اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ،
وَالصَّلاۃُ
والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ
مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔
رَبِّ اشْرَحْ لِیْ
صَدْرِیْ ۙوَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙوَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُوا الْحَقَّ وَأَنْتُمْ
تَعْلَمُونَ)42(
اور
حق کو باطل سے نہ ملاؤ اور تم حق کو نہ چھپاؤ اور یہ تم جانتے ہو۔
بنی
اسرائیل یعنی یہود کو مخاطب کر کے جو کچھ سابقہ آیات میں فرمایا جا رہا ہے اسی تسلسل کے ساتھ فرمایا گیا کہ حق و باطل کو
غلط ملط نہ کرو، حق و باطل کی آمیزش نہ کرو، سچ اور جھوٹ کو آپس میں ملاوٹ نہ کرو
اور دوسری بات جو اس آیتِ کریمہ میں بیان فرمائی گئی وہ ہے حق کو چھپانا۔ یہود
علماء جو مشرکین و کفار کو بڑے فخر سے بتلاتے تھے کہ ہماری کتابوں میں نبی آخر
الزمان کی بشارتیں ہیں اور جب وہ آئیں گے
تو ہم ان پہ ایمان لائیں گے لیکن جب آپ ﷺ مبعوث ہوئے اور اعلانِ نبوت فرمایا تو
انکار کرنے لگے اور انہی بشارتوں اور پیش گوئیوں کو مختلف رنگ دینے لگے جس کے بارے
میں ارشاد ہوا کہ حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاؤ وہ اپنے پاس سے من گھڑت دلیلیں دیتے
اور کہتے کہ نبی تو مبعوث ہونگے لیکن وہ بنی اسرائیل سے ہوں گے نہ کہ بنی اسماعیل
ؑ سے اور آپ سے مختلف قسم کے سوالات کرتے جن کا ذکر قرآن ِ کریم میں موجود ہے اور
طرح طرح کے اعتراضات اٹھاتے۔ دوسری بات جو
فرمائی گئی کہ حق کو نہ چھپاؤ کیونکہ حقیقت جو خود انہیں معلوم تھی اور وہ جانتے
تھے کہ آپﷺ ہی اللہ کے آخری اور بر حق نبی
ہیں جس کہ گواہی تورات و انجیل میں موجود تھی لیکن یہ بات وہ عام
لوگوں سے چھپاتے حالانکہ وہ بخوبی اس بات سے آگاہ تھے، انہیں علم تھا کہ شریعتِ
مطہرہ ہی حقیقی شریعت ہے اور نبی کریم ﷺ
ہی وہ نبی ہیں جن کا ذکر ان کی کتابوں میں موجود ہے۔
اس
آیتِ کریمہ میں دو باتیں ارشاد فرمائی
گئیں پہلی: حق کو باطل کے ساتھ
ملانا، دوسری: حق کو چھپانا اور یہ دونوں
کام جانتے بوجھتے ہوئے کرنا نہ کہ لا علمی
کیوجہ سے۔
عام
عوام کو اصل سے ،حقانیت سے ،دینِ حق سے دور
رکھنے کے دو طریقے ہوتے ہیں، پہلا: یہ کہ حق و باطل کی آمیزش کر دی
جائے، سچ اور جھوٹ کو باہم ملا دیا جائے تاکہ عام لوگ حق کی شناخت ہی نہ کر سکیں ،
سچائی تک پہنچ ہی نہ پائیں ،دوسرا: یہ کہ حق کو چھپایا جائے اور حقیقت
کو ان تک پہنچنے ہی نہ دیا جائے۔ یہ دونوں
کام ہمیشہ وہ کرتے ہیں جو جانتے بوجھتے ہیں
یعنی علماء اور اہلِ علم لوگ، دین کا علم رکھنے والے لوگ۔
دور
ِحاضرمیں اگر ہم غور کریں تو جو فساد برپا
ہے ، جس پر فتن دور سے ہم گزر رہے ہیں جو تفرقہ بازی کا
ماحول بنا ہوا ہے اس کی بنیادی وجہ یہی ہے ۔ موجودہ دور میں علماءِ ظاہر نے لوگوں
کو قصوں اور کہانیوں پہ لگایا ہوا ہے ۔ اصل حقیقت ، اصل احکامِ دین اور علوم ِ
شریعت لوگوں تک پہنچائے ہی نہیں جاتے۔اور تو اور ہماری مذہبی سیاسی جماعتیں
جو کہ اسلام کے نام پہ لوگوں سے ووٹ لیتی
ہیں اور اقتدار میں آنے کے بعد اس غیر اسلامی نظام ِ حکومت کو سپورٹ کر رہی ہوتی
ہیں۔ا س مغربی جمہوریت کی بگڑی ہوئی شکل کا خود بھی حصہ بن جاتی ہیں۔ جس میں نظامِ
عدل، نطامِ معیشت، نظامِ تعلیم الغرض سب کچھ ہی غیر اسلامی ہے۔
تو
ایک بہت بڑا گروہ علماء کا وہ ہے جو اصل امورِ دین ، احکامِ دین اور اسلامی فلسفہ
حیات بیان ہی نہیں کرتا۔ قرآن و حدیث کی تعلیم لوگوں تک پہنچے ہی نہیں دے رہا
یعنی حق کو چھپائے بیٹھا ہے۔
دوسرا
گروہ وہ ہے جس نے حق و باطل کی اس حد تک
آمیزش کر دی ہے کہ آج کے دور کا
مسلمان مختلف فرقوں میں تقسیم ہو چکا ہے اور
اور کئی قسم کے فتنہ و فسادات میں پھنس چکا ہے ۔ امتِ مسلمہ گروہ در گروہ
کئی جماعتوں ، گروپوں اور گروہوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ اپنی دکانداری چمکانے
کیلئے، لوگوں سے داد وصول کرنے کیلئے،
لوگوں کی جیبوں سے پیسے نکلوانے کیلئے فروعی اختلافات کو اس حد تک ہوا دی جاتی ہے کہ
ایک گروہ دوسرے کو کافر سمجھتا ہے اور اس کی جان کے درپے ہوتا ہے۔ امتِ مسلمہ تک
دین کی اصل تعلیمات پہنچانے کی بجائے انہیں مختلف رواجات، رسومات اور بدعات میں
الجھایا ہوا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے فرمایا جا رہا کہ انہوں نے حق و باطل
کو ملا دیا ہے ، سچ اور جھوٹ کی آمیزش کر
دی ہے اور یہ سب وہ جانتے بوجھتے ہوئے،
اپنے ذاتی مقاصد و فوائد اور جھوٹی داد وصول کرنے کیلئے کرتے ہیں۔ کیونکہ لوگوں کو
اصل دین ِ اسلام پہ لے آئیں تو یہ گروہ، یہ جماعتیں ،یہ مختلف مذہبی گروپس ختم ہو
جاتے ہیں ۔ بلکہ میں تو کہا کرتا ہوں کہ ان کی دکانداریاں جو انہوں نے پیر خانوں ، آستانوں، اور جماعتوں
کی شکل میں بنائی ہوئی ہیں وہ ختم ہو جائیں گی۔
اللہ
تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم
رہنے کی توفیق و ہمت عطا فرمائے۔
آمین
یا رب العالمین
دعاؤں کا طالب
ابو محمد زبیر اویسی
.jpg)










0 Comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔