تفسیر سورۃ البقرہ - آیت نمبر 4 - وحی الٰہی کی اقسام - قرآن و احادیث دونوں وحی الٰہی ہیں

0 Comments

اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ ۙ  وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙ  وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙ  یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:   وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ.

اور وہ لوگ جو ایمان  لاتے ہیں اس پر جو آپ پر نازل کیا گیا ہے اور جو آپ ﷺ سے پہلے نازل کیا گیا ہے اور وہ آخرت پہ یقین رکھتے ہیں۔

اس آیت کے پہلے حصے میں جو آپﷺ پہ نازل کیا گیا اس پر ایمان لانے کا ذکر ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ پہ کیا نازل کیا گیا؟ اگر اس سے مراد صرف قرآن ِ کریم ہے  تو واضح طور پہ قرآن مجید کا نام لے کر فرما دیا جاتا کہ جو قرآنِ کریم پہ ایمان لاتے ہیں جیسے اسی سورۃ کی ابتدائی آیت میں الکتاب کالفظ استعمال ہوا  ہے جس سے مراد یقینی طور پہ قرآنِ کریم ہے۔ تو یہاں بھی یہ فرما دیا جاتا کہ جو کتاب پہ ایمان لاتے ہیں۔ لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ فرمایا گیا کہ جو آپ پہ نازل کیا گیا۔

نزول ہوتا ہے کسی چیز کی بلندی سے نیچے آنا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ ﷺ کے قلب ِ اطہر پر نزولِ احکامات کو اصطلاحی طور پر وحی الٰہی کہا جاتا ہے۔

وحی کی دو اقسام ہیں : پہلی قسم وحی متلو ہے  یعنی قرآنِ کریم اور دوسری وحی غیر متلو یعنی احادیثِ مبارکہ۔

سورۃ النجم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى(3) إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى(4)

اور نہ خواہشِ نفس سے منہ سے بات نکالتے ہیں ۔ ان کا ارشاد تو وحی ہے جو بھیجی جاتی ہے۔

 اس آیتِ کریمہ سے واضح ہوتا ہے کہ وحی الٰہی صرف قرآن ِ کریم نہیں بلکہ آپﷺ کی ارشاداتِ عالیہ بھی وحی الٰہی ہیں تو اس آیتِ کریمہ میں أُنْزِلَ إِلَيْكَ سے مراد  قرآن و احادیث دونوں ہیں۔

جو ان دونوں پر یا ان دونوں میں سے کسی ایک پر بھی شک کرے گا  یا ان کا نکار کرے گا تو اس کا ایمان مکمل نہیں ہو گا۔

احادیثِ نبویہ ﷺ درحقیقت قرآن کریم کی اولین تفسیر ہیں اور ان کے بغیر ناممکن ہے قرآن کریم  کو سمجھنا اور قرآن ِ کریم کے حقیقی معانی و مفاہیم حاصل کرنا۔ اسی وجہ سے جس نے بھی سنتِ رسولﷺ اور احادیث ِ مبارکہ کو  قرآن سے الگ کیا اور ان کے بغیر قرآن ِکریم کے معانی و مفاہیم سمجھنے کی کوشش کی تو اس کے ہاتھ گمراہی کے سوا کچھ نہیں آیا۔

پھر فرمایا وما انزل من قبلک   جو آپ سے پہلے نازل کیا گیا یعنی تورات و انجیل ، زبور اور دیگر صحائف جو مختلف انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو دیئے گئے ، ان پہ ایمان لاتے ہیں۔

کتابوں میں عموماً دو چیزیں ہوتی ہیں ایک خبر اور دوسری اوامر و نواہی یعنی احکامات۔

خبر ناقابلِ تبدیل ہوتی ہے جیسے لاالہ الا اللہ آدم علیہ السلام سے لے کر آپ ﷺ تک ناقابلِ تبدیل ہے، اس میں تبدیلی نہیں ہوتی ، ہر نبی نے یہی خبر دی۔ اسی طرح پہلی کتابوں میں جو خبر تھی وہ  قرآن میں بھی ویسی ہی ہیں جیسے توحید، آخرت ،جنت و دوزخ ، حساب و کتاب اور حشر کا معاملہ۔ البتہ احکامات وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے رہے۔ ہر نبی اپنی قوم اور علاقے کے لحاظ سے مختلف احکامات لے کر آیا۔ پہلی شریعتوں کے احکامات اور شریعتِ محمدیہﷺ کے احکامات مختلف ہیں۔ ہاں البتہ یقیناً اب شریعت  و نبوت  مکمل ہو چکی اور قرآن کی نہ صرف خبر بلکہ احکامات میں بھی قیامت تک کسی قسم کا ردو بدل نہیں ہو گا۔

ایک اور اہم نکتہ جو اس آیتِ کریمہ میں ملتا ہے ، وہ یہ ہے کہ تاریخِ اسلام میں روئے زمین پہ بے شمار کذاب آئے جو دورِ  حاضر میں بھی موجود ہیں جو وحی الٰہی کا دعویٰ کرتے ہیں تو اس آیتِ کریمہ میں یہ بھی بتلا دیا گیا کہ وحی الٰہی صرف  وہ ہے جو آپ ﷺ پہ اور آپﷺ سے پہلے انبیاء پہ نازل ہوئی۔ اس کے علاوہ  کسی کا من گھڑت دعویٰ کرنے سے اس کا اپنا من گھڑت کلام وحی الٰہی نہیں بن جاتا۔ اگر وحی الٰہی کا سلسلہ جاری رہنا ہوتا وت فرمایا جاتا کہ جو آپﷺ اور آپﷺ سے پہلے اور آپﷺ کے بعد نازل کیا جائے گا۔ لیکن یہ نہیں فرمایا بلکہ فرمایا: أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ

اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اب قیامت تک کیلئے حجت قرآنِ کریم ہے، حجت افعالِ محمد الرسول اللہ ﷺ ہیں ، حجت اقوالِ محمد الرسول اللہ ﷺ ہیں، حجت پسند و ناپسندِ محمد الرسول اللہ ﷺ ہے۔ آپﷺ اللہ کے آخری بنی اور رسول ہیں ، قرآن کریم اللہ کی آخری کتاب ہے اور شریعتِ محمدیہ ﷺ آخری شریعت ہے۔

پھر ارشاد ہوا: وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ اور جو آخرت پہ  یقین رکھتے ہیں

یہ بات ایمان بالغیب میں شامل ہے ،آخرت کا عقیدہ بھی ایمان بالغیب کا جزو ہے  جس کا ذکر پہلا کیا جاچکا لیکن اس کے بعد اس کا دوبارہ ذکر تاکید کی وجہ سے ہے، کیونکہ یہ اتنا اہم عقیدہ ہے  اور پھر یہاں فرمایا کہ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ جو آخرت کا یقین رکھتے ہیں۔

اگر بندے کو اس بات کا یقین ہو کہ اس دنیا کے بعد بھی اس کی ایک حیات ہے جسے حیات برزخیہ  کہا جاتا ہے اور پھر اس کے بعد اسے روزِ محشر  دوبارہ اٹھایا جائے گا، محشر برپا ہو گا ،حساب و کتاب ہو گا، سوال و جواب ہو گا، میزان ہو گا، اسے اللہ تعالی ٰ کے حضور پیش کیا جائے گا، آپﷺ کی ذاتِ اقدس بھی موجود ہو گی جن کی میں اطاعت کا دعویدار ہوں، مجھے اللہ تبارک وتعالیٰ اور اللہ کے رسول ﷺ کا سامنا کرنا ہو گا  اور پھر جنت کی نعمتیں ہو ں گی یا پھر دوزخ کا عذاب۔ اگر اس سارے معاملے کا یقین ہو تو ممکن ہی نہیں  کہ وہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی نافرمانی کرے۔ یہ جو ہم نافرمان ہو چکے ہیں ، ہمارا ایمان کمزور ہو چکا ہے اس کی سب سے بڑی وجہ ہی یہ ہے کہ ہمارا عقیدہ آخرت کمزور ہو چکا ہے یا بالکل ختم ہو چکا ہے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی


0 Comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔