اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ،
وَالصَّلاۃُ
والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ
مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔
رَبِّ اشْرَحْ لِیْ
صَدْرِیْ ۙوَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙوَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: قُلْنَا اهْبِطُوا
مِنْهَا جَمِيعًا فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ مِنِّي هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ
فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ(38)وَالَّذِينَ كَفَرُوا
وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ)39(
ہم نے فرمایا تم سب یہاں سے نیچے چلے جاؤ پھر جب
تمہارے پاس میری طرف سے راہنمائی پہنچے تو جو میری راہنمائی کی پیروی کریں گے تو
ان کو کوئی ڈر ہو گا اور نہ وہ افسوس کریں گے(38) اور جنہوں نے ہماری آیات کا نکار
کیا اور جھٹلایا وہ دوزخ میں رہنے والے ہیں (اور) وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے(39)
حضرت آدم علیہ السلام کا
جنت سے زمین پہ بھیجا جانا پہلے بھی بیان ہوا یہاں اس کی دوبارہ تکرار آئی ۔تکرار
یعنی دوبارہ فرمایا جانا اِهْبِطُوا کیوجہ
یہ ہے کہ سابقہ آیات میں جب فرمایا گیا اِهْبِطُوا
تو فرمایا کہ تم یہاں سے چلے جاؤ تم میں سے
بعض بعض کے دشمن ہو جبکہ
یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ تم سب یہاں سے چلے جاؤ پھر جب تمہارے پاس میری طرف سے
راہنمائی پہنچے تو جو میری راہنمائی کی پیروی کریں گے تو ان کو کوئی ڈر ہو گا اور
نہ وہ افسوس کریں گے۔
یعنی سابقہ آیات میں حضرت
آدم علیہ السلام کے زمین پہ اترنے کے بعد شر کا بیان ہوا دشمنی کا ذکر تھا جو نسلِ
بنی آدم ؑ میں موجود ہے یعنی کچھ کچھ کے دشمن ہیں جس کی ابتدا آدم ؑ کی اولاد سے
ہی شروع ہو گئی اور قابیل نے ہابیل کو قتل کر دیا
جبکہ اس آیتِ کریمہ میں خیر کا معاملہ بیان ہو اہے کہ تمہارے زمین پہ جانے کے بعد اللہ تبارک و
تعالیٰ تمہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے تم شیطان کے ہاتھوں میں نہیں ہو گے بلکہ اللہ
تعالیٰ تمہاری طرف ہدایت بھیجے گا ، تمہارے پاس اس کے انبیاء آئیں گے ، تمہاری
راہنمائی کیلئے الہامی کتابیں ہوں گی۔ تو جو کوئی انبیاء علیہم السلام کے ذریعے سے
، میری بھیجی گئی راہنمائی کو قبول کرے گا ، اس کے مطابق اپنی زندگی بسر کرے
گا تو اس پہ دو قسم کے انعامات ہوں گے ،
اسے نہ تو ڈر ہو گا اور نہ ہی پشیمانی و افسوس۔
ڈر ہوتا ہے مستقبل کا ،
آئندہ پیش آنے والے حالات کا اگلی زندگی کا
جبکہ افسوس ہوتا ہے ماضی کا ، سابقہ گزرے معاملات کا، پچھلی زندگی جو گزاری
جا چکی ہو اس کا ۔ ان کی آنے والی زندگی جنت کی صورت میں ہو گی انہیں کسی باز پرس
،کسی سختی اور کسی عذاب کا کوئی ڈر یا خوف
نہیں ہو گا اور اس کی وجہ یہ ہو گی کہ انہوں نے دنیا کی زندگی میری فرمانبرداری
میں ، میری بھیجی گئی راہنمائی کے مطابق گزاری ہو گی ، تو جب انہوں نے اپنی دنیاوی
زندگی میرے احکامات کے تحت گزاری ہو گی تو
انہیں اپنی اس گزری زندگی کا کوئی افسوس نہیں ہو گا ، گزرے لمحات پہ کوئی پشیمانی
یا شرمندگی نہیں ہو گی۔
یہاں ایک اور بات کی
وضاحت ضروری ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کے جنت سے زمین پہ آنے کے معاملے کو اکثر
کم علم گستاخانہ انداز میں بیان کرتے ہیں کہ شاید نعوذباللہ آدم علیہ السلام جنت
سے رسوا کر کے نکالے گئے تھے۔اس پہ مرزا غالب کا شعر بھی ہے۔
نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے تھے لیکن
بہت بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم
نکلے
قاسمِ فیوضات حضرت مولانا
محمد اکرم اعوان رحمتہ اللہ علیہ اکرم التفاسیر میں فرماتے ہیں کہ ان کے نزدیک
شاید یہ بے آبرو ہو کر نکلنا تھا، لیکن ایسی بات نہیں ہے۔ بنی اسرائیل نے جب کہاکہ
ہم من و سلویٰ کھاتے کھاتے تھک چکے ہیں، ہمیں کوئی دال ،پیاز، تھوم وغیرہ ملے تو
فرمایا: اِهْبِطُوْا مِصْرًا فَاِنَّ لَكُمْ مَّا
سَاَلْتُمْؕ کسی شہر میں اترو وہاں یہ چیزیں تمہیں
مل جائیں گی پہلے تو جنگل میں تھے حکم ہوا اِهْبِطُوْا
مِصْرًا کسی شہر میں اترو۔ اب اِهْبِطُوْا
سے
یہ مراد لینا کہ کسی کو رسوا کر کے نکال دیا گیا ہے ، صریحاً غلط ہے۔ یہ ایسے ہی
کہ کسی کو کہا جائے کہ آپ یہاں کیوں پانی ڈھونڈ رہے ہیں یہاں تو مشکل ہے اس گاؤں
میں چلے جاؤ وہاں مل جائے گا۔ اب اس میں ایسی کونسی توہین آمیز بات آگئی، قرآن نے
خود استعمال فرمایا اِهْبِطُوْا
مِصْرًا کسی شہر میں اترو۔ لہٰذا
یہ تصور کہ آدم ؑ کو بڑا رسوا کر کے نکالا گیا ، سراسر ظلم ، زیادتی اور جہالت ہے۔
ہاں یہ فرمایا گیا کہ ا ب
یہاں آپؑ کا قیام مکمل ہو چکا ، یہاں آپؑ کو یہی دیکھنا تھاکہ کیسے رہنا ہے؟کیسے
کھانا پینا ہے؟ اور کس طرح شیطان سے بچنا ہے ؟ یہ دھوکے کس طرح دے گا؟ یہ سارا
تجربہ مکمل ہو چکا ، اب آپؑ زمین پہ تشریف لے جائیں جو آپؑ کے رہنے کہ جگہ ہے اور وہاں نیابتِ الٰہی کا حق ادا کریں ، میرے احکامات کو نافذ کریں اس کے بعد پھر آپ ؑ کو میرے پاس ہی آنا ہے ۔
ہاں میں آپؑ اور آپ ؑ کی نسل کو محروم
نہیں رکھوں گا ، میری طرف سے آپ کے پاس مسلسل ہدایات آتی رہیں گی۔
یہاں ایک اور نکتہ قابلِ
غور اور سمجھنے والا ہے کہ ظاہراً تو
معاملہ آدم ؑ کا بیان ہو رہا ہے لیکن مخاطبین تمام بنی نوعِ انسان یعنی
قیامت تک آنے والے افراد ہیں شاید اسی لئے
فرمایا: قُلْنَا اهْبِطُوا مِنْهَا جَمِيعًا تم
سب یہاں سے چلے جاؤ۔
یہ نہیں فرمایا کہ آدمؑ! آپؑ اور آپؑ کی زوجہ محترمہ دونوں بلکہ فرمایا
جَمِيعًا سب۔
یعنی تمہارے آنے والی نسلیں بھی اب زمین پر
ہی رہیں گی اور دارِ دنیا ہی ان کا امتحان گاہ ہو گا۔ جہاں میں ان کیلئے انبیاء و
رسل اور الہامی کتابوں کی صورت میں راہنمائی بھیجوں گا تو جس نے اسے قبول کیا وہ
نہ تو مستقبل کے معاملات سے ڈرے گا اور خوف کھائے گا اور نہ ہی اسے گزری دنیاوی زندگی پہ کوئی افسوس و غم ہو
گا یعنی وہ فلاح یافتہ ہو گا ، کامیاب ہو
چکا ہو گا، وہ بے خوف و خطر میرے حضور پیش ہو گا ، جہاں اسے میں جنت کی سی نعمت
اور اپنا دیدار کراؤں گا اور بیت ساری
دیگر نعمتیں ہوں گی ، ابد الآباد کی زندگی ہو گی۔
اب دوسرے گروہ کا معاملہ
بیان ہوا فرمایا گیا: وَالَّذِينَ كَفَرُوا جس
نے انکار کیا کہ میں نہیں مانتا۔ قاسمِ
فیوضات حضرت مولانا محمد اکرم اعوان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ میں نہیں مانتا ایسی بلا ہے کہ تکذیب تک
لیجاتی ہے۔ انکار یہ ہے کہ بات تو درست ہے لیکن میں نہیں مانتا جبکہ تکذیب یہ ہے
کہ یہ بات ہے ہی غلط، یہ بات ہی جھوٹی ہے۔ فرمایا کفر تکذیب تک لیجاتا ہے ۔
جس نے میری آیات کا نکار
کیا ، ان کو تسلیم نہیں کیا ، ان پہ عمل نہیں کیا ، میرے احکامات سے روگردانی کی
اور پھر اس کی یہ روگردانی اسے تکذیب تک لے گئی کہ وہ سرے سے اس بات کا نکاری ہو
گیا کہ نہ کوئی اللہ ہے، نہ کوئی اللہ کا
حکم، نہ رسول، نہ کتاب ، نہ آخرت۔ میں نہیں مانتا
تو أُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ یہ
لوگ دوزخ والے ہیں ۔ انہوں نے اپنے لئے دوزخ کی آگ کو چن لیا اور هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ وہ
اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
چونکہ انسان کی روح عالمِ
امر میں سے ہے اور عالمِ خلق کو فنا ہے
جبکہ عالمِ امر کو فنا نہیں ہے، اسے ہمیشہ رہنا ہے ۔ تو جو جنت میں ہو گا اسے بھی
ہمیشگی کی زندگی ملے گی اور جو جہنم میں ہو گا وہ بھی اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔
اللہ کرے کہ ہمارا قیام
یہاں بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہو ، بخیر و عافیت واپس جائیں اور بخیر و خوبی اپنے گھر پہنچیں جو جنت ہے۔
اللہ
تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم
رہنے کی توفیق و ہمت عطا فرمائے۔
آمین
یا رب العالمین
دعاؤں کا طالب
ابو محمد زبیر اویسی
.jpg)










0 Comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔