:وجہ تسمیہ
اس سورت کا نام "بقرہ" اس لیے ہے کہ اس میں
ایک جگہ گائے کا ذکر آیا ہے۔
مختصر تعارف:
سورہ بقرہ میں آیات کی تعداد 286 ہے جبکہ 40 رکوع ہیں
جن میں سے ابتدائی 16 رکوع پہلے پارہ میں، 16 رکوع دوسرے پارہ میں اور 8 رکوع
تیسرے پارہ کے ابتدائی حصے میں ہیں۔ سورہ بقرہ کے کل کلمات 6121
اور حروف کی تعداد 25500 ہے۔
زمانۂ نزول:
سورہ بقرہ مدنی سورہ ہے۔ تمام سورہ مدینہ منورہ میں
نازل ہوئی سوائے ایک آیت کے جو 281 ویں آیت ہے جو حجۃ الوداع کے موقع پر مکہ
المکرمہ میں نازل ہوئی۔ اس سورت کا بیشتر حصہ ہجرت مدینہ کے بعد مدنی زندگی کے
بالکل ابتدائی دور میں نازل ہوا ہے۔
فضیلت احادیث کی روشنی میں:
ابومسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا کہ جس نے سورۃ البقرہ کی دو آخری آیتیں رات میں پڑھ لیں وہ اسے ہر آفت سے
بچانے کے لیے کافی ہو جائیں گی۔
صحیح البخاری حدیث #5009
اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رات
کے وقت وہ سورۃ البقرہ کی تلاوت کر رہے تھے اور ان کا گھوڑا ان کے پاس ہی بندھا
ہوا تھا۔ اتنے میں گھوڑا بدکنے لگا تو انہوں نے تلاوت بند کر دی تو گھوڑا بھی رک
گیا۔ پھر انہوں نے تلاوت شروع کی تو گھوڑا پھر بدکنے لگا۔ اس مرتبہ بھی جب انہوں
نے تلاوت بند کی تو گھوڑا بھی خاموش ہو گیا۔ تیسری مرتبہ انہوں نے تلاوت شروع کی
تو پھر گھوڑا بدکا۔ ان کے بیٹے یحییٰ چونکہ گھوڑے کے قریب ہی تھے اس لیے اس ڈر سے
کہ کہیں انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچ جائے۔ انہوں نے تلاوت بند کر دی اور بچے کو وہاں
سے ہٹا دیا پھر اوپر نظر اٹھائی تو کچھ نہ دکھائی دیا۔ صبح کے وقت یہ واقعہ انہوں
نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: ابن حضیر! تم پڑھتے رہتے تلاوت بند نہ کرتے ( تو بہتر تھا ) انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے ڈر لگا کہ
کہیں گھوڑا میرے بچے یحییٰ کو نہ کچل ڈالے، وہ اس سے بہت قریب تھا۔ میں سر اوپر
اٹھایا اور پھر یحییٰ کی طرف گیا۔ پھر میں نے آسمان کی طرف سر اٹھایا تو ایک چھتری
سی نظر آئی جس میں روشن چراغ تھے۔ پھر جب میں دوبارہ باہر آیا تو میں نے اسے نہیں
دیکھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں معلوم بھی ہے وہ کیا چیز
تھی؟ اسید نے عرض کیا کہ نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ فرشتے
تھے تمہاری آواز سننے کے لیے قریب ہو رہے تھے اگر تم رات بھر پڑھتے رہتے تو صبح تک
اور لوگ بھی انہیں دیکھتے وہ لوگوں سے چھپتے نہیں۔
صحیح
البخاری حدیث# 5018
ابوہریرہ
رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ۔ وہ گھر جس
میں سورۃ البقرہ پڑھی جاتی ہے اس میں شیطان داخل نہیں ہوتا“۔
جامع الترمذی حدیث#2881
ابوہریرہ
رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گنتی کے کچھ لشکری بھیجے ( بھیجتے وقت ) ان سے
( قرآن ) پڑھوایا، تو ان میں سے
ہر ایک نے جسے جتنا قرآن یاد تھا پڑھ کر سنایا۔ جب ایک نوعمر نوجوان کا نمبر آیا
تو آپ نے اس سے کہا: اے فلاں! تمہارے ساتھ کیا ہے یعنی تمہیں کون کون سی سورتیں
یاد ہیں؟ اس نے کہا: مجھے فلاں فلاں اور سورۃ البقرہ یاد ہے۔ آپ نے کہا: کیا تمہیں
سورۃ البقرہ یاد ہے؟ اس نے کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: ”جاؤ تم ان سب کے امیر ہو“۔
ان کے شرفاء میں سے ایک نے کہا: اللہ کے رسول! قسم اللہ کی! میں نے سورۃ البقرہ
صرف اسی ڈر سے یاد نہ کی کہ میں اسے (
نماز تہجد میں ) برابر پڑھ نہ سکوں گا۔ آپ
نے فرمایا: ”قرآن سیکھو، اسے پڑھو اور پڑھاؤ۔ کیونکہ قرآن کی مثال اس شخص کے
لیے جس نے اسے سیکھا اور پڑھا، اور اس پر عمل کیا اس تھیلی کی ہے جس میں مشک بھری
ہوئی ہو اور چاروں طرف اس کی خوشبو پھیل رہی ہو، اور اس شخص کی مثال جس نے اسے
سیکھا اور سو گیا اس کا علم اس کے سینے میں بند رہا۔ اس تھیلی کی سی ہے جو مشک بھر
کر سیل بند کر دی گئی ہو“۔
جامع الترمذی حدیث#2876
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر چیز کی ایک چوٹی ہوتی ہے ۱؎ اور قرآن کی چوٹی سورۃ
البقرہ ہے، اس سورۃ میں ایک آیت ہے یہ قرآن کی ساری آیتوں کی سردار ہے اور یہ
آیت آیۃ الکرسی ہے“۔
جامع الترمذی حدیث #2878
ابنِ عربی رحمۃاللہ
علیہ فرماتے ہیں کی سورۃالبقرہ میں ایک
ہزار اوامر ،ایک ہزار نواہی اور ایک ہزار اخبار ہیں۔(تفسیر ابنِ کثیر)
امام بیہقی رحمتہ
اللہ علیہ نے شعبِ ایمان میں حضرت عبد اللہ بن عمر کے سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں
کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بارہ
سال میں سورۃالبقرہ کی تکمیل کی اور جب اس
کو ختم کیا تو ایک اونٹ ذبح کیا۔امام
مالک رحمۃاللہ علیہ نے موطا امام مالک میں ذکر فرمایا ہے کہ انہیں خبر پہنچی کہ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ آٹھ سال تک سورۃ البقرہ پڑھتے رہے۔
امام بیہقی رحمتہ اللہ علیہ نے دلائل میں حضرت عثمان بن عاص رضی اللہ عنہ
سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ مجھے رسول
اللہﷺ نے عامل بنایا حالانکہ میں عمر میں ان چھ افراد سے چھوٹا تھا جو ثقیف سے وفد
کی صورت میں حضور ﷺ کی بارگاہ میں حاضر
ہوئے تھے اس کی وجہ یہ تھی کہ میں سورۃ البقرہ پڑھتا تھا۔
امام بغوی رحمتہ
اللہ علیہ نے معجم الصحابہ میں ابن
العساکر نے اپنی تاریخ میں حضرت ربیعہ
الحرشی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا قرآن کریم کا
کونسا جزو افضل ہے آپ نے فرمایا وہ سورت
جس میں گائے کا ذکر ہے پھر عرض کی گئی سورۃ
البقرہ میں کونسا جزو افضل ہے
فرمایا گیا آیت الکرسی اور سورۃ
البقرہ کی آخری آیات اور یہ عرش کے نیچے سے نازل ہوئیں۔