اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔
رَبِّ اشْرَحْ لِیْ
صَدْرِیْ ۙ وَ
یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙ وَ
احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙ یَفْقَهُوْا
قَوْلِیْ۪
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ
بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلٰوةَ وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُونَ.
"وہ
جو غائب پر ایمان لاتے ہیں اور نماز کو قائم رکھتے ہیں اور ہم نے ان کو نعمتیں دی
ہیں ان میں سے خرچ کرتے ہیں"
سابقہ آیتِ کریمہ میں بیان ہوا کہ یہ لاریب کتاب
قرآنِ کریم ہدایت ہے متقین کیلئے،اہلِ تقویٰ کیلئے مشعلِ راہ ہےتو اب اللہ تبارک
وتعالیٰ نے اہلِ تقویٰ کی نشانیاں بھی بیان فرما دیں خود ہی بیان فرما دیا کہ
متقین کون ہیں، تقویٰ اختیار کرنے والے لوگ کیسے ہوتے ہیں۔پہلی صفت اور نشانی اہلِ
تقویٰ کی جو اس آیتِ کریمہ میں بیان فرمائی جا رہی ہے فرمایا: الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ
بِالْغَيْبِ وہ جو غیب پر ایمان لاتے ہیں۔ وہ
جو بن دیکھے قبول کرتے ہیں وہ جو ان دیکھی چیزوں کو مانتے ہیں۔
اس آیتِ کریمہ میں دو
باتیں قابلِ غور ہیں ،پہلی بات: ایمان لانا، قبول کرنا ،ماننا،یقین کرنا یہ کیا ہے؟
ائمہ تفسیر وحدیث ایمان کی تفسیر و تشریح بیان کرتے ہوئے فرماتے
ہیں کہ"ایمان نام ہے اقرار بالسان و تصدیق بالقلب کا "
اقراربالسان تو عام فہم
ہے یعنی زبان سے اقرار کرنا ، زبان سا ماننا اور قبول کرنا لیکن تصدیق بالقلب کیا
ہے؟ اور اس کا کیسے پتہ چلے گا؟تصدیق بالقلب ہوتی ہے دل سے قبول کرنا، یقین قلب کا
حاصل ہونا۔زبانی اقرار کا تو ظاہر اً پتہ چل جاتا ہے،دیکھنے سننے والے بھی گواہی
دے دیتے ہیں کہ یہ بندہ اس بات کا اقراری ہے ، اس بات کو قبول کر رہا ہے۔لیکن دل
کے اقرار کا کیسے پتہ چلے گا ؟ یقینِ قلبی کا کس طرح اظہار ہو گا؟ کیسے پتہ چلے گا
کہ یہ بندہ اس بات کو دل سے یقین کے ساتھ
قبول کر رہا ہے؟ اس معاملے کو یعنی
یقینِ قلبی کو علمائے کرام نے بہت واضح
انداز میں بیان فرما دیا فرماتے ہیں کہ دل
سے قبول کرنے کا پتہ عمل سے چلے گا یعنی اگر کوئی دل سے قبول کرتا ہے یقینِ قلبی
بھی اس کو حاصل ہے تو اس کا عمل اس بات کی گواہی دے رہا ہوتا ہے، وہ اس بات پہ عمل
بھی کرتا ہے۔یہ ممکن نہیں کہ کوئی دل سے قبول کرے اور عمل نہ کرے۔ عمل سے روگردانی
ممکن ہی نہیں ہوتی۔
یہاں پہ ایک انتہائی اہم ،سخت اور خطرناک کیفیت کا ذکر
بھی ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر کوئی زبان سے اقرار کرتا ہے اور عمل نہیں کرتا
تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ دل سے ،یقینِ قلبی کے ساتھ اس بات کو قبول نہیں کرتا۔
زبان سے اقرار اور دل میں یقین قلبی کا نہ ہونا یعنی عمل کا قول کو ثابت نہ کرنا،
یا عمل صرف دکھاوے کے لئے ہونا یہ نفاق کی علامات میں سے ہے اور منافقین کی صفات
میں سے ہے۔ جیسے آج کل کے دور میں کوئی بھی مسلمان ایسا تو نہیں ملے گا جو نماز کی
فرضیت و اہمیت سے انکاری ہو یا دوسرے بنیادی ارکانِ دین کا زبانی طور پہ انکار کرے
لیکن عملا ً اکثریت ایسے لوگوں کی ملے گی جو عملاً بے نمازی ہیں، جو زکوۃ کی فرضیت مانتے تو ہیں اگر ادا نہیں کرتے
اور استطاعت و توفیق ہونے کے باوجود حج کا فریضہ ادا نہیں کرتے یا پھر انکی نمازیں
، انکے صدقات و خیرات ، ان کا حج و عمرہ
محض دکھاوے کیلئے ہوتا ہے۔ کیونکہ نما ز کا جو معیار و نتیجہ قرآن نے بتلایا ہے کہ
نماز برائی و بے حیائی سے روکتی ہے لیکن معاشرے میں اکثریت ایسے لوگوں کی ملتی ہے
جو نمازیں تو ادا کر رہے ہوتے ہیں لیکن ان کے کردار سے نماز کے نتائج کا اظہار
نہیں ہو رہا ہوتا۔ معاشرے میں برائی و بے حیائی اسی طرح عام ہے۔ یہ تو ممکن نہیں
کہ نماز میں یہ خاصیت نہیں تو مسئلہ کہاں ہے؟ مسئلہ ہمارے نمازوں کا ہے ۔ ہماری
نمازوں میں وہ خشوع و خضوع نہیں، ہمارہ نمازوں میں وہ اثر وہ طاقت نہیں کہ ہماری
نمازیں ہمیں برائی و بے حیائی سے روکیں اور یہ معاملہ انتہائی غور طلب ہے ہمیں
اپنی نمازوں پہ ، اپنی عبادات پہ،اپنی دعاؤں پہ غور و فکر کرنی چاہیئے۔
دوسری بات اس آیتِ کریمہ
انتہائی اہمیت کہ حامل ہے وہ ہے کہ جو
ایمان لاتے ہیں جو قبول کرتے ہیں جو مانتے ہیں کس بات کو مانتے ہیں کس بات پہ
ایمان لاتے ہیں فرمایا : بِالْغَيْبِ یعنی
غیب پر ایمان لاتے ہیں غیب کو قبول کرتے ہیں غیب کو ان دیکھی چیزوں کو مانتے ہیں۔
غیب کیا ہے؟ غیب جو سامنے
نہ ہو ،جس کو مادی آنکھ سے نہ دیکھا جا سکے، جس کو مادی ذرائع سے ثابت نہ کیا
جاسکے۔ سب سے بڑا غیب تو خود اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات ہے، پھر ملائکہ،عالمِ
ارواح، جنت و دوزخ،محشر ،برزخ ۔بلکہ
دیکھا جائے تو ہمارے لئے تو تمام سابقہ انبیاء، آپﷺ کی ذاتِ اقدس، صحابہ کرام
رضوان اللہ علیہم اجمعین، قرآن و حدیث سب غیب ہیں۔ ہمارا ایمان،ہمارا اسلام، ہمارا
دین تو ہے ہی بن دیکھے۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تو براہِ راست بارگاہِ
نبوت سے فیضیاب ہو رہے تھے، نزول قرآن کی کیفیت کے چشم دید گواہ تھے، صاحبِ شریعتِ
مطہرہ ﷺ بنفسِ نفیس موجود تھے، وجودِ اطہرِ محمد الرسول اللہ ﷺ ان کے سامنے تھا
لیکن ہم تک تو روایت در روایت، نسل در نسل یہ دین پہنچا اور ہم نے بن دیکھے قبول
کیا۔
علمائے کرام نے بنیادی
طور پر دینِ اسلام کی دو شاخیں بیان
فرمائی ہیں پہلی علومِ ظاہریہ یعنی
تعلیماتِ نبوت اور دوسری علومِ باطنیہ یعنی کیفیات و برکاتِ نبوت۔
علومِ ظاہری یعنی تعلیماتِ نبوت قرآن و حدیث کی
شکل میں ہمارے پاس موجود ہیں ۔جن کی تعلیم و تربیت کے لئے علمائے ظواہر کی کثیر
تعداد آپﷺ کے زمانے سے لے کر اب تک اور قیامت تک موجود رہے گی۔
دوسری شاخ ،دین کا دوسرا
بنیادی جزو علومِ باطنیہ ہے یعنی کیفیات و برکاتِ نبوت جسے تصوف و طریقت، سلوک،
کیفیاتِ قلبی کے ناموں سے بھی پکارا جاتا ہے۔ کیفیات دلوں سے دلوں کو منتقل ہوتی
ہیں اور اس علم کے ماہرین صوفیاء کرام کہلاتے ہیں۔کیفیات ظاہری وجود نہیں رکھتیں
۔یہ کیفی معاملہ ہوتا ہے محسوس کی جا سکتی ہیں دکھائی و سمجھائی نہیں جا سکتیں۔انہیں
سمجھنا ہو تو خود انہیں حاصل کر کے سمجھا جا سکتا ہے کوئی مادی ذریعہ کیفیاتِ محمد
الرسول اللہ نہیں سمجھا سکتا اور ان کا منبع و مآخذ قلبِ اطہرِ محمد الرسول اللہ ﷺ
ہے اور ان کے حصول کا ذریعہ مشائخِ طریقت، اولیاءِ کرام ، صوفیاء ہوتے ہیں۔ جو علمائے شریعت کی طرح ہر زمانے میں
موجود رہے اور تا قیامت موجود رہیں گے۔
جہاں تک میں جانتا ہوں یہ
دونوں علوم کسی بھی زمانے میں جدا نہیں ہوئے۔تصوف و طریقت ،علومِ شریعت کے بغیر
ممکن نہیں اور علومِ شریعت، کیفیات ِ قلبی یعنی تصوف و طریقت کے بغیر ممکن نہیں۔
اگر تصوف و طریقت، علوم شریعت سے جدا کر دیا جائے تو گمراہی کے سوا کچھ نہیں
رہتا اور اگر علومِ شریعت ، تصوف وطریقت
سے جدا ہوں تو ظاہری عبادات تو ہوتی ہیں لیکن اخلاص،ورع و تقویٰ، خشوع و
خضوع،یقینِ قلبی حاصل نہیں ہو سکتا۔ اور
چودہ سو سال کے زمانے میں میرے علم میں کوئی ایسی ہستی نہیں ،علمائے دین ، بزرگانِ
دین ،اہل اللہ ، صوفیاء کرام میں سے جن میں یہ دونوں علوم جمع نہ ہوں۔ ہاں یہ ضرور
ہوتا ہے کہ بظاہر کسی کی شہرت علم تفسیر ہو،کسی کی شہرت کی وجہ علمِ حدیث ہو ،کوئی
مؤرخ ہوا،کسی کو فقہ میں مہارت حاصل تھی
اور یہ علم اس کی وجہ شہرت بن گیا، کسی میں سپہ گری کا فن تھا اور وہ جرنیل ہوا
لیکن کوئی بھی ہستی ان چودہ صدیوں میں ایسی نہیں گزری جو غیر صوفی ہو ،جو تصوف و
سلوک کی راہ پہ چلنے والا نہ ہو جسےعلوم ِ طریقت حاصل نہ ہوں،جس نے کسی بزرگ کی
صحبت میں رہ کر تزکیہ نفس نہ کیا ہو۔
کیونکہ ارشاد فرمایا گیا:
الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وہ
جو غیب پہ ایمان لاتے ہیں
غیب پہ ایمان و یقین، بجز
کیفیاتِ قلبی اور برکاتِ نبوتﷺ کے حاصل
نہیں ہو سکتا۔
دور حاضر میں اگر دیکھا
جائے تو ہمارا ایمان بالغیب نہ ہونے کے برابر ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ دورِ حاضر
میں جو کیفیاتِ محمد الرسول اللہ ﷺ یعنی تصوف و طریقت کا شعبہ تھا اس میں ایک طرف
تو ہمیں ان شعبدہ بازوں سے واسطہ پڑتا ہے جنہوں نے تصوف و طریقت کو ذاتی فائدے اور
پیسے کمانے کا ذریعہ بنا رکھا ہے ان جاہلوں نے جھاڑ پھونک اور تعویذ دھاگے کو تصوف
و طریقت کا نام دے رکھا ہے اور نہ صرف خود ان علوم سے بے بہرہ ہیں بلکہ بہت سے
لوگوں کی گمراہی کا سبب بھی ہیں۔
دوسری طرف ان ہی کی ان
شعبدہ بازیوں کی وجہ سے ایک گروہ وہ بن گیا جو سرے سے ان علوم کا ہی منکر ٹھہرا۔
اور ان شعبدہ بازوں کو آڑ اور دلیل بنا کر تصوف و سلوک کو جاہلیت و بدعت قرار دیا۔
قاسمِ فیوضات حضرت مولانا
محمد اکرم اعوان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ نقل ہمیشہ اس چیز کی ہوتی ہے جس کی
اصل کا وجود ہوتا ہے۔ تو اگر جاہلی پیر اور صوفی موجود ہیں تو ضرور اس کی اصل بھی
ہو گی اب یہ بندے پہ منحصر ہے کہ وہ تلاش کرتا ہے یا نہیں۔یہ تو نہیں ہو سکتا کہ
نقل موجود ہو اور اصل موجود نہ ہو۔
تاریخ اسلام میں جتنے بھی
ایسے لوگ گزرے ہیں جو تصوف و سلوک کے سرے سے انکاری ہوئی اور علمائے تصوف کے انکاری ہوئے اور ان کے خلاف
دلیلیں گھڑیں تو وہ نہ صرف علومِ طریقت کے انکاری ہوئے بلکہ آہستہ آہستہ پھر وہ
برزخ، جنت و دوزخ،عالم ارواح، ملائکہ کے بھی انکاری ہوئے جس سے وہ نہ صرف گمراہی
کا شکار ہوئے بلکہ ان کا ایمان بھی جاتا رہا۔
تو یہ جو علومِ غیب ہیں
ان کی کوئی دلیل نہیں ہوتی،ان کا کوئی مادی وجود نہیں ہوتا۔مشائخ طریقت بڑی
خوبصورت بات فرماتے ہیں کہ شریعت ،اعتماد واعتبارِ محمد الرسول اللہ ﷺ کا نام ہے
اور تصوف و طریقت اعتمادِ اعتبارِ شیخ کا نام ہے۔
تصوف و سلوک کی سب سے بڑی
دلیل انسان کا کردار ہوتا ہے۔ حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ کے پاس ایک مرید
کئی سال رہا بالآخر ایک دن کہنے لگا کہ حضرت میں واپس جا رہا ہوں تو انہوں نے
پوچھا کہ میاں تم کیوں واپس جا رہے ہو تو اس نے کہا کہ حضرت میں تصوف و سلوک سیکھنے آیا تھا لیکن
میں نے آپ میں کوئی کرامت نہیں دیکھی اس لئے واپس جا رہا ہوں تو آپ نے فرمایا کہ
کیا تو نے اتنے سالوں میں مجھ میں کوئی خلافِ شریعت،خلافِ سنت بات دیکھی ہے ۔ اس
نے غور وغوض کے بعد عرض کی کہ حضرت میں نے کبھی آپ میں کچھ بھی خلافِ سنت نہیں
دیکھا تو آپ نے فرمایا کہ پھر اس سے بڑی
کرامت کیا ہو گی۔ یعنی تصوف شعبدہ بازی یا کشف وکرامات کا نام نہیں بلکہ
تصوف و سلوک کا مقصد ہی خود کو اتباعِ محمد الرسول اللہ ﷺ میں لانا ہے،عبادات میں
اخلاص پیدا کرنا ہے، تصوف علوم شریعت کے علاوہ کسی چیز کا نام نہیں بلکہ خود کو
انہی علوم پہ کار بند رکھنے اور استقامت حاصل کرنے کا نام تصوف ہے۔حضرت مولانا
زکریا کاندھلوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ " نیت کا خالص ہونا تصوف کی
ابتدا ء ہے اور عمل کا خالص ہونا تصوف کی انتہا ء ہے۔"
دورِ حاضر میں جو عام روش
چل نکلی ہے کہ ہر چیز کی دلیل اور ثبوت
مانگا جاتا ہے تو میں عرض کرتا چلا کہ ایمان بالغیب ہوتا ہی بغیر دلیل کے ہے اگرمادی دلیل ہوتی تو پھر بالغیب تو نہ ہوتا۔ایمان
بالغیب کی صرف ایک ہی دلیل ہے کہ اللہ تبارک و تعالی نے محمد الرسول اللہ ﷺ کے
ذریعے سے قرآن و حدیث کی صورت میں بتلا دیا
اب ہم دیکھیں یا نہ دیکھیں ،ہم محسوس کریں یا نہ کریں ،ہمارا اس پہ یقین و
ایمان ہونا چاہیئے۔اس کے لئے کسی اور دلیل کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔
اللہ
تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم
رہنے کی توفیق و ہمت عطا فرمائے۔
آمین
یا رب العالمین
دعاؤں کا طالب
ابو محمد زبیر اویسی










0 Comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔