یہ آدم علیہ السلام ہی ہے جنھوں نے زمین سے اگانا شروع کیں۔
جڑی بوٹیوں اور دھاتوں کا استعمال شروع فرمایا۔ تو سالک کو ان تمام امور کی
استعداد نصیب ہوتی ہے۔
تیسری بات یہ کہ اس عالم میں آپ سری لنکا کے پہاڑ پہ
اترے۔اماں حوا عرب میں تھیں۔آپ نے تین سو سال مجاہدہ کیا،سفر کیا، اللہ کریم سے رو
رو کر دعائیں کیں تو اس میں کتنی جسمانی
محنت،کتنی دماغی کاوش اور کتنا دردِ دل شامل ہوا۔آخر عرفات میں جبل ِ رحمت پہ
ملاقات ہوئی۔تو کیفیات سالک کو بھی استعداد اور طلب میں خلوص کے مطابق نصیب ہوتی
ہے۔وہ عبادات میں مجاہدہ کرنے والا،دنیا کے امور سے واقف اور مشکل ترین کام کرنے
کی ہمت پاتا ہے اور ان سب انوارت کے باوجود اس کا رابطہ رب کریم سے رہتا ہے۔مدد
بھی طلب کرتا ہے اور کمی یا کوتاہی پر بخشش بھی کہ انسان کا مزاج عجیب شے ہے،کبھی
اسے اپنی کاوش میں کامیابی نصیب ہوتی ہے تو تکبر کا شکار ہو جاتا ہے اور کہتا ہے
یہ میرا کمال ہے مگر جس کا قلب ذاکر ہو اللہ کریم کی طرف متوجہ ہو وہ اس مصیبت سے
محفوظ رہتا ہے اور کامیابی کو اللہ کریم کی عطا سمجھتا ہے اور اس کا شکر ادا کرتا
ہے۔نہ صرف کامیابی بلکہ محنت کرنے کا حوصلہ اور توفیق کو بھی اللہ کریم کی عطا
جانتا ہے اور اس میں مزید عجز اور انکسار پیدا ہوتا ہے۔
اسی طرح اگر ناکامی ہوتی ہے تو ردِعمل میں بیزاری کے ساتھ
ساتھ تقدیر کو اس کا ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش بھی کرتا ہے اور یوں تقدیر کے نام پر
دراصل اللہ پر الزام لگاتا ہے۔لیکن اگر قلب ذاکر ہو تو تاثر مختلف ہوتا ہے کہ اپنی
کوشش پر تو خوش ہوتا ہے اور پھر یہ سوچتا ہے کہ کہیں کوئی کمی مجھ سے ہی رہ گئی جو
مطلوبہ نتائج نہ مل سکے اور اگر کوشش بھی درست تھی تو یہ شے یا نتیجہ،اپنے نتیجہ
اور مال کے اعتبار سے یقینا میرے حق میں بہتر نہ تھا ۔جب بھی میرے مالک نے بدل
دیا۔
اسے یقین ہوتا ہے کہ کوشش اور محنت کا اجرا سے اللہ کریم سے
ضرور نصیب ہو گا۔لہذا ناکامی میں بھی ایک کامیابی نظر آتی ہے اور یوں کبھی مایوس
نہیں ہوتا،نہ اس کی آس
ٹوٹتی ہے۔وہ محنت ومشقت کو بھی اللہ کریم کی عطا جانتا ہے اور آرام وسکون کو بھی اس کی بخشش۔چنانچہ اس کی
زندگی پر سکون اور آرام دہ ہو جاتی ہے۔
جیسا کہ ارشاد ہے جنت میں کسی کو کوئی دکھ نہ ہو گا۔ اس بات
کا ہلکا سا شائبہ ذاکرین کی حیاتِ دنیا میں بھی موجود ہے۔ اس عالم کی زندگی بھی پر
لطف ہو جاتی ہے اور آخرت بھی سنور جاتی ہے۔
یوں صرف قلب کا ذاکر ہو جانا ایسا ہے جیسے ان بے شمار
نعمتوں کے دروازے اس پر کھول دیے گئے ہوں اور وہ ایک ایسے بڑے دربار میں پہنچ چکا
ہوجہاں ہر طرف ،ہر قسم کی نعمتیں اس کی منتظر ہوں۔دیکھیں کہ وہ اس میں کیا کیا
حاصل کرتا ہے۔
یہ صرف کہنے کی باتیں نہیں، کرنے کے کام ہیں کہ مشتِ غبار
میں وہ انوارات اثر پزیر ہوں جو اولوالعزم کے قلوب پہ وار ہوتے ہیں،تو وہ کیا
بن سکتے ہیں۔مزید بے شمار چیزیں ہوں گی جو
سب میں جانتا بھی نہیں اور یہاں لکھنا ممکن بھی نہیں۔











0 Comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔