سورۃ البقرہ کی پہلی بیس آیت کا خلاصہ و مقصد

0 Comments


اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلا
ۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہُ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْٗ وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْٗ وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْٗیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

سورۃ البقرہ کی پہلی  بیس آیت انتہائی اہمیت کی حامل ہیں ۔ جن میں سے پہلی پانچ آیت مومنین سے متعلقہ ہیں اسے کے بعد کی دو آیات کفار کے بارے میں ہیں جبکہ اسکے بعد کی تیرہ آیات ( آیت نمبر 8 سے 20 تک ) منافقین کے بارے میں ہیں۔

ہمارا عمومی معاملہ یہ ہے کہ ہم قرآن کو صرف اس کے شانِ نزول کے اعتبار سے لیتے ہیں اور ہمارا یہ گمان ہے کہ شاید قرآن کے مخاطب اس زمانے کے لوگ ہی ہیں  یا پھر اس سے سابقہ زمانوں کے لوگوں کے احوال بیان ہوئے ہیں۔ بلاشبہ قرآن میں سابقہ قوموں کے احوال بھی بیان ہوئے اور قرآن کی براہِ راست مخاطب زمانہ نبوی ﷺ لے لوگ یعنی اصحابِ محمد الرسول اللہ ﷺ ، مشرکینِ مکہ، منافقینِ مدینہ اور یہود و نصاریٰ ہیں۔ لیکن قرآن قیامت تک کے لوگوں کیلئے ہے  اور اس کا مخاطب ہمیشہ اس زمانے کا فرد ہو گا جیسے دورِ حاضر میں قرآن ہم سے مخاطب ہے، اس میں بیان کردہ احکام ، اوامر و نواہی، مختلف قسم کے لوگوں کی خصوصیات و صفات کو ہمارے لئے بیان کیا گیا ہے۔

جب ہم اس کو اس انداز سے سمجھیں گے کہ اس کا مخاطب میری ذات ہے ، اس کا مخاطب میں ہوں  تو یہ جو سورۃ البقرہ کی پہلی بیس آیات ہیں ، جن میں مومنین، کفار اور منافقیں کی صفات بیان کی گئی ہیں ، تو ان بیس آیات میں کہیں نہ کہیں  میں بھی ہوں ، آپ بھی ہیں بلکہ ہم سب ان بیس آیات میں کہیں نہ کہیں پائے جاتے ہیں، اور اگر خدا نخواستہ مومنین میں نہیں ہیں تو پھر لازمی طور پر ہمارا وجود کفار یا منافقین میں پایا جائے گا۔

انسان خود کو یا تو خود جانتا ہوتا ہے یا پھر اللہ تبارک وتعالی ٰ کی علیم و خبیر ذات۔اگر ہم خود اپنا محاسبہ کریں اور اپنے ایمان و اعتقاد اور اعمال و عقائد کو ان بیس آیات پہ پرکھیں تو میں سمجھتا ہوں بڑی آسانی سے سمجھ آ جاتی ہے ۔

لیکن ہمارا معاملہ یہ ہے کہ ہم دوسروں پہ تو بڑے شوق سے تنقید کر رہے ہوتے ہیں، دوسروں کو تو وعظ و نصیحت کر رہے ہوتے ہیں  لیکن خود کی اصلاح نہیں کرتے۔ اپنی ذات کی فکر نہیں کرتے۔

آج کل کے دور میں ہر کوئی حقوق کی بات کر رہا ہے ، مجھے میرا حق نہیں دیا جا رہا ، مجھ سے میرا حق چھین لیا گیا ہے، حالانکہ اسلام کا معاملہ اس سے مختلف ہے اسلام حقوق کی بات نہیں کرتا، اسلام فرائض سکھاتا ہے اور فرائض ادا کرنے کا حکم دیتا ہے ، فرائض کا خیال رکھنے کی تلقین کرتا ہے۔ کیوں؟ اس لئے کہ جو دوسرے کا حق ہے وہ آپ کا فرض ہے، جو والدین کے حقوق ہیں وہ اولاد کے فرائض ہیں  اور جو اولاد کے حقوق ہیں وہ والدین کے فرائض ہیں۔ اگر ہر کوئی اپنا فرض ادا کرتا رہے تو کوئی صورت ممکن نہیں کہ کسی کی حق تلفی ہو ۔ اسلام کا احکامات فرد کے لئے ہیں ذات کے لئے ہیں قاسمِ فیوضات مولانا محمد اکرم اعوان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے تھے  کہ ہم چاہتے ہیں کہ پوری دنیا پہ اسلام نافذ ہو جائے لیکن میری ذات بچ جائے، میں سود کھا رہا ہوں تو کھاتا رہوں، میں غیر شرعی نزندگی گزار رہا ہوں تو گزارتا رہوں ، میں نے کسی کی حق تلفی کی ہوئی ہے تو مجھ سے کوئی نہ پوچھے۔ لیکن معاملہ اس کے الٹ ہے، سب سے مجھے اور آپ کو اپنے آپ پہ ،اس پانچ چھ فٹ کے بدن پہ اسلام نافذ کرنا ہو گا  جب تک ہم اس پہ نافذ نہیں کرتے ہم اس اہل نہیں کہ ہم کسی اور کو تبلیغ کرتے پھریں یا خالی دعائیں کرتے رہیں۔ جب ہم اپنی ذات پہ نافذ کر لیں گے تو اب ہم اسے کسی اور پہ، اپنے عزیز و اقارب پہ، اپنے اہل و عیال پہ، اپنے احباب پہ نافذ کرنے کے اہل ہو گئے ہیں۔ اور اسلام چونکہ دین ِ فطرت ہے اور اسے انسان کی فطرت پہ بنایا گیا ہے تو  جو بھی حقیقت میں اسے اپناتا ہے اس کے متعلقین  خود یہ چاہتے ہیں کہ وہ بھی ایسے بن جائیں۔

اسلام عقائد و ایمانیات سے شروع ہوتا ہے ، اعمال کی پابندی کے ساتھ کردار کی اصلاح کرتا ہے  اور پھر زندگی کے ہر چھوٹے بڑے عمل کو اطیعواللہ و اطیعو الرسول کے مطابق کر کے انتہائی خوبصورت اور پر امن معاشرہ تشکیل دیتا ہے۔

تو میں سمجھتا ہوں کہ ضرور بضرور خود کو سورۃ البقرہ کی ان  پہلی بیس آیات کے سانچے میں پرکھنا چاہیئے کہ میں کہاں کھڑا ہوں ، کیا مجھ میں مومنین کی صفات موجود ہیں اگر نہیں تو کہیں میرا معاملہ کفار و منافقین جیسا تو نہیں ، کہیں وہ عادات و اطوار جو قرآن منافقین کی بیان فرما رہا ہے وہ تو مجھ میں نہیں پائی جاتیں۔ اگر ایسا ہے تو مجھے اپنی ذات کی اصلاح کی ضرورت ہے ، مجھے اپنے محاسبہ کی ضرورت ہے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی


0 Comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔