اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔
رَبِّ اشْرَحْ لِیْ
صَدْرِیْ ۙ وَ
یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙ وَ
احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙ یَفْقَهُوْا
قَوْلِیْ۪
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ
بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلٰوةَ وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُونَ.
"وہ
جو غائب پر ایمان لاتے ہیں اور نماز کو قائم رکھتے ہیں اور ہم نے ان کو نعمتیں دی
ہیں ان میں سے خرچ کرتے ہیں"
سابقہ
درس میں اس آیتِ کریمہ کے پہلے حصے کی تفسیر و تشریح بیان ہوئی اس آیتِ کریمہ کے
دوسرے حصے میں ارشاد ہوتا ہے: وَيُقِيمُونَ الصَّلٰوةَ۔
اور نماز کو قائم رکھتے ہیں۔ قرآن
ِ کریم میں جہاں بھی نماز کا حکم آیا ہے وہاں پہ قائم کرنے کا حکم ہوا۔
نماز کو قائم کرنا کیا
ہے؟
اس کی تفسیر میں مفسرین
کے مختلف اقوال ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ نماز کو اس کی تمام شرائط کا خیال رکھتے
ہوئے وقتِ مقررہ پر بہترین اور احسن طریقے سے ادا کرنا اور جو سب سے اہم بات بیان
کی جاتی ہے وہ ہے اخلاص۔
اخلاص کا کیا مفہوم و
مطلب ہے اور نماز میں یہ اخلاص کیسے آئے گا؟
حدیثِ جبرئیل علیہ السلام
میں جبریلِ امین نے عرض کی کہ مجھے احسان کے متعلق بتائیے تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم
اللہ کی عبادت ایسے کرو کہ گویا تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر یہ نہ ہو تو یہ یقین
ہو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔
ایک اور حدیث میں ارشاد
ہوتا ہے کہ نماز مومن کی معراج ہے۔
الفاظ دونوں حدیثوں کے
مختلف ہیں لیکن مفہوم دونوں کا ایک جیسا ہے اور بیان یہ فرمایا جا رہا ہے کہ نماز
بندہ مومن کی اللہ تبارک و تعالیٰ سے ملاقات ہے۔ معراج کے واقعہ کو پڑھنے سے پتہ
چلتا ہے کہ معراج آپﷺ کی اللہ سے ملاقات ہے۔ جس کے بارے میں قرآن میں ارشاد ہوتا
ہے کہ فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ۔(دو
کمانوں کا فاصلہ بلکہ اس سے بھی کم) یعنی آمنے سامنے،
بالمشافہ ملاقات، خالق اور مخلوق، محب اور محبوب ، اللہ جل شانہ اور محمد الرسول
اللہ۔ جبکہ نماز کو مومن کی معراج کہا گیا
اور جب لفظ معراج کہا گیا تو یہ بھی اس کی مثل ملاقات ہونی چاہیے۔ فرق صرف
یہ ہو گا کہ وہ حقیقی ملاقات تھی اور یہ کیفی ہو گی۔
اور ان احادیث میں معراج
اور اللہ تبارک وتعالیٰ کے دیکھنے کے جو الفاظ بیان ہوئے ہیں ان سے مراد وہ اعلیٰ
کیفیات ہیں کہ بندہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے حضور جب کھڑا ہو تو اس کی یہ کیفیت ہو
کہ بندہ مومن اللہ کے حضور حاضر ہے اور اللہ تبارک وتعالیٰ کو دیکھ رہا ہے،تجلیاتِ
باری تعالیٰ کا مشاہدہ کرے، تجلیاتِ باری تعالیٰ کی کیفیات کو محسوس کرے، انواراتِ
باری تعالیٰ کو جذب کرے، اور اگر اللہ تبارک وتعالیٰ کو دیکھنے کی کیفیت و احساس
نہ ہو تو کم از کم یہ ضرور ہو کہ اللہ تبارک وتعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ شریعتِ
اسلامیہ میں نماز کے جو اصول و ضوابط بتائے
گئے یعنی نماز کی شرائط، نماز کے ارکان، فرائض و واجبات اور سنت طریقہ سے
نماز ادا کرنے سے فرض تو ادا ہو جاتا ہےلیکن جب تک روحانی کیفیات نہ ہوں، روحانی
تعلق جب تک بندہ مومن کا خالق کی ذات سے
قائم نہ ہو نماز ادا تو ہو جائے گی نماز قائم نہیں ہو گی۔نماز کے اثرات ونتائج جو
معاشرے پر یا بندہ مومن کے کردار پہ مرتب ہونے چاہییں، وہ اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔
اور جب یہ کیفیات حاصل نہ ہوں، جب کردار پہ اثرات مرتب نہ ہوں تو نماز کا جو مقصود
ہے وہ حاصل نہیں ہوتا۔ اگر دو یا چار رکعت کے دوران بندے کو ایک لمحے کے لیے بھی
معیتِ باری تعالیٰ حاصل نہ ہو، ایک لمحے کے لئے بھی تعلق مع اللہ نہ بنے، ایک لمحے
کیلئے بھی شرف ہم کلامی نصیب نہ ہو۔ تو پھر ہمیں اپنی نمازوں پہ غور کرنا چاہیے
کیونکہ ایسی نمازیں جو صرف جسمانی ورزش، اٹھک بیٹھک یا رٹے رٹائے الفاظ کی ادائیگی
تک محدود ہوں، وہ کسی بھی صورت قبولیت کے
درجے کو نہیں پہنچ سکتی کیونکہ نماز تو شرفِ ہم کلامی ہے جو بندہ مومن کو اللہ
تبارک و تعالیٰ نے عنایت فرمایا ہے۔
اللہ
تبارک وتعالیٰ ہمیں نماز قائم کرنے کی توفیق و ہمت عطا فرمائے۔
اللہ
تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم
رہنے کی توفیق و ہمت عطا فرمائے۔
آمین
یا رب العالمین
دعاؤں کا طالب
ابو محمد زبیر اویسی










0 Comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔