تفسیر سورۃ البقرہ - آیت نمبر 5 - متقین کیلئے دو عظیم انعامات- ہدایت اور کامیابی کی سند

0 Comments


اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلا
ۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہُ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْٗ وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْٗ وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْٗیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:   أُولَئِكَ عَلَى هُدًى مِنْ رَبِّهِمْ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ

وہ لوگ اپنے  پروردگار کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور وہی لوگ مراد کو پہنچنے والے ہیں۔

سورۃ لبقرہ کی ابتدا میں  دعویٰ کیا گیا کہ یہ قرآن جو ہر قسم کے شک وشبہ سے بالاتر ہے ،اس میں ہدایت ہے متقین کیلئے، پھر اس کے بعد یہ بات بتا دیا گیا کہ متقین کون لوگ ہیں، متقین کی صفات بیان کی گئیں۔ اور وہ صفات کیا ہیں کہ جو غیب پہ یعنی ان چیزوں پہ ایمان لاتے ہیں جن کو انہوں نے ظاہری آنکھ  سے نہیں دیکھا ہوتا، پھر عبادات کا پاس رکھتے ہیں اور انہیں صحیح طور پہ  اللہ تعالیٰ اور اللہ کے رسول ﷺ کے بتلائے گئے طریقوں کے مطابق ادا کرتے ہیں ، اور پھر اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کے احکامات کے تحت استعمال کرتے ہیں ۔ اور نہ صرف اس کو جو آپﷺ پہ قرآن و حدیث کی صورت میں نازل کیا گیا بلکہ جو آپ ﷺ سے پہلے تورات، انجیل، زبور اور دوسرے صحائف کی صورت میں نازل ہوا ،اس کو بھی حق و سچ جانیں اور اس پہ بھی ایمان لائیں۔ سب سے اہم بات جسے ایمان بالغیب کے ضمن میں بیان کے بعد دوباری بیان کیا گیا وہ عقیدہ آخرت ہے۔ فرمایا کہ عقیدہ آخرت پہ یقین رکھیں۔ یقین تب ہوتا ہے جب عمل گواہی دے۔ جب عمل اس بات کی گواہی دے کہ واقعتاً اس بندے کو یقین ہے کہ اس نے  ایک دن اس دنیا سے آخرت کی جانب سفر کرنا ہے، قبر اس کا اگلا ٹھکانہ ہو گا، اس کے بعد روزِ قیامت اسے دوبارہ اٹھایا جائے گا ،حشر برپا ہو گا، میزان ہو گا، جزا و سزا ہو گی، جبھی تو  یہ ہر وقت اس کی تیاری میں لگا رہتا ہے۔ خود کو دنیا کی آسائشوں اور عیش وآرام میں غرق نہیں ہونے دیتا۔

اب جس بندے میں مذکورہ بالا اوصاف ہوں گے ، جو ان صفات کا حامل ہو گا ، اس کو دو سندیں ، دو سرٹیفکیٹ دیے جا رہے ہیں، اس کیلئے دو قسم کے انعامات کا اعلان کیا جا رہا ہے۔

پہلا انعام دنیاوی ہے اور دوسرا اخروی۔

دنیاوی انعام اس بندے پہ جو ان اوصاف کا حامل ہو گا یہ ہے کہ وہ سیدھے رستے پہ ہے، وہ صراطِ مستقیم پہ ہے،وہ ہدایت پہ ہے اپنے پروردگار کی طرف سے۔

اور اخروی انعام یہ ہے کہ جب ان اوصاف پہ اس نے ہدایت کے ساتھ زندگی گزاری تو اب وہ کامیاب ہو چکا ہے،وہ اپنی مراد کو پہنچ چکا ہے ،وہ فلاح پا گیا۔ اب وہ خوشی خوشی اس دنیا سے کوچ کرے گا ، اس کی قبر جنت کا باغ ہو گی، اور روزِ محشر وہ سرخرو ہو کے بغیر کسی خوف اور غم کے اللہ کے حضور پیش ہو گا ، اور پھر اسے جنت میں داخل کر دیا جائے گا جہاں اسے انبیاء ، صادقین، صالحین اور شہداء کا ساتھ نصیب ہو گا۔ اور جنت کی سب سے بڑی نعمت دیدارِ باری تعالیٰ نصیب ہو گی۔

ایک اہم بات جو اس آیتِ کریمہ کے الفاظ سے سمجھ میں آتی ہے  وہ یہ ہے کہ ہدایت من جانب اللہ ہے۔ فرمایا: أُولَئِكَ عَلَى هُدًى مِنْ رَبِّهِمْ حالانکہ أُولَئِكَ عَلَى هُدًى پہ بات مکمل ہو گئی ہے لیکن مزید تشریح فرما دی کہ کوئی یہ نہ  سمجھے  کہ یہ اس کا ذاتی وصف یا کمال ہے ۔ ایسا نہیں ہے بلکہ فرمایا مِنْ رَبِّهِمْ یہ ان کی پروردگار کی طرف سے ہے ۔

یہاں یہ بھی سوال اٹھتا ہے کہ ہدایت اگر منجانب اللہ ہے تو بندے کا کیا معاملہ ہے؟ اس کا جواب بھی خود قرآن کریم میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرما دیا  ۔ سورۃ الشوریٰ آیت نمبر 13 میں ہے:

وَيَهْدِي إِلَيْهِ مَنْ يُنِيبُ   " اور اسے اپنی طرف راستہ دکھا دیتا ہے جو اس کی طرف  رجوع کرے "

 انابت کے بارے میں  قاسم ِ فیوضات حضرت مولانا محمد اکرم اعوان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ انابت، نہاں خانہ دل میں اٹھنے والی خواہش، کسک، طلب ہے۔ یہ بندے کے اختیار میں ہے باقی سب اس کی عطا ہے۔

سورۃ العنکبوت کی آخری آیت میں ارشاد ہوتا ہے :

وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ       العنکبوت۔69

اور جو لوگ کوشش کرتے ہیں ، مشقت برداشت کرتے ہیں، تگ و دو کرتے ہیں ہمارے لئے یعنی مجھے پانے کی کوشش کرتے ہیں ہم ان کیلئے راستے کھول  دیتے ہیں، ہم انہیں راستے دکھا دیتے ہیں۔

جَاهَدُوا  ہوتا ہے سخت کوشش کرنا ، معلوم ہوا کہ یہ خواہش، کوشش، تگ ودو، مشقت برداشت کرنا ، یہ بندے کے ذمے ہے ، یہ بندے کا اختیار ہے اور کس کو کتنا ،کہاں سے اور کیسے عطا کرنا ہے یہ اللہ  تعالیٰ کا معاملہ ہے ۔

پھر اس کے بعد کامیابی کا سرٹیفکیٹ، کامیابی کی سند  جاری ہوتی ہے فرمایا گیا:

وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ    یہ کامیاب لوگ ہیں ،یہ فلاح یافتہ ہیں۔

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے احکامات پہ عمل کیا ۔ ان دیکھی باتوں پہ ایمان لائے، نمازیں قائم کیں ، خرچ کیا اللہ کے دیئے گئے انعامات کو اس کے بتائے گئے طریقوں کے مطابق، قرآن و حدیث کو  دل و جان سے قبول کیا  اور جو سابقہ انبیاء پہ نازل ہوا اس کو بھی حق جانا ، اور آخرت پہ کامل یقین رکھتے ہوئے ا کی تیاری میں خود کو مصروف رکھا ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس  کے بدلے میں انہیں دنیا میں ہدایت نصیب فرمائی، صراطِ مستقیم کی سمجھ دی ، اس پر چلایا اور تادمِ آخر ا پر قائم رکھا۔ ا ب ان کیلئے اس سے بھی بڑا انعام ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ کامیاب ہو گئے، یہ فلاح پا گئے، ان کے لئے ہمیشہ کا سکون اور جنت کی نعمتیں ہوں گی ،جہان یہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے رہیں گے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی 

0 Comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔