اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔
رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْۙ وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْۙ وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْۙ یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪
بِسمِ اللّٰہ کے بارے آئمہ دین کی دو رائے ملتی ہیں جن میں کچھ اہلِ علم حضرات اس کو ہر سورت کا باقاعدہ حصہ مانتے ہیں جبکہ کچھ کے نزدیک یہ صرف سورۃ نمل کی ایک آیت ہے جبکہ باقی سورتوں میں برکت کے لیے اسے ابتدا میں شامل کیا گیا ہے یہ ایک متبرک آغاز بھی ہے اور باعثِ تفریق بھی یعنی اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں سے دوسری سورہ کی ابتداء ہو رہی ہے۔ احناف کی اس بارے میں یہی رائے ہے البتہ امام شافعی پہلی رائے کے قائل ہیں۔
بسم
اللہ کا پہلا لفظ "ب" ہے عربی زبان میں اس کو تلبس کی "ب" کہا
جاتا ہے یعنی ملانے والے ،جوڑنے والی۔ تو ﷽ کا لفظی ترجمہ کچھ یوں ہوا کہ"
ساتھ نام اللہ کے رحمٰن و رحیم" با محاورہ ترجمہ بنتا ہے" شروع اللہ کے نام سے جو بڑے مہربان نہایت رحم کرنے والے ہیں"
اس
آیت مبارکہ میں اللہ تبارک وتعالیٰ کے ذاتی نام یعنی لفظ اللہ کے بعد دو صفاتی نام
بیان فرمائے گئے۔ الرحمن اور الرحیم۔
یہ
دونوں صفاتی نام بڑے ہی قابل غور اور توجہ طلب ہیں۔رحمان اور رحیم کہ مادہ تو ایک ہے
پھر بھی یہ ایک ہی مادے والا لفظ دو بار کیوں ذکر کیا گیا اس لیے کے رحمان اور رحیم
کے مفہوم جدا ہیں عربی میں الفاظ کو فعل سے تولا جاتا ہے۔
الرحمن۔فعلان
کے وزن پر ہے اس وزن پر دوسرے الفاظ مثلاً غضبان غصے میں آیا ہوا عطشان یعنی پیاسا حیران، پریشان۔ اب یہ تمام صفات عارضی ہیں دائمی
نہیں ہیں۔
الرحیم
۔ یہ فعیل کے وزن پر ہے اس وزن پر جتنے الفاظ یا صفات ہیں اُن میں دوام ہوتا ہے جیسے
حکیم، علیم۔ اب کوئی دانا ہے تو وہ دائمی ہے عارضی نہیں ہوتا اسی طرح اگر عالم ہے تو
بھی عارضی نہیں ہو سکتا۔
تو
جو بات ان دونوں الفاظ کی تشریح سے سمجھ آئی وہ یہ ہے کہ رحمٰن وقتی اور عارضی صفت
ہے جبکہ رحیم دائمی صفت ہے۔ اسی لیے فرمایا گیا ہے کہ الرحمٰن الدنیا والرحیم لآخرۃ۔یعنی
رحمٰن صفت اللہ تبارک وتعالیٰ کی صرف دنیا کے لیے ہے جبکہ رحیم دونوں جہانوں کے لیے
ہے۔
دنیا
میں وہ رحمٰن صفت کی وجہ سے اسے بھی دے رہا ہے جو اسکا انکاری ہے اور اسے بھی جو ایمان
والا ہے ۔ بلکہ بسا اوقات کافروں کو زیادہ نوازا ہوا ہے لیکن نور ایمان رحیمیت ہے نیکی
کی توفیق رحیمیت ہے جو نہ صرف دنیا میں بلکہ موت کے بعد قبر میں پھر حشر میں اور پھر
اسکے بعد بھی ہمیشہ جس پر رحیمیت ہو گی اس کے ساتھ رہے گی۔
جبکہ
کافروں کے لیے وہ دنیا میں تو رحمٰن ہے انکو بھی تمام دنیاوی انعامات مثلاً رزق اولاد
اور وسائل کی صورت میں دے رہا ہے لیکن آخرت میں اُن کے وہ ذات بر حق جبار ہو گی قہار
ہو گی۔
اللہ
تبارک وتعالیٰ ہمیں اپنی رحمٰن اور رحیم صفت کے صدقے صراط مستقیم سمجھنے، اس پہ عمل
کرنے اور تا دم آخر اس پر قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا فرمائے۔
آمین
یا رب العالمین
دعاؤں
کا طلبگار
ابو محمد زبیر اویسی










0 Comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔