یہ بلاگ تلاش کریں
موضوعات
آمدو رفت
سورۃالبقرہ کے فضائل
مئی 24, 2021
0
Comments
اس سورت کا نام "بقرہ" اس لیے ہے کہ اس میں ایک جگہ گائے کا ذکر آیا ہے۔
مختصر تعارف:
سورہ بقرہ میں آیات کی تعداد 286 ہے جبکہ 40 رکوع ہیں
جن میں سے ابتدائی 16 رکوع پہلے پارہ میں، 16 رکوع دوسرے پارہ میں اور 8 رکوع
تیسرے پارہ کے ابتدائی حصے میں ہیں۔ سورہ بقرہ کے کل کلمات 6121
اور حروف کی تعداد 25500 ہے۔
زمانۂ نزول:
سورہ بقرہ مدنی سورہ ہے۔ تمام سورہ مدینہ منورہ میں
نازل ہوئی سوائے ایک آیت کے جو 281 ویں آیت ہے جو حجۃ الوداع کے موقع پر مکہ
المکرمہ میں نازل ہوئی۔ اس سورت کا بیشتر حصہ ہجرت مدینہ کے بعد مدنی زندگی کے
بالکل ابتدائی دور میں نازل ہوا ہے۔
فضیلت احادیث کی روشنی میں:
ابومسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا کہ جس نے سورۃ البقرہ کی دو آخری آیتیں رات میں پڑھ لیں وہ اسے ہر آفت سے
بچانے کے لیے کافی ہو جائیں گی۔
صحیح البخاری حدیث #5009
اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رات
کے وقت وہ سورۃ البقرہ کی تلاوت کر رہے تھے اور ان کا گھوڑا ان کے پاس ہی بندھا
ہوا تھا۔ اتنے میں گھوڑا بدکنے لگا تو انہوں نے تلاوت بند کر دی تو گھوڑا بھی رک
گیا۔ پھر انہوں نے تلاوت شروع کی تو گھوڑا پھر بدکنے لگا۔ اس مرتبہ بھی جب انہوں
نے تلاوت بند کی تو گھوڑا بھی خاموش ہو گیا۔ تیسری مرتبہ انہوں نے تلاوت شروع کی
تو پھر گھوڑا بدکا۔ ان کے بیٹے یحییٰ چونکہ گھوڑے کے قریب ہی تھے اس لیے اس ڈر سے
کہ کہیں انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچ جائے۔ انہوں نے تلاوت بند کر دی اور بچے کو وہاں
سے ہٹا دیا پھر اوپر نظر اٹھائی تو کچھ نہ دکھائی دیا۔ صبح کے وقت یہ واقعہ انہوں
نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: ابن حضیر! تم پڑھتے رہتے تلاوت بند نہ کرتے ( تو بہتر تھا ) انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے ڈر لگا کہ
کہیں گھوڑا میرے بچے یحییٰ کو نہ کچل ڈالے، وہ اس سے بہت قریب تھا۔ میں سر اوپر
اٹھایا اور پھر یحییٰ کی طرف گیا۔ پھر میں نے آسمان کی طرف سر اٹھایا تو ایک چھتری
سی نظر آئی جس میں روشن چراغ تھے۔ پھر جب میں دوبارہ باہر آیا تو میں نے اسے نہیں
دیکھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں معلوم بھی ہے وہ کیا چیز
تھی؟ اسید نے عرض کیا کہ نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ فرشتے
تھے تمہاری آواز سننے کے لیے قریب ہو رہے تھے اگر تم رات بھر پڑھتے رہتے تو صبح تک
اور لوگ بھی انہیں دیکھتے وہ لوگوں سے چھپتے نہیں۔
صحیح
البخاری حدیث# 5018
ابوہریرہ
رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ۔ وہ گھر جس
میں سورۃ البقرہ پڑھی جاتی ہے اس میں شیطان داخل نہیں ہوتا“۔
جامع الترمذی حدیث#2881
ابوہریرہ
رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گنتی کے کچھ لشکری بھیجے ( بھیجتے وقت ) ان سے
( قرآن ) پڑھوایا، تو ان میں سے
ہر ایک نے جسے جتنا قرآن یاد تھا پڑھ کر سنایا۔ جب ایک نوعمر نوجوان کا نمبر آیا
تو آپ نے اس سے کہا: اے فلاں! تمہارے ساتھ کیا ہے یعنی تمہیں کون کون سی سورتیں
یاد ہیں؟ اس نے کہا: مجھے فلاں فلاں اور سورۃ البقرہ یاد ہے۔ آپ نے کہا: کیا تمہیں
سورۃ البقرہ یاد ہے؟ اس نے کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: ”جاؤ تم ان سب کے امیر ہو“۔
ان کے شرفاء میں سے ایک نے کہا: اللہ کے رسول! قسم اللہ کی! میں نے سورۃ البقرہ
صرف اسی ڈر سے یاد نہ کی کہ میں اسے (
نماز تہجد میں ) برابر پڑھ نہ سکوں گا۔ آپ
نے فرمایا: ”قرآن سیکھو، اسے پڑھو اور پڑھاؤ۔ کیونکہ قرآن کی مثال اس شخص کے
لیے جس نے اسے سیکھا اور پڑھا، اور اس پر عمل کیا اس تھیلی کی ہے جس میں مشک بھری
ہوئی ہو اور چاروں طرف اس کی خوشبو پھیل رہی ہو، اور اس شخص کی مثال جس نے اسے
سیکھا اور سو گیا اس کا علم اس کے سینے میں بند رہا۔ اس تھیلی کی سی ہے جو مشک بھر
کر سیل بند کر دی گئی ہو“۔
جامع الترمذی حدیث#2876
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر چیز کی ایک چوٹی ہوتی ہے ۱؎ اور قرآن کی چوٹی سورۃ
البقرہ ہے، اس سورۃ میں ایک آیت ہے یہ قرآن کی ساری آیتوں کی سردار ہے اور یہ
آیت آیۃ الکرسی ہے“۔
جامع الترمذی حدیث #2878
ابنِ عربی رحمۃاللہ
علیہ فرماتے ہیں کی سورۃالبقرہ میں ایک
ہزار اوامر ،ایک ہزار نواہی اور ایک ہزار اخبار ہیں۔(تفسیر ابنِ کثیر)
امام بیہقی رحمتہ
اللہ علیہ نے شعبِ ایمان میں حضرت عبد اللہ بن عمر کے سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں
کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بارہ
سال میں سورۃالبقرہ کی تکمیل کی اور جب اس
کو ختم کیا تو ایک اونٹ ذبح کیا۔امام
مالک رحمۃاللہ علیہ نے موطا امام مالک میں ذکر فرمایا ہے کہ انہیں خبر پہنچی کہ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ آٹھ سال تک سورۃ البقرہ پڑھتے رہے۔
امام بیہقی رحمتہ اللہ علیہ نے دلائل میں حضرت عثمان بن عاص رضی اللہ عنہ
سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ مجھے رسول
اللہﷺ نے عامل بنایا حالانکہ میں عمر میں ان چھ افراد سے چھوٹا تھا جو ثقیف سے وفد
کی صورت میں حضور ﷺ کی بارگاہ میں حاضر
ہوئے تھے اس کی وجہ یہ تھی کہ میں سورۃ البقرہ پڑھتا تھا۔
امام بغوی رحمتہ
اللہ علیہ نے معجم الصحابہ میں ابن
العساکر نے اپنی تاریخ میں حضرت ربیعہ
الحرشی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا قرآن کریم کا
کونسا جزو افضل ہے آپ نے فرمایا وہ سورت
جس میں گائے کا ذکر ہے پھر عرض کی گئی سورۃ
البقرہ میں کونسا جزو افضل ہے
فرمایا گیا آیت الکرسی اور سورۃ
البقرہ کی آخری آیات اور یہ عرش کے نیچے سے نازل ہوئیں۔
سرسید احمد خان کی تفسیری غلطیاں-پہلی غلطی
مئی 22, 2021
0
Comments
سورہ فاتحہ کی فضیلت و اہمیت احادیث کی روشنی میں
مئی 01, 2021
0
Comments
واقدی نے یہ واقعہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا
بیان کیا ہے۔ موطا مالک میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابی بن
کعب رضی اللہ عنہ کو آواز دی، وہ نماز میں مشغول تھے، فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ
وسلم سے ملے، فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ پر رکھ
دیا، اس وقت مسجد سے باہر نکل ہی رہے تھے کہ فرمایا: ”میں چاہتا ہوں کہ مسجد سے
نکلنے سے پہلے تجھے ایسی سورت بتاؤں کہ تورات، انجیل اور قرآن میں اس کے مثل
نہیں۔“ اب میں نے اپنی چال سست کر دی اور پوچھا، یا رسول اللہ ! وہ سورت کون
سی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کے شروع میں تم کیا پڑھتے ہو؟“
میں کہا «الْحَمْدُ لِلَّـهِ
رَبِّ الْعَالَمِينَ» پوری سورت تک۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہی وہ
سورت ہے، سبع مثانی اور قرآنی عظیم جو مجھے دیا گیا ہے“ ۔ (مسند احمد:412/2:صحیح)
اس حدیث کے آخری راوی ابوسعید رضی اللہ عنہ ہیں۔ اس بنا پر ابن اثیر اور ان کے ساتھ والے یہاں دھوکا کھا گئے ہیں اور وہ انہیں ابوسعید بن معلٰی سمجھ بیٹھے ہیں۔ درحقیقت یہ ابوسعید خزاعی رحمہ اللہ ہیں اور تابعین میں سے ہیں اور وہ ابوسعید انصاری صحابی ہیں رضی اللہ عنہ۔ ان کی حدیث متصل اور صحیح ہے اور یہ حدیث بظاہر منقطع معلوم ہوتی ہے۔ اگر ابوسعید تابعی کا سیدنا ابی رضی اللہ عنہ سے سننا ثابت نہ ہو اور اگر سننا ثابت ہو تو یہ حدیث شرط مسلم پر ہے۔ وَاللهُ اَعْلَمُ
اس حدیث کے اور بھی بہت سے انداز بیان ہیں، مثلاً مسند
احمد میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں پکارا تو یہ نماز میں تھے “
التفات کیا، مگر جواب نہ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پکارا، سیدنا ابی رضی
اللہ عنہ نے نماز مختصر کر دی اور فارغ ہو کر جلدی سے حاضر خدمت ہوئے السلام علیکم
عرض کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دے کر فرمایا: ”ابی! تم نے مجھے جواب کیوں
نہ دیا؟“ کہا یا رسول اللہ ! میں نماز میں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی آیت
پڑھ کر فرمایا: ”کیا تم نے یہ آیت نہیں سنی؟“ کہا اے اللہ کے رسول ! غلطی ہوئی اب
ایسا نہ کروں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم چاہتے ہو کہ میں تمہیں
ایک ایسی سورت بتاؤں کہ تورات، انجیل، زبور اور قرآن میں اس جیسی سورت نہ ہو۔“
میں کہا ضرور ارشاد فرمائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہاں سے جانے سے
پہلے ہی میں تمہیں بتادوں گا“، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرا ہاتھ تھامے ہوئے
اور باتیں کرتے رہے اور میں نے اپنی چال دھیمی کر دی کہ ایسا نہ ہو کہ وہ بات رہ
جائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر چلے جائیں۔ آخر جب دروازے کے قریب پہنچ گئے
تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ وعدہ یاد دلایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: ”نماز میں کیا پڑھتے ہو؟“، میں نے ام القرآن پڑھ کو سنائی آپ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تورات، انجیل،
زبور اور قرآن میں اس جیسی کوئی اور سورت نہیں، یہ سبع مثانی ہے“ ۔ (مسند
احمد:413/2:صحیح)
ترمذی میں مزید یہ بھی ہے کہ یہی وہ بڑا قرآن ہے جو
مجھے عطا فرمایا گیا ہے ، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (سنن ترمذي:2875،قال الشيخ
الألباني:صحیح)
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے بھی اس باب میں ایک حدیث
مروی ہے۔(سلسلة احادیث صحیحه البانی:1499:صحیح)
مسند احمد کی ایک مطول حدیث میں بھی اسی طرح مروی ہے۔
نسائی کی روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ یہ سورت اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان
تقسیم کر دی گئی ہے ۔ ترمذی اسے حسن غریب کہتے ہیں۔(سنن ترمذي:3125،قال الشيخ
الألباني:صحیح)
مسند احمد میں سیدنا عبداللہ بن جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت استنجے سے فارغ ہوئے ہی تھے، میں نے تین مرتبہ سلام کیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ بھی جواب نہ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لے گئے اور میں غم و رنج کی حالت میں مسجد میں چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد طہارت کر کے تشریف لائے اور تین مرتبہ ہی میرے سلام کا جواب دیا۔ پھر فرمایا: ”اے جابر بن عبداللہ سنو! تمام قرآن میں بہترین سورت «الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» آخر تک ہے“ ۔ (مسند احمد:177/4:صحیح بالشواهد) اس کی اسناد بہت عمدہ ہے۔ ابن عقیل جو اس کا راوی ہے، اس کی حدیث بڑے بڑے ائمہ روایت کرتے ہیں اور عبداللہ بن جابر رضی اللہ عنہ سے مراد ”عبدی صحابی“ ہیں، ابن الجوزی کا بھی یہی قول ہے۔ وَاللهُ اَعْلَمُ
حافظ ابن عساکر کا قول ہے کہ ”یہ عبداللہ بن جابر
انصاری و بیاضی ہیں یہ حدیث اور اس جیسی اور احادیث سے استدلال کر کے اسحاق بن
راہویہ، ابوبکر بن عربی ابن الحضار وغیرہ اکثر علماء نے کہا ہے کہ بعض آیتیں اور
بعض سورتیں بعض پر فضیلت رکھتی ہیں۔“
یہی ایک دوسری جماعت کا بھی خیال ہے کہ کلام اللہ کل کا کل فضیلت میں ایک سا ہے۔ ایک کو ایک پر فضیلت دینے سے یہ قباحت ہوتی ہے کہ دوسری آیتیں اور سورتیں اس سے کم درجہ کی نظر آئیں گی حالانکہ کلام اللہ سارے کا سارا فضیلت والا ہے۔ قرطبی نے اشعری اور ابوبکر باقلانی اور ابوحاتم ابن حبان بستی اور ابوحبان اور یحییٰ رحمہ اللہ علیہم سے یہی نقل کیا ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ سے بھی یہی روایت ہے۔ یہ مذہب منقول ہے لیکن صحیح اور مطابق حدیث پہلا قول ہے۔ وَاللهُ اَعْلَمُ
سورۂ فاتحہ کے فضائل کی مندرجہ بالاحدیثوں کے علاوہ
اور حدیثیں بھی ہیں۔ صحیح بخاری شریف فضائل القرآن میں سیدنا ابوسعید خدری رضی
اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک مرتبہ سفر میں ایک جگہ اترے ہوئے تھے۔ ناگہاں ایک
لونڈی آئی اور کہا کہ یہاں کے قبیلہ کے سردار کو سانپ نے کاٹ کھایا ہے، ہمارے آدمی
یہاں موجود نہیں، آپ میں سے کوئی ایسا ہے کہ جھاڑ پھونک کر دے؟ ہم میں سے ایک شخص
اٹھ کر اس کے ساتھ ہو لیا ہم نہیں جانتے تھے کہ یہ کچھ جھاڑ پھونک بھی جانتا ہے۔
اس نے وہاں جا کر کچھ پڑھ کر دم کر دیا اللہ کے فضل سے وہ بالکل اچھا ہو گیا، تیس
بکریاں اس نے دیں اور ہماری مہمانی کے لیے دودھ بھی بہت سارا بھیجا۔ جب وہ واپس
آئے تو ہم نے پوچھا: کیا تمہیں جھاڑ پھونک کا علم تھا؟ اس نے کہا میں نے تو صرف
سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کیا ہے ہم نے کہا: اس آئے ہوئے مال کو ابھی نہ چھیڑو، پہلے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھ لو۔ مدینہ میں آ کر ہم نے نبی صلی
اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے کیسے معلوم ہوا
کہ یہ پڑھ کر دم کرنے کی سورت ہے؟“ فرمایا: ”اس مال کے حصے کر لو میرا بھی ایک حصہ
لگانا“ ۔ صحیح مسلم شریف اور ابوداوَد میں یہ حدیث ہے۔ (صحیح بخاری:2276)
مسلم کی بعض روایتوں میں ہے کہ دم کرنے والے سیدنا
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ ہی تھے۔ مسلم اور نسائی میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مرتبہ جبرئیل علیہ السلام بیٹھے ہوئے تھے کہ اوپر سے
ایک زور دار دھماکے کی آواز آئی۔ جبرئیل علیہ السلام نے اوپر دیکھ کر فرمایا آج
آسمان کا وہ دروازہ کھلا ہے جو کبھی نہیں کھلا تھا۔ پھر وہاں سے ایک فرشتہ نبی صلی
اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا خوش ہو جائیے دو نور آپ کو ایسے دیے گئے ہیں کہ
آپ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیے گئے سورۂ فاتحہ اور سورۂ بقرہ کی آخری آیتیں ایک
ایک حرف پر نور ہے ۔ (صحیح مسلم:806)
دلائل النبوۃ میں امام بیہقی نے ایک حدیث نقل کی ہے جس
میں ہے کہ یہ سورت سب سے پہلے نازل ہوئی، باقلانی نے نقل کیا ہے کہ ایک قول یہ ہے
کہ سورۃ فاتحہ سب سے پہلے نازل ہوئی اور دوسرا قول یہ ہے کہ «يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ»
[74-المدثر:1] سب سے پہلے نازل ہوئی جیسا کہ صحیح حدیث سیدنا جابر رضی اللہ
عنہ سے مروی ہے اور تیسرا قول یہ ہے کہ سب سے پہلے «اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ
الَّذِي خَلَقَ» (96-العلق:1) نازل ہوئی اور یہی صحیح ہے
سورہ فاتحہ کے اسماء(نام) احادیث کی روشنی میں
مئی 01, 2021
0
Comments
حسن اور ابن سرین رحمہ اللہ علیہم اس کے قائل نہیں۔ وہ
کہتے ہیں کہ لوح محفوظ کا نام «أمُّ الْكِتَاب» ہے۔ حسن رحمہ اللہ کا قول ہے کہ
محکم آیتوں کو «أمُّ الْكِتَاب» کہتے ہیں۔
ترمذی کی ایک صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا: ” «الْحَمْدُ لِلَّـهِ
رَبِّ الْعَالَمِينَ» پوری سورت تک یہی سورت «ام القرآن» ہے اور «ام الکتاب» ہے
اور «سبع مثانی» ہے اور «قرآن عظیم» ہے۔“ [صحیح بخاری:4804]
اس سورت کا نام سورت «الحمد» اور سورۃ «الصلوٰۃ» بھی ہے
۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے میں نے صلوۃ
(یعنی سورۂ فاتحہ) کو پنے اور اپنے بندے کے درمیان نصف نصف تقسیم کر دیا۔ جب
بندہ کہتا ہے «الْحَمْدُ لِلَّـهِ
رَبِّ الْعَالَمِينَ» تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری تعریف کی ،
پوری حدیث تک۔ [صحیح مسلم:395]
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سورۂ فاتحہ کا نام «صلوۃ» بھی
ہے، اس لیے کہ اس سورت کا نماز میں پڑھنا شرط ہے، اس سورت کا نام سورت «الشفاء»
بھی ہے۔ دارمی میں سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ سورت فاتحہ ہر
زہر کی شفا ہے اور اس کا نام سورت «الرقیہ» بھی ہے۔ [بیهقی فی شعب
الایمان:2370:صحیح بالشواهد]
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے جب سانپ کے کاٹے ہوئے
شخص پر اس سورت کو پڑھ کر دم کیا، وہ اچھا ہو گیا تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان
سے فرمایا: ”تمہیں کیسے معلوم ہو گیا کہ یہ «رقیہ» ہے (یعنی پڑھ کر پھونکنے کی
سورت ہے)؟“ [صحیح بخاری:2276]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اسے «اساس القرآن» کہتے
تھے یعنی قرآن کے جڑ یا بنیاد اس سورت کی بنیاد آیت «بِسْمِ اللَّـهِ
الرَّحْمَـٰنِ
الرَّحِيمِ» ہے۔
سفیان بن عینیہ فرماتے ہیں۔ اس کا نام «واقیہ» ہے،
یحییٰ بن کثیر کہتے ہیں اس کا نام «کافیہ» بھی ہے اس لیے کہ یہ اپنے علاوہ سب کی
کفایت کرتی ہے اور دوسری سورت اس سورت کی کفایت نہیں کرتی۔ بعض مرسل حدیثوں میں
بھی یہ مضمون آیا ہے کہ ام القرآن بدل ہے اس کے غیر کا مگر اس کا غیر اس کا بدل
نہیں۔ [دارقطنی:322/1]
اسے سورۃ «الصلوٰۃ» اور سورۃ «الکنز» بھی کہا گیا ہے
زمحشری کی تفسیر کشاف دیکھئے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما، قتادہ، ابوالعالیہ رحمہ
اللہ علیہم فرماتے ہیں کہ یہ سورت مکی ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، مجاہد،
عطاء بن یسار اور زہری رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں، یہ سورت مدنی ہے اور یہ بھی
ایک قول ہے کہ سورت دو مرتبہ نازل ہوئی ایک مرتبہ مکہ میں اور دوبارہ مدینہ میں
لیکن پہلا قول ہی زیادہ ٹھیک ہے اس لئے کہ دوسری آیت میں ہے «وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ
سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنَ الْعَظِيمَ» [15-الحجر:87] یعنی ”
ہم نے تمہیں سبع مثانی سات آیتیں دہرائی جانے والی دی ہیں “۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ابواللیث سمرقندی کا ایک قول قرطبی نے بھی نقل کیا ہے
کہ اس سورت کا نصف تو مکہ شریف میں نازل ہوا اور آخری نصف حصہ مدینہ شریف میں نازل
ہوا لیکن یہ قول بالکل غریب ہے۔ ان آیتوں کی نسبت اتفاق ہے کہ سات ہیں لیکن عمرو
بن عبید نے آٹھ اور حسین جعفی نے چھ بھی کہا ہے اور یہ دونوں قول شاذ ہیں۔
فضیلتِ درود پاک
اگست 09, 2020
0
Comments
ابی بن کعب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب دو تہائی رات گزر جاتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھتے اور فرماتے: لوگو! اللہ کو یاد کرو، اللہ کو یاد کرو، کھڑکھڑانے والی آ گئی ہے اور اس کے ساتھ ایک دوسری آ لگی ہے، موت اپنی فوج لے کر آ گئی ہے۔ موت اپنی فوج لے کر آ گئی ہے“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں آپ پر بہت صلاۃ ( درود ) پڑھا کرتا ہوں سو اپنے وظیفے میں آپ پر درود پڑھنے کے لیے کتنا وقت مقرر کر لوں؟ آپ نے فرمایا: ”جتنا تم چاہو“، میں نے عرض کیا چوتھائی؟ آپ نے فرمایا: ”جتنا تم چاہو اور اگر اس سے زیادہ کر لو تو تمہارے حق میں بہتر ہے“، میں نے عرض کیا: آدھا؟ آپ نے فرمایا: ”جتنا تم چاہو اور اگر اس سے زیادہ کر لو تو تمہارے حق میں بہتر ہے، میں نے عرض کیا دو تہائی؟“ آپ نے فرمایا: ”جتنا تم چاہو اور اگر اس سے زیادہ کر لو تو تمہارے حق میں بہتر ہے، میں نے عرض کیا: وظیفے میں پوری رات آپ پر درود پڑھا کروں؟ ۔ آپ نے فرمایا: ”اب یہ درود تمہارے سب غموں کے لیے کافی ہو گا اور اس سے تمہارے گناہ بخش دیئے جائیں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
جامع الترمذي۔2457
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، عَنْ سُفْيَانَ،
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنِ الطُّفَيْلِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ
كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
إِذَا ذَهَبَ ثُلُثَا اللَّيْلِ قَامَ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوا
اللَّهَ، اذْكُرُوا اللَّهَ جَاءَتِ الرَّاجِفَةُ تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ جَاءَ
الْمَوْتُ بِمَا فِيهِ جَاءَ الْمَوْتُ بِمَا فِيهِ ، قَالَ أُبَيٌّ: قُلْتُ:
يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُكْثِرُ الصَّلَاةَ عَلَيْكَ فَكَمْ أَجْعَلُ لَكَ
مِنْ صَلَاتِي ؟ فَقَالَ: مَا شِئْتَ ، قَالَ: قُلْتُ: الرُّبُعَ
؟ قَالَ: مَا شِئْتَ فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ ، قُلْتُ: النِّصْفَ
؟ قَالَ: مَا شِئْتَ فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ ، قَالَ: قُلْتُ:
فَالثُّلُثَيْنِ ؟ قَالَ: مَا شِئْتَ فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ ، قُلْتُ:
أَجْعَلُ لَكَ صَلَاتِي كُلَّهَا، قَالَ: إِذًا تُكْفَى هَمَّكَ وَيُغْفَرُ
لَكَ ذَنْبُكَ ،
قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

