سرسید احمد خان کی تفسیری غلطیاں ۔ دوسری غلطی

0 Comments

 

 شیخ الاسلام حضرت مولانا ثنا ء اللہ امرتسری رحمۃاللہ علیہ کی تفسیر المعروف تفسیرثنائی سے اقتباس

سورۃ البقرہ صفحہ نمبر36 -42











اہل اللہ کا طریقہ اصلاح

0 Comments


قرآن کریم کتابِ ہدایت ہے اور جو کچھ بیان فرماتا ہے یہ اس لیے بیان فرماتا ہے کہ ایک آئینہ ہمارے سامنے آجائے اور اس میں ہم اپنے آپ کو تلاش کر سکیں کہ میں کہاں ہوں۔ہماری مصیبت یہ ہے کہ ہم دوسروں کو تلاش کرتے رہتے ہیں کہ وہ کتنا نیک ہے، کتنا پارسا ہے  حالانکہ دوسروں کی باری بعد میں آتی ہے، پہلے ہر فرد کو اپنی ذات کو تلاش کرنا چاہئے۔ چونکہ آپ کی طرف سے جواب میں نہیں دوں گا، میری طرف سے آپ نہیں دیں گے لیکن مجھے اپنا جواب تو دینا ہو گا۔ میں خود کہاں ہوں اللہ کی بارگاہ میں میرا کتنا خلوص ہے، نبی کریم ﷺ کے ساتھ میں کس حد تک مخلص ہوں؟

اللہ علماء کی برکات سے ہمیں مستفید فرماتا رہے۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ علماءِ ظواہر الحمدللہ، ساری عمر محنت کرتے ہیں، سیکھتے ہیں، ہمیں سکھاتے ہیں، سمجھاتے ہیں،بتاتے ہیں، لیکن ان کی ساری کاوش ہمارے دماغ تک ہوتی ہے، ہماری عقل تک ہوتی ہے،ان کے دلائل ہمارے دماغ کو ، ہماری عقل کو قائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ایک طبقہ جو اہل اللہ اور صوفیاء کا ہے، ان کا طریق مختلف ہے۔ وہ براہِ راست قلب سے بات کرتے ہیں اور شروع ہی اس بات سے کرتے ہیں کہ قلب ذاکر ہو جائے۔ دیکھا یہ گیا ہے کہ ان کی مجلس میں کوئی روک ٹوک، کوئی تنقید نہیں ہوتی لیکن اس کے باوجود جب قلب ذاکر ہو جاتا ہے تو بندے کو خود فکر ہوتی ہے کہ میں کہاں کہاں غلطی کرتا ہوں اور مجھے کن کن باتوں کو چھوڑنا ہے، کن کن کو اختیار کرنا ہے، اپنی اصلاح بندہ خود کرتا چلا جاتا ہے۔ یعنی ان کا طریق یہ ہے کہ وہ بات ہی قلب سے شروع کرتے ہیں اور جب قلب سدھرنا شروع ہوتا ہے تو باقی سارے امور از خود سدھرتے چلے جاتے ہیں۔ یہ اللہ کریم کا احسان  ہے کہ وہ قلوب کی بیماریوں سے نجات اور ایمان و یقین کی دولت سے سرفراز فرمائے۔زندگی بالکل عارضی ہے۔ہمارے سامنے ہزاروں لوگ روز اس جہان سے جاتے ہیں اور ان سے زیادہ اس جہان میں آتے ہیں، ہم بھی ان میں سے ایک ہیں۔ ہمارے پاس بھی دوسرا سانس آنے کی کوئی سند نہیں۔ ایمان و یقین وہ دولت ہے جو موت سے ڈرنے کے بجائے موت کو بھی محبوب بنا دیتی ہے۔ آدمی اس حادثے کے لئے، اس طرف جانے کے لئے تیار ہوتا ہے، بلکہ صوفیاء کا قول تو یہ ہے کہ (الموت جسر،یوصل الحبیب الی الحبیب) موت تو وہ پل ہے، وہ دروازہ ہے،جو اللہ کی بارگاہ میں ، مطلوب کی بارگاہ میں طالب کو پہنچا دیتا ہے۔ اس کا مقصود ہی اللہ ہے۔ ساری زندگی وہ اس کی طلب میں لگا رہا، اس کے جمال کی طلب میں لگا رہا، اس کی اطاعت کرتا رہا ، اس لیے کہ اسے وصال الیٰ نصیب ہو ۔ تو موت ہی وہ پل ہے جو اسے اس پار پہنچا دیتا ہے۔ اس طرح گھبرانے یا ڈرنے کے بجائے موت بھی ایک محبوب منزل بن جاتی ہے۔


اقتباس از اکرم التفاسیر صفحہ نمبر 43

طریقہ ذکر پاس انفاس بطریق سلسلہ عالیہ نقشبندیہ اویسیہ

0 Comments

 

اس طریقہ کے مطابق  تیسرا کلمہ، دوسرا کلمہ ،استغفار،درود پاک،تعوذ اور تسمیہ پڑھنے کے بعد پہلا لطیفہ ربانی قلب پہ ذکر شروع کریں مشائخ ِ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ اویسیہ فرماتے ہیں  کہ افضل وقت تہجداور مغرب ہے لیکن کسی بھی وقت  اللہ کی رضا کی طلب کے ساتھ اس کو متواتر اختیار کریں باقی یہ خود آپ کو آپ کی کیفیت میں بتا دے گا۔


برکاتِ نبوت صلی اللہ علیہ وسلم اور ضرورتِ شیخ کامل

0 Comments

 

بنیادی طور پر علوم دینیہ کا شجر دو شاخوں پر مشتمل ہے۔علوم ظاہریہ اور علوم باطنیہ۔ علومِ ظاہریہ کو ظاہری شریعت یعنی قرآن و حدیث اور علومِ باطنیہ کو طریقت و تصوف یا مزید آسانی کے لئے آپ کہ سکتے ہیں تعلیماتِ نبوت اور برکات و کیفیاتِ نبوت صلی اللہ علیہ وسلم۔

تعلیماتِ نبوت علماءِ ظاہر سے اور برکاتِ نبوت علماءِ باطن سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔

میرے ناقص علم کے مطابق چودہ صدیوں میں یہ دونوں علومِ اسلامیہ یکجا رہے کوئی بھی عالمِ دین ایسا نہیں گزرا جس کے پاس یہ دونوں علومِ دینیہ نہ ہوں بظاہر اس کی وجہ شہرت جو بھی ہو مفسر،محدث،مؤرخ،جرنیل،بادشاہ وغیرہ کوئی بھی نہ تو ظاہری علوم سے لاعلم تھا اور نہ ہی کوئی غیر صوفی تھا۔

دور حاضر میں جہاں ایک طرف تو تصوف و طریقت کے نام پہ مختلف شعبدہ بازوں اور جعلی پیروں نے لوگوں کو گمراہ کیا دوسری طرف علومِ ظاہریہ کے حاملیں نے تصوف و طریقت یا تو بالکل غیر ضروری سمجھا اور چھوڑ دیا یا پھر سرے سے اس کا انکار کردیا بلکہ بعض نے تو اسے بدعت و خرافات تک کہا۔

میں سمجھتا ہوں جس طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے علومِ شریعت کے محافظ علماءِ دین کو بنایا اور علماءِ حق قیامت تک موجود رہیں گے اسی طرح علومِ طریقت یعنی کیفیات و برکاتِ نبوت کا حامل اہل اللہ کو بنایا اور یہ اہل اللہ،صوفیاء یا بزرگانِ دین بھی قیامت تک موجود رہیں گے۔

سابقہ جتنے صوفیاء کرام گزرے ان کی معرفت و برکات سے مزین کتابیں بھی ہم ان اہل اللہ کے بغیر ممکن نہیں کہ سمجھ سکیں یا شاید پھر ہمارے لیے وہ صرف واقعات و حالات کی کتابیں بن جائیں۔ ان تصنیفات میں اولیاء کرام نے واقعات و حالات ضرور بیان فرمائے لیکن اصل بات جو صوفیاء کرام کی کتب میں موجود ہے وہ کیفیات ہیں۔ اور کیفیات چونکہ صفتِ لطیف رکھتی ہیں اس لئے ان کو حواسِ خمسہ کے ذریعہ سے سمجھا بھی نہیں جا سکتا۔اس کی لئے روحانی لطافت کی ضرورت ہوتی ہے۔اور روحانی لطافت ہمیں کسی اہل اللہ، کسی صوفی،کسی شیخ یا مرشد کی صحبت و خدمت میں رہنے سے حاصل ہو گی۔

ابو محمد زبیر اویسی

اصلاحِ قلب اور ضرورتِ شیخ

0 Comments

بنیادی طور پر علوم دینیہ کا شجر دو شاخوں پر مشتمل ہے۔علوم ظاہریہ اور علوم باطنیہ۔ علومِ ظاہریہ کو ظاہری شریعت یعنی قرآن و حدیث اور علومِ باطنیہ کو طریقت و تصوف یا مزید آسانی کے لئے آپ کہ سکتے ہیں تعلیماتِ نبوت اور برکات و کیفیاتِ نبوت صلی اللہ علیہ وسلم۔

تعلیماتِ نبوت علماءِ ظاہر سے اور برکاتِ نبوت علماءِ باطن سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔

میرے ناقص علم کے مطابق چودہ صدیوں میں یہ دونوں علومِ اسلامیہ یکجا رہے کوئی بھی عالمِ دین ایسا نہیں گزرا جس کے پاس یہ دونوں علومِ دینیہ نہ ہوں بظاہر اس کی وجہ شہرت جو بھی ہو مفسر،محدث،مؤرخ،جرنیل،بادشاہ وغیرہ کوئی بھی نہ تو ظاہری علوم سے لاعلم تھا اور نہ ہی کوئی غیر صوفی تھا۔

دور حاضر میں جہاں ایک طرف تو تصوف و طریقت کے نام پہ مختلف شعبدہ بازوں اور جعلی پیروں نے لوگوں کو گمراہ کیا دوسری طرف علومِ ظاہریہ کے حاملیں نے تصوف و طریقت یا تو بالکل غیر ضروری سمجھا اور چھوڑ دیا یا پھر سرے سے اس کا انکار کردیا بلکہ بعض نے تو اسے بدعت و خرافات تک کہا۔

میں سمجھتا ہوں جس طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے علومِ شریعت کے محافظ علماءِ دین کو بنایا اور علماءِ حق قیامت تک موجود رہیں گے اسی طرح علومِ طریقت یعنی کیفیات و برکاتِ نبوت کا حامل اہل اللہ کو بنایا اور یہ اہل اللہ،صوفیاء یا بزرگانِ دین بھی قیامت تک موجود رہیں گے۔

سابقہ جتنے صوفیاء کرام گزرے ان کی معرفت و برکات سے مزین کتابیں بھی ہم ان اہل اللہ کے بغیر ممکن نہیں کہ سمجھ سکیں یا شاید پھر ہمارے لیے وہ صرف واقعات و حالات کی کتابیں بن جائیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ ان تصنیفات میں اولیاء کرام نے واقعات و حالات ضرور بیان فرمائے لیکن اصل بات جو صوفیاء کرام کی کتب میں موجود ہے وہ کیفیات ہیں۔ اور کیفیات چونکہ صفتِ لطیف رکھتی ہیں اس لئے ان کو حواسِ خمسہ کے ذریعہ سے سمجھا بھی نہیں جا سکتا۔اس کی لئے روحانی لطافت کی ضرورت ہوتی ہے۔اور روحانی لطافت ہمیں کسی اہل اللہ، کسی صوفی،کسی شیخ یا مرشد کی صحبت و خدمت میں رہنے سے حاصل ہو گی۔ 

مزید تفصیل کیلئے حضرت امیر محمد اکرم اعوان رحمۃاللہ تعالیٰ کی کتاب کا لنک نیچے دیا گیا ہے ضرور مطالعہ فرمائیں  علم وعمل میں برکت کا باعث ہو گا ۔انشاءاللہ

ڈاؤنلوڈ کیلئے کتاب کی سرِورق  پہ کلک کریں


دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی


سورۃالبقرہ کے فضائل

0 Comments

:وجہ تسمیہ

اس سورت کا نام "بقرہ" اس لیے ہے کہ اس میں ایک جگہ گائے کا ذکر آیا ہے۔

مختصر تعارف:

سورہ بقرہ میں آیات کی تعداد 286 ہے جبکہ 40 رکوع ہیں جن میں سے ابتدائی 16 رکوع پہلے پارہ میں، 16 رکوع دوسرے پارہ میں اور 8 رکوع تیسرے پارہ کے ابتدائی حصے میں ہیں۔ سورہ بقرہ کے کل  کلمات 6121  اور حروف کی تعداد 25500 ہے۔

زمانۂ نزول:

سورہ بقرہ مدنی سورہ ہے۔ تمام سورہ مدینہ منورہ میں نازل ہوئی سوائے ایک آیت کے جو 281 ویں آیت ہے جو حجۃ الوداع کے موقع پر مکہ المکرمہ میں نازل ہوئی۔ اس سورت کا بیشتر حصہ ہجرت مدینہ کے بعد مدنی زندگی کے بالکل ابتدائی دور میں نازل ہوا ہے۔

فضیلت احادیث کی روشنی میں:

ابومسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے سورۃ البقرہ کی دو آخری آیتیں رات میں پڑھ لیں وہ اسے ہر آفت سے بچانے کے لیے کافی ہو جائیں گی۔

صحیح البخاری حدیث #5009

اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ  رات کے وقت وہ سورۃ البقرہ کی تلاوت کر رہے تھے اور ان کا گھوڑا ان کے پاس ہی بندھا ہوا تھا۔ اتنے میں گھوڑا بدکنے لگا تو انہوں نے تلاوت بند کر دی تو گھوڑا بھی رک گیا۔ پھر انہوں نے تلاوت شروع کی تو گھوڑا پھر بدکنے لگا۔ اس مرتبہ بھی جب انہوں نے تلاوت بند کی تو گھوڑا بھی خاموش ہو گیا۔ تیسری مرتبہ انہوں نے تلاوت شروع کی تو پھر گھوڑا بدکا۔ ان کے بیٹے یحییٰ چونکہ گھوڑے کے قریب ہی تھے اس لیے اس ڈر سے کہ کہیں انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچ جائے۔ انہوں نے تلاوت بند کر دی اور بچے کو وہاں سے ہٹا دیا پھر اوپر نظر اٹھائی تو کچھ نہ دکھائی دیا۔ صبح کے وقت یہ واقعہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابن حضیر! تم پڑھتے رہتے تلاوت بند نہ کرتے  ( تو بہتر تھا )  انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے ڈر لگا کہ کہیں گھوڑا میرے بچے یحییٰ کو نہ کچل ڈالے، وہ اس سے بہت قریب تھا۔ میں سر اوپر اٹھایا اور پھر یحییٰ کی طرف گیا۔ پھر میں نے آسمان کی طرف سر اٹھایا تو ایک چھتری سی نظر آئی جس میں روشن چراغ تھے۔ پھر جب میں دوبارہ باہر آیا تو میں نے اسے نہیں دیکھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں معلوم بھی ہے وہ کیا چیز تھی؟ اسید نے عرض کیا کہ نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ فرشتے تھے تمہاری آواز سننے کے لیے قریب ہو رہے تھے اگر تم رات بھر پڑھتے رہتے تو صبح تک اور لوگ بھی انہیں دیکھتے وہ لوگوں سے چھپتے نہیں۔

 صحیح البخاری حدیث# 5018

 ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ۔ وہ گھر جس میں سورۃ البقرہ پڑھی جاتی ہے اس میں شیطان داخل نہیں ہوتا“۔

جامع الترمذی حدیث#2881

 ابوہریرہ رضی الله عنہ فرماتے  ہیں کہ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گنتی کے کچھ لشکری بھیجے  ( بھیجتے وقت )  ان سے  ( قرآن )  پڑھوایا، تو ان میں سے ہر ایک نے جسے جتنا قرآن یاد تھا پڑھ کر سنایا۔ جب ایک نوعمر نوجوان کا نمبر آیا تو آپ نے اس سے کہا: اے فلاں! تمہارے ساتھ کیا ہے یعنی تمہیں کون کون سی سورتیں یاد ہیں؟ اس نے کہا: مجھے فلاں فلاں اور سورۃ البقرہ یاد ہے۔ آپ نے کہا: کیا تمہیں سورۃ البقرہ یاد ہے؟ اس نے کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: ”جاؤ تم ان سب کے امیر ہو“۔ ان کے شرفاء میں سے ایک نے کہا: اللہ کے رسول! قسم اللہ کی! میں نے سورۃ البقرہ صرف اسی ڈر سے یاد نہ کی کہ میں اسے  ( نماز تہجد میں )  برابر پڑھ نہ سکوں گا۔ آپ نے فرمایا: ”قرآن سیکھو، اسے پڑھو اور پڑھاؤ۔ کیونکہ قرآن کی مثال اس شخص کے لیے جس نے اسے سیکھا اور پڑھا، اور اس پر عمل کیا اس تھیلی کی ہے جس میں مشک بھری ہوئی ہو اور چاروں طرف اس کی خوشبو پھیل رہی ہو، اور اس شخص کی مثال جس نے اسے سیکھا اور سو گیا اس کا علم اس کے سینے میں بند رہا۔ اس تھیلی کی سی ہے جو مشک بھر کر سیل بند کر دی گئی ہو“۔

جامع الترمذی حدیث#2876

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر چیز کی ایک چوٹی ہوتی ہے ۱؎ اور قرآن کی چوٹی سورۃ البقرہ ہے، اس سورۃ میں ایک آیت ہے یہ قرآن کی ساری آیتوں کی سردار ہے اور یہ آیت آیۃ الکرسی ہے“۔

جامع الترمذی حدیث #2878

ابنِ  عربی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں کی سورۃالبقرہ میں  ایک ہزار اوامر ،ایک ہزار نواہی اور ایک ہزار اخبار ہیں۔(تفسیر ابنِ کثیر)

امام  بیہقی رحمتہ اللہ علیہ نے شعبِ ایمان میں حضرت عبد اللہ بن عمر کے سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے  بارہ سال  میں سورۃالبقرہ کی تکمیل کی اور جب اس کو ختم کیا تو   ایک اونٹ ذبح کیا۔امام مالک رحمۃاللہ علیہ نے موطا امام مالک میں ذکر فرمایا ہے کہ انہیں خبر پہنچی کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ آٹھ سال تک سورۃ البقرہ پڑھتے رہے۔

امام بیہقی رحمتہ اللہ علیہ نے  دلائل میں حضرت عثمان بن عاص رضی اللہ عنہ سے  روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہﷺ نے عامل بنایا حالانکہ میں عمر میں ان چھ افراد سے چھوٹا تھا جو ثقیف سے وفد کی صورت میں  حضور ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تھے اس کی وجہ یہ تھی کہ میں سورۃ البقرہ پڑھتا تھا۔

امام بغوی  رحمتہ اللہ علیہ نے  معجم الصحابہ میں ابن العساکر نے اپنی تاریخ میں  حضرت ربیعہ الحرشی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا قرآن کریم کا کونسا جزو افضل ہے آپ نے فرمایا  وہ سورت جس میں گائے کا ذکر ہے  پھر عرض کی گئی  سورۃ  البقرہ میں کونسا جزو افضل ہے  فرمایا گیا  آیت الکرسی اور سورۃ البقرہ کی آخری آیات اور یہ عرش کے نیچے سے نازل ہوئیں۔