قرآن کریم کتابِ ہدایت ہے اور جو کچھ بیان فرماتا ہے یہ اس لیے بیان فرماتا ہے کہ ایک آئینہ ہمارے سامنے آجائے اور اس میں ہم اپنے آپ کو تلاش کر سکیں کہ میں کہاں ہوں۔ہماری مصیبت یہ ہے کہ ہم دوسروں کو تلاش کرتے رہتے ہیں کہ وہ کتنا نیک ہے، کتنا پارسا ہے حالانکہ دوسروں کی باری بعد میں آتی ہے، پہلے ہر فرد کو اپنی ذات کو تلاش کرنا چاہئے۔ چونکہ آپ کی طرف سے جواب میں نہیں دوں گا، میری طرف سے آپ نہیں دیں گے لیکن مجھے اپنا جواب تو دینا ہو گا۔ میں خود کہاں ہوں اللہ کی بارگاہ میں میرا کتنا خلوص ہے، نبی کریم ﷺ کے ساتھ میں کس حد تک مخلص ہوں؟
اللہ علماء کی برکات سے ہمیں مستفید فرماتا رہے۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ علماءِ
ظواہر الحمدللہ، ساری عمر محنت کرتے ہیں، سیکھتے ہیں، ہمیں سکھاتے ہیں، سمجھاتے ہیں،بتاتے
ہیں، لیکن ان کی ساری کاوش ہمارے دماغ تک ہوتی ہے، ہماری عقل تک ہوتی ہے،ان کے
دلائل ہمارے دماغ کو ، ہماری عقل کو قائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ایک طبقہ جو
اہل اللہ اور صوفیاء کا ہے، ان کا طریق مختلف ہے۔ وہ براہِ راست قلب سے بات کرتے
ہیں اور شروع ہی اس بات سے کرتے ہیں کہ قلب ذاکر ہو جائے۔ دیکھا یہ گیا ہے کہ ان
کی مجلس میں کوئی روک ٹوک، کوئی تنقید نہیں ہوتی لیکن اس کے باوجود جب قلب ذاکر ہو
جاتا ہے تو بندے کو خود فکر ہوتی ہے کہ میں کہاں کہاں غلطی کرتا ہوں اور مجھے کن
کن باتوں کو چھوڑنا ہے، کن کن کو اختیار کرنا ہے، اپنی اصلاح بندہ خود کرتا چلا
جاتا ہے۔ یعنی ان کا طریق یہ ہے کہ وہ بات ہی قلب سے شروع کرتے ہیں اور جب قلب
سدھرنا شروع ہوتا ہے تو باقی سارے امور از خود سدھرتے چلے جاتے ہیں۔ یہ اللہ کریم
کا احسان ہے کہ وہ قلوب کی بیماریوں سے
نجات اور ایمان و یقین کی دولت سے سرفراز فرمائے۔زندگی بالکل عارضی ہے۔ہمارے سامنے
ہزاروں لوگ روز اس جہان سے جاتے ہیں اور ان سے زیادہ اس جہان میں آتے ہیں، ہم بھی
ان میں سے ایک ہیں۔ ہمارے پاس بھی دوسرا سانس آنے کی کوئی سند نہیں۔ ایمان و یقین
وہ دولت ہے جو موت سے ڈرنے کے بجائے موت کو بھی محبوب بنا دیتی ہے۔ آدمی اس حادثے
کے لئے، اس طرف جانے کے لئے تیار ہوتا ہے، بلکہ صوفیاء کا قول تو یہ ہے کہ (الموت
جسر،یوصل الحبیب الی الحبیب) موت تو وہ پل ہے، وہ دروازہ ہے،جو اللہ کی بارگاہ میں
، مطلوب کی بارگاہ میں طالب کو پہنچا دیتا ہے۔ اس کا مقصود ہی اللہ ہے۔ ساری زندگی
وہ اس کی طلب میں لگا رہا، اس کے جمال کی طلب میں لگا رہا، اس کی اطاعت کرتا رہا ،
اس لیے کہ اسے وصال الیٰ نصیب ہو ۔ تو موت ہی وہ پل ہے جو اسے اس پار پہنچا دیتا
ہے۔ اس طرح گھبرانے یا ڈرنے کے بجائے موت بھی ایک محبوب منزل بن جاتی ہے۔
اقتباس از اکرم التفاسیر صفحہ نمبر 43

