پانچواں لطیفہ، اخفاء - کنوزِ دل شرح رموزِ دل تصنیفِ لطیف حضرت مولانا محمد اکرم اعوانؒ - سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ

0 Comments

 

ویڈیو دیکھنے کیلئے لنک پر کلک کریں

 حصہ اوّل                                                    حصہ دوم

اس کا مقام سینے کے درمیان ہے۔جہاں سینے کی ہڈی پیٹ سے ملتی ہے گویا پہلے لطائف کے درمیان۔اس پر آقائے نامدار حضرت محمدﷺ کا فیض اور انوارات آتے ہیں۔یہ پانچویں آسمان سے آتے ہیں۔ان کا رنگ سبز ہوتا ہے۔سبحان اللہ ! کوئی کیا کیا شمار کر سکتا ہے کہ اول و آخر تمام انبیاء کرامؑ کو جو نعمتیں ،برکات، علوم اور معجزات نصیب ہوئے وہ سب آپﷺ کے واسطے ہوئے کہ آپﷺ نبیوں کے بھی نبی اور امام الانبیاء ہیں۔

حسنِ      یوسف،دمِ    عیسیٰ،یدِ     بیضاداری

آنچہ    خوباں    ہمہ     دارند   تو     تنہا   داری

 تو  آپﷺ سے جو برکات نصیب ہوتی ہیں وہ ان تمام کمالات کو حاوی ہوتی ہیں۔یہ بات کہ آدمی کی فطری استعداد خا ص ہوتی ہیں اس میں وہ زیادہ ترقی کر جاتا ہے مگر دوسری خصوصیات سے محروم نہیں رہتا۔

سب سے پہلے اور سب سے قیمتی بات!کہ عقائد میں تمام انبیاؑء ایک ہیں۔سب   عقیدہ توحید،رسالت،کتاب،آخرت،ملائکہ،حساب کتاب،جنت و دوزخ پر متفق ہیں۔تو گویا سالک کی اصلاح،عقیدہ کے متعلق بہت اعلیٰ اور یقینی ہو جاتی ہیں۔فقیر نے پچیس برس اپنے شیخ کے ساتھ گزارے حالانکہ حضرت رحمتہ اللہ علیہ)قلزمِ فیوضات حضرت مولانا اللہ  یار خان ؒ)  نہ صرف متبحر عالم تھے بلکہ بہت ہی بلند پایہ مناظر بھی تھے اور مناظر حضرات کا مزاج ہوتا ہے کہ ہر معاملہ میں کرید بھی کرتے ہیں اور تنقید بھی۔مگر حضرت رحمتہ اللہ علیہ نے آنے والے سے کبھی نہیں پوچھا کہ عقیدہ کیا ہے؟اعمال میں کتنی پابندی کرتے ہو؟یا کس ماحول میں رہتے ہو؟

آپ رحمتہ اللہ علیہ نے لطائف پہ توجہ دی اور پابندی کی تلقین کر دی۔فقیر کا مشاہدہ ہے کہ بندے کے اندر جستجو پیدا ہو جاتی اور وہ اپنی اصلاح خود کرتا۔فرائض کا پابند بلکہ  تہجد گزار بن جاتا اور کلبوں  اور ناچ گھروں  سے نکل کر مساجد کی آبادی کا سبب بن جاتا۔ یہ برکات حضور اکرمﷺ کی توجہ اور انواراتِ مبارکہ کی ہوتی ہیں۔ حضور اکرمﷺ ساری انسانیت،سارے زمانوں اور سارے معاملات کے امام اور رسول ہیں۔امورِدنیا میں،زندگی کے ہر شعبے میں    آپﷺ کے نقوشِ کفِ پائے مبارک موجود ہیں جو نہ صرف راہنمائی فرماتے ہیں بلکہ زندگی کو سہل بناتے ہیں اور سو فیصد کامیابی کی ضمانت دیتے ہیں اور دنیاوی کاموں پر آخرت اور اُخروی کامیابی بطورِ انعام نصیب ہوتی ہے  لہٰذا  جو بندہ زندگی کے شعبے سے متعلق ہو اس میں اُسے بہت کامیابی نصیب ہوتی ہے کہ اسے کام کرنے کا سلیقہ بھی آجاتا ہے اور وہ ہر کام پورے خلوص سے بھی کرتا ہے۔ایک بات اور ! کہ نہ صرف کام کرنے کا سلیقہ اور شعور نصیب ہوتا ہے بلکہ استعداد دِکار بھی نصیب ہو جاتی ہے۔یعنی: گلشن   میں   علاجِ   تنگی     داماں بھی     ہے

طالب کو کام کرنے کی صلاحیت بھی ربِ کریم عطا فرما دیتا ہے اور یہ لوگ دُنیا و آخرت میں کامیاب ترین لوگ ہوتے ہیں۔

حضور اکرمﷺ کی برکات گنوانا  ناممکن ہے اور اللہ کی عطا کو شمار کرنا بھی ناممکن۔لیکن سب سے عجیب بات کہ پھر اس کے دعویداروں کو بھی بھٹکتے دیکھا۔وجہ یہ  ہے کہ تمام برکات کے حصول کی بنیاد خلوص پر ہے اور یہ نعمت دل کے فیصلے پر رکھ دی گئی ہے۔وَيَهْدِي إِلَيْهِ مَنْ يُنِيبُ   شوریٰ۔13

یعنی جو خلوصِ دل سے آرزو کرتا ہے اللہ کریم اُسے ہدایت نصیب فرماتے ہیں۔اب یہ خلوص ایسی دولت ہے جو عظمت میں پہاڑوں سے بلند تر مگر نزاکت میں شیشہ دل سے بھی نازک تر ہے۔درست ہو تو طلبِ حق پیدا ہوتی ہیں۔اللہ کریم اپنے اُن بندوں سے ملا دیتے ہیں جہاں سے برکاتِ رسالت نصیب  ہو کر دل روشن ہوتے ہیں اور یہ نور بڑھتا چلا جاتا ہے۔لیکن انسان  پھر انسان ہے۔ نفس اور شیطان تاک میں ہیں جو پہلے تو اس نعمت سے دور رکھنے میں لگے رہے لگر جب  بندے کو احساس ہوتا ہے ،وہ اس طرف آتا ہے اور یہ دولت نصیب ہوتی ہے تو وہ بھی پہلو بدل لیتے ہیں اور پھر گمان پیدا کرنے لگتے ہیں کہ اب تم بہت  پارسا ہو گئے ہو،تمہارا مقام بہت بلند ہو گیا ہے،تمہاری  دُعا تو دُعا،تم جو کہہ دیتے ہو وہ ہو جاتا ہے۔پھر ان کے ساتھ باقی  کمی کالانعام پوری کر دیتے ہیں۔جو ہاتھ چومنا شروع  کر دیتے ہیں اور کبھی گھٹنے چھونے لگتے ہیں اور ہمہ وقت دعاؤں کے طالب اور ان کے  بدلے روپیہ پیسہ نچھاور کرنے لگتے ہیں۔

 اب  یہ معاملہ بہت نازک اور صرف اور صرف عظمتِ الہٰی کا تقاضا کرتا ہے اور لاشے محض ہونے کے یقین پہ اس کی بنیاد ہے۔جب بندہ کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونے کی طرف آنا چاہتا ہے،جس کا سبب نفس،شیطان اور عوام بنتے ہیں تو اس پہاڑوں سے عظیم مگر شیشہ دل سے نازک رشتے میں بال آجاتا ہے اور پھر راستہ قدرو منزلت کی طرف بدل جاتا ہے۔اللہ کریم اس سے محفوظ رکھے۔آمین۔

چنانچہ اس کا دولت و سرمایہ یقین اور خلوص ہے۔جو فقیر کے مطابق ایک ہی کیفیت کے دو نام ہے۔اگر یہ دولت نصیب ہو تو کیا ہوتا ہے؟یہ صرف جانا جا سکتا ہے، بیان کرنا یا لکھنا نا ممکن ہے ۔جسے شوق ہو وہ کر کے دیکھے۔ہاں یہ کہا جا سکتا ہے اور  بلاِخوف تردید کہا جا سکتا ہے کہ ایسا طالب جسے لطائف خمسہ نصیب ہو جائیں دنیا وآخرت کے ہر شعبے میں کامیاب ثابت ہوتا ہے اور یہ کمال اللہ کے رسول ﷺ کا ہے کہ جن کی برکات کا پرتو  لوہے کو کندن بنا دیتا ہے۔

 ذرا حیات طیبہ ﷺ پہ غور کیجیے  تو بچپن سے یعنی دنیاوی آسرایا کوئی ظاہری سبب نہیں۔پھر لڑکپن میں حضرت عبدالمطلب کی رحلت  اور آپﷺ کا اپنے چچا ابو طالب کے زیرِ کفالت آنا، وہ آپﷺ کی مدد کیا فرماتے خود آپﷺ اُجرت پر بکریاں چراتے اور اُجرت اپنے چچا کو عطا کرتے۔ پھر آپﷺ کی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا سے شادی  ہوئی تو آپﷺ نے چچا سے فرمایا کہ ایک بیٹا مجھے دے دیں میں اس کی پرورش  کروں گا اور آپ کا بوجھ بانٹ لوں۔پھر اعلان نبوت پر روئے زمین کے کفر و شرک اور ظلم و جور کے مقابل صرف اللہ کریم کی مدد سے کھڑا ہو جانا اور پھر ہجرت فرمانا کہ قرآن کریم فرماتا ہے: وَمَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ   سورۃ النور ۔54

" کہ میرے رسول کی ذمہ داری تو میرا پیغام پہچانا ہے اور بس۔"

مگر جوں جوں پیغام قبول ہوتا گیا۔ان لوگوں کو آگے کی راہنمائی فرماتے گئے حتیٰ کہ ضرورت پیش آئی کہ اتنے لوگ مشرف بہ اسلام ہو گئے کہ اب آزاد زمین اور آزاد ریاست کا وجود چاہیے تو مدینہ منورہ ہجرت فرمائی۔گھر بار ،دوست،رشتہ دار،مال و دولت،جاگیر جائیداد تمام مہاجرین نے قربان کی اور مدینہ منورہ جلوہ افروز ہوئے اور ایک آزاد ریاست کی ابتدا ہوئی۔ اور پھر مدینہ منورہ کے دس سال ایک جہدِ مسلسل ہیں یہ صرف اور صرف آپﷺ کی شان کو زیبا ہے کہ ان دس سالوں کے تمام امور،صرف غزوات و سرایا کی تعداد اسی (80) سے زیادہ ہے۔ پھر ریاست کے تمام امور، قوانین اور ضابطے اور ان پر عمل۔نہ صرف اس ریاست کے لیے بلکہ روئے زمین پر  بسنے والوں کے لیے۔قیامت تک کے لیے ہمیشہ سند کا درجہ رکھتے ہوں۔ اور پھر پورا جزیرہ نمائے عرب کا ریاست میں شامل ہو کر قیصر و کسریٰ کے مقابل اور روئے زمین کے تمام ظالمانہ نظام کے مقابل،عادلانہ نظام کا اجراء۔ یہ محنت نہ ہو تو  وہ پیر سمجھ  سکتا ہے جو مریدوں کی کمائی پہ پلتا ہے اور نہ صرف  وہ سیاستدان جو آج نظام کو کیا بدلے گا اپنا حلیہ تک اسلامی نہیں بنا سکتا کہ کفر نا راض نہ ہو جائے۔

آپﷺ نے امانت اُن جاں نثاروں کے سپرد فرمائی جو خود آپﷺ نے تیار فرمائے تھے اور انھوں نے ربع صدی میں روئے زمین پر نہ صرف پیغامِ حق کو عام کر دیا بلکہ ایسی اسلامی ریاست بنا دی جو ہسپانیہ سے مغربی ہند اور چین تک اور روس سے افریقہ تک اسلامی نظا مِ حکومت کی روشن مثال تھی۔

 یہ لطیفہ روشن ہو جائے تو سالک دنیاوی آسروں کا محتاج نہیں رہتا۔  دن رات دین کی عملی تعبیر کے لیے کوشاں اور ایک انقلاب آفرین ہستی بن جاتا ہے۔نہ صرف خود دینِ حق پر عامل ہوتا ہے  بلکہ ایک عالم کو اس سے برکات نصیب ہوتی ہیں اور لوگ عملاً دینِ حق پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔

 ان پانچ لطائف کا نصیب ہونا  بھی اللہ کریم کا بہت بڑا احسان اور نعمت غیر مترقبہ ہے۔ حضرت جی ؒ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے ایک نکاح کے جھگڑے کا فیصلہ کرنے کیلئے قصبہ لیٹی(تلہ گنگ) بلایا گیا چونکہ  متعلقہ خاتون سے بھی حقائق جاننا ضروری تھا لہذا جب خاتون سے تنہائی میں استفسار کرنا تھا تو میں نے کہا کہ کوئی ایک صالح اور عمر رسیدہ بندہ میرے ساتھ کر دو جس کے سامنے بات جان سکو تو انہوں نے قاضی صاحب کو ساتھ بٹھا دیا ۔بات ہوئی، فیصلہ ہو گیا جب میں وہاں سے رخصت ہوا تو قاضی صاحب بھی ساتھ تھے کہ مجھے بس  کے اڈے تک   پہنچا کر آئیں ، راستے میں کہنے لگے کہ حضرت اللہ ،اللہ کرتا ہوں ، دندہ شاہ بلاول  والے حضرت صاحب جو حضرت شاہ بلاول کی اولاد میں سے تھے، نے مجھے لطائف پہ اسباق شروع کرائے ،غالباً دو سال میں ایک لطیفہ کراتے تھے لہٰذا میں دس سالوں میں پانچ لطائف سیکھ سکا مگر الحمد للہ میرے پانچوں لطائف منور ہیں اور مسلسل محنت کر رہا ہوں مگر عالم یہ ہے کہ میرے رہائش گاؤں سے باہر ڈیرے پر ہے جب کبھی گاؤں جانا ہو اور اونچی جگہ سے گاؤں پر نظر پڑے تو لگتا ہے کہ گاؤں درندوں، سانپوں  اور اژدہوں سے بھرا پڑا ہے ۔حضرت ؒ فرماتے تھے کہ میں سمجھ گیا کہ یہ تو مراقبہ رویتِ اشکال ہے جو باقاعدہ کرایا جاتا ہے مگر ان کے لطائف اس قدر روشن ہیں کہ انہیں اس کی جھلک گاہے بگاہے نظر آجاتی ہے انسان گناہ کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ اس کی روح کی شکل بدل کر حیوانی ہو جاتی ہے اگر ایمان باقی رہے تو حلال جانور کی شکل ہوتی ہے ، مگر مسلسل گناہ سے اگر ایمان بھی ضائع ہو جائے تو پھر موذی جانور وں اور درندوں جیسی شکل ہو جاتی ہے اور عموماً جس درندے یا جانور سے عادات کی مشابہت ہو ویسی شکل بنتی ہے ، بظاہر وجود تو انسانی رہتا ہے مگر کردار ویسا ہی ہو جاتا ہے چنانچہ حضرت  جی ؒ فرماتے کہ جب میں نے بات سمجھائی (اور طالب کو بھی کمال درجے کا پایا) تو قاضی صاحب عرض کرنے لگے کہ میرے حضرت کا وصال ہو گیا مگر وہ مجھے بتایا کرتے تھے کہ لطائف سات ہیں کاش کوئی ایسا اللہ کا بندہ مل جاتا جو مجھے سات لطائف تو کرا دیتا حضرت ؒ نے فرمایا : قاضی صاحب اگر میں ہی وہ بندہ بن جاؤں تو؟ حضرت جیؒ کی شہرت عالمِ دین ، مفتی اور مناظر کی تھی اور کجا تصوف! تو قاضی صاحب کو بہت حیرت ہوئی اور فوراً دامن سے وابستہ ہو گئے قاضی صاحب کے شیخ کے منازل فنا بقا سے آگے سالک المجذوبی تک تھے جو بہت اعلیٰ منازل تھے لیکن قاضی صاحب جس چشمہ فیض  سے وابسطہ ہوئےــ بحمدللہ۔۔۔ فنا بقا ، سالک المجذوبی ،عرش حتیٰ کہ نو عرشوں سے بالا عالمِ امر کے کتنے ہی دوائر کو طے کرتے ہوئے انتہائی بلند منازل پہ ان کا وصال ہوا  جو صدیوں میں گنتی کے حضرات کو نصیب ہوتے ہیں ۔ یہاں آج کے طالب یوں نہ سوچیں کہ ہمیں تو ایک ہی نشست میں ساتوں لطائف کرا دیں گے مگر یہ احوال تو نصیب نہیں ۔ گزارش ہے کہ احوال کا مدار مجاہدہ پر ہے ۔ اوّل ، اکلِ حلال   دوم ، صدقِ مکال اور سوم ذکرِ دوام  بھلا کوئی کر  کےدیکھے تو پتہ چلے ۔ ہم چوبیس گھنٹوں میں شاید  چوبیس منٹ بھی ذکر کو دے نہیں پاتے تو کیفیات کیا خاک ہوں گی یاں یہ مقامِ شکر ہے کہ کم از کم عقیدہ  تو درست رہتا ہے اور ایمان قائم  مگر اس پہ مجاہدہ ضرور کرنا چاہیئے کہ یہی وقت جسے ہم محض دنیا کمانے میں صرف کر رہے ہیں آخرت کمانے کا بھی ہے ۔ اللہ کریم توفیق ارزاں فرمائے ۔ آمین

آپ ﷺ کے معجزات کا شمار ہو سکتا ہے نہ برکات کا مگر ایک بات جو میں عرض کرنا چاہوں گا وہ یہ ہے کہ عنداللہ ایک جذبہ مطلوب و محبوب ہے اور وہ ہے محبت، محبت بظاہر ایک بہت عام سا لفظ ہے اور بات بات پہ استعمال ہوتا ہے لیکن دیکھا جائے تو بہت کمیاب ہے لوگ ذاتی مفاد کیلئے جو تعلقات بناتے ہیں عموماً انہیں محبت کا نام دیتے ہیں ۔ مثلا اولاد  سے محبت ہے  لیکن اگر اولاد کما کر نہ دے تو محبت کا فور ہو جاتی ہیں۔اگر والدین اور اولاد کی محبت کا یہ حال ہے تو باقی محبتوں کی بحث فضول ہے۔ہاں اگر کہیں واقعی کوئی ذرہ محبت کا ہو تو وہاں محبت کرنے والا اپنا نہیں محبوب کا خیال رکھتا ہے اور ہر حال میں اس کی خوشنودی کا طلب گار رہتا ہے۔محبت کرنے والا محبوب کا غلام ہو جاتا ہے۔اور اپنی  تمناوں اور آرزوں کو محبوب کی رضا پر قربان کر دیتا ہے۔اگرچہ نجات کے لیے ایمان و اطاعت کافی ہے مگر قربِ ذات کے لیے محبت شرط ہے اور اس کا راستہ اطاعت ہے۔

إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ  آل عمران۔31

کا ارشاد کافی ہے کہ خلوصِ دل سے اطاعتِ رسول ﷺ محبتِ الہیٰ  پیدا کرتی ہے۔

 محبت ایک کیفیت کا نام ہے اور کیفیات دیکھنے،سننے،جاننے سے پیدا ہوتی ہیں مگر اللہ کی ذات علومِ انسانی سے بلند ہے تو جب انسان کے علوم کی رسائی ہی نہیں تو محبت کیسے ہو گی؟فرمایا:

 تم میرا اتباع کرو گے تو اللہ تم سے محبت کرے گا اور محبتِ الٰہی کے جواب میں تمہارے دل میں بھی اللہ کریم سے محبت پیدا ہو جائے گی جو مطلوب ہے۔ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ  سورۃ البقرہ۔165  کہ مومنین اللہ سے شدید محبت کرتے  ہیں۔

یہ تو ایک راستہ ہے۔دوسرا راستہ ہے آپﷺ سے دلی محبت۔جو تعلق سے پیدا ہوتی ہیں اور نبی سے ایسا تعلق جو صرف خلوصِ قلبی پہ منحصر ہو،سینے میں دل  رکھتا ہے،مسجد نبوی کا ستون جس سے حضورﷺ ٹیک لگا کر خطبہ دیا کرتے تھے اُس کا تعلق تو محض وجودِ اقدس سے مس ہونے کا تھا مگر اُس جسم اطہر کے ساتھ مس ہونے نے اس میں اِس قدر جذباتِ محبت کی دوری  برداشت نہ کر سکا اور چیخ چیخ کر رونے لگا۔

اُستنِ       حنانہ    در    ہجرِ     رسول

نالہ   ہائی    زدچوں     اصحابِ عقول

حنانہ ستون کا نام تھا تو فرمایا حنانہ ستون فراقِ رسولﷺ میں زندہ انسانوں کی طرح بلک بلک کر رونے لگا۔آپﷺ نے دستِ مبارک پھیرا،تسلی دی۔صحابہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دم سے چپ نہ ہوا بلکہ آہستہ آہستہ ہچکیاں لیتے ہوئے خاموش ہوتا ہے،چپ  ہوا۔ خشک لکڑی تھی،لکڑی ہی رہی مگر دردِ محبت سے لبریز  ہو گئی۔انسان  تو مکلف مخلوق ہے اور استعداد رکھتا ہے۔اگر واقعی دامنِ پاک وابستہ ہو جائے تو کس قدر درد سمیٹے گا۔

سالک کو پانچویں لطیفہ سے ان سب نعمتوں سے حصہ ملتا ہے۔شرط صرف یہ ہے کہ شیخ ِ کامل ہو جو توجہ دے سکے۔اور سالک خلوص اور صدق دل سے توجہ  قبول کرے۔پھر وہ یقینِ محکم،عملِ پیہم،محبت فاتحِ عالم کا مصداق بن جاتا ہے۔اور یہ رب جلیل کا عظیم احسان ہے۔

0 Comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔