دوسرا لطیفہ،روح - کنوزِ دل شرح رموزِ دل تصنیفِ لطیف حضرت مولانا محمد اکرم اعوانؒ - سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ

0 Comments

 اسے لطیفہ روح کہتے ہیں اور یہ قلب کے مقابل دائیں طرف ہے۔اس پر دو اولوالعزم رسولوں کے انوارات آتے ہیں۔یہ انوارات دوسرے آسمان سے آتے ہیں۔ان کا رنگ سنہری مائل سرخ ہوتا ہے۔یہی مقام ہے جہاں سے فرشتہ روح قبض کرتا ہے۔مراقبہ موتو اقبل ان تموتو کرایا جائے تو سالک قبض روح کی حالت کا مشاہدہ کر سکتا ہے۔جن دو ہستیوں کے انوارات اس پہ آتے ہیں ان میں پہلے حضرت نوح علیہ الصلوٰۃ و  السلام ہیں اور دوسرے حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ و السلام۔ ان دونوں حضرات کے حالات مبارکہ میں تقریباً  یک رنگی ہے کہ نوح علیہ السلام نے نو سو پچاس برس تبلیغ کی دراں حالیکہ ان کی قوم بہت بگڑ چکی تھی اور اتنے طویل عرصے کی محنت کے باوجود  ایمان والے مرد وزن کی تعداد تقریبا اسی(80) کے قریب تھی۔کتنا کٹھن اور بے مثال مجاہدہ تھا اور کیا استقلال تھا آپ کی تبلیغ میں۔ان کی قوم کے بگاڑ کا ایک سبب ان کی مادی ترقی بھی تھی کہ انھوں نے اس دور میں ایسی ایجادات کر لیں جو آج تک، اتنی مادی ترقی کے باوجود نہیں ہو سکیں مثلاً انھوں نے ایک ایسا محلول تیار کر لیا تھا جو اگر سنگ مرمر جیسے سخت پتھر پر ڈالا جاتا تو وہ موم ہو جاتا۔جو مختلف شکلوں میں ڈھالا جاتا اور پھر سخت ہو جاتا۔مگر اس میں یہ خصوصیت پیدا ہو جاتی کہ دن میں سورج کی روشنی جذب کرتا اور ساری رات روشن رہتا۔چنانچہ گھروں،گلیوں اور راستوں پہ انھیں نصب کر دیا جاتا تھا اور وہ رات بھر روشن رہتے تھے۔مغربی محققین کو کھدائی میں کہیں ایک بوتل ہاتھ لگ گئی تھی۔جس سے انہوں نے تجربہ تو کر لیا مگر بوتل گر کر ٹوٹ گئی لہٰذا اس کے اجزاء کا پتہ نہ چل سکا۔اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے باغات،ذرائع آب رسانی،فصلیں اور طرز رہائش کس قدر ترقی یافتہ ہوں گے۔

چنانچہ عہد حاضر کی طرح انہوں نے عظمتِ الٰہی کو فراموش کر دیا اور تعلیماتِ نبوت کو ناقابلِ عمل قرار دیا جس کے نتیجے میں طوفان برپا ہوا اور سوائے ایمان لانے والوں کے سب غرق ہو گئے۔حضرت نوح  ؑ   کا ایک سگا بیٹا بھی غرق ہونے والوں میں تھا۔بلکہ سورۃ ھود میں جو ارشاد ہے: يَا أَرْضُ ابْلَعِي مَاءَكِ وَيَا سَمَاءُ أَقْلِعِي کہ اے زمین پانی جذب کر لے اور آسمان  برسنا روک دے تو جہاں پانی جذب ہوا میری سمجھ کے مطابق وہی جگہ برموداٹرائی اینگل((Bermuda triangleہے کہ جس  کی زدمیں آج بھی کوئی شے آتی ہے زمین کی تہوں میں اتر جاتی ہے۔وہ بحری جہاز ہو یا ہوائی جہاز،پھر اس کا کوئی نشان نہیں ملتا۔

 چنانچہ آپ کی کشتی کوہ جودی پہ رکی اور آپ علیہ السلام نے پھر اسی محنت اورجذبے سے دنیا آباد کی اور آدمِ ثانی کہلائے استقامت،عقیدے اور اعمال میں،اور اسی بنیاد پر پھر انسانیت کی آبیاری فرمائی۔

لہذا ان برکات کا پر تو جب سالک پر وارد ہوتا ہے تو عقیدے کی اصلاح،استقامت اور دنیا میں حق پر عمل اور اس کی اشاعت میں پامردی جیسے اوصاف نصیب ہوتے ہیں۔حق کی اشاعت میں تائیدِ  باری نصیب ہوتی ہے۔نیز باطل قوتوں کے خلاف دعا قبول ہو کر امدادِ غیبی کا سبب بنتی ہیں۔اسی دوسرے لطیفے یعنی  لطیفہ روح پر دوسرے انوارات حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ہوتے ہیں جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ دونوں حضرات کے انوارات مل کر سرخی مائل سنہری نظر آتے ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی اولوالعزم رسول ہیں۔بچپن میں گھر سے ابتدا ہوئی تو خود والد سے اختلاف ہوا کہ ان کے والد شاہی بت کدہ کے لیے بت بنایا کرتے تھے۔عموما لوگ اپنے بڑوں  کی پیروی کرتے ہیں مگر انبیاء علیہم السلام صرف اللہ کے حکم کی اطاعت کرتے ہیں جو انھیں وحی الٰہی سے نصیب ہوتا ہے۔پھر معاشرے سے ٹکر ہوئی۔جب آپؑ نے بت کدہ کے بت توڑ دیے اور بات بادشاہ تک پہنچی،دربار شاہی میں بات ہوئی،آپ نے بادشاہ کو لاجواب کر دیا تو اس نے جھلا کر آپ کو آگ میں ڈالنے کا حکم دیا۔ مگر اللہ نے آگ کو حکم دیا کہ تو بے شک آگ ہے،جلانا تیرا کام ہے،مگر تو آگ ہی رہ کر میرے خلیل کے لیے بادِ بہاری بن جا۔ یہ جو کہا جاتا ہے کہ آگ گلزار ہو گئی،یہ بات قرآن کے ارشاد کے مطابق سمجھ نہیں آتی کہ وہاں گلزار بننے کا حکم نہیں۔بلکہ فرمایا:  يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَى إِبْرَاهِيمَ کہ اے آگ جلانا چھوڑ کر میرے خلیل کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی کا باعث بن جا۔لہٰذا آگ لکڑیاں کو تو جلاتی رہی مگر خلیل اللہ علیہ السلام کے لیے بہار ساماں ہو گئی۔

پھر آپؑ نے ہجرت کی اور بے شمار مشکلات کا سامنا استقامت سے فرمایا۔پھر بڑھاپے میں حضرت اسماعیل علیہ السلام جیسے فرزند سے نوازا تو اہلیہ محترمہ اور بچے کو بیت اللہ شریف کے مقام پر چھوڑنے کا حکم ہوا۔ چنانچہ مائی صاحبہ کا صبر،پھر پانی کی تلاش،زمزم کا نکلنا اور پھر حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی،غرض ایک مسلسل مجاہدہ، ایثار اور صبرواستقامت کی داستان ہے۔ جس میں قدم قدم پر رحمتِ باری تعالیٰ لپک لپک کر ہاتھ تھام لیتی ہے۔ایک عجیب داستان ہےجسے عشق کی نگاہ سے دیکھا جا سکتا ہے ورنہ مادی نگاہ کی ان جذبات و  کیفیات تک رسائی نہیں۔

چنانچہ سالک کو بھی ان تمام کمالات کا عکس نصیب ہوتا ہے اور وہ اپنی حیثیت کے مطابق ان سے حصہ پاتا ہے۔ یاد رہے! اس کے لیے صدق ِدل،خلوصِ نیت اور مجاہدہ شرط ہے ان برکات کو جاننے والے ہی جان سکتے ہیں۔اس طرح آج تک  قلمبند نہیں ہوئے۔ نہ جانے بندہ فقیر نے یہ جراءت کیوں کی؟ شاید زمانہ صرف مادی کمالات میں کھو گیا تو اللہ کریم کو منظور ہوا کہ اصل کمالاتِ انسانی کیا ہیں؟اور کیسے حاصل ہوتے ہیں؟ان سے بھی عامتہ الناس کو آگاہی ہو اور اس نے فقیر کو توفیق بخشی اور ان شاءاللہ یہ دنیا میں پھیلے گا اور طالبان حق کی راہنمائی ضرور کرے گا۔ہاں دیکھنے کی بات یہ ہے کہ جسے نصیب ہوا س میں کیا تبدیلی آتی ہیں؟یہ وہ خود ہی بہتر جان سکتا ہے۔ کہ ہر شخص کا حال مختلف ہوتا ہے اور مجبوریاں بھی الگ الگ ہوتی ہیں۔لہٰذا نتائج بھی الگ الگ مرتب ہوتے ہیں۔ہاں یہ بات یقینی ہے کہ فائدہ ہر فرد کو ہوتا ہے کہ یہ برکات اور انوارات کبھی بے نتیجہ نہیں رہتے بھلا اللہ کریم کا نام ہو اور آقائے نا مدادﷺ کے قلبِ اطہر کی برکات ہوں تو بے نتیجہ تو ہر گز نہیں رہ سکتیں۔ ہاں ہر فرد کی فیض کو قبول کرنے کی استعداد مختلف ہوتی ہے۔لہذا نتائج افراد کی استعداد کے مطابق مرتب ہوتے ہیں اور آخرت کا یقین اس حد تک نصیب ہوتا ہے جسے علما استخصار فرماتے ہیں یعنی آخرت کی حقیقتیں جیسے سامنے نظر آتی ہیں۔ یہ نعمت انسانی زندگی کو سنوارنے کا سب سے موثر اور اعلیٰ سبب بنتی ہے۔

0 Comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔