اہل اللہ کا طریقہ اصلاح

0 Comments


قرآن کریم کتابِ ہدایت ہے اور جو کچھ بیان فرماتا ہے یہ اس لیے بیان فرماتا ہے کہ ایک آئینہ ہمارے سامنے آجائے اور اس میں ہم اپنے آپ کو تلاش کر سکیں کہ میں کہاں ہوں۔ہماری مصیبت یہ ہے کہ ہم دوسروں کو تلاش کرتے رہتے ہیں کہ وہ کتنا نیک ہے، کتنا پارسا ہے  حالانکہ دوسروں کی باری بعد میں آتی ہے، پہلے ہر فرد کو اپنی ذات کو تلاش کرنا چاہئے۔ چونکہ آپ کی طرف سے جواب میں نہیں دوں گا، میری طرف سے آپ نہیں دیں گے لیکن مجھے اپنا جواب تو دینا ہو گا۔ میں خود کہاں ہوں اللہ کی بارگاہ میں میرا کتنا خلوص ہے، نبی کریم ﷺ کے ساتھ میں کس حد تک مخلص ہوں؟

اللہ علماء کی برکات سے ہمیں مستفید فرماتا رہے۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ علماءِ ظواہر الحمدللہ، ساری عمر محنت کرتے ہیں، سیکھتے ہیں، ہمیں سکھاتے ہیں، سمجھاتے ہیں،بتاتے ہیں، لیکن ان کی ساری کاوش ہمارے دماغ تک ہوتی ہے، ہماری عقل تک ہوتی ہے،ان کے دلائل ہمارے دماغ کو ، ہماری عقل کو قائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ایک طبقہ جو اہل اللہ اور صوفیاء کا ہے، ان کا طریق مختلف ہے۔ وہ براہِ راست قلب سے بات کرتے ہیں اور شروع ہی اس بات سے کرتے ہیں کہ قلب ذاکر ہو جائے۔ دیکھا یہ گیا ہے کہ ان کی مجلس میں کوئی روک ٹوک، کوئی تنقید نہیں ہوتی لیکن اس کے باوجود جب قلب ذاکر ہو جاتا ہے تو بندے کو خود فکر ہوتی ہے کہ میں کہاں کہاں غلطی کرتا ہوں اور مجھے کن کن باتوں کو چھوڑنا ہے، کن کن کو اختیار کرنا ہے، اپنی اصلاح بندہ خود کرتا چلا جاتا ہے۔ یعنی ان کا طریق یہ ہے کہ وہ بات ہی قلب سے شروع کرتے ہیں اور جب قلب سدھرنا شروع ہوتا ہے تو باقی سارے امور از خود سدھرتے چلے جاتے ہیں۔ یہ اللہ کریم کا احسان  ہے کہ وہ قلوب کی بیماریوں سے نجات اور ایمان و یقین کی دولت سے سرفراز فرمائے۔زندگی بالکل عارضی ہے۔ہمارے سامنے ہزاروں لوگ روز اس جہان سے جاتے ہیں اور ان سے زیادہ اس جہان میں آتے ہیں، ہم بھی ان میں سے ایک ہیں۔ ہمارے پاس بھی دوسرا سانس آنے کی کوئی سند نہیں۔ ایمان و یقین وہ دولت ہے جو موت سے ڈرنے کے بجائے موت کو بھی محبوب بنا دیتی ہے۔ آدمی اس حادثے کے لئے، اس طرف جانے کے لئے تیار ہوتا ہے، بلکہ صوفیاء کا قول تو یہ ہے کہ (الموت جسر،یوصل الحبیب الی الحبیب) موت تو وہ پل ہے، وہ دروازہ ہے،جو اللہ کی بارگاہ میں ، مطلوب کی بارگاہ میں طالب کو پہنچا دیتا ہے۔ اس کا مقصود ہی اللہ ہے۔ ساری زندگی وہ اس کی طلب میں لگا رہا، اس کے جمال کی طلب میں لگا رہا، اس کی اطاعت کرتا رہا ، اس لیے کہ اسے وصال الیٰ نصیب ہو ۔ تو موت ہی وہ پل ہے جو اسے اس پار پہنچا دیتا ہے۔ اس طرح گھبرانے یا ڈرنے کے بجائے موت بھی ایک محبوب منزل بن جاتی ہے۔


اقتباس از اکرم التفاسیر صفحہ نمبر 43

طریقہ ذکر پاس انفاس بطریق سلسلہ عالیہ نقشبندیہ اویسیہ

0 Comments

 

اس طریقہ کے مطابق  تیسرا کلمہ، دوسرا کلمہ ،استغفار،درود پاک،تعوذ اور تسمیہ پڑھنے کے بعد پہلا لطیفہ ربانی قلب پہ ذکر شروع کریں مشائخ ِ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ اویسیہ فرماتے ہیں  کہ افضل وقت تہجداور مغرب ہے لیکن کسی بھی وقت  اللہ کی رضا کی طلب کے ساتھ اس کو متواتر اختیار کریں باقی یہ خود آپ کو آپ کی کیفیت میں بتا دے گا۔


برکاتِ نبوت صلی اللہ علیہ وسلم اور ضرورتِ شیخ کامل

0 Comments

 

بنیادی طور پر علوم دینیہ کا شجر دو شاخوں پر مشتمل ہے۔علوم ظاہریہ اور علوم باطنیہ۔ علومِ ظاہریہ کو ظاہری شریعت یعنی قرآن و حدیث اور علومِ باطنیہ کو طریقت و تصوف یا مزید آسانی کے لئے آپ کہ سکتے ہیں تعلیماتِ نبوت اور برکات و کیفیاتِ نبوت صلی اللہ علیہ وسلم۔

تعلیماتِ نبوت علماءِ ظاہر سے اور برکاتِ نبوت علماءِ باطن سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔

میرے ناقص علم کے مطابق چودہ صدیوں میں یہ دونوں علومِ اسلامیہ یکجا رہے کوئی بھی عالمِ دین ایسا نہیں گزرا جس کے پاس یہ دونوں علومِ دینیہ نہ ہوں بظاہر اس کی وجہ شہرت جو بھی ہو مفسر،محدث،مؤرخ،جرنیل،بادشاہ وغیرہ کوئی بھی نہ تو ظاہری علوم سے لاعلم تھا اور نہ ہی کوئی غیر صوفی تھا۔

دور حاضر میں جہاں ایک طرف تو تصوف و طریقت کے نام پہ مختلف شعبدہ بازوں اور جعلی پیروں نے لوگوں کو گمراہ کیا دوسری طرف علومِ ظاہریہ کے حاملیں نے تصوف و طریقت یا تو بالکل غیر ضروری سمجھا اور چھوڑ دیا یا پھر سرے سے اس کا انکار کردیا بلکہ بعض نے تو اسے بدعت و خرافات تک کہا۔

میں سمجھتا ہوں جس طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے علومِ شریعت کے محافظ علماءِ دین کو بنایا اور علماءِ حق قیامت تک موجود رہیں گے اسی طرح علومِ طریقت یعنی کیفیات و برکاتِ نبوت کا حامل اہل اللہ کو بنایا اور یہ اہل اللہ،صوفیاء یا بزرگانِ دین بھی قیامت تک موجود رہیں گے۔

سابقہ جتنے صوفیاء کرام گزرے ان کی معرفت و برکات سے مزین کتابیں بھی ہم ان اہل اللہ کے بغیر ممکن نہیں کہ سمجھ سکیں یا شاید پھر ہمارے لیے وہ صرف واقعات و حالات کی کتابیں بن جائیں۔ ان تصنیفات میں اولیاء کرام نے واقعات و حالات ضرور بیان فرمائے لیکن اصل بات جو صوفیاء کرام کی کتب میں موجود ہے وہ کیفیات ہیں۔ اور کیفیات چونکہ صفتِ لطیف رکھتی ہیں اس لئے ان کو حواسِ خمسہ کے ذریعہ سے سمجھا بھی نہیں جا سکتا۔اس کی لئے روحانی لطافت کی ضرورت ہوتی ہے۔اور روحانی لطافت ہمیں کسی اہل اللہ، کسی صوفی،کسی شیخ یا مرشد کی صحبت و خدمت میں رہنے سے حاصل ہو گی۔

ابو محمد زبیر اویسی

اصلاحِ قلب اور ضرورتِ شیخ

0 Comments

بنیادی طور پر علوم دینیہ کا شجر دو شاخوں پر مشتمل ہے۔علوم ظاہریہ اور علوم باطنیہ۔ علومِ ظاہریہ کو ظاہری شریعت یعنی قرآن و حدیث اور علومِ باطنیہ کو طریقت و تصوف یا مزید آسانی کے لئے آپ کہ سکتے ہیں تعلیماتِ نبوت اور برکات و کیفیاتِ نبوت صلی اللہ علیہ وسلم۔

تعلیماتِ نبوت علماءِ ظاہر سے اور برکاتِ نبوت علماءِ باطن سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔

میرے ناقص علم کے مطابق چودہ صدیوں میں یہ دونوں علومِ اسلامیہ یکجا رہے کوئی بھی عالمِ دین ایسا نہیں گزرا جس کے پاس یہ دونوں علومِ دینیہ نہ ہوں بظاہر اس کی وجہ شہرت جو بھی ہو مفسر،محدث،مؤرخ،جرنیل،بادشاہ وغیرہ کوئی بھی نہ تو ظاہری علوم سے لاعلم تھا اور نہ ہی کوئی غیر صوفی تھا۔

دور حاضر میں جہاں ایک طرف تو تصوف و طریقت کے نام پہ مختلف شعبدہ بازوں اور جعلی پیروں نے لوگوں کو گمراہ کیا دوسری طرف علومِ ظاہریہ کے حاملیں نے تصوف و طریقت یا تو بالکل غیر ضروری سمجھا اور چھوڑ دیا یا پھر سرے سے اس کا انکار کردیا بلکہ بعض نے تو اسے بدعت و خرافات تک کہا۔

میں سمجھتا ہوں جس طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے علومِ شریعت کے محافظ علماءِ دین کو بنایا اور علماءِ حق قیامت تک موجود رہیں گے اسی طرح علومِ طریقت یعنی کیفیات و برکاتِ نبوت کا حامل اہل اللہ کو بنایا اور یہ اہل اللہ،صوفیاء یا بزرگانِ دین بھی قیامت تک موجود رہیں گے۔

سابقہ جتنے صوفیاء کرام گزرے ان کی معرفت و برکات سے مزین کتابیں بھی ہم ان اہل اللہ کے بغیر ممکن نہیں کہ سمجھ سکیں یا شاید پھر ہمارے لیے وہ صرف واقعات و حالات کی کتابیں بن جائیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ ان تصنیفات میں اولیاء کرام نے واقعات و حالات ضرور بیان فرمائے لیکن اصل بات جو صوفیاء کرام کی کتب میں موجود ہے وہ کیفیات ہیں۔ اور کیفیات چونکہ صفتِ لطیف رکھتی ہیں اس لئے ان کو حواسِ خمسہ کے ذریعہ سے سمجھا بھی نہیں جا سکتا۔اس کی لئے روحانی لطافت کی ضرورت ہوتی ہے۔اور روحانی لطافت ہمیں کسی اہل اللہ، کسی صوفی،کسی شیخ یا مرشد کی صحبت و خدمت میں رہنے سے حاصل ہو گی۔ 

مزید تفصیل کیلئے حضرت امیر محمد اکرم اعوان رحمۃاللہ تعالیٰ کی کتاب کا لنک نیچے دیا گیا ہے ضرور مطالعہ فرمائیں  علم وعمل میں برکت کا باعث ہو گا ۔انشاءاللہ

ڈاؤنلوڈ کیلئے کتاب کی سرِورق  پہ کلک کریں


دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی