اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔
رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْۙ وَ
یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْۙ وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْۙ یَفْقَهُوْا
قَوْلِیْ۪
حروفِ مقطعات کے بعد
ارشاد ہوتا ہے: ذٰلِكَ
الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ فِیْهِ ۚۛ یہ خاص کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں۔
یہاں پہ جو ذٰلِکَ لفظ
استعمال ہوا ہے اس کے بارے میں مفسریں کی مختلف رائے ملتی ہیں۔ ایک گروہ کی اس
بارے میں یہ رائے ہے کہ یہ ذٰلِکَ لفظ چونکہ دور کیلئے اسمِ اشارہ ہے تو یہ قرآن
میں اور بھی کئی جگہ اسی اسلوب کے تحت اسمِ اشارہ استعمال ہوا ہے اور یہاں پہ بھی ذٰلِکَ لفظ "ھٰذَا" یعنی This
کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ یہاں پہ ترجمہ کرتے وقت ذٰلِکَ کا ترجمہ "وہ
کتاب" نہیں بلکہ"یہ کتاب" کریں گے۔ دوسرا قول جو اس بارے میں ہے وہ
یہ ہے کہ یہاں "ھٰذَا" پوشیدہ ہے یعنی اصل جملہ اصل آیت کچھ اس طرح بنتی
ہے کہ ھٰذَا ذٰلِكَ الْكِتٰبُ "یہ وہ کتاب ہے" اس سے مراد
یہ ہے کہ یہ وہ کتاب ہے جس کا آپﷺ سے تورات و زبور میں وعدہ فرمایا گیا ، سابقہ
انبیاء کی زبانی اس کی بشارتیں دی گئیں کہ یہ وہ کتاب ہے کہ جس میں کوئی شک نہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہم ذٰلِکَ کے حقیقی معنی جو دوری کی
ہیں، وہ لیں تو وہ بھی بہت خوبصورت مطلب سمجھ میں آتا ہے یعنی " وہ
کتاب" تو چونکہ نبی کریمﷺ کی زندگی میں، انکی حیاتِ مطہرہ میں جب قرآنِ کریم
کا نزول ہو رہا تھا تو اس وقت ابھی کتاب یعنی قرآنِ کریم باقاعدہ کتابی شکل میں
موجود نہیں تھی ۔قرآنِ کریم کو کتابی شکل میں پہلی دفعہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ
عنہ نے اور پھر جو نسخہ آج ہمارے پاس ہے اسے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے جمع
فرما کر باقاعدہ کتابی شکل میں تیار کرایا۔ اسی لئے اسے مصحفِ عثمانی بھی کہا جاتا
ہے۔
تو اگر ہم ذٰلِکَ سے مراد اشارہ بعید لیں تو اس سے مراد یہ ہو
گا کہ وہ کتاب جو لوحِ محفوظ میں محفوظ ہے یا وہ کتاب جو ماہِ مبارک رمضان المبارک
کی بابرکت رات شبِ قدر میں آسمانِ دنیا پہ اتاری گئی جو بعد میں وقتاً فوقتاً آپ
علیہ الصلٰوۃ والسلام کے قلبِ اطہر پہ نازل ہوتی رہی یا ہم اس سے مراد یہ لیں کہ
آپ ﷺ کی حیاتِ طیبہ میں چونکہ قرآنِ کریم باقاعدہ کتابی شکل میں مرتب نہیں تھا تو اس میں اشارہ ہے اس کتاب
کی طرف جو مستقبل میں مرتب ہو گی تو اس میں کسی قسم کا کوئی شک و شبہ نہیں۔یعنی
اس آیت میں قرآن کریم کی گواہی دی جارہی
ہے کہ جب یہ باقاعدہ کتابی صورت میں اصحابِ محمد الرسول اللہﷺ مرتب فرمائیں گےجیسا
کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اس کے نسخے تیار کرا کے سلطنتِ اسلامیہ میں
پھیلا دیئے۔ تو ان کے اس اقدام سے پہلے ہی فرما دیا گیا کہ وہ کتاب لاریب ہے ، اس
میں شک وشبہ میں نہ پڑنا جیسا کہ بعض گمراہوں نے یہ عقیدہ اختیار کیا کہ یہ نسخہ
مکمل نہیں۔
تو میں سمجھتا ہوں کہ ذٰلِکَ ان تینوں حالتوں کی طرف بھی اشارہ
کرتا ہے
پہلی: لوح ِ محفوظ والی کتابی حالت
دوسری:آسمان دنیا پہ نزول والی کتابی حالت
تیسری: آپﷺ کے وصال کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین
نے جمع فرما کر کتابی شکل دی اور تب سے اب تک نسل در نسل مسلمانوں کے پاس حرف
باحرف محفوظ چلا آرہا ہے اور قیامت تک رہے گا۔
موجودہ دور میں چونکہ ہمارے پا س یہ کتابی شکل میں موجود ہے تو
میں سمجھتا ہوں کہ اس لفظ کا ترجمہ "یہ" زیادہ مناسب و موزوں
ہےیعنی" یہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں"
پھر ارشاد فرمایا گیا : هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَۙۛ ہدایت ہے متقین کےلئے
قاسمِ فیوضات حضرت مولانا محمد اکرم اعوان رحمۃ اللہ علیہ اکرم التفاسیر میں فرماتے
ہیں کہ هُدًى کا معنی عربی زبان میں بہت وسیع ہے۔ اگر اسے مختصر الفاظ میں سمونا
ہو تو اس کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ کسی بھی کام کو کرنے کا جو صحیح ترین طریقہ ہے وہ
هُدًى کہلائے گا۔فسر ہو ، حضر ہو،خرید و
فروخت ہو، دوستی ودشمنی ہو،معاشرتی مسائل ہوں، سیاسی ہوں ، ملکی ہوں ،قومی ہوں،
کسی بھی کام کو کرنے کا جو صحیح ترین طریقہ ہے وہ هُدًى کہلائے گا۔ فرمایا"
یہ کتاب کتابِ ہدایت ہے لیکن لِّلْمُتَّقِیْنَ
اہلِ
تقویٰ کیلئے۔ اب جیسے بارش برستی ہے، ہر ایک پہ برستی ہے، امیر ہو یا غریب ،
خوبصورت جگہ ہو یا بد صورت۔ لیکن اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ دامن اسی کا تر ہو گا
جو بارش میں کھڑا ہو گا ۔ اگر کوئی خود کو الگ کر لیتا ہے کسی مکان میں روپوش ہو
جاتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ میرا دامن تو گیلا نہیں ہوا تو قصور بارش کا نہیں
ہوگا، قصور اس آدمی کا ہو گا۔اسی طرح کتاب ہدایت ہے لیکن ان لوگوں کے لئے جو اہلِ
تقویٰ ہوں اور ہدایت کے خواہش مند ہوں۔
قاسمِ فیوضات حضرت مولانا محمد اکرم
اعوان رحمتہ اللہ علیہ تقویٰ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ تقویٰ کا ترجمہ اکثر احباب
"ڈر" لکھتے ہیں۔ ڈر بے شمار قسم کے ہوتے ہیں۔ہم ایذاء پہنچانے والی
چیزوں سے ڈرتے ہیں، چور سے بھی ڈرتے ہیں۔دشمن کا اور جان کا ڈر اور خطرہ بھی ہوتا
ہے۔ یہاں ان میں سے کوئی بھی ڈر مراد نہیں،
اور لفظ ڈر تقویٰ کے مفہوم کو ادا نہیں کر پاتا۔ تقویٰ ایک ایسا ڈر ہے جو کسی محبت
کرنے والے کو اپنے محبوب کی ناراضگی کا ہوتا ہے۔ہم والدین سے محبت کرتے ہیں تو کوئی کام کرنے سے
پہلے یہ خیال ضرور آتا ہے کہ کہیں والدِ گرامی ناراض تو نہیں ہوں گے۔اس لیے کہ
ہمارے دل میں ان کا ایک مقام ہے،ایک عظمت ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ وہ ہم سے خفا ہوں۔
تو تقویٰ نہ صرف گناہوں کو چھوڑنا بلکہ
ایسے کاموں سے بھی اجتناب کرنا جو کہ مشکوک ہوں یعنی بذاتِ خود گناہ نہ ہوں لیکن
گناہ کی طرف لے جانے والے ہوں۔ تو ایسے تمام کاموں سے ایسی تمام چیزوں سے اجتناب
کرنا تقویٰ کہلائے گا۔
ترمذی شریف اور ابنِ ماجہ کی روایت ہے کہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "بندہ اس وقت تک متقین کے درجے میں شامل نہیں ہو سکتا
جب تک ان چیزوں کو نہ چھوڑ دے جن میں حرج نہیں اس ڈر سے کہ کہیں وہ حرج میں مبتلا
نہ ہو جائے۔"
ایک
روایت مین ہے کہ حضرت عمر ابنِ خطاب رضی
اللہ عنہ نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا کہ تقویٰ سے کیا مراد
ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ کبھی آپ کانٹے
دار رستے پہ چلے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: ہاں
کیوں نہیں۔ تو انہوں نے پوچھا کہ آپ وہاں
کیا کرتے ہیں؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کپڑوں کو سمیٹ لیتا ہوں اور جسم
کو بچاتا ہوں تو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ
عنہ نے فرمایا کہ یہی تقویٰ ہے۔
تو
ان روایات سے یہ سمجھ آتا ہے کہ تقویٰ انتہائی احتیاط کا نام ہے۔ نہ صرف یہ کہ
واضح گناہوں سے بچا جائے بلکہ ان چیزوں سےبھی بچا جائے جو کسی گناہ کا سبب بننے
والی ہوں یا گناہوں کی طرف لے جانی والی ہوں۔
تقویٰ
ایک ایسی کیفیت ہے کہ محبوب کی ناراضگی سے بچنے کیلئے ان کاموں سے بھی پرہیز کہ جن میں شک ہو کہ ہو سکتا ہے کہ اس سے میرا
محبوب ناراض ہو جائے، ہو سکتا ہے کہ یہ کام مجھے ایسے کام کی طرف لے جائیں جو میرے
رب اللہ تبارک وتعالیٰ کی ناراضگی کا سبب ہوں جو
روزِ محشر اللہ تبارک و تعالیٰ اور حضرت محمد ﷺ کے سامنے میرے لئے شرمندگی کا باعث ہوں۔ جیسے بے عمل اور
بے نمازیوں کی صحبت سے اس نیت سے پرہیز کرنا کہ کہیں یہ میرے لئے بے عملی کا باعث
نہ بن جائیں۔ بازاروں میں بغیر ضرورت کے نہ جانا کہ بازوں میں پائی جانے والی بے
پردگی اور بے حیائی مجھے بھی گناہوں کی طرف نہ لے جائے۔
اللہ
تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم
رہنے کی توفیق و ہمت عطا فرمائے۔
آمین
یا رب العالمین
دعاؤں کا طالب
ابو محمد زبیر اویسی










0 Comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔