تفسیر سورۃ البقرہ - آیت نمبر 1 - حروفِ مقطعات کا مفہوم و مطلب

0 Comments

 

اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْۙوَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْۙوَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْۙیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

سورۃ البقرہ کی ابتدا حروفِ مقطعات سے ہوتی ہے ارشادِ باری تعالیٰ ہے: الٓمّٓۚ(۱)

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہر کتاب میں ایک خاص راز ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں جو راز رکھا ہے وہ سورتوں کے شروع میں آنے والے حروف یعنی حروفِ مقطعات ہیں۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہر کتاب کے کچھ منتخبات ہوتے ہیں اور اس کتاب یعنی قرآنِ کریم کے منتخبات حروفِ تہجی یعنی حروفِ مقطعات ہیں۔

حروف مقطعات کا حقیقی علم اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے ساتھ مخصوص فرمایا ہےاور یہ حروف قرآنِ کریم کے راز ہیں ۔ہمیں ان کے ظاہر پہ ایمان لانا چاہیے اور ان کے حقیقی معانی و مفاہیم اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنے چاہییں۔

دوسرا گروہ ان حروف کے معانی و مفاہیم بیان کرتا ہے جس میں حضرت عبداللہ بن عباس،محمد بن کعب ،حضرت سعید بن جبیر رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین اور حضرت مجاہد  رحمتہ اللہ علیہ۔دورِ حاضر میں شاہ ولی اللہ رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی کتاب الفوزالکبیر کے آخری حصے میں حروفِ مقطعات پہ سیر حاصل گفتگو فرمائی ہے۔ اللہ تبارک تعالیٰ شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے درجات بلند فرمائے۔ہماری اتنی اوقات نہیں کہ شاہ ولی اللہ رحمتہ اللہ علیہ جیسی عظیم ہستی پہ تنقید یا بحث کر سکیں۔

میں نے اپنے شیخ المکرم حضرت امیر عبد القدیر اعوان مد ظلہ العالی سے شاہ ولی اللہ رحمتہ اللہ علیہ کی حروفِ مقطعات کی اس تفسیر و تشریح کے بارے  میں دریافت فرمایا تو حضرت نے شاہ صاحب کی تعریف بھی فرمائی اور فرمایا کہ چونکہ ہم مکلف نہیں ان حروف کی تفسیر و تشریح جاننے کےتو ہمیں ان حروف کے معاملے میں بحث میں نہیں پڑنا چاہیے۔

میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں ان کے ظاہر پہ ایمان لانے کے بعدان کی کسی بھی قسم کی تفسیر وتشریح سے اجتناب کرنا چاہیے جیسا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اقوال بھی یہی ظاہر کرتے ہیں۔ ہمیں چونکہ قرآن ِ کریم میں ان حروف کی تفسیر و تشریح کے بارے میں کوئی رہنمائی نہیں ملتی اور نہ ہی احادیثِ مبارکہ میں ان کی تفسیر وتشریح بیان کی گئی ہے تو ہمیں بھی کوشش کرنی چاہیے کہ ان کی تفسیر و تشریح میں نہ پڑا جائے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی

0 Comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔