ویڈیو دیکھنے کیلئے لنک پہ کلک کریں
اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ،
وَالصَّلاۃُ
والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ
مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔
رَبِّ اشْرَحْ لِیْ
صَدْرِیْ ۙوَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙوَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَقُلْنَا
يَاٰدَمُ اسْكُنْ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَكُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِئْتُمَا
وَلَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظّٰلِمِينَ[35]
اور
ہم نے آدم علیہ الصلوۃ و السلام سے فرمایا آپ ؑ اور آپ ؑ کی بیوی جنت میں رہیں اور
اس میں سے جہاں سے چاہیں مزے سے کھائیں( پئیں ) اور اس درخت کے قریب نہ جانا ورنہ
نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔
سابقہ تفاسیر میں اس آیتِ کریمہ کی تفسیر میں
چند اختلافی مسائل ملتے ہیں مفسرین نے ان پہ کافی بحث فرمائی اور عقلی و نقلی
دلائل پیش کئے کسی کو مطالعے کا شوق ہو تو وہ اکابرین کی تفاسیر میں مطالعہ کر
سکتا ہے ،ہم اس بحث میں نہیں جائیں گے اختصار کے ساتھ وہ باتیں آُ کے گوش کزار کیے
دیتا ہوں۔
پہلی
بات کہ وہ جنت کونسی تھی جس میں آدم علیہ
السلام اور ان کی زوجہ کا قیام رہا اور پھر وہ سے زمین کی طرف نکالے گئے کیا یہ
وہی جنت تھی جس کا مومنین سے وعدہ فرمایا گیا اور ہم قرآن و حدیث میں اس کا تذکرہ
پاتے ہیں یا آسمانوں پہ کوئی اور مقام جسے جنت کہا گیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ چونکہ
قرآن و حدیث میں صراحت کے اس جنت کا بیان نہیں ملتا تو ہمیں بھی اس بحث میں نہیں پڑنا چاہیئے کہ وہ
جنت کونسی تھی۔
دوسری
بات کہ وہ درخت کونسا تھا جس سے آدم علیہ
السلام کو منع فرمایا گیا اور آپ علیہ السلام نے اس کا پھل کھا لیا۔ اس کے بارے میں علمائے تفسیر
کی مختلف رائے ملتی ہیں بعض نے
فرمایا گندم ، بعض نے انجیر جبکہ
بعض کے نزدیک انگور۔ لیکن اس درخت کی قسم کے بارے میں بھی قرآن و حدیث میں کوئی
واضح الفاظ موجود نہیں تو ہمیں بھی اسے موضوعِ بحث نہیں بنانا چاہیئے کہ وہ درخت
کونسا تھا جب اللہ تبارک وتعالی ٰ اور اس کے نبی ﷺ نے نہیں بتایا تو اس بحث میں
پڑنا وقت کا ضیاع ہو گا۔
تیسری
اور اہم بات ظالمین کی تشریح و تفسیر سے متعلق ہے۔ بعض نے اس کی تفسیر کچھ اس طرح
کی کہ نعوذ باللہ آدم علیہ السلام نے ظلم کیا اور گناہ و نافرمانی میں مبتلا ہوئے
اور سزا کے طور پہ جنت سے نکالے گئے۔ قاسمِ فیوضات حضرت مولانا محمد اکرم اعوان
رحمتہ اللہ علیہ اکرم التفاسیر میں فرماتے ہیں : ظلم ہوتا ہے کسی بھی چیز کو اس کی
جگہ سے ہٹا دینا ، کسی چیز کو ایسی جگہ رکھ دینا جو اس کا مقام نہ ہو ، کرسی کو
الٹا کر دو تو یہ ظلم ہو جائے گا یعنی
جیسے ہونی چاہیئے تھی ویسی نہیں ہے۔ ا ب یہ الفاظ جب انبیاء علیہم الصلوۃ و السلام
کے لئے استعمال ہوتے ہیں تو ان سے اسم ِ فاعل بنانا شرعاً حرام ہے ، کوئی بھی شخص
اس سے صیغہ نکال کر آدم ؑ کو ظالم کہے گا
تو حرام کار ہو گا اور یہ سخت گناہ ہے۔ یہ اللہ کا اور اس کے نبی ؑ کا معاملہ ہے ،
نبی معصوم ہوتے ہیں ،نبی سے گناہ نہیں ہوتا۔ لیکن یہاں اللہ کریم جسے ظلم قرار دے
رہے ہیں اس سے مراد لغوی معنی نہیں ہو گا ۔ عجیب بات ہے یہ معاملہ جنت کا ہے جہاں
خود گناہ ہوتا ہی نہیں ، گناہ کا صدور کسی صورت ممکن ہی نہیں، تو یہ وہ گناہ نہیں
جو میں اور آپ کرتے ہیں اور ہم سمجھ رہے
ہیں کہ نعوذ باللہ آدم علیہ الصلوۃ والسلام ہماری طرح گناہ گار تھے۔ یہ بات اللہ
تعالیٰ اور اس کے رسول علیہ السلام کے درمیان ہے اور تربیت کا حصہ ہے کہ زمین پہ آُ مکو بے شمار نعمتیں کھانے کو
ملیں گی ، رہنے کو جگہ ملے گی ، بستر ہوں گے ، کپڑے ہوں گے ، گھر ہوں گے لیکن اس
میں جا کر آپ نے میرے احکامات کو نافذ کرنا ہے۔
جمہور
ائمہ تفسیر و حدیث نے عصمتِ انبیاء علیہم الصلوۃ و السلام پہ بے شمار دلائل پیش کیے ہیں اکابرین کی تفاسیر میں ان کا مطالعہ کیا جاسکتا
ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ عصمتِ انبیاء
ہمارے عقیدے و ایمان کا بنیادی جزو ہے۔ میں یہاں اس واقعہ کو بیان کرنے کا
جو مقصد ہے اور اس سے عامتہ المسلمین کو جو درس دینا مقصود ہے اس پہ بات کروں گا۔
اللہ
تبارک وتعالیٰ نے جب جنت کو آدم ؑ اور انکی زوجہ محترمہ کا مسکن بنایا تو اول تو
یہ عارضی قیام گاہ تھی کیوں کہ اس رکوع کے ابتداء میں بتایا جا چکا ہے کہ ان کی
اصل منزل زمین تھی انہیں خلافتِ ارضی سونپی گئی تھی۔ پھر جب ان کو اس عارضی قیام
گاہ میں سب کچھ کھانے پینے کی اجازت دی گئی تو کیونکر اس ایک درخت سے منع فرما دیا
گیا اور نہ صرف پھل کھانے سے منع فرمایا گیا بلکہ الفاظ استعمال ہوئے وَلاَ
تَقرَباَ اس کے قریب نہ جانا۔ یہاں معاملہ ظاہراً تو آدم و حوا علیہم الصلوۃ والسلام کا بیان کیا جا رہا ہے
لیکن اگر ہم اس کے عمومی مفہوم و درس کو سمجھیں تو بنی نوع انسان کو سمجھایا جا
رہا کہ اللہ ربارک وتعالیٰ جب تمہیں کسی
چیز سے منع فرما دیں ، کسی کام کے کرنے سے روک دیں تو شیطان جو پہلے ہی اللہ کے
حکم کا انکار کر کے مردور ہو چکا ہے اور تمہارا دشمن بن چکا ہے تو وہ ضرور آدم
علیہ السلام کی طرح تمہارے دل میں بھی وسوسے ڈالے گا، ضرور تمہیں بہکانے کی کوشش
کرے گا ، ضرور تمہیں اللہ تبارک وتعالیٰ کی نافرمانی پہ اکسائے گا تو جب وہ ایسا
کرے تو تم اس کے بہکاوے سے تبھی بچ سکتے ہو جب اللہ اور اس کے رسولﷺ کی منع کردہ
حرام و مکروہ چیزوں کے قریب بھی نہ جاؤ،
کیونکر اگر تم قریب بھی گئے، تمہارے دل میں شیطان نے شک و تردد پیدا کر لیا تو تمہارے لئے خطرہ اور بڑھ جائے
گا ، نافرمانی کا معاملہ جو شیطان کروانا چاہتا ہے اس کے لئے مزید آسان ہو جائے گا
۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے جو حدیں مقرر کر دی ہیں ، جن چیزوں سے روک دیا ہے ان
کا خیال بھی ذہن میں نہیں لانا، ان کے قریب بھی نہیں جانا جیسے یہاں اصل معاملہ تو
شجرِ ممنوعہ کا پھل کھانا ہے لیکن فرمایا اس
درخت کے قریب بھی نہ جانا کیونکہ اگر قریب گئے تو عین ممکن ہے کہ تم اس کا
پھل کھا بیٹھو جیسا کہ آدم علیہ السلام
بعد میں ہوا۔
اگر
ہم عمومی زندگی میں دیکھیں تو بہت سی چیزیں بذاتِ خود گناہ نہیں ہوتیں لیکن گناہ
کی طرف لے جانے والی ہوتی ہیں تو ان سے بچنا بھی اتنا ہی ضروری ہوتا ہے جتنا کہ
بذاتِ خود گناہ کے کاموں سے۔جیسے آج کل ہمارے معاشرے میں بے حیائی اور جھوٹ عام ہو
چکا ہے اور اس کا سب سے بڑا ذریعہ ہمارا الیکٹرانک و سوشل میڈیا ہے۔ آپ حالات سے
اور اپنے گردو پیش سے آگاہی کیلئے خبریں سننا چاہتے ہیں لیکن جب آپ ایسا کرتے ہیں
تو سب سے پہلے تو آپ کا واسطہ بے حیائی سے پڑتا ہے ، ایک بے حیا و بے پردہ عورت آپ
کو دیکھنے کو ملتی ہے پھر سب سے زیادہ جھوٹ آج کل ہمارے الیکٹرانک و سوشل میڈیا پہ بولا جاتا ہے ، سچ کو تلاش کرنے کے
لئے کئی گھنٹے جھوٹ سننا پڑے گا پھر بھی کوئی گارنٹی نہیں کہ جسے آپ سچ سمجھ رہے
ہیں وہ واقعتاً سچ ہے بھی کہ نہیں۔
بے
حیائی و بے پردگی تو اتنی عام ہے کہ اسلامی پروگرام بھی اس سے محفوظ نہیں رہے۔
تو
فرمایا گیا کہ جس سے اللہ تعالیٰ منع فرما دیں اس کے قریب بھی نہ جاؤ کیونکہ قریب
جانے سے تم خطرے میں آجاؤ گے ، تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤ گے۔
اللہ
تبارک و تعالی ٰ ہمیں ظالمین سے محفوظ فرمائے۔
اللہ
تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم
رہنے کی توفیق و ہمت عطا فرمائے۔
آمین
یا رب العالمین
دعاؤں کا طالب
ابو محمد زبیر اویسی
.jpg)










0 Comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔