رَبِّ اشْرَحْ لِیْ
صَدْرِیْ ۙ وَ
یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙ وَ
احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙ یَفْقَهُوْا
قَوْلِیْ۪
ارشادِ
باری تعالیٰ ہے: إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (ہم آپ ہی کی
عبادت کرتے ہیں اور آپ ہی سے مدد چاہتے ہیں)
سب
سے پہلی بات جو میں عرض کرنا چاہتا ہوں جو
اکثر تراجم میں ملتی ہے وہ یہ ہے کہ کسی بھی آیت کا ترجمہ کرتے وقت اللہ تبارک و
تعالیٰ کی ذاتِ برحق کے لئے تو ،تم ،تیری،تجھ
جیسے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں
جبکہ یہ الفاظ ادب کے انتہائی خلاف ہیں۔ہم جب آیت کا ترجمہ اردو میں کرتے
ہیں تو اردو زبان و ادب کے قوائد کو ملحوظِ خاطر رکھنا چاہیے۔اردو کا اسلوب یہ ہے
کہ ادب کے لئے جمع کا صیغہ بولا جاتا ہے مثلاً ہم اپنے والد صاحب کے لئے یا کسی
بھی بزرگ اور قابلِ احترام ہستی کے لئے "تو،تم، تیری وغیرہ" الفاظ استعمال نہیں کرتے ۔یہ نہیں
کہتے کہ تو میرا استاد ہے یا تم میرے والد ہو بلکہ کہتے ہیں کہ آپ میرے استاد ہیں
یا آپ میرے والد ہیں۔آپ نے یہ کہا،آپ نے یہ کیا ،آپ فلاں جگہ تشریف لے گئے۔ تو جب
ہم اپنے اساتذہ ، والدین یا دوسری قابلِ احترام شخصیات کے لئے یہ الفاظ استعمال
نہیں کرتے تو بھلا یہ کیسے درست ہے کہ ہم اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذاتِ برحق کے لئے
یہ الفاظ استعمال کریں۔
تقریبا
ً تمام تراجمِ قرآن میں سے صرف قاسمِ ٖفیوضات حضرت مولانا محمد اکرم اعوان رحمتہ
اللہ علیہ نے اکرم التراجم میں یہ اسلوب اختیار کیا اور سورۃ الفاتحہ کی اس چوتھی آیت کا ترجمہ کچھ اس
طرح فرمایا:ہم آپ ہی کی عبادت کرتے ہیں اور آپ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔
دوسری
اہم بات جو اس آیتِ کریمہ میں واضح ہے کہ اس سے پہلے حمد بیان ہوئی رحمانیت و
رحیمیت جیسی عظیم صفات بیان ہوئیں۔یومِ
جزا کے مالک کا اقرار کیا گیا ۔اب بات بندگی کی طرف آتی ہے۔اب بات طالب کی ہونے
لگی ہے اب بات مانگی کی کی جانے لگی ہے ۔
تو جب بات بندگی کی آئے گی جب بات طلب کی آئے گی جب بات مانگنے کی آئے گی تو اکیلے
رہنے سے بات نہیں بننے والی۔ بلکہ بندہ خو دکو سب کے ساتھ شامل کرے گا بندہ خود کو اکیلے نہیں رہنے دے گا تو بات بنے
گی۔ یعنی اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بات جب بندگی کی ہو ،معاملہ جب معبودِ برحق
سے ہو، معاملہ جب طالب و مطلوب کا ہو ،معاملہ جب خالق و مخلوق کا ہو تو اکیلے رہنے
سے بات نہیں بننے والی بلکہ خود کو گروہ میں ،جماعت میں،نیکوکاروں کے
ساتھ،پرہیزگاروں کے ساتھ،اہل حق کے ساتھ شامل کرنا پڑے گا۔ یعنی جو اکثریت کو چھوڑ
کر ایک الگ رستے پہ چلا اور اس رستے کو صراط مستقیم خیال کیا،اس کو حق سمجھا جس پہ
وہ اکیلا ہے تو یہ ممکن نہیں کہ وہ حق پہ ہو اور ہدایت کے رستے پہ ہو بلکہ گمراہ ہے۔ صراطِ مستقیم
جمہور کا رستہ ہے ، ہدایت کا رستہ اکثریت کا رستہ ہے ۔یہاں ہم والی بات ہے میں
والی نہیں۔جو اگلی آیتِ کریمہ میں مزید وضاحت سے بیان ہوئی۔
تیسرا اہم نکتہ جو اس آیت کا سابقہ آیات سے ربط واضح
کرتا ہے کہ بندہ جب تک اللہ تبارک و تعالیٰ تمام قسم کی
خوبیوں اور بڑائیوں کا مالک، تمام جہانوں کا پروردگار، رحمٰن و رحیم اور انصاف کے
دن کا مالک قلبی یقین کے ساتھ تسلیم نہ
کرے بات بندگی تک آتی ہی نہیں۔ معاملہ خالق
و مخلوق والا بنتا ہی نہیں۔ رابطہ ،بندے اور اللہ تبارک وتعالیٰ والا بحال ہی نہیں
ہوتا۔
ان
تمام صفات کے اقرار کے جب یقینِ قلبی حاصل ہو جائے جب یہ یقین ہو جائے کہ اللہ کے علاوہ کوئی
لائقِ حمد نہیں ،آپ کے ذاتِ واحد کے علاوہ کو ئی پروردگار نہیں،وہ رحمٰن ہے ،وہ
رحیم ہے ،وہ مالک ِ یومِ جزا ہے تو پھر بندہ کہتا ہے کہ جب حقیقت اس طرح ہے تو پھر
اس ذاتِ واحد کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں اور جب کوئی لائقِ عبادت نہیں آپ
کے علاوہ،جب کوئی آپ کا شریک نہیں، جب کوئی آپ کے علاوہ رازق نہیں،جب کوئی آُ کے
علاوہ مالک نہیں تو پھر کیسے کوئی ہماری مدد کر سکتا ہے تو آپ ہی ہماری مدد فرمائے
۔ہم آپ ہی کی عبادت کرتے ہیں اور آپ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔
پہلے
حصے میں شرک کی نفی کی گئی کہ ہم صرف آپ ہی کی عبادت کرتے ہیں ، آپ کے علاوہ کوئی
معبود نہیں،آپ ہی معبودِ برحق ہیں۔ آیتِ کریمہ کے دوسرے حصے میں اپنی عاجزی
کا اظہار ہے اپنی قوت و طاقت کی نفی ہے کہ ہم عاجز و لاچار ہیں آپ ہی ہماری مدد
فرمائیے۔
پہلے
حصے میں اس بات کا اظہار ہے کہ ہم عابد ہیں اور آپ معبودِ برحق دوسرے حصے میں اس
بات کا اظہار ہے کہ ہم مخلوق ہیں آپ خالق ہے ،ہم عاجز و لاچار ہیں آپ قادر و قوی و عزیز ہے۔
ایک
اہم بات جو ضروری ہے اور میرے مشاہدے و تجربے سے گذری ہے کہ اکثریت مسلمان یہ
آیت روزانہ دن میں پانچ بار ہر نماز کی ہر
رکعت میں یہ آیتِ کریمہ تلاوت کرتے ہیں ۔ اور کوئی مسلمان ایسا نہیں جس کو یہ آیت
یاد نہ ہو اکثریت کو اس کا ترجمہ بھی آتا ہو گا لیکن یقینِ قلبی شاید بہت کم لوگوں
کو نصیب ہے اور اکثریت کا حال یہ ہے کہ ہر نماز میں مدد اللہ سے طلب کرنے کے بعد
پھر مادی اسباب و ذرائع پہ بھروسہ کیے بیٹھے ہوتے ہیں ۔دعائیں اللہ سے اور بھروسہ
اسباب پہ۔ مادی ذرائع و اسباب بلا شبہ جائز ہیں اور اسباب و ذرائع اختیار کرنے کا
حکم ہے لیکن یہ یقین ضروری ہے کہ اصل قدرت و طاقت انسان یا اسباب و ذرائع میں نہیں
بلکہ اصل طاقت و اختیار اللہ تبارک
وتعالیٰ کے پاس ہے ۔ اسباب و ذرائع بھی اسی ذاتِ برحق نے ہمارے لئے پیدا
فرمائے اور وہی انہیں ہمارے لئے فائدہ مند بنا رہا ہے۔
مثلا
ً : دوا سبب ہے لیکن شفا اللہ کے اختیار میں ہے اور دوا کو سبب بھی اس ذات نے
بنایا۔
کاروبار
یا ملازمت سبب ہیں رازق وہ عظیم ذات ہے اور یہ سبب بھی آپ ہی کی ذاتِ واحد نے عطا
فرمائے۔
اللہ
تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم
رہنے کی توفیق و ہمت عطا فرمائے۔
آمین
یا رب العالمین
دعاؤں کا طالب
ابو محمد زبیر اویسی










0 Comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔