بنیادی طور پر علوم دینیہ کا شجر دو شاخوں پر مشتمل
ہے۔علوم ظاہریہ اور علوم باطنیہ۔ علومِ ظاہریہ کو ظاہری شریعت یعنی قرآن و حدیث
اور علومِ باطنیہ کو طریقت و تصوف یا مزید آسانی کے لئے آپ کہ سکتے ہیں تعلیماتِ
نبوت اور برکات و کیفیاتِ نبوت صلی اللہ علیہ وسلم۔
تعلیماتِ نبوت علماءِ ظاہر سے اور برکاتِ نبوت علماءِ
باطن سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔
میرے ناقص علم کے مطابق چودہ صدیوں میں یہ دونوں
علومِ اسلامیہ یکجا رہے کوئی بھی عالمِ دین ایسا نہیں گزرا جس کے پاس یہ دونوں
علومِ دینیہ نہ ہوں بظاہر اس کی وجہ شہرت جو بھی ہو مفسر،محدث،مؤرخ،جرنیل،بادشاہ
وغیرہ کوئی بھی نہ تو ظاہری علوم سے لاعلم تھا اور نہ ہی کوئی غیر صوفی تھا۔
دور حاضر میں جہاں ایک طرف تو تصوف و طریقت کے نام پہ
مختلف شعبدہ بازوں اور جعلی پیروں نے لوگوں کو گمراہ کیا دوسری طرف علومِ ظاہریہ
کے حاملیں نے تصوف و طریقت یا تو بالکل غیر ضروری سمجھا اور چھوڑ دیا یا پھر سرے
سے اس کا انکار کردیا بلکہ بعض نے تو اسے بدعت و خرافات تک کہا۔
میں سمجھتا ہوں جس طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے علومِ شریعت
کے محافظ علماءِ دین کو بنایا اور علماءِ حق قیامت تک موجود رہیں گے اسی طرح علومِ
طریقت یعنی کیفیات و برکاتِ نبوت کا حامل اہل اللہ کو بنایا اور یہ اہل اللہ،صوفیاء
یا بزرگانِ دین بھی قیامت تک موجود رہیں گے۔
سابقہ جتنے صوفیاء کرام گزرے ان کی معرفت و برکات سے مزین کتابیں بھی ہم ان اہل اللہ کے بغیر ممکن نہیں کہ سمجھ سکیں یا شاید پھر ہمارے لیے وہ صرف واقعات و حالات کی کتابیں بن جائیں۔ ان تصنیفات میں اولیاء کرام نے واقعات و حالات ضرور بیان فرمائے لیکن اصل بات جو صوفیاء کرام کی کتب میں موجود ہے وہ کیفیات ہیں۔ اور کیفیات چونکہ صفتِ لطیف رکھتی ہیں اس لئے ان کو حواسِ خمسہ کے ذریعہ سے سمجھا بھی نہیں جا سکتا۔اس کی لئے روحانی لطافت کی ضرورت ہوتی ہے۔اور روحانی لطافت ہمیں کسی اہل اللہ، کسی صوفی،کسی شیخ یا مرشد کی صحبت و خدمت میں رہنے سے حاصل ہو گی۔
ابو محمد زبیر اویسی










0 Comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔