اس کی وجہ یہ ہے کہ نہ صرف تخلیق میں بلکہ بہت سے کمالات میں
بھی مماثلت ہے اور برکات میں بھی۔
جیسے ان کی ولادت
قدرت سے ہوئی بظاہر کوئی سبب نہ تھا۔ایسے ہی سالک کے بہت سے امور قدرتی طور پر حل
ہوتے رہتے ہیں۔جس طرح انھوں نے بچپن میں توحید باری،اپنی نبوت،امورِ دنیا و آخرت
کا اظہار فرمایا۔ایسے ہی سالک کو اللہ کریم کی طرف سے علوم عطا ہوتے ہیں۔اگرچہ
بظاہر کوئی سبب نہیں ہوتا۔آپ کی بے شمار کرامات تھیں جو قرآنِ کریم میں بھی مذکور
ہیں۔سالک کو ان کیفیات سے حصہ نصیب ہوتا ہے اور حق بات پہچانے کی جرات نصیب ہوتی
ہیں۔دشمنانِ حق سے اللہ کی حفاظت اور عبادات واذ کار کی توفیق عطا ہے اور سب سے
بڑی بات کہ سالک کو حق کی تائید اور نا حق کو مٹانے کا جذبہ و توفیق بخشے جاتے ہیں
کہ کائنات کا نظام عدل پر قائم ہے۔یہ قدرتِ باری ہے کہ عدل ہر کام اور ہر شے میں
ضروری ہے۔ آپ دال روٹی ہی دیکھ لیں۔نمک،مرچ
یا کسی چیز میں کمی بیشی ہو جائے تو کھانا بے مزہ ہو جاتا ہے۔دوا کے نسخے میں اجزاء
کی کمی بیشی ہو جائے تو نفع کی بجائے نقصان کا اندیشہ ہوتا ہے۔ایسے ہی امور دنیا
میں نور اور ظلمت میں بھی توازن رہتا ہے۔اگر صرف ظلمت غالب آجائےتونظامِ کائنات
تباہ ہو جائے۔جیسے اگر ہمیشہ کے لیے رات ہو جائے تو کچھ بھی نہ ہو سکے گا۔یونہی دن
رات کی طرح ہر شےمیں ایک توازن رہتا ہے اور جہاں لاکھوں لوگ برائی کرتے ہیں وہاں
اللہ کریم ایسے بندے بھی پیدا فرما دیتا ہے جو ایک ایک بندہ ایسے کردار اوربرکات
کے ایسے معیار کا حامل ہوتا ہے کہ ان کی ظلمتِ گناہ کا مقابلہ اس پر وارد ہونے والے
انوارات کرتے ہیں اور نبوت کے بعد آپﷺ کے صحابہ،تابعین،تبع تابعین اور ان کے بعداولیاءِ امت یا علمائے ربانی ہی اس کی سعادت سے سرفراز فرمائے گئے۔لہٰذا یہ نظام اسی
طرح سے رواں دواں ہے مگر عجیب بات ہے کہ عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ و السلام کو زندہ آسمان پر اٹھایا لیا گیا اور
آخری عہد میں پھر زمین پر جلوہ گر ہو کر غلبہ حق کا سبب بنیں گے۔ فقیر کی سمجھ میں
اس کی ایک حکمت یہ آئی کہ ایسا دور آئے گا کہ ظلمت گناہ اس قدر بڑھ جائے گی کہ
انواراتِ ولایت اس کا مقابلہ نہ کر سکیں گے تو نورِ نبوت کی ضرورت ہو گی اور نبوت
تو مکمل ہو چکی،کوئی نیا نبی مبعوث نہ ہو گا۔ اللہ کریم رب ہے سب ضرورتوں سے آگاہ بھی ہے اور انھیں پوری
بھی کرتا ہے چنانچہ اس نے اپنے کرم سے عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ و السلام کو آسمان پر
اٹھایا۔ضرورت کے وقت نزول فرمائیں گے اور شریعت محمدیﷺ کا اجراء کریں گے۔ان کی قوت
اور انوارات نبوت کے ہوں گے جو اس ظلمت کو
شکست دیں گے۔
چوتھا لطیفہ کرنے سے یہ برکات سالک پر بھی وارد ہوتی ہیں
اور وہ کفر و شرک اور گناہ کی تاریکیوں کے مقابلے میں مینارہ نور ثابت ہوتا ہے اور
یہ اتنی بڑی سعادت ہے کہ سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ہاں رزقِ حلال،صدقِ مقال اور خلوصِ
نیت اور مجاہدہ شرط ہے۔پھر عطائے باری کا تماشا دیکھے۔
میاں! لکھا تو بہت کچھ جا سکتا ہے مگر محض کتاب کا حجم
بڑھانا مقصود نہیں،بات سمجھانا مقصود ہے اور باتوفیق الٰہی فقیر کا خیال ہے کہ
سمجھنے کے لیے لکھا گیا کافی ہے۔











0 Comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔