اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔
رَبِّ اشْرَحْ لِیْ
صَدْرِیْۙوَ
یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْۙوَ
احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْۙیَفْقَهُوْا
قَوْلِیْ۪
قاسمِ فیوضات حضرت مولانا
محمد اکرم اعوان رحمتہ اللہ علیہ اکرم التفاسیر میں اپنے شیخ قلزمِ فیوضات حضرت
مولانا اللہ یار خان رحمتہ اللہ علیہ کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ وہ فرمایا کرتے
تھے "سورۃ الفاتحہ پورے قرآنِ کریم کا خلاصہ ہے، بسم اللہ شریف سورۃ الفاتحہ
کا خلاصہ ہے اور اس کی پہلی "ب" سارے قرآن، سارے دین کا خلاصہ ہے۔ یہ
"ب" تلبس کی ہے ۔تلبس کا مطلب ہوتا ہے جوڑنا۔ کسی چیز کو کسی چیز کے
ساتھ جوڑنا۔ فرمایا سارے دین کا خلاصہ
سارے دین کا حاصل یہ ہے کہ اللہ کا بندہ ، اللہ کے ساتھ جڑ جائے۔
سورۃ الفاتحہ چونکہ قرآن
کریم کا خلاصہ اور حاصل ہے تو اس میں بہت
ساری حکمتیں بیان ہوئیں ہیں۔ سب سے پہلی حکمت یہ ہے کہ ہمیں اس میں دعا مانگنے کا
طریقہ و سلیقہ سکھایا گیا ہے اور وہ اسلوب
و طریقہ یہ ہے کہ جب بھی مانگا جائے ،جب بھی دعا کرنی ہو ،جب بھی التجا کرنی
ہو تو سب سے پہلے اس ذات واحد اللہ تبارک
و تعالیٰ کی ثنا ء اور تسبیح و حمد بیان کی جائے۔ پھر اس کے بعد اپنی عاجزی،اپنی بندگی اپنی حاجت مندی کو بیان کیا
جائے یعنی اپنے کچھ بھی نہ ہونے اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے سب کچھ ہونے کا تصور و
یقین ِ کامل۔پھر اس کے بعد مقصود یعنی جو مانگنا ہے وہ بارگاہِ رب العزت کے سامنے
پیش کیا جائے۔
کیا مانگنا ہے ،کس سے
مانگنا ہے اور کیسے مانگنا ہے غور کرنے پہ
پتہ چلتا ہے کہ یہ سب اس سورۃ میں بیان فرمایا گیا۔
پھر ایک اور قیمتی نکتہ
یہ پتہ چلتا ہے کہ جب بھی اللہ سے مانگا جائے تو بات صرف اپنی نہ کی جائے، بلکہ خود کو سب میں شامل کر دیا جائے کیونکہ جب بات اکیلے کی ہوتی ہے تو بات اور ہے لیکن جب بات سب کی ہوتی ہے تو بات بہت بڑی اور مختلف ہو جاتی ہے۔جب بات سب کی آئے گی تو ان سب میں آدم علیہ السلام سے لے کر خاتم النبیین محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک سب انبیاء بھی آجائیں گے۔اس میں سب صحابہ کرام،صدیقین،شہداء اور صالحین بھی آجائیں گے۔ تو خود کو اکیلا نہیں بلکہ سب کے ساتھ شامل کر دینا چاہیے۔ اس میں شامل مقرب و اعلیٰ ہستیوں کے ساتھ ساتھ ہمارا بھی بھلا ہو جائے گا جیسے اس
سورۃ میں یہ نہیں ارشاد ہوا کہ میں تیری ہی عبادت کرتا ہوں اور میں تجھ ہی سے مدد
مانگتا ہوں بلکہ فرمایا : ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔
اس سورۃ کی ابتدا میں جو
سب سے پہلے بات تعلیم فرمائی گئی وہ یہ ہے کہ پہلے خود کو تمام قسم کے شرکوں سےپاک
کر کے پھر معاملہ اللہ کے ساتھ کیا جائے۔اس بات کا اظہار اس سورۃ کے پہلے لفظ سے
واضح ہو جاتا ہے۔ ارشادِ باری تعالی ہے:
الحمد للہ۔
تمام طرح کی تعریفیں، تمام خوبیاں، تمام کمالات، بڑائیاں۔سب کی سب حمد کے ساتھ الف
لام کے اضافے سے خاص کر دی گئیں اللہ تبارک و تعالیٰ کے لئے۔ وگرنہ عام طور پہ
تعریف اور خوبیوں کا بیان ظاہراً غیراللہ
کے لئے بھی کیا جا رہا ہوتا ہے۔لیکن حقیقت میں ہم جب بھی کسی کی تعریف بیان کرتے
ہیں یا کسی کی کوئی خوبی یا وصف بیان کر رہے ہوتے ہیں مثلاً کوئی علم والا ہے تو اس کے علم کی تعریف
،کوئی حسن والا ہے تو اس کے حسن کی تعریف، کوئی صحت مند ہے تو اس کی صحت کی تعریف۔
حقیقت میں یہ تعریف اس کی نہیں ہوتی بلکہ اس
ذات برحق کی تعریف ہوتی ہے جس نے اس کو یہ وصف،خوبی یا کمال عطا کیا ہوتا ہے۔ تو
تعریف و حمد کی حقیقی سزاوار و حقدار وہ ذات واحد ہی ہے ۔تمام طرح کی تعریفوں کے
لائق اللہ تبارک و تعالیٰ ہی ہے ۔ وہ خوبی تصویر کی نہیں بلکہ مصور کی ہے کمال
مصور کا ہے بڑائی مصور کے لئے ہے۔کائنات میں جس جس کے پاس جو کچھ بھی ہےوہ صرف
اللہ کا ہے ۔اصل مالک وہ ذات ہے۔وہ قائم ہے اور باقی رہنے والی ذات ہے باقی ہر چیز
فانی ہے۔تو سب خوبیاں اللہ کی ہیں سب کمالات اس ذات کے ہیں باقی جو کچھ بھی ہے وہ
اس کی عطا ہے اس کی خوبیوں کا مظہر ہے اس کی عظمت کا اظہار ہے۔
پھر
اس دعوے پہ دلیل پیش کی گئی۔دعویٰ تھا
الحمداللہ(تمام طرح کی تعریفیں صرف اللہ کو سزاوار ہیں) اور اس پہ کیا
ہی خوبصورت دلیل دی گئی فرمایا گیا رب العالمین(تمام جہانوں کا پالنے
والا)کیوں یہ خوبیاں،یہ تعریفیں ،یہ حمد صرف اللہ کے لئے ہے؟ اس لئے کہ وہ رب
العالمین ہے وہ تمام جہانوں کا پالنے والا ہے وہ تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔
مفسرین
بیان فرماتے ہیں کہ اٹھارہ ہزار عالم ہیں۔کچھ نے یہ بھی فرمایا کہ چوبیس ہزار عالم
ہیں۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ان عالمین کا حقیقی علم صرف اللہ تبارک و تعالی ٰ کی ذات کے پاس ہے ۔ یہ
عالمین انسان کی دسترس سے باہر ہیں ۔کوئی مادی علم ،کوئی مادی ذریعہ،کسی بھی قسم
کے جدید علوم ،جدید سائنسی ترقی ان عالمین کو نہیں پہنچ سکتی۔ان عالمین کے کلی علم
سے آشنا نہیں ہو سکتی۔
اللہ کریم فرما رہے ہیں
کہ میں ان عالمین کا رب ہوں۔ یہ رب لفظ بہت ہی وسیع معانی و مفہوم والا لفظ ہے۔رب
العالمین،یعنی میں تمام عالمین کو پالنے والا ہوں،میں تمام عالمین کا پروردگار
ہوں،تمام جہانوں کا پالنہار ہوں۔
جب بات عالمین کے رب کی آئے گی تو میں عرض کرتا چلوں کہ ہم سمجھتے
ہیں کہ دنیا میں جتنی بھی جاندار چیزیں ہیں اللہ انہیں رزق دے رہا ہے لیکن ایسا
نہیں ہے بلکہ ہر چیز کی تمام اشیاء کی ایک حیات ہے ۔حیوان و نباتات ہوں یا چرند
پرند،زمین و آسمان ہوں یا سیارےو ستارے،ہر چیز کی ایک حیات ہے ،ہر چیز کی ایک
زندگی ہے ۔وہ زندگی اس کو اللہ تبارک و تعالی نے عطا کی ہوئی ہے اور پھر ہر مخلوق
کی ضروریات مختلف ہیں ،ان کی زندگی کی بقا کا طریقہ و انداز مختلف ہے ۔ان کی اس
زندگی کو قائم و باقی کس نے رکھا ہوا ہے کون ہے جو ان کی ضروریات پوری فرما رہا ہے۔مثلاً سورج کی زندگی
کیا ہے؟ سورج کی زندگی حدت ہے وہ روشنی مہیا کرتا ہے اگر اس میں یہ حدت نہیں رہے
گی ،وہ روشنی مہیا نہیں کرے گا تو یہ اس کی موت ہے۔اس کو یہ حدت ، یہ روشنی ۔یہ
خاصیت کون دے رہا ہے؟ یقینا ً اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات واحد ہے ۔اسی طرح تمام
مخلوقات اپنے اپنے کام پہ لگی ہوئی ہیں اپنے اپنے فرائض سر انجام دے رہی ہیں اور
اس کے لئے انہیں جو خواص چاہییں،اس کے لئے ان کی جو ضروریات ہیں وہ کون پوری فرما
رہا ہے؟ یقینا ً اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات۔تو بہت وسیع مفہوم ہے اس رب لفظ کا
،پروردگار لفظ کا ،پالنہار لفظ کا ۔حقیقی پروردگار حقیقی پالنہار صرف اللہ تبارک و
تعالیٰ کی ذات ہے باقی اگر کچھ ہے تو وہ ذرائع ہیں جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ کی
ذات نےہمارے لئے ذریعہ اور سبب بنا دیا ہے اور وہ رب صرف میرا رب نہیں وہ صرف میرا پروردگار نہیں۔ہمارے علم میں
جو کچھ ہے وہ صرف ان کا رب نہیں بلکہ وہ رب العالمین ہے،وہ تما م کے تمام جہانوں
کا ر ب ہے ،وہ ہمیں معلوم جہانوں کا بھی رب ہے اور ہزاروں کروڑوں کھربوں جہان جو
ہمارے لئے نامعلوم ہیں وہ ان کا بھی رب ہے۔ جو یہاں فرمایا گیا کہ میں رب العالمین ہوں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں
صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم ِ آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و
ہمت عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین
دعاؤں کا طالب
ابو محمد زبیر اویسی










0 Comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔