تفسیر سورۃ الفاتحہ - آیت نمبر 5 - ہدایت سے کیا مراد ہے اور کیا ہدایت انفرادی ہو سکتی ہے یا اجتماعی معاملہ ہے؟

0 Comments


 اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ ۙ وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙ وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙ یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (  ہم کو سیدھے رستے پر چلائیے)

اس آیتِ کریمہ میں  دو اہم چیزیں سمجھنے والی ہیں پہلی بات جو سابقہ درس میں بھی عرض کی گئی   کہ اکثر مترجم حضرات نے ادب کے صیغے کو مدِ نظر نہیں رکھا اور اس کا ترجمہ فرمایا کہ ہم کو چلا،  ہم کو دکھا،  ہم کو بتلا۔ سب سے بہترین ترجمہ یہاں پہ قاسمِ فیوضات حضرت مولانا محمد اکرم اعوان رحمتہ اللہ علیہ نے اکرم التراجم میں فرمایا کہ : ہم کو سیدھے رستے پہ چلائیے۔ کیونکہ اردو میں ادب کے قرینے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے یہاں پہ بتلائیے،دکھائیے یا چلائیے کے الفاظ موزوں ہیں ۔

دوسری بات جو اکثر فروعی اختلافی مسائل اور مباحث کے طور پہ لی جاتی ہے وہ ہے اھدنا کا ترجمہ ۔اس کا ترجمہ کچھ حضرات نے ہم کو بتا،کچھ نے ہم کو چلا اور کچھ دیگر نے اس کا ترجمہ ہم کو دکھا کیا ہے۔

قاسمِ فیوضات حضرت مولانا محمد اکرم اعوان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اردو  زبان میں اتنی وسعت اور جامعیت نہیں کہ عربی کا حق ادا کر سکے۔اسی وجہ سے کچھ عربی الفاظ کے لئے موزوں ترین لفظ موجود ہی نہیں ہوتا۔بالکل اسی طرح یہ لفظ بھی ہے۔اس کا مفہوم و مطلب ہمیں ترجمہ سے مکمل طور پہ سمجھ نہیں آ سکتا البتہ تفاسیر میں علمائے تفاسیر کی اکثریت نے اس لفظ کو انتہائی خوبصورتی سے وضاحت سے بیان فرمایا ہے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ کمی بیشی معاف فرمائے۔ مجھ ناقص العقل کو جو مفہوم و مطلب اس لفظ کا  سمجھ آسکا  وہ آپ کے گوش گزار کرتا چلوں۔ اس  عربی لفظ ہدایت کے تین درجے ہیں اور تینوں لازم و ملزوم ہیں:

پہلا درجہ ہے راستہ دکھانا،راستہ بتلانا ، اس کی طرف رہنمائی فرمانا، اس کا علم دینا۔

دوسرا درجہ ہے اس پر چلانا، اس پہ گامزن کرنا، اس پہ چلنے کی توفیق و ہمت سے نوازنا۔

تیسرا درجہ اور سب سے اہم درجہ ہے اس پہ قائم رکھنا، اس پہ استقامت دینا۔

یہ تینوں درجے اپنی اپنی جگہ انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور اس تینوں کے بغیر منزل تک پہنچنا ممکن نہیں۔ یعنی اگر رستہ کا پتہ نہیں ہو گا ، صراطِ مستقیم کا فہم و ادراک نہیں ہو گا تو چلیں گے کیسے اور چلنے کے بعد  اگر تادمِ آخر اس پہ قائم نہ رہ سکے اور صراطِ مستقیم پہ استقامت نصیب نہ ہوئی تو سب کچھ بے سود ہو گا۔ یعنی یہ ہدایت لفظ ان تینوں درجوں اور حصوں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ کفار اور گمراہوں کے لئے   ہدایت سے مراد صراطِ مستقیم کا دکھانا یا بتلانا ہو گا جبکہ عام بے عمل مسلمانوں کے لئے اس سے مراد صراطِ مستقیم پہ چلنا جبکہ مومنین کے لئے ہدایت سے مراد صراطِ مستقیم پہ استقامت ہو گا۔

سابقہ آیات میں اللہ تبارک و تعالیٰ کی حمد و ثنا ء کے بعد اس کی ربوبیت، رحمانیت ،رحیمیت اور یومِ جزا کے مالک ہونے کے اقرار کے بعد بندہ خود کو سب میں شامل کر کے عبودیت کی طرف لاتا ہے۔اللہ تبارک وتعالیٰ کو معبودِ برحق مان کے عبادت کو صرف اس کے لئے خاص کرتا ہے پھر اس کے بعد اپنے عجز و انکساری کا اظہار کرتے ہوئے اس سے مدد مانگتا ہے۔ اب اس آیتِ کریمہ سے اس کی مزید وضاحت ہو گئی کہ مدد کس چیز کی مانگی جا رہی تھی،طلب کیا کیا جا رہا ہے۔ یوں تو اس کی بہت ساری مجبوریاں تھیں،بہت ساری ضرورتیں تھیں ،بہت سی پریشانیاں اور خواہشیں تھیں لیکن جو سب سے قیمتی چیز ہے جو سب سے انمول بات تھی وہ تھی صراطِ مستقیم کی ۔ سو اس نے اپنی سب ضرورتوں ،خواہشوں،مجبوریوں اور پریشانیوں کو پسِ پشت ڈال کے اللہ سے صراطِ مستقیم طلب کیا۔کیونکہ باقی سب کچھ عارضی اور وقتی ہے دنیا کی زندگی ایک دن ختم ہو جانی ہے لیکن جو چیز ہمیشہ اس کے ساتھ رہنے والی ہے وہ صراطِ مستقیم ہے ۔ یہ نہ صرف دنیا کی زندگی میں اس کے لئے باعثِ راحت وسکون ہو گا بلکہ قبر و حشر میں بھی اس کے لئے سکون اور اطمینان کا باعث بنے گا۔

صراطِ مستقیم کیا ہے ؟یہ کونسا رستہ ہے ؟ اس کی وضاحت اگلی آیتِ کریمہ میں خود اللہ تبارک تعالیٰ نے بیان فرما دی۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی

0 Comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔