اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہُ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔
رَبِّ اشْرَحْ لِیْ
صَدْرِیْٗ
وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْٗ
وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْٗیَفْقَهُوْا
قَوْلِیْ۪
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: أُولَئِكَ
الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَةَ بِالْهُدَى فَمَا رَبِحَتْ تِجَارَتُهُمْ وَمَا
كَانُوا مُهْتَدِينَ)16(
انہوں نے ہدایت کے بدلے
گمراہی خریدی تو نہ تو انکی تجارت نے
انہیں نفع دیا اور نہ ہی وہ ہدایت پا سکے۔
اس آیتِ کریمہ میں جو سب
سے پہلی غور طلب بات ہے وہ یہ ہے کہ یہاں
پہ منافقین کے اس عمل کو ان کے نفاق کو تجارت و خرید و فروخت سے تشبیہ دیا گیا ہے۔ یہ نہیں کہا گیا کہ انہوں
نے ہدایت کے بدلے گمراہی اختیار کی بلکہ فرمایا گیا أُولَئِكَ
الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَةَ بِالْهُدَى کہ
انہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تجارت یا خریدو فروخت کا معاملہ جب آپ کر رہے ہوتے ہیں تو ایک چیز دے رہے ہوتے ہیں
اور ایک لے رہے ہوتے ہیں یعنی مال کے بدلے مال یا مال کے بدلے نقد رقم، تو جب آپ
خرید و فروخت کرتے ہیں ، تجارت کرتے ہیں تو دونوں چیزیں آپ کے پاس نہیں رہتیں ، یہ نہیں ہوتا کہ آپ مال بھی لے لیں اور اس کے
بدلے کچھ دینا بھی نہ پڑا۔
منافقین جنہیں آپ ﷺ کی
صحبت بھی نصیب ہوئی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ساتھ بھی نصیب ہوا لیکن
اس کے با وجود انہوں نے ہدایت کو چھوڑ کے ، دین حق کو چھوڑ کر، اطاعت ِ محمد
الرسول اللہ ﷺ کو پسِ پشت ڈال کر نفاق کا رستہ اختیار کیا تو ان کے پاس اب دونوں چیزیں تو نہیں رہ سکتیں
ہدایت کو جب چھوڑ کر، ظاہراً خود کو مسلمان کہلوا کر عملاً
اسلام دشمنی کرتے رہےتو ان کے اس عمل نے ان کے نفاق نے ، انکی اس تجارت نے
انہیں کچھ فائدہ نہیں دیا بلکہ وہ دگنے
نقصان کا شکار ہوئے کہ ایک تو اس گمراہی کیوجہ سے ، اس کھاٹے کی تجارت کی وجہ سے
دنیاوی ذلت و رسوائی ان کا مقدر ہوئی اور
دوسرا نقصان اخروی ہوا کہ ہدایت یافتہ نہ ہونے کیوجہ سے وہ نارِ جہنم کے مستحق ہوں گے۔
منافقین کیسے لوگ ہیں ؟
اور نفاق کیا ہے؟
قاسمِ فیوضات حضرت مولانا
محمد اکرم اعوان رحمتہ اللہ علیہ اکرم التفاسیر میں فرماتے ہیں : اللہ پناہ دے
کہتے رہنا کہ میں مسلمان ہوں ، کلمہ پڑھتے رہنا ، نمازیں پڑھتے رہنا ، روزے رکھتے
رہنا ،حج کرتے رہنا ،زکوٰۃ دیتے رہنا لیکن
کردار کی اصلاح نہ کرنا اور دنیوی لالچ
میں آکر کردار میں برائیاں پیدا کر لینا ،
چند ٹکوں کے عوض جھوت بول لینا ، چند سکے کمانے کے لئے دھوکہ دینا ۔ نتائج تو عملی
زندگی پہ مرتب ہوں گے، زبانی قول پہ نہیں، کوئی کہتا ہے کہ میں نے زہر کھا
لیا تو صرف کہنے سے نہیں مرتا لیکن اگر کوئی یہ اعلان نہ بھی کرے اور عملاً
زہر کھا لے تو مر جائے گا ۔ نتائج عمل پہ
مرتب ہوتے ہیں ۔ ،منافقین ایسے بدبخت ہیں کہ انہوں نے ہدایت کو چھوڑ کر گمراہی کو اپنایا۔
اللہ معاف فرمائے ہمارا
معاملہ بھی کچھ اس طرح کا ہے کہ ہمیں دین
ِ اسلام کیلئے، نورِ ہدایت کیلئے کچھ بھی محنت و مشقت نہیں اٹھانا پڑی بلکہ الحمد
اللہ ہم پیدا ہی مسلمان گھرانوں میں ہوئے، ابتدائی دینی تربیت ماں کی گود سے ہی
شروع ہو گئی، پیدا ہوتے ہی ہمارے کانوں میں اذان دے دی گئی، تھوڑے سے بڑے ہوئے تو
والدین اور اساتذہ نے بنیادی ارکانِ دین سکھا دیئے، اسلامی معاشرے میں پروان چڑھے،
گھر کا ماحول ہو ، سکول کے استاتذہ ہوں یا علماء و مبلغین کے خطبات ہر جگہ دین
پڑھایا اور سکھایا جاتا رہا ۔ اب اس سب کے باوجود اگر ہم صراطِ مستقیم کو چھوڑ کر
، راہِ ہدایت کو چھوڑ کر اسلامی تشخص و کردار اپنانے کے بجائے گمراہی کی طرف جاتے
ہیں، کافرانہ طرزِ عمل اپناتے ہیں ، ایسی جدت پسندی جو اسلام سے متصادم ہے اسے
روشن خیالی کا نام دے کر اسلامی تعلیمات سے روگردانی کرتے ہیں ۔ بے حیائی کو روشن خیالی،
سود کو کاروبار، یہود و نصاریٰ جیسی شکل و صورت کو فیشن ، حلال و حرام کی تمیز
چھوڑنا وقت کی ضرورت اور جہاد فی سبیل اللہ اور اسلام کے دشمنوں کے خلاف قتال کو
دہشتگردی سمجھتے ہیں ، دین میں اپنی پسند و ناپسند سے طرح طرح کی بدعات و خرافات شامل کرکے انہیں عبادات
سمجھتے ہیں، زکوٰۃ و صدقات کے اسلامی طریقے کو چھوڑ کر ذاتی نمائش کیلئے دین کے
کاموں میں خرچ کرکے اسے عبادت کا درجہ دیتے ہیں تو ہمارا معاملہ بھی کچھ زیادہ
مختلف نہیں ان لوگوں سے۔
مولانا اشرف علی تھانوی
رحمتہ اللہ علیہ اپنے ارشادات میں فرماتے ہیں
کہ دین میں جو نئی نئی رسومات ایجاد کی جاتی ہیں، یہ ایسی بدبختی ہیں جنہیں
شریعت میں بدعت کہا گیا ہے۔ بدعت کیا ہے؟ دین
کے نام پہ کوئی نئی رسم ایجاد کریں اور اسے شریعت قرار دیں جسے اللہ نے
عبادت قرار نہیں دیا ، جسے نبی کریمﷺ نے عبادت قرار نہیں دیا، جو کام خلفائے
راشدیں کے دور سے ثابت نہیں ہوتا۔
مولانا تھانوی رحمتہ اللہ
علیہ فرماتے ہیں کہ بدعت کی مصیبت یہ ہے کہ بندے کو توبہ نصیب نہیں ہوتی۔ وجہ کیا
ہے؟کیوں کہ جو گناہ کو گناہ سمجھ کر کرے
اسے پتہ ہے کہ یہ کام غلط ہے ،شریعت ِ اسلامیہ کے مطابق گناہ کا کام ہے تو ممکن ہے اسے کسی وقت احساسِ ندامت ہو جائے
اور وہ توبہ کرلے۔ لیکن جو گناہ کو گناہ سمجھ ہی نہیں رہا بلکہ اس کے نزدیک وہ
نیکی کا کام کر رہا ہوتا ہے اب جسے وہ
نیکی سمجھ رہا ہوتا ہے تو نیکی سے توبہ کب
کرے گا؟ جبکہ یہ اس کا ذاتی خیال ہوتا ہے اگر وہ اسے شریعتِ اسلامیہ پہ پرکھے تو وہ نیکی کا کام ہے ہی نہیں۔
یہی بات اس آیتِ
کریمہ میں بیان فرمائی کہ ہدایت کے بدلے ،
ہدایت کے میسر ہونے کے باوجود انہوں نے
گمراہی اختیار کی تو ان کا معاملہ یہ ہوا ، اس کا نتیجہ یہ نکلا
کہ فَمَا رَبِحَتْ تِجَارَتُهُمْ وَمَا كَانُوا
مُهْتَدِينَ یعنی انکی یہ تجارت ، انکے اس معاملے نے ان کو کوئی فائدہ
نہ دیا اور دوسرا نقصان کہ یہ
کبھی ہدایت نہیں پائیں گے چونکہ یہ جو کچھ کر رہے ہیں اسے یہ اچھا سمجھتے ہیں ، اسی یہ اپنی قابل و
لیاقت اور اپنے فہم کے مطابق صحیح تصور کرتے ہیں
تو اب اچھے سے ، صحیح سے توبہ کون کرے گا ، مفروضہ نیکی سے توبہ کون کرے
گا۔ یعنی یہ نہ صرف دنیا بلکہ آخرت میں بھی نقصان اٹھائیں گے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں بدعات و خرافات میں پڑنے سے
بچائے اور خود ساختہ نمائشی کاموں سے بچائے۔
اللہ
تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم
رہنے کی توفیق و ہمت عطا فرمائے۔
آمین
یا رب العالمین
دعاؤں کا طالب
ابو محمد زبیر اویسی











0 Comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔