تفسیر سورۃ البقرہ - آیت نمبر 13 - صحابہ کرام کو معیارِایمان قرار دیا گیا اور ان سے بغض و عناد کا نتیجہ بھی بتا دیا

0 Comments


 

اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہُ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْٗ وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْٗ وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْٗیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَإِذَا قِيْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا كَمَآ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوْٓا أَنُؤْمِنُ كَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَهَآءُ ۔ أَلاۤ إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَآءُ وَلَٰكِنْ لَّا يَعْلَمُوْنَ

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم بھی ایسا ہی ایمان لاؤ جس طرح  اور لوگ ایمان لائے ہیں۔ تو کہتے ہیں کیا ہم ویسا ایمان لائیں  جیسا بے وقوف لوگ ایمان لائے ہیں؟ یاد رکھو ! یقیناً وہی بے وقوف ہیں مگر جانتے  نہیں۔

 اس آیتِ کریمہ  میں منافقین  کی ایک اور خصلت و عادت بیان فرمائی گئی کہ جب ان پہ دینِ اسلام پیش کیا جاتا ہے ،جب انہیں ایمان کی دعوت دی جاتی ہے کہ مومنین کی طرح تم بھی ایمان لے لاؤ تو کہتے ہیں ہم ویسا ایمان نہیں لائیں گے  جیسا یہ بے وقوف لوگ لائے ہیں۔ یہ منافقین  کا طرزِ عمل تھا۔

یہاں پہ جو اہم بات ارشاد  فرمائی جا رہی ہے وہ ہے   اٰمِنُوْا كَمَآ اٰمَنَ النَّاسُ ایمان لاؤ جیسا اور لوگ ایمان لائے۔

یہ اور لوگ کون ہیں ؟ کون ہیں جن کے ایمان کو مثال کے طور پہ ،نمونے کے طور پہ پیش فرمایا جا رہا ہے ، جو معیارِ ایمان ہیں دوسروں کے لئے۔ یہ ہستیاں تھیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ۔

قاسمِ فیوضات حضرت مولانا محمد اکرم اعوان ؒ اکرم التفاسیر میں فرماتے ہیں کہ یہ آیت بتا رہی ہے کہ قرآن کے معیاری مسلمان  صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں ۔ قرآن کی تفسیر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین  کا کردار ہے ، نبی کریم کے ارشادات  کا مفہوم  صحابہ کرام  رضوان اللہ علیہم اجمعین  کا کردار ہے ۔ اب اگر کوئی گرائمر کی رو سے ، منطق کا زور لگا کر  اور صرف و نحو  کا زور لگا کر  مختلف  معنی گھڑنا چاہے تو وہ نا قابلِ قبول  ہونگے۔ پوچھا یہ جائے گا  کہ جو مفہوم اس آیت کریمہ کا آپ بتا رہے ہیں  یا اس حدیث مبارکہ سے جو نتیجہ آپ اخذ کر رہے ہیں  کیا صحابہ کرام  رضوان اللہ علیہم اجمعین   نے بھی یہی سمجھا تھا ۔صرف اس ایک سوال  پہ سارے اختلافات ختم ہو جاتے ہیں ۔ صرف یہ ایک سند ہے  کہ اگر اس پہ سارے متفق ہو جائیں تو سارے اختلافات ختم ہو جاتے ہیں اور اگر کوئی اختلاف رہتا ہے تو وہ جو باعثِ برکت ہے یعنی اس بات کے دو ، چار، پانچ مثبت پہلو ہوتے ہیں ۔

پھر ارشاد ہوتا ہے : قَالُوْٓا أَنُؤْمِنُ كَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَهَآءُ  کہتے ہیں ہم ویسا ایمان لائیں جیسا بے وقوف لوگ ایمان لائے ہیں

  انکی  جاہلیت اور کم عقلی کی انتہا دیکھیں کہ ایک طرف تو ایمان نہیں لاتے جیسا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین   لائے اور اس پہ انتہا یہ کہ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین   کو ،اوّلین مومنین، جن کو قرآن سبقت لے جانے والے فرما رہا ہے ، ان  کو بے وقوف کہ رہے ہیں۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین    کا یمان کیا تھا فرمایا: وَقَالُوْاسَمِعْنَا وَأَطَعْنَا سنا اور مانا  کوئی حیل و حجت نہیں کی ۔ کوئی عذر، کوئی رشتہ، کوئی تکلیف، کوئی امتحان ان کے رستے کی رکاوٹ نہ بن سکا۔

کوئلوں پہ لٹایا جانا ہو یا  کوڑوں سے مارا جانا، شعبِ ابی طالب کی صعوبتیں ہوں یا اللہ کے دین کیلئے گھر بار چھوڑنا، یہاں تک کہ اللہ کے دین کی سر بلندی کیلئے اپنے سگوں کے مدِ مقابل آگئے، بدر و احد کا میدان سجا تو ایک طرف باپ دوسری طرف بیٹا، ایک طرف چچا تو دوسری طرف بھتیجا، اسلام کی خاطر، اللہ کے دین کی سربلندی کیلئے ، اطاعتِ محمد الرسول اللہ ﷺ میں کسی رشتے کی پرواہ نہیں کی۔ ایک صحابی کو ان کے باپ نے کہا کہ تم میری تلوار کی زد میں آئے  لیکن میں نے وار نہیں کیا  تو انہوں نے فرمایا کہ آپ اگر میری تلوار کی زد میں آتے تو میں نہیں چھوڑتا ۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین   کا  ایمان ، انکا عشقِ رسولﷺ، انکی اطاعت ناقابلِ بیان ہے ۔

فرمایا جا رہا ہے کہ ان جیسا ایمان لاؤ، ان کے نقشِ قدم پہ چلو، ان کی پیروی اختیار کرو، قرآن و حدیث کا وہ مطلب جو انہیں سمجھایا گیا ہے ، جو انہوں نے اختیار کیا ، جس پہ انہوں نے عمل کر کے دکھایا تم بھی ویسے اختیار کرو۔

آج کل کہا جاتا ہے کہ وہ تو صحابہ تھے ہم ایسا کرنے سے قاصر ہیں ، ہم میں اتنی صلاحیت نہیں۔شیخ المکرم حضرت  امیر عبد القدیر اعوان مد ظلہ العالی فرماتے ہیں کہ اس سے بڑا کفر کیا ہو گا ۔ اس سوچ کا اس جملے کا مطلب یہ ہوا کہ شریعتِ  مطہرہ جو قرآن و حدیث کی صورت میں عطا کی گئی ، جس کے مطابق نبی رحمت ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین    کی جماعت تیار کی اور انہوں نے عملاً اسے اختیار کیا  اور تین چوتھائی روئے زمین کے حصے پہ اسے نافذ کر کے دکھایا۔ وہ نعوذباللہ ناقابل عمل ہے  دورِ حاضر میں عملی طور پہ اسے اختیار نہیں کیا جا سکتا۔

مقامِ صحابہ اتنا بلند ہے  کہ اگر روئے زمین کی تمام عبادتیں ، تمام ریاضتیں  اکٹھی بھی کر لی جائیں  تو ادنیٰ ترین صحابی کی شان کا بھی مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ لیکن عملاً اختیار کرنا ویسے ہی  کرنا  ہو گا جیسے صحابہ نے کیا، معیارِ ایمان صحابہ ہی ہوں گے کیونکہ قرآن نے  ایمان کا معیار، اللہ تعالیٰ نے ایمان کا معیار صحابہ کو بنایا۔ کوئی کہاں تک پہنچتا ہے   یہ اس کا نصیب ۔ کوئی صحابہ جیسا ایمان تو نہیں پا سکتا لیکن معیار ایمان وہی رہیں گے۔

منافقین جب ان کے بارے کہ رہے ہیں  کہ یہ تو بے وقوف ہیں (نعوذ باللہ ) تو ارشاد فرمایا گیا:

أَلاۤ إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَآءُ وَلَٰكِنْ لَّا يَعْلَمُوْنَ خوب غور سے سن لو یقیناً یہی بے وقوف ہیں لیکن  یہ علم نہیں رکھتے

خود اللہ نے ان  منافقین کا فیصلہ بھی فرما دیا اور کیا ہی خوبصورت فیصلہ فرمایا کہ جو ان کے ساتھ جو معاملہ رکھے گا میں اللہ تعالیٰ بھی اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ رکھوں گا  جو بھی ان پہ زبان درازی کرے گا ، جو بھی انکو  تنقید کا نشانہ بنائے گا یا ان کی شان میں گستاخیاں کرے گا تو اللہ تعالیٰ بھی اس کے ساتھ ویسا معاملہ فرمائیں گے جیسے اس آیتِ کریمہ میں بیان ہوا کہ انہوں نے کہا کہ یہ بے وقوف ہیں تو اللہ فرما رہا ہے یقیناً یہی بے وقوف ہیں  اور پھر صرف بے وقوف نہیں جاہل بھی ہیں  ولکن الا یعلمون وہ اس کا علم بھی نہیں رکھتے کیونکہ اگر کسی کو اپنی بے وقوفی کی سمجھ آجائے، کسی کو یہ پتہ چل جائے کہ میں غلط ہوں تو وہ درستگی کی کوشش کرے گا، درست راستہ تلاش کرے گا  لیکن اگر کسی کو علم ہی نہیں کہ وہ غلط سمت پہ جا رہا ہے تو  ممکن ہی نہیں کہ وہ درست راہ پہ آئے۔ تو فرمایا کہ یہ علم نہیں رکھتے۔

پھر ایک اور اہم نکتہ یہ سمجھ آتا ہت اس آیتِ کریمہ سے کہ سابقہ آیت میں فرمایا الکن لا تشعرون کہ وہ شعور نہیں رکھتے جبکہ یہاں فرمایا جا رہا ہے ولکن لا یعلمون وہ علم نہیں رکھتے ۔ شعور علم کے بعد کا درجہ ہے فہم و ادراک علم ہونے کے بعد آتا ہے  جبکہ علم ادنیٰ درجہ ہے اور جس کو علم ہی نہیں وہ سمجھ و عقل اور فہم و ادراک تک تو جا ہی نہیں سکتا تو جب معاملہ اصحابِ محمد الرسول اللہ ﷺ کا آیا، جب  بات اللہ کے پیاروں اور نبی ﷺ کے وفاداروں  پہ آئی، جب انگلی  دین میں اسلام میں سبقت لے جانے والوں پہ اٹھی  تو  جاہلیت کا  شعور سے بھی ادنیٰ درجہ  یعنی لا علمی ارشاد فرمایا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں دین اسلام کی حقیقی سمجھ عطا فرمائے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی

0 Comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔