تفسیر سورۃ البقرہ - آیت نمبر 6 - کفر کا مطلب اور کفار کی اقسام- وہ لوگ جن کیلئے ہدایت کا دروازہ بند ہو چکا

0 Comments

 

اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہُ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْٗ وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْٗ وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْٗیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ

یقیناً جن لوگوں  نے کفر اختیار کیا انہیں آپ متنبہ کریں یا نہ کریں برابر ہے کہ وہ ایمان لانے والے نہیں۔

اس آیت کا یک عام فہم مفہوم اس کے شان نزول کے ساتھ سمجھ آتا ہے  کہ آپ ﷺ چونکہ فکر مند رہتے تھے سب لوگوں کے بارے میں اور خصوصاً رشتہ داروں کے بارے میں کیونکہ فطرتی بات ہے کہ اقرباء  اور قریبی لوگوں کی فکر زیادہ ہوتی ہے اور آپ علیہ الصلوۃ و السلام  تو رحمتہ اللعالمین ہیں  تو کیونکر لوگوں کی فکر نہ ہوتی۔ اسی  فکر ارو پریشانی کی وجہ سے یہ آیات نازل ہوئیں۔ کہ کچھ لوگ ایسے ہیں جو کفر پہ ڈٹ چکے ہیں  جیسے ابو جہل اور ابو لہب وغیرہ تو ان کے لئے آپ کا متنبہ کرنا ، انہیں اخروی عذاب سے ڈرانا، نتائج پہ خبردار کرنا برابر ہے، وہ ہر گز ایمان نہیں لانے والے۔

یہ تو اس آیت کا وہ مفہوم ہے جو اس کے شانِ نزول کے حوالے سے ہے لیکن قرآن کی آیات کسی خاص زمانے ، خاص گروہ یا خاص لوگوں کیلئے نہیں بلکہ قرآن قیامت تک کے لوگوں کیلئے ہدایت و رہنمائی ہے۔ اس کا مخاطب فرد ہے  ۔یہ ہر  زمانے، ہر نسل، ہر قوم اور ہر گروہ سے مخاطب  ہے ۔ ہم اس کے کچھ حصے کو مشرکین ِ مکہ اور کفار کے ساتھ  خاص کر رہے ہوتے ہیں تو کچھ حصہ بنی اسرائیل اور یہود و نصاریٰ کے ساتھ مخصوص کر رہے ہوتے ہیں جبکہ  کچھ حصہ منافقین ِ مدینہ کے ساتھ جوڑ رہے ہوتے ہیں اور جو آیات مومنین سے متعلقہ ہیں، جہاں مومنین کی صفات بیان ہوئی ہیں ان کو اصحابِ رسول ﷺ سے منسلک کرکے خود کو بری الذمہ کر دیتے ہیں۔

حقیقت میں ہمیں قرآن کے عمومی مفاہیم و مطالب سمجھنے  کی ضرورت ہے کیونکہ قرآن کریم کے مخاطبین صرف اس زمانے کے لوگ نہیں تھے، اللہ تعالیٰ کے احکامات  اور وعیدیں صرف ان لوگوں کے لئے نہیں تھیں، یہ تمام باتیں جو قرآن ِ حکیم میں بیان ہوئیں یہ نہ صرف ہمارے لئے بلکہ قیامت تک کے لوگوں کے لئے ہیں، اور قیامت تک آنے والے لوگ اس کے مخاطبین ہیں۔

اس تناظر میں جب ہم اس آیتِ کریمہ کو دیکھتے ہیں تو جو بات میں سمجھ سکا ہوں کوشش کروں گا کہ آپ کو بھی سمجھا سکوں۔

فرمایا گیا: إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا   یقیناً جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ، جو انکار کرنے والے ہیں۔

کفر کے لغوی معنی ہیں چھپانا، پردہ ڈالنا۔ اصطلاحاً اسے انکار کے معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے جیسے کہا جاتا ہے کفرانِ نعمت کرنا یعنی نعمتوں کا انکار کرنا۔

یہ انکار کرنے والے لوگ چار قسم کے ہیں:

پہلی قسم ان لوگوں کی ہے  جو زبان و دل سے  مانتے ہیں خود عملاً اختیار نہیں کرتے البتہ جو عمل کرتے ہیں ان کو اچھا جانتے ہیں  یہ طرزِ عمل بے عمل مسلمانوں کا ہے۔

دوسری  قسم ان لوگوں کی ہے جو زبان سے مانتے ہیں لیکن دل سے قبول نہیں کرتے، زبانی اقرار بھی کسی مجبوری ،مصلحت یا محض دنیاوی فائدے کے لئے کرتے ہیں یہ طرز عمل منافقین کا ہے۔

تیسری قسم ان لوگوں  ہےجو زبان و دل سے تسلیم نہیں  کرتے ان میں بھی دو قسم  کے لوگ ہوتے ہیں، ایک وہ جو باوجود یقین  و ایمان نہ ہونے کے مومنین کیلئے ایذا و تکلیف کا سبب نہیں بنتے لیکن دوسری اور خطرناک قسم ان لوگوں کی ہے جو  نہ صرف خود انکاری ہیں بلکہ مومنین کیلئے طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی کرتے  ہیں  اور ان کی دشمنی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

اور اہم بات یہ ہے کہ یہ نہیں کہ یہ حق جانتے نہیں ، انہیں پتہ ہوتا ہے کہ یہ حق ہے اور باوجود حق جاننے کے اپنی ضد، انا ،ہٹ دھرمی اور اسلام دشمنی کے سبب ان کے بارے فرمایا جا رہا  کہ یہ ہر گز ایمان نہیں لانے والے، ان کو متنبہ کرنا یا نہ کرنا برابر ہے ۔

اگر زمانہ نبویﷺ کا بغور  مطالعے کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اس زمانے میں بھی  یہ جو آخری قسم کے لوگ  تھے ، جن کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔، وقت نے ثابت کیا کہ وہ واقعی کفر پہ مرے اور تادمِ آخر ایمان نہیں لائے۔ ان کے علاوہ کثیر تعداد ان لوگوں کی تھی جو ابتداءً  تو ایمان نہیں لائے  لیکن ان میں ہٹ دھرمی اور ضد نہیں تھی وہ کفر پہ ڈٹے نہیں رہے۔ وہ سنتے تھے اور غور و فکر کرتے تھے اور اسی وجہ سے وہ آہستہ آہستہ دائرہ اسلام میں داخل ہوتے چلے گئے۔

دورِ حاضر میں بھی جو لوگ ضد ، انانیت اور  ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور علم  کے بارے میں اس غرور و تکبر کا شکار ہوتے ہیں کہ میں سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہوں یا جو میں جانتا ہوں وہی حق اور حرفِ آخر ہے۔ باوجود حق پہ نہ ہونے کے جن کا یہ طرز و انداز ہو وہ بجائے ترقی کے  دین میں تنزلی کی جانب جا رہے ہوتے ہیں اور گمراہی کا شکار ہو رہے ہوتے ہیں۔

 اور ان میں سب سے بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جو اپنے علم پہ اتنے غرور و تکبر کا شکار ہو جاتے ہیں کہ سابقہ چودہ سو سال کے ائمہ دین اور اکابرین ِ امت  پہ تنقید کر رہے ہوتے ہیں اور اس زعم میں مبتلا ہوتے ہیں کہ میں شاید ان سے زیادہ دین ِ اسلام کو سمجھنے والا ہوں۔ اور نہ صرف تنقید بلکہ ان کی شان میں گستاخیاں اور ان کا رد کر رہے ہوتے ہیں ۔ اور پھر علمائے امت کے بعد اولیاءِ کرام اور پھر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ہوتے ہوئے نعوذ باللہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام اور آپﷺ کی شان میں گستاخیوں کے مرتکب ہو جاتے ہیں جو یقیناً ان کو ایمان سے خارج کر دیتی ہیں۔

دوسری طرف وہ لوگ جو غور و فکر کرتے ہیں۔ ضد، انا اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ نہیں کرتے اور اپنے علم پہ مان اور تکبر کا شکار نہیں ہوتے وہ ایمانی ترقی اور علمی وسعت کی جانب گامزن رہتے ہیں ۔ ان کے علم و عمل میں دن بدن بہتری آتی ہے۔

 

یہاں ایک اور بات عرض کرتا چلوں کہ اکثر  مترجم حضرات انذار  کا ترجمہ ڈر لکھتے ہیں اردو کا لفظ ڈر اس  انذار  لفظ کے معانی و مفہوم پہ پورا نہیں اترتا، اس کا سب سے بہترین ترجمہ قاسمِ فیوضات حضرت مولانا محمد اکرم اعوان رحمتہ اللہ علیہ نے اکرم التراجم میں فرمایا ، وہ اس کا ترجمہ فرماتے ہیں متنبہ کرنا ،آپ فرماتے ہیں کہ انذار ہوتا ہے نتائج سے پیشگی آگاہ کرنا، خبردار کرنا۔اردو کے دامن میں اتنی وسعت نہیں اس لئے تقویٰ کاترجمہ بھی ڈر ہی ملے گا اور انذار کا بھی ڈر حالانکہ ان دونوں الفاظ کیلئے ڈر یا خوف لفظ موزوں نہیں۔

تو اس آیت کرمہ کا مفہوم کچھ یوں ہو گا کہ   اے نبی علیہ الصلوۃ والسلام آپ ان انکار کرنے والے لوگوں کو ، کفر پہ ڈٹ جانے والے لوگوں کو آخرت سے، حساب کتاب سے اور جہنم کی آگ سے خبردار کریں یا نہ کریں یہ ان کے لئے برابر ہے، انہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا، یہ ہر گز ایمان نہیں لائیں گے سو آپ ان نہ ماننے والوں کی فکر نہ کریں۔

 ایک اور اہم بات یہ ہے کہ جب یہ لوگ ماننے والے نہیں تو کیا ہمیں تبلیغِ دین چھوڑ دینی چاہئے، ہر گز نہیں  کیونکہ کسی کا ماننا یا نہ ماننا ہمارے بس میں نہیں ،ہدایت دینا اللہ کا اختیار ہے وہ جسے چاہے چن  لے۔ ہمارے لئے اجر ہماری تبلیغ ہے کوئی مانے یا نہ مانے ،ہمیں  اپنی محنت کا ، اس تک دینِ حق پہچانے کا اجر ملے گا،اگر کوئی مان لیتا ہے اور ایمان لے آتا ہے تو صدقہ جاریہ کی صورت میں اجر بھی بڑھ جائے گا اگر کوئی ایمان نہیں بھی لاتا تو ہماری محنت و کاوش ضائع نہیں جائے گی اورہمیں  ہمارا  اجر و ثواب ضرور بضرور ملے گا اپنے رب کی طرف سے۔ انشاء اللہ

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی

0 Comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔