اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہُ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔
رَبِّ اشْرَحْ لِیْ
صَدْرِیْٗ
وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْٗ
وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْٗیَفْقَهُوْا
قَوْلِیْ۪
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: خَتَمَ
اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ وَعَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ
وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ
اللہ
نے ان کے دلوں پر مہر کردی ہے اور ان کے کانوں پر (بھی) اور ان کی آنکھوں پر پردہ
(پڑا ہوا) ہے اور ان کے لئے بڑا عذاب (تیار) ہے۔
ارشاد
ہوتا ہے کہ اللہ نے ان کے دلوں پہ مہر کر
دی ہے اور کانوں پر بھی، اس بات کو سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ ہم قلب کی حقیقت کو
سمجھیں تب ہمیں قلب پہ مہر کا ہونا سمجھ آئے گا۔
انسان
دو چیزوں کا مرکب ہے : روح اور مادی جسم
جسم جو کہ آگ، پانی ،ہوا، مٹی اور نفسِ انسانی کا مرکب ہے اور
اس کے اہم اعضاء کچھ بیرونی ہیں جیسے ہاتھ، پاؤں، آنکھیں ، کان وغیرہ جبکہ کچھ
اندرونی اعضاء ہیں جیسے دل، دماغ، جگر
،معدہ وغیرہ
روح
جو امرربی سے ہے اور لطیف شے ہے اس کے بھی اسی
طرح اہم اعضاء ہیں جنہیں اعضائے رئیسہ کہا جاتا ہے ۔ اور انہیں روح کی لطافت کے
سبب سے لطائف (لطیفہ کی جمع)بھی کہا جاتا ہے جن کا ذکر اہلِ طریقت کی کتابوں میں
ملتا ہے ۔
یہ پانچ اعضاء ہیں : قلب، روح ، سری ،خفی،
اخفاء۔ ان اعضاء کا سب سے تفصیلی بیان قاسمِ فیوضات حضرت مولانا محمد اکرم اعوان
رحمتہ اللہ علیہ کی کتاب "کنوزِ دل" میں ہے۔ مطالعہ فرمائیے گا علم و
عمل میں اضافے کا سبب ہو گا۔انشاء اللہ
تو
جس طرح مادی علوم رکھنے والوں نے ثابت کیا اور ہم تک یہ بات پہنچائی کہ جسم کا
سارا نظام یعنی کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم
دماغ کے پاس ہے۔ اور دماغ ہی باقی سارے اعضاء کو کنٹرول کرتا ہے۔ اسی طرح ہم یہ
بات جانتے ہیں کہ اس مادی جسم کی بقاء اور زندگی روح سے ہے ۔جب یہ روح اس جسم میں
نہیں رہتی تو پھر یہی گوشت پوست کا نسان مردہ ہوتا ہے اور اگر اسے بروقت دفن نہ
کیا جائے تو تعفن زدہ ہو جاتا ہے اور اس
کا یہ جسم گلنا سڑنا شروع ہو جاتا ہے۔ اور اس مردہ جسم کو کوئی انسان نہیں کہتا ،
اسے اس کا نام لے کر نہیں پکارا جاتا بلکہ کہا جاتا ہے کہ یہ میت ہے ، یہ مردہ ہے
، یہ لاش ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ حیات اصل میں روح سے ہے ۔ جب روح جسم میں باقی نہ رہے تو حیات بھی نہیں رہتی۔
اسی
طرح ایک زندہ انسان اگر اپنے اعمال کی وجہ روح کی لطافت کھو دیتی، اس کی اصلی شکل
کو مسخ کردے تو کہا جاتا ہے کہ اس کی روح مر چکی ہے اور یہ زندہ لاش ہے۔ حضرت
رحمتہ اللہ علیہ اکثر ایک عربی کا شعر پڑھا کرتے تھے جس کا مفہوم و ترجمہ یہ ہے کہ
ان کے جسم ان کی روحوں کی قبریں ہیں۔
قلب
، روح کے اعضائے رئیسہ یعنی مذکورہ
بالا پانچ لطائف میں سب سے پہلا اور بنیادی لطیفہ ہے۔ جیسے جسم کا مرکز و محور
دماغ ہے اسی طرح روح کا مرکز پہلا لطیفہء ربانی قلب ہے۔ جسم کی حیات روح سے ہے
اور روح قلب سے ہے ۔ یعنی انسانی حیات کا
سارا دارومدار قلب پہ ہے ۔ قلب زندہ و روشن ہے تو حیات ہے نہیں تو انسان زندہ لاش
کی مانند ہے ۔ جیسے نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : انسانی جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا
ہے اگر وہ درست ہو تو پورا جسم درست ہوتا ہے اوراگر اس میں بگاڑ ہو تو پورے جسم
میں بگاڑ ہوتا ہے ۔فرمایا غور سے سن لو یہ انسان کا قلب ہے۔
قلب
کیا ہے؟ ظاہری طور پہ دل ایک خون پمپ کرنے کا آلہ ہے جسے انگریزی میں Blood Pumping Machine کہا جائے گا
لیکن اس کے اندر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ایک ایسی لطیف چیز رکھ دی ہے جسے
قرآن و حدیث میں قلب کہا گیا جو لطیفہ ربانی ہے اور عالمِ امر سے ہے۔اسی سے انسانی
زندگی کا سارا نظام چلتا ہے ،سب خواہشیں ،خوشیاں، محبتیں ، نفرتیں اسی سے نکلتی
ہیں بلکہ اب تو جدید سائنسدان بھی اس نتیجے پہ پہنچ گئے ہیں اور اس پہ ہارورڈ یونیورسٹی امریکہ کی تحقیق آئی ہے کہ حقیقت میں
انسانی جسم کا مرکز و محور دماغ نہیں بلکہ
دل ہے اور دل وہ آلہ ہے جو سگنل پیدا کرتا ہے اور پھر یہ سگنل دماغ کو منتقل ہوتے
ہیں اور دماغ جسم کو اس پہ لگا دیتا ہے۔
ایک
اور حدیث مبارکہ میں اس دل کے بارے میں ارشاد ہے کہ" جب مومن کوئی گناہ کرتا
ہے تو اس کے قلب پہ سیاہ دھبہ لگا دیا جاتا ہے اگر تو وہ توبہ کر لے تو یہ سیاہ
نشان صاف ہو جاتا ہے لیکن اگر وہ گناہ کرتا جائے تو یہ سیاہ نشان بڑھتا چلا جاتا
ہے یہاں تک کہ اس کا پورا قلب سیاہ ہو جاتا ہے ۔"
قرآن
کریم میں بھی اس قلب کی مختلف حالتیں بیان ہوئیں جیسے مہر لگا ہوا قلب، سیاہ قلب،
ٹیرھا قلب،بیمار قلب ، سخت قلب اور رجوع
کرنے والا قلب۔
یہی
قلب و روح انسان کو دوسرے جانداروں سے ممتاز بناتی ہے کیونکہ باقی تمام جانداروں
میں اللہ نے صرف جان رکھی لیکن انسان کو جان نہیں بلکہ روح عطا فرمائی جو امر ربی
ہے اور عالمِ امر سے ہے۔
سورۃ
البقہ کی اس ساتویں آیتِ کریمہ میں فرمایا جا رہا کہ خَتَمَ اللَّهُ
عَلَى قُلُوبِهِمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ وَعَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ کہ ان کے کفر، انکی اسلام دشمنی ،ضد، انا اور ہٹ دھرمی کے سبب اللہ تبارک
وتعالیٰ نے ان کو دلوں کو مہر بند کر دیا ہے ،ان کے لئے ہدایت کے رستے بند فرما
دیئے ہیں، وہ متوجہ الی اللہ ہو ہی نہیں سکتے ،فہم و ادراک جس کا تعلق قلب سے اب
انہیں حاصل نہیں ہو سکتا ، ان کے قلب کی وہ روحانی خاصیت سلب کر لی گئی اور نہ صرف
ان کے دلوں کو حق سے محروم کر دیا ہے بلکہ ان کے کانوں کو بھی حق سننے سے محروم کر
دیا ہے اب ظاہراً وہ بہرے نہیں ہیں لیکن
حقیقت میں بہرے ہیں کیونکہ حق سننے سے محروم ہیں اور ان کی آنکھوں پہ پردہ ہے کہ
ظاہراً تو وہ دیکھ رہے ہیں لیکن حق نہیں دیکھ سکتے ، ان آنکھوں سے مظاہرِ قدرت
نہیں دیکھ سکتے ، ان سے یہ حقانیت نہیں دیکھ سکتے۔یعنی ان کے کفر کے سبب ان کیلئے
ہدایت کے تمام دروازے، رستے اور ذرائع بند کر دیئے ہیں ۔
وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ اور ان کے لئے بہت بڑا عذاب ہے۔
اس
آیت کریمہ کی مزید تفسیر خود اللہ تبارک و تعالیٰ نے سورۃ الانعام آیت نمبر 179
میں فرما دی ۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اور
بے شک ہم نے بہت سے جن اور انسان دوزخ کیلئے پیدا فرمائے ہیں ان کے دل ہیں کہ ان سے یہ سمجھتے نہیں اور ان
کی آنکھیں ہیں کہ ان سے یہ دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں کہ ان سے یہ سنتے نہیں۔
یہ لوگ چوپاؤں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے۔یہی لوگ ہیں جو غفلت میں پڑے
ہوئے ہیں۔
اس
آیتِ کریمہ میں مزید یہ بھی فرما دیا کہ یہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی گئے
گزرے کیونکہ جانوروں میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے جان رکھی اور انسان کو روح عطا
فرمائی اور باوجود روححانی صلاحیتوں
کے اس نے جانوروں جیسی زندگی گزار دی
کیونکہ کھانا پینا،سونا جاگنا، رزق کی تلاش ، مباشرت وغیرہ یہ امور تو جانور بھی
کر رہے ہیں ۔ اس کی تخلیق کا مقصد کچھ اور تھا جو یہ حاصل نہ کر سکا تو یہ جانوروں
سے بھی بدتر ہے، ان سے بھی گیا گزرا ہے ۔ ااور اس سب کا سبب یہ ہے کہ یہ غفلت میں
پڑا ہوا ہے۔
اللہ
تبارک وتعالیٰ ہمیں غفلت سے بچائے۔
اللہ
تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم
رہنے کی توفیق و ہمت عطا فرمائے۔
آمین
یا رب العالمین
دعاؤں کا طالب
ابو محمد زبیر اویسی










0 Comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔