کشف و مشاہدہ کی اقسام - نبی کے معجزے اور ولی کی کرامت کا فرق - کنوزِ دل شرح رموزِ دل تصنیفِ لطیف حضرت مولانا محمد اکرم اعوانؒ - سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ

0 Comments


 ویڈیو دیکھنے کیلئے لنک پہ کلک کریں

اول یہ ہے کہ اللہ کریم پردہ اورکوئی چیزواضح دکھائی دے اور سمجھ میں آجائے مگر یہ سب اللہ کریم کی عطا پر منحصر ہوتا ہے جو بات واضح فرمانا چاہے اُس کا احسان اور جب چاہےاس کا احسان اور جب چاہے،وہ کرے۔جیسے حضرت یعقوب ؑ سے حضرت یوسف ؑجدا  ہوئے اور انہیں خبر نہ ہو سکی مگر جب اللہ کریم نے بتانا  چاہا  تو  برسوں  بعد جب ان کی بھائیوں سے ملاقات ہوئی اور آپ نے کرتہ مبارک دیا کہ میرے والد گرامی کی آنکھوں پہ پھیرو،تندرست ہو جائیں گی اور قافلہ مصر سے نکلا  تو حضرت یعقوبؑ  نے  کنعان  میں فرمایا  آج  یوسف ؑ  کی خوشبو آ رہی  ہے، حالانکہ دونوں حضرات  اللہ کے  نبی  تھے  پھر  ولی  کی  کیا حیثیت؟

دوسرا  طریقہ  الہام والقاء  ہے یعنی  بات  دل  میں اتر  جاتی ہے  اور  اس پر  یقین  کامل  نصیب  ہوتا  ہے۔  جیسے موسیٰ  کی  والدہ  کو حکم دیا  کہ  بچے  کو  دریا  میں  ڈال  دو  فرمایا: وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى  یعنی  ہم  نے موسیٰ علیہ السلام  کی  والدہ سے بات کی۔یہ اسی طرح ہوتی ہے کہ ان کے دل میں بات  اتر گئی  اور انہیں  اس قدر یقین  ہوا کہ واقعی بچہ دریا میں ڈال دیا۔ مگر یہ صرف ان کے لیے تھا۔اگر بنی اسرائیل کی دوسری عورتیں ان کے وجدان  پر عمل کر کے بچے دریا میں ڈال دیتیں تو وہ غرق ہوجاتے۔ یہ قسم الہام یا  وجدان کہلاتی ہے۔ان تینوں صورتوں میں تھوڑا  فرق ہوتا  ہے۔ جو آزمایا  جا   سکتا  ہے،لکھنا  شاید ممکن  نہ ہو۔

تیسری قسم یہ ہے کہ فرشتہ ظاہر ہو کر بات کرے جیسے حضرت مریم علیہ السلام کا واقعہ کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام  ان پر انسانی شکل میں ظاہر ہوئے اور بات پہنچائی۔ یہ دونوں عظیم خواتین نبی  نہ تھیں۔ سو صوفی کے مشاہدے،کشف یا  الہام و القاء  اور وجدان کی یہ صورتیں دین پر یقین کو مستحکم کرتی  ہیں۔ کتاب وسنت کو سمجھنے کی توفیقِ عمل نصیب ہوتی ہے۔

لہٰذا یہ کہنا کہ صوفی نکمے  ہوتے ہیں،سخت غلط فہمی ہے۔یہ لوگ ہمیشہ بہت زیادہ کام کرتے ہیں کہ انھیں توفیقِ الٰہی نصیب ہوتی ہے۔ہاں نقالوں کی بات الگ ہے۔مگر ہمارے نام نہاد دانشور نقالوں کے قصّے لکھ کر دین کے اس اہم جزو کو بدنام کر کے مسلمانوں کو اس سے محروم کرنے کا سبب  بن  رہے ہیں۔العیاذ باللہ!

کشف ومشاہدہ  کا  ایک  درجہ اور ہےجس میں اشیاء یا بات  واضح نہیں ہوتی بلکہ تعبیر کی محتاج  ہوتی ہے اور ایسی  بات  یا مشاہدہ  جب  طالب ،شیخ  کو پیش  کرتا ہے تو  وہ  اسے تعبیر سے آگاہ  فرماتا  ہے۔ نیز یہ سب نبی کے معجزہ  کی فرع  ہوتی  ہے۔  جیسے نبی کو  نبوت کے ثبوت کے طور پر معجزات عطا  ہوتے  ہیں جو دلیلِ نبوت ہوتے ہیں۔ لہٰذا   ولی کو باتباعِ نبوت کرامات عطا  ہوتی   ہیں جو  دین  کے قیام  اور حق کے اثبات کے لیے  ظاہر ہوتی ہیں۔ جس طرح  نبی  کا  معجزہ  دلیل نبوت  ہوتا ہے ایسے ہی  ولی  کی  کرامت بھی  دین کی حقانیت  کی دلیل کے طور پر ظاہر ہوتی ہے۔ کسی فرد کی بڑائی مقصود نہیں  ہوتی اور کرامات بھی فعل اللہ تعالیٰ  کا  ہوتا  ہے تو  کرامت، فعل اللہ تعالیٰ  کا،اظہار  نبی  کے  ہاتھ  پہ  ہو تو  معجزہ کہلاتا  ہے۔

کرامت چونکہ معجزہ کی فرع ہے لہٰذا نبی کا اتباع ضروری  ہے  ورنہ  نصیب  نہ  ہو گی۔  نیز  کشف وکرامت  از قسم ثمر  ہیں اور ثمرات  ہمیشہ  وہبی  ہوتے  ہیں کہ اللہ کریم کی عطا  ہوتے  ہیں لہٰذا  بندے کی طلب کا نتیجہ نہیں ہوتے کہ  جب  چاہا  کرامت  کا اظہار کر دیا۔ ہاں جب  اللہ چاہے اس کا اظہار ہوتا ہے  اور چونکہ یہ ازقسم ثمرات ہیں لہٰذا  اخروی اجر کے قائم مقام ہوتی ہیں۔ حضرت جی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ جن سےکرامات کا ظہور ہوا  حشر کو خواہش کریں گے کہ کاش یہ نہ ہوا  ہوتا  تو  ہمارا  اجر اور زیادہ ہوتا۔ ہاں دنیا کے حصول یا اپنی  بڑائی  کے اظہار کے لیے کچھ لوگ عجائبات کا اظہار کرتے ہیں۔اول تو وہ شعبدہ ہوتا ہے  جو صرف ہاتھ کی صفائی  ہوتی ہے۔دوسرے استدراج  ہوتا ہے جو شیطانی قوت کے بل بوتے پر کیا جاتا ہے۔مگر وہ نہ تو بالائے آسمان کی بات ہوتی ہے،نہ برزخ کی۔ محض امور دنیا کے بارے وہ بھی اس حد تک جہاں تک مادی آلات کی رسائی  ہو سکتی ہے۔لیکن ان سب امور کو سمجھنے کے لیے توفیق الٰہی اور شعور و آگہی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جیسے نبی اکرمﷺ کا معجزہ کہ ابو جہل کی مٹھی میں کنکریوں نے کلمہ پڑھا اور بد بخت نے کہا کہ یہ جادو ہے۔اب بتایا یہ جاتا ہے کہ کنکریوں نے کلمہ پڑھا۔ یہ معجزہ ہے۔ حالانکہ بات اس سے بہت ہی بڑی ہے۔کنکر،پتھر،جمادات ونباتات  حتٰی کہ ذرہ ذرہ اللہ کی تسبیح کرتا ہے۔ جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَاِنْ مِّنْ شَىْءٍ اِلَّا يُسَبِّـحُ بِحَـمْدِهٖ  کائنات کی ہر چیز اللہ کی تسبیح اور حمد کرتی ہے۔تو پتھر،کنکر،پہاڑ،دریا ہر آن ذکر الٰہی میں مصروف ہیں۔ہمیں ادراک نہیں ہوتا۔ آپﷺ نے انسانی سماعتوں کو  اس وقت وہ لطافت عطا کر دی کہ انھیں کنکریوں کا ذکر سنائی دینے  لگا ادر یہ کمال  ہے کہ بد ترین کفار نے بھی سنا کہ مومن کا سننا تو بڑی بات نہیں۔بلکہ صوفیاء میں آج بھی مراقبہ کرایا  جاتا ہے جس میں جمادات ونباتات سے کلام کرنا سکھایا جاتا ہے۔بندہ کے روبرو ایک بزرگ ساتھی حضرتؒ(مولانا اللہ یار خان رحمتہ اللہ علیہ) کی خدمت میں بیان کر رہے تھے کہ فلاں شخص کی بیٹھک میں،جہاں انھیں ٹھہرنا پڑا تھا،مجھے چھت کی لکڑیاں کہہ رہی تھیں کہ،قاضی صاحب خوش بخت  لکڑیاں ہیں جو مساجد کی چھت بن گئیں اور رات دن اللہ کا ذکر سنتی اور دیکھتی ہیں۔ایک ہم ہیں کہ زنا کے نظارے کرنا پڑتے ہیں۔تو حضرت ؒ نےفرمایا کہ وہ تو نیک آدمی ہے(جس کی بیٹھک تھی)تو عرض کیا کہ اس کے بیٹے،بھتیجے جو نوجوان ہیں ان کا کردار ایسا ہے۔

یہ فیض ہے آپﷺ کا کہ چودہ صدیاں بعد والا بندہ مومن جمادات سے بات کر لیتا  ہے اور ان کی سن لیتا ہے۔معجزہ  یہ ہے کہ بد ترین کافر ایک وقت کےلیے ایسا کر دیا کہ اُس نے جمادات کی باتیں سن لیں۔معجزہ نبویﷺ  کا اصل تابناک پہلو  یہ  ہے جس کی طرف آج شایدکسی کی نظر بھی نہیں جاتی۔

یہی حال کرامات اولیاء کا ہوتا ہے۔کرامت یہ ہے کہ کتنے لوگوں کی اصلاح  ہوئی۔عقائد درست ہوئے  یا  اعمال کی اصلاح  نصیب  ہوئی اور یہی اہل اللہ کا کمال ہے کہ وہ اقامت دین کا کام کر جاتے ہیں۔جو کام تقریروں،تحریروں اور بڑے بڑے جلسوں سے نہیں ہوتا وہ خاموشی سے کر جاتے  ہیں۔دلوں کو ذا کر  بنا  کر روشن کر دیتے  ہیں۔جس کے سبب عملی زندگی کی اصلاح ہوتی ہے۔ بندہ نے حضرت جی ؒ  کی ربع صدی کی رفاقت میں دیکھا کہ کسی آنے  والے کو  ٹوکتے  نہ تھے اور نہ ہی پوچھتے تھے کہ دیوبندی، بریلوی ،اہل حدیث،کون ہو؟مگر دوسرے ہی روز اس بندے کو  خود سے اصلاح عقائد واعمال کی فکر دامن گیر ہو جاتی تھی۔کہ کمال بھی برکاتِ نبوت  کا  ہے  جو  اہل اللہ کے طفیل نصیب  ہوتی  ہیں۔


0 Comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔