تفسیر سورۃ الفاتحہ-آیت نمبر 2,3 - رحمانیت و رحیمیت اور روزِ جزا کے مالک سے کیا مراد ہے؟

0 Comments

اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِ یْ ۙ وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙ وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙ یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ "بڑے مہربان   نہایت رحم کرنے والے"

ان دونوں  صفات کے بارے میں تسمیہ کی تفسیر میں کچھ باتیں عرض کیں۔ یہ دونوں اللہ تبارک و تعالیٰ کے بہت ہی پیارے صفاتی نام ہیں۔

رحمٰن کیا ہے؟ رحمٰن اللہ تبارک و تعالیٰ دنیا میں ہے کیونکہ دنیا میں اس نےمسلمان ہو یا کافر، مومن ہو یا منافق،نیکوکار ہو یا بدکار سب کو تمام قسم کی دنیاوی و مادی نعمتوں سے نواز رکھا ہے۔وہ کسی بھی قسم کے گناہ پہ کسی کی روزی بند نہیں کرتا حتیٰ کہ کافر جو سرے سے اس کی ذات کا ہی انکاری ہے اس کو بھی تمام قسم کی دنیاوی نعمتیں دے رکھی ہیں ۔ جس طرح اس کی ربوبیت تمام جہانوں کے لئے ہے اس طرح اس کی رحمانیت بھی بہت وسیع ہے۔

قاسمِ فیوضات حضرت امیر محمد اکرم اعوان رحمتہ اللہ علیہ اکرم التفاسیر میں بیان فرماتے ہیں کہ میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ ایک چٹان کو توڑا گیا تو اس کے اندر سے ایک گول پتھر نکلا جب اس کو توڑا گیا تو اس کی اندر ایک خلا تھا ۔چھوٹا سا دائرہ اور اس کی اندر ایک اڑنے والی مخلوق تھی۔زندہ بھی تھی ،چل پھر بھی رہی تھی ،کھا پی بھی رہی تھی۔نوے فٹ ایک چٹان کے اندر اسے پیدا بھی کیا اور اسے رزق بھی دے رہا ہے۔یہ اس کی رحمانیت ہے یہ اس کی ربوبیت ہے۔

مچھلی کا بچہ پیدا ہوتا ہے تو تیرنا شروع کر دیتا ہے ،جانور کا بچہ پیدا ہوتا ہے تو کھڑا ہو جاتا ہے اسے پتہ ہے کہ میری روزی ماں کے تھنوں میں ہے۔ہاتھی کا بچہ پیدا ہوتا ہے تو وہ ماں کی پچھلی ٹانگوں کے بجائے اگلی ٹانگوں کی طرف جاتا ہے ، اسے پتہ ہے کہ میری روزی اگلی ٹانگوں کی درمیان ہے کیونکہ ہاتھی کا دودھ اگلی ٹانگوں کے درمیان ہوتا ہے۔شیر کا بچہ پیدا ہوتا ہے تو  تین مہینے تک آنکھیں نہیں کھولتا کیونکہ اسے پتہ کہ میرا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا  جبکہ ہرن کا بچہ پیدا ہوتے ہی  دوسرے لمحے ماں کے ساتھ بھاگ رہا ہوتا ہے کیونکہ اسے پتہ ہے کہ میں نے اپنی حفاظت کرنی ہے اور اس کے لئےمجھے بھاگنا ہے۔

ہر ایک کی نہ صرف ضرورتیں پوری کیں بلکہ احساسِ ضرورت بھی عطا کر دیا کہ تجھے اس چیز کی ضرورت ہے پھر اسے  تکمیل کا ذریعہ بھی سمجھا دیا کہ اس طرح تیری ضرورت پوری ہو گی اتنی وسیع ربوبیت بھی ا س کی رحمانیت کا ایک شعبہ ہے۔

الرحمٰن الدنیا ۔وہ سب کے لئے رحمٰن ہے۔پھر مومنوں پہ خاص عنایت کی انہیں نورِ ایمان عطا کر دیا۔یہ اس کی رحیمیت ہے۔ نورِ ایمان رحیمیت ہے کہ یہ نعمت نہ صرف دنیا بلکہ برزخ میں بھی ساتھ رہے گی حشر میں بھی ساتھ رہے گی  اور پھر جنت میں لے جائے گی۔

اسی لئے فرمایا گیا کہ  "الرحمٰن الدنیا والرحیم الاخرۃ" کہ رحمان تو وہ سب کے لئے ہے لیکن رحیم مومنین  کے لئے  کہ انہیں دنیا میں بھی نورِ ایمان جیسی عظیم نعمت عطا فرمائی اور آخرت میں جنت عطا فرمائے گا اور سب سے بڑی نعمت دیدارِ باری تعالیٰ سے عطا فرمائے گا ۔

پھر فرمایا: مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ ۔انصاف کے دن کے مالک ہیں، بدلے کے دن ، یوم حساب کے مالک ہیں ،یومِ جزا کے مالک ہیں،یومِ حشر کے مالک ہیں۔

اس دن کسی اور کی بادشاہی نہیں ہو گا کسی اور کا اختیار نہیں ہو گا ۔صرف وہ ذات ِ برحق ہو گی ۔سوال اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات فرمائے گی ، بازپرس  اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات فرمائے گی ،حساب اللہ تبارک وتعالیٰ کہ ذات  فرمائے گی اور جواب بندے کو دینا ہو گا ۔ کوئی عذر نہیں ہو گا کوئی بہانہ نہیں ہو گا اور سب سے بڑی بات کہ اس کے بعد اب کوئی موقع نہیں ہو گا ۔

یہ بہت بڑی صفت بیان ہوئی ہے اگر اس بات کا یقین اور ایمان قلبِ انسانی میں راسخ ہو جائے تو کیسے ممکن ہے کہ کوئی گناہ کا ارتکاب کرے،کیسے ممکن ہے کہ کوئی اللہ تبارک و تعالیٰ کی نافرمانی کرے۔

عقیدہ آخرت اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ہے۔جب یہ یقین ہو کہ میں نے اللہ کے حضور پیش ہونا ہے ۔اللہ تبارک و تعالی کی ذات مجھ سے سوال فرمائے گی اور میرے پاس کوئی عذر کوئی بہانہ نہیں ہوگا تو ممکن ہی نہیں کہ کوئی زندگی میں اس دنیا میں اللہ تبارک وتعالیٰ کی   نافرمانی کرے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارا عقیدہ آخرت یا تو سرے سے ہے ہی نہیں یا انتہائی کمزور ہے۔ میں نے ان گنہگار کانوں سے سنا ہے کہ جب کسی سے آخرت کے بارے میں بات کی جنت کی نعمتوں یا دوزخ کی سختیوں کی بات کی تو جواب ملتا ہے۔دیکھا جائے گا ،آخرت کا کس کو پتہ ہے جب جائیں گی تو دیکھا جائے گا اور انتہائی لاپرواہی سے یہ کہا جاتا ہے ۔ تو جب آخرت کا عقیدہ اتنا کمزور ہو ،اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونے کی فکر ہی نہ ہو، کسی قسم کا کوئی خوف ہی نہ ہو تو کیسے ممکن ہے کہ ایمان باقی رہے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ ہماری اور ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی

0 Comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔