اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔
رَبِّ اشْرَحْ لِیْ
صَدْرِیْ ۙ وَ
یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙ وَ
احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙ یَفْقَهُوْا
قَوْلِیْ۪
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ
بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلٰوةَ وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُونَ.
"وہ
جو غائب پر ایمان لاتے ہیں اور نماز کو قائم رکھتے ہیں اور ہم نے ان کو نعمتیں دی
ہیں ان میں سے خرچ کرتے ہیں"
سابقہ
درس میں اس آیتِ کریمہ کے دوسرے حصے کا بیان تھا۔ اس آیتِ کریمہ کے آخری حصے میں
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُونَ. اور ہم نے ان کو نعمتیں دی ہیں ان میں سے خرچ کرتے ہیں"
عام
طور پہ اس آیتِ کریمہ سے جو مفہوم و مطلب سمجھا جاتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں
مال خرچ کرنا ہے لیکن لغوی اعتبار سے بھی اور ظاہراً بھی اگر غور کیا تو سمجھ آئے
گا کہ نہ صرف مال بلکہ تمام تر نعمتیں اولاد، جان، وقت، جسمانی اور دماغی استعداد،
روحانی قوت، سب کچھ اللہ تبارک و تعالیٰ کی عطا ہے۔ بندہ کسی بھی نعمت کا کلی طور
پر اور ہمیشہ کیلئے مالک نہیں ہے اور یہی بات اس آیتِ کریمہ میں فرمائی جا رہی ہے
کہ جو ہم نے یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے بندے کو عطا کر رکھا ہے اس میں سے خرچ
کرتے ہیں۔
خرچ
کرنا کیا ہے اور کیسے خرچ کیا جائے؟
جب
بات مال کی ہو گی تو مال کو اللہ تبارک و تعالی کے احکامات کے تحت استعمال کرنا ،
اہل و عیال پہ خرچ کرنا، اولاد کی تربیت و اصلاح پہ خرچ کرنا،نیکی کے کاموں پہ خرچ
کرنا ، ترویج و تبلیغِ دین میں خرچ کرنا،زکوٰۃ و صدقات کا ادا کرنا، فقرا ء اور مساکین
کی مدد کرنا ،مقروض و مسافر کی مدد کیلئے خرچ کرنا وغیرہ وغیرہ۔
جان
کو اور بدنی نعمتوں کو، فطرتی استعدادوں کو اللہ کے دین کی سربلندی کیلئے استعمال
کرنا،جسمانی قوتوں کو جہاد و عبادات میں استعمال کرنا۔
اولاد
جو اللہ کی عطا کردہ بہت بڑی نعمت ہے۔ اس کی اچھی تعلیم و تربیت کرنا، اسے دینِ
اسلام سکھانا،اولاد میں نیکی اور خیر کے کاموں کا ذوق و شوق پیدا کرنا اور برائی و
بے حیائی کی آگاہی دینا اور ان کاموں سے بچنے کی رہنمائی کرنا۔
روحانی
استعدادِ کو معرفتِ باری تعالیٰ کے لئے استعمال کرنا۔ معرفتِ باری تعالیٰ نہ صرف خود
حاصل کرنا بلکہ دوسروں تک پہنچانے کا سبب و ذریعہ بننا۔
اس
مکمل آیتِ کریمہ پہ غور کرنا تو پتہ چلتا ہے کہ اس آیتِ کریمہ میں تین باتٰیں بیان
ہوہوئیں:
پہلی:
يُؤْمِنُونَ دوسری:
وَيُقِيمُونَ تیسری:
يُنْفِقُونَ.
جو ایمان لاتے ہیں، جو
قائم کرتے ہیں اور جو خرچ کرتے ہیں۔
یعنی پہلا معاملہ قبول
کرنا ہے ،زبان اور قلبی یقین کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو اور آپ کے احکامات کو قبول
کرنا،صرف ظاہر نہیں بلکہ ان باطنی اور غیب کی چیزوں کو بھی دل وجان سے تسلیم کرنا
جو ظاہری آنکھ سے دکھائی نہیں دیتیں اور پھر ان احکامات و عبادات کو جیسے اس کا
حکم ہو اور جو معیار اللہ کی ذات نے مقرر فرمایا ہے اس کے تحت بجا لانا۔ عبادات کو
اس طرح ادا کرنا جیسا اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا اور جس طرح محمد الرسول اللہ ﷺ نے
کر کے بتلا دیا۔اور پھر جتنی بھی نعمتیں اللہ تبارک تعالیٰ نے عطا کر رکھی ہیں
انہیں اللہ تعالیٰ کے بتلائے گئے اور آپ ﷺ کے سکھائے گئے طریقوں کے مطابق استعمال
و خرچ کرنا۔ اور چونکہ سب کچھ ہی اللہ کی عطا ہے، سب کچھ ہی اس ذاتِ برحق کا انعام
کردہ ہے۔ بندے کا ذاتی تو کچھ بھی نہیں سب اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔ کسی کے پاس علم
ہے تو اس احکامات ِ الٰہی کے تحت اور دین ِ حق کی سربلندی کے لئے پھیلانا نہ کہ
دنیا کمانے کا ذریعہ بنا لینا، کسی کی پاس جسمانی و بدنی قوتیں ہیں تو اسے اللہ کے
بتلائے گئے طریقوں کے مطابق استعمال کرنا، کسی کے پاس طاقت و اثر و رسوخ ہے تو اسے
دنیا کمانےکے بجائے اور لوگوں کی پریشانی
کا سبب بننے کے بجائے ،لوگوں کے لئے آسانیوں کا سبب بننے کیلئے استعمال کرنا۔
ان تینوں باتوں کو حاصل کیے بغیر انسان متقی نہیں بن سکتا اور
ان تینوں باتوں میں شیطان کے بعد جو سب سے بڑی رکاوٹ ہوتی ہے وہ انسان کا اپنا نفس
ہے۔اور نفس انسانی بندے کو یہ تینوں کام نہیں کرنے دیتا جب تک اس کا تزکیہ نہ کیا جائے یعنی یہ تینوں کام بغیر تزکیہ نفس کے حاصل نہیں ہو سکتے۔تزکیہ
نفس ہی واحد ذریعہ ہے جو بندہ مومن کو متقین کے درجے میں لے کے جاتا ہے۔
اللہ
تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم
رہنے کی توفیق و ہمت عطا فرمائے۔
آمین
یا رب العالمین
دعاؤں کا طالب
ابو محمد زبیر اویسی










0 Comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔