ میں آتا ہے۔اسی طرح سابقہ چاروں آیات سے بھی بہت
سے قیمتی نکات اور حکیمانہ باتیں سمجھی جا سکتی ہیں۔
اس فرمان سے یہ واضح ہوتا
ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات چونکہ واقف و آگاہ تھی اس بات سے کہ آدم علیہ
السلام کو جو خلافت سونپی جا رہی تھی اس پہ فرشتوں اور جنات جن کا سردار ابلیس تھا، ان سابقہ دونوں مخلوقوں
کو ان کی افضلیت و فوقیت تسلیم کرنے میں تردّد ہو گا ،جس کا اظہار فرشتوں نے کر
دیا جبکہ ابلیس ابھی اپنے اندر چھپائے بیٹھا تھا۔ تو اللہ تبارک وتعالی ٰ نےان کا
یہ اعتراض و شبہ دور فرمایا حالانکہ اللہ کی ذات ِ بر حق محتاج نہیں تھی انہیں قائل کرنے کی
جبکہ فرشتوں کے پاس حکم عدولی کا تصور بھی نہیں تھا۔ اس سے یہ نکتہ سمجھ
آتا ہے کہ باوجود طاقت و اختیار کے جب آپ کسی پہ کچھ پیش کرو، کوئی دعویٰ کرو تو
آپ کے ذمہ ہے فریقِ ثانی کے شبہات و اعتراضات دور کرنا۔ اور پھر شبہات و اعتراضات
کو دور کرنے کا طریقہ و سلیقہ بھی سمجھا دیا کہ دعویٰ پیش کرنے کے بعد جب فریقِ
ثانی اپنے شبہات کا اظہار کرے تو اس پہ اپنی دلیل پیش کرو اور جب وہ دلیل پہ قائل ہو جائے تو دلیل کو صرف
زبانی کلامی نہ رکھو بلکہ ساتھ ثبوت بھی پیش کرو یعنی دلیل کو عملی طور پہ ثابت کر
کے دکھاؤ تاکہ فریقِ ثانی کے دل میں کسی قسم کا شک و تردّد باقی نہ رہے۔جیسے اس
واقعہ سے پتہ چلتا ہے کہ باوجود اختیار و طاقت کے اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرشتوں کے
شبہات کو دلیل سے دور فرمایا۔ سو جب وہ قائل ہو گئے تو اس پہ اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کے شبہات کو
دور کرنے کے لئے ان پہ علم آدمؑ کو ثابت بھی کر دیا گیا اور فرمایا کہ آدم ؑ ان کو
ان چیزوں کے نام بتائیے تا کہ ان میں کسی قسم کا شک و تردّد باقی نہ رہے ۔ا سکے
بعد انہیں یہ بات یاد دلائی جا رہی ہے کہ قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَكُمْ إِنِّي أَعْلَمُ
غَيْبَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ فرمایا
کیا میں نے تم سے کہا نہیں تھا کہ میں آسمانوں
اور زمین کی تمام پوشیدہ باتیں
جانتا ہوں ۔اور مزید فرمایا کہ وَأَعْلَمُ
مَا تُبْدُونَ وَمَا كُنْتُمْ تَكْتُمُونَ اور
جانتا ہوں جو تم ظاہر کرتے ہو اور وہ بھی جو تم چھپاتے ہو۔ یعنی
نہ صرف ان چیزوں کو جو تم ظاہر کرتے ہو
بلکہ ان کو بھی جو تم چھپاتے ہو۔ ظاہر کیا تھا ؟ ظاہر وہ شبہات تھے جن کا
اظہار انہوں نے برملا کر دیا اور چھپانے والی باتیں تھیں جو انہوں نے برملا بیان
نہیں کیں لیکن ان کے اندر موجود تھیں مثلاً یہ کہ ہم پاکیزگی و عبادت کی وجہ سے
افضل مخلوق ہیں جبکہ خلافتِ ارضی آدم ؑ کو سونپی جا رہی ہے۔یا وہ باتیں جو شیطان
نے اپنے اندر رکھی ہوئی تھی جن کا اظہار اس کے انکار کی صورت میں ہوا جب اللہ تعالیٰ نے آدم ؑ کو سجدے کا حکم
دیا تو اس کا غرور و تکبر سامنے آگیا اور اس نے سجدے سے انکار کر دیا۔
ایک اور اہم بات جو قاسمِ
فیوضات حضرت مولانا محمد اکرم اعوان رحمتہ
اللہ علیہ نے اکرم التفاسیر میں بیان فرمائی ۔ فرماتے ہیں : لوگوں میں یہ بحث چلتی
رہتی ہے اور میرے خیال میں یہ فضول بحث ہے کہ علمِ غیب کیا ہے ؟ اور آدم علیہ
السلام کو کائنات کی ہر چیز کے بارے میں بتا دیا گیا تو وہ بھی عالم الغیب ہو گئے۔
یہ درست نہیں ہے۔ فرماتے ہیں کہ " علمِ غیب وہ ہوتا ہے جو بغیر کسی سبب کے
جانا جائے اور جو جانتا ہو وہ عالم الغیب ہوتا ہے، یہ شان صرف اللہ تعالیٰ کی ہے
جو بغیر کسی کے بتائے جانتا ہے ، بغیر کسی کے دکھائے دیکھتا ہے، کسی معاملے میں
کسی کا محتاج نہیں، ہر چیز کو ہر وقت ہر آن جانتا ہے، یہ صرف اللہ کی خصوصیت ہے۔انبیاء
علیہم السلام کو اللہ کے مقرب بندوں کو علوم عطا کیے جاتے ہیں ۔اب جس کی خبر دی
جائے، بتایا جائے وہ غیب نہیں رہتا،بتانے والے نے بتا دیا تو غیب ختم ہو گیا ۔ ہاں
آپ کہ دیں کہ اس بندے کو اللہ تعالیٰ نے غیب پر مطلع کر دیا یا غیب کی خبر دے دی تو قہ انبیاء علیہم السلام
کی شان ہے کہ بے شمار ایسے غیب ہیں جو انبیاء اور رسولوں کو بتائے جاتے ہیں۔
وَمَا كَانَ اللَّهُ
لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَجْتَبِي مِنْ رُسُلِهِ مَنْ
يَشَاءُ سورۃ آل عمران-179
لوگو! اللہ کی شان اس سے بلند ہے کہ تم سب کو غیب پر اطلاع دے لیکن اللہ
تعالیٰ اپنے رسولوں میں سے جسے چاہیں منتخب فرما لیتے ہیں۔
یعنی انبیاء علیہم السلام
کو ، اپنے رسولوں کو ، اور یہ بات طے شدہ بات ہے کہ تمام انبیاء علیہم الصلوۃ
والسلام کو جتنے ضروری علوم دیئے گئے ان سب سے زیادہ علوم آقائے نامدار حضرت محمد
ﷺ کو عطا فرمائے۔ ہر نبی کو اس کی اپنی ضرورت اور اس کی اپنی امت کی ضرورت کے مطابق احکامِ شریعت اور دنیا و آخرت کے علوم
عطا فرمائے گئے۔ نبی کریم ﷺ چونکہ سارے انبیاء کے بھی نبی ہیں۔ ساری امتوں کے بھی
ان انبیاء کے واسطے سے نبی ہیں۔امام الانبیاء ہیں اور بعثت سے ہمیشہ کےلئے آپ کی
نبوت جاری و ساری ہے تو ان ساروں زمانوں میں جو ہونا چاہئے تھا ،جو درست ہے ،جو
غلط ہے وہ سارے علوم نبی کریم ﷺ کو عطا فرمائے گئے۔ لیکن وہ علم غیب نہیں ہے وہ
اطلاع علی الغیب ہے، غیب پر مطلع فرما دیا گیا۔
یہ بحث فضول ہے کہ علم ِ
غیب کسے ہوتا ہے؟ علمِ غیب خاصہ ہے اللہ
تعالیٰ کا ۔ وہ بغیر کسی کے بتائے، بغیر کسی ذریعے کے، بغیر کسی واسطے کے جانتا ہے
اور جو غیب نبی جانتے ہیں وہ اطلاع علی الغیب ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں غیب پر
مطلع فرما دیتا ہے ۔ انبیاء علیہم السلام کو ،اولیاء کرام کو مطلع فرما دیتا ہے اس
کی اپنی مرضی جسے چاہے عطا فرما دے جسے چاہے بتا دے۔
اللہ
تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم
رہنے کی توفیق و ہمت عطا فرمائے۔
آمین
یا رب العالمین
دعاؤں کا طالب
ابو محمد زبیر اویسی
.jpg)










0 Comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔