تفسیر سورۃ البقرہ - آیت نمبر 40 - اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو یاد کرنا - بندوں کا وعدہ اور اللہ کا وعدہ - صرف اللہ سے ڈرنے کا حقیقی مطلب

0 Comments

اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ ۙوَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙوَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: یٰبَنِيْٓ إِسْرَآئِيْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِيَ الَّتِيْۤ أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَأَوْفُوا بِعَهْدِيْۤ أُوفِ بِعَهْدِكُمْ وَإِيَّايَ فَارْهَبُوْنِ)40(

اے اولادِ یعقوب! جو احسانات میں نے تم پہ کیے وہ یاد کرو اور جو وعدہ تم نے مجھ سے کیا وہ پورا کرو میں نے جو وعدہ تم سے کیا ہے وہ پورا کروں گا  اور صرف مجھ سے ہی ڈرا کرو۔

سابقہ رکوع میں آدم علیہ السلام کی تخلیق کا معاملہ بیان ہوا، آدم علیہ السلام کی عظمت و بزرگی کا اقرار بذریعہ دلیل و ثبوت فرشتوں نے کیا جبکہ شیطان نے تکبر و غرور کیوجہ سے  انکار کیا اور مردود ٹھہرایا گیا۔ پھر آدم علیہ السلام کا جنت میں قیام اور شیطان کے بہکاوے میں آکر شجرِ ممنوعہ کا پھل کھانا اور  جنت سے زمین کی طرف بھیجا جانا، حقیقت میں یہ ایک سبب بھی تھا کیونکہ آپ ؑ کا ٹھکانہ تو جنت نہیں بلکہ زمین تھا  جہان انہیں نیابتِ الٰہی عطا کی گئی تھی دوسرا یہ درس دینا مقصود تھا کہ شیطان اب تمہارا واضح دشمن بن چکا ہے اس لیے اس سے بچنا ہو گا  اور اگر اس کے بہکاوے میں آگئے تو یہ نعمت سے محرومی کا سبب ہو گا۔  رکوع کی آخری  آیات میں یہ بھی تسلی دے دی گئی کہ یہ نہ سمجھنا کہ تمہیں زمین پہ بھیج کر میں تم کو اپنی ہدایت، رہنمائی اور اپنی ذات سے محروم کر دوں گا بلکہ تم تک میری رہنمائی پہنچتی رہے گی  اور جس نے میری ہدایت و رہنمائی کی پیروی کی اسے نہ تو گزرے وقت اور زندگی  کا کوئی غم یا افسوس ہو گا اور نہ ہی اسے میرے حضور پیش ہونے کا اور آخرت کا کوئی خوف ہو گا اور جنہوں  نے انکار کیا اور ان  کا انکار انہیں  تکذیب تک لے گیا تو ان کا ٹھکانہ جہنم کی آگ ہو گی جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔

سابقہ رکوع کی آخری آیتِ کریمہ میں جن لوگوں کا ذکر ہوا  اس  رکوع کی ابتدا میں انہوں  لوگوں میں سے ایک گروہ کو مخاطب کیا گیا۔ فرمایا یٰبَنِيْٓ إِسْرَآئِيْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِيَ الَّتِيْۤ أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ اے اولادِ یعقوب! جو احسانات میں نے تم پہ کیے وہ یاد کرو ۔

اسرائیل،  یعقوب بن اسحٰق بن ابراہیم ؑ کا لقب تھا۔ یہ عبرانی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ہوتا ہے اللہ کا بندہ، عبد اللہ۔ اس لقب کی وجہ سے اولادِ یعقوب کو بنی اسرائیل کہ کر مخاطب کیا گیا۔ انہیں دورِ حاضر میں یہود یا یہودی کہا جاتا ہے۔

اولادِ یعقوب پہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے بے شمار انعامات فرمائے۔ سب سے زیادہ انبیاء اس قوم کے پاس بھیجے، انہیں فرعون جیسے ظالم سے نجات دلائی، ان کے من و سلویٰ اتارا گیا، وہ جہاں جاتے بادل ان پہ سایہ کیے رکھتے، ان کیلئے پانیوں سے راستہ نکالا، اولادِ یعقوب ؑ کے بارہ قبائل کے لئے بارہ چشمے جارے فرمائے، گویا یہ تمام قوموں میں سے سب سے زیادہ لاڈلی قوم تھی۔ اس آیتِ کریمہ میں اولادِ یعقوب ؑ کو وہ نعمتیں یاد دلائی جا رہی ہیں۔ ان انعامات کو یاد دلانے کا مقصد یہ ہے کہ جب میں نے تم پہ اتنے انعامت کیے، تمہیں لاڈلی قوم کے طور پہ رکھا تو تم اپنا وعدہ پورا کرو اور جزا کے طور پہ میں تم سے کیا وعدہ پورا کروں گا ۔ ان کا وعدہ کیا تھا کہ ہم  تمہاری نافرمانی نہیں کریں گے، تیرا حکم بجا لائیں گے اور جس نبی آخرالزماں ﷺ کی  بشارتیں اور نشانیاں تورات میں بیان ہوئی ہیں  ا پہ ایمان لائیں گے  بلکہ صرف آپ ﷺ کی ہی نہیں  آپ ﷺ کے اصحاب کی بھی نشانیاں سابقہ کتب میں بیان ہوئیں ۔ اسی لئے تو بیت المقدس کی فتح کے موقع پہ یہ شرط رکھی گئی کہ امیر المومنین ہمارے سامنےآئیں تو ہم بیت المقدس بغیر جنگ کے حوالے کر دیں گے، اور جب یہ مان لیا گیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ وہاں پہنچے تو علماء یہود نے آپ کو پہچان لیا  اور بیت المقدس بغیر جنگ کیے حوالے کر دیا ۔

تو فرمایا: وَأَوْفُوا بِعَهْدِيْۤ أُوفِ بِعَهْدِكُمْ

 جو وعدہ تم نے مجھ سے کیا وہ پورا کرو  میں نے کجو وعدہ تم سے کیا ہے وہ پورا کروں گا۔

اللہ کا وعدہ کیا ہے کہ جو اس کی فرمانبرداری کرے گا  اسے نہ صرف دنیا میں عزت و عظمت سے نوازے گا  بلکہ آخرت میں بھی جنت کا حقدار ہو گا۔

اور  فرمایا وَإِيَّايَ فَارْهَبُوْنِ اور صرف مجھ سے ہی ڈرا کرو

یہود چونکہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے کو ، نیک لوگوں کو راہب کہتے تھے تو وہی لفظ یہاں استعمال فرمایا گیا ۔ یعنی تم جو اپنے اندر اپنی قوم کا ، اپنے قبیلے کا  ، لوگوں کا اور اپنے نفع و نقصان کا خوف اور ڈر بٹھائے بیٹھے ہو ، اس کو نکالو اور صرف مجھ سے ہی ڈرا کرو تاکہ تم اپنے وعدے کا پاس رکھ سکو اور اپنے وعدے کو پورا کر سکو۔

اس آیتِ کریمہ میں شانِ نزول کے اعتبار سے یہودِ مدینہ کو مخاطب فرمایا جا رہا ہے ، جو  انبیاء سابقہ کی تعلیمات، تورات و زبور کے احکامات کو پسِ پشت ڈال کر اور اللہ تبارک وتعالی سے کیے گئے وعدے کو بھلا کر نبی کریم ﷺ کی نبوت کا نکار کرتے رہے، لیکن عمومی طور پہ یہ حکم سب کے لیے  اور قرآن کے مخاطبین کسی خاص زمانے کے کوئی خاص لوگ نہیں بلکہ قرآن قیامت تک آنے والے لوگوں کیلئے رہنمائی  اور ہدایت کا سر چشمہ ہے۔ غور کرنے پہ پتہ چلتا ہے کہ ہمارا حال بھی کچھ خاص مختلف نہیں، اللہ تعالیٰ نے ہم پہ اتنا بڑا انعام فرمایا کہ ہمیں امتِ محمدیہ ﷺ میں پیدا فرمایا، شریعتِ مطہرہ نصیب فرمائی، قرآن ِ کریم جیسی عظیم کتاب سے نوازا، پھر پوری زندگی میں ہم پہ ہزاروں قسم کے انعامات فرما رہا ہے اور ہم  زبان سے کلمہ حق کا اقرار کرنے کے  باوجود ،اللہ اور اس کے رسول ﷺ پہ ایمان لانے کے باوجود، آخرت ، موت اور قبر کا علم رکھنے کے باوجود اللہ تعالی ٰ کے احکامات سے روگردانی کیے بیٹھے ہیں ، شریعتِ مطہرہ پہ چلنے کے بجائے خود کو رسومات و رواجات میں پھنسا رکھا ہے۔ لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ یعنی ہم اللہ کے سوا کسی کے آگے نہیں جھکیں گے اور زندگی محمد الرسول اللہ ﷺ کی سنت اور طریق پہ گزاریں گے۔ اس وعدے کو بھلائے بیٹھے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کے بجائے ناک کٹ جانے کا ڈر، لوگ کیا کہیں گے، برادری ناراض ہو جائے گی، شان میں فرق و کمی آجائے گی، دوست و احباب اور رفقاء برا منا جائیں گے۔ اس طرح کے بے شمار ڈر اور خوف دل میں بٹھائے بیٹھے ہیں ۔

اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی ناراضگی کی پرواہ نہیں کرتے اور غیر شرعی رواجات و بدعات کی پابندی کرتے ہیں کہ برادری ناراض نہ ہو جائے، کہیں ناک نہ کٹ جائے۔

قاسمِ فیوضات حضرت مولانا محمد اکرم اعوان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ ایسی ناک جو محمد الرسول اللہ ﷺ کی اطاعت سے کٹتی ہے  اس کا کٹ جانا ہی بہتر ہے ۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی

0 Comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔