اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔
رَبِّ اشْرَحْ لِیْ
صَدْرِیْ ۙوَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙوَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
الَّذِينَ يَنْقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا
أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَنْ يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ أُولَئِكَ هُمُ
الْخَاسِرُونَ۔
"جو لوگ اللہ سے پکا
وعدہ کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور اللہ نے جس کے جوڑنے کاحکم دیا ہے اس کو توڑتے
ہیں اور زمین میں خرابی کرتے ہیں یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں"
سابقہ درس میں فاسقین کے
بارے میں گفتگو ہو رہی تھی یہ آیتِ کریمہ
بھی اسی موضوع پہ ہے ۔
قرآنِ مجیداور اس میں
بیان کردہ باتیں اور مثالیں لوگوں کی ہدایت کیلئے ہیں لیکن بہت ساروں کے لئے گمراہی
ہے ،اب کون ہیں جن کے لئے اس میں گمراہی ہے تو فرمایا :وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلَّا
الْفَاسِقِينَ کہ اس میں گمراہی نہیں سوائے فاسقین
کے۔ یہاں سب سے پہلے تو اس بات کی نفی کی
گئی کہ اس میں یعنی قرآنِ کریم میں ہر گز گمراہی نہیں کوئی یہ تصور بھی نہ کرے کہ اس میں گمراہی ہے۔ اگر کوئی اس سے گمراہ
ہوتا ہے یا اسے پڑھنے کے بعد بھی گمراہی کی راہ پہ چلتا ہے تو اس کی وجہ قرآن ِ
کریم نہیں بلکہ اس کا اپنا فسق ہے ۔ فاسقین یعنی
جو حد سے تجاوز کرنے والےہیں، جو اللہ تعالیٰ کے احکامات میں کمی بیشی کرتے
ہیں ، جو اپنی پسند و ناپسند کے مطابق دینِ الٰہی کو، احکاماتِ باری تعالیٰ کو،
شریعتِ مطہرہ کو ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔
احکامات باری تعالی کو ،
سنت خیر الانام کو پسِ پشت ڈال کر رواجات اور بدعات وخرافات کی پیروی کرتے ہیں۔
رضائے باری تعالیٰ کے حصول کے بجائے لوگوں
کی پسند وناپسند اور ذاتی شہرت و ناموری کے حصول کے لیے دین کے نام پر طرح طرح کی
بدعات و خرافات گھڑتے ہیں۔
فسق کا اعلیٰ درجہ کہ
گناہ کو گناہ سمجھنا ہی چھوڑ دیا جائے اور عمل بد کو گناہ کے بجائے صحیح سمجھ کر
کرنا کفر میں داخل کر دیتا ہے لیکن فسق کا ادنیٰ درجہ کہ
گناہ کو یہ جانتے ہوئے کہ یہ گناہ ہے پھر بھی کرنا اتنا ہی خطرناک ہے۔ کیونکہ
آہستہ آہستہ پھر وہ گناہ عادت بن جاتا ہے اور پھر جو ہچکچاہٹ یا حیا ہوتی ہے وہ
بھی جاتی رہتی ہے اور بالآخر انسان گناہ کو گناہ سمجھنا ہی چھوڑ دیتا ہے جس سے وہ
ایمان گنوا بیٹھتا ہے اور کفر میں داخل ہو جاتا ہے۔
اس آیتِ کریمہ میں اللہ
تبارک و تعالیٰ نے فاسقین کی تین نشانیاں بیان فرمائیں پہلی نشانی کہ اللہ سے کیا
پختہ عہد توڑتے ہیں۔ دوسری اللہ نے جس کے جوڑنے کا حکم دیا ہے اس کو توڑتے ہیں
اور تیسری فساد فی الارض کا سبب بنتے ہیں۔
اور پھر اس کاانجام اور نتیجہ بیان ہوا کہ یہ لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں،یہ لوگ
گھاٹے میں ہیں ،یہ خسارے میں ہیں۔
پہلی نشانی جو بیان
ہوئی فرمایا گیا : الَّذِينَ يَنْقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ
مِنْ بَعْدِ مِيثَاقِهِ
جو لوگ اللہ سے کیا وعدہ
توڑتے ہیں اسے پختہ کرنے کے بعد۔
اللہ تبارک و تعالیٰ سے
کیا گیا عہد کیا ہے؟ مفسرینِ کرام نے اس عہد کے بارے میں مختلف آراء بیان فرمائی
ہیں ۔ جمہور ائمہ تفسیر نے اس عہد کے بارے میں بیان فرمایا ہے کہ اس عہد سے مراد
یومِ الست کو جب تمام ارواحِ انسانی کو جمع کر کے فرمایا گیا" الست بربکم"
کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں تو سب نے یک زبان ہو کر کہا "قالوا
بلیٰ" بے شک تو ہی ہمارا پروردگار ہے۔
اللہ تعالیٰ کمی بیشی
معاف فرمائے جہاں تک میں سمجھ سکا ہوں کہ
عالمِ ارواح میں کیے گئے اس عہد ہی کیوجہ سے
توحیدِ باری تعالیٰ کا عقیدہ اور احساس ایک حد تک کسی نہ کسی درجہ میں ہر
انسان کے اندر پایا جاتا ہے۔ وہ ظاہری حیات میں قبول کرے یا نہ کرے،اللہ تبارک وتعالیٰ کو رب العالمین مانے یا نہ مانے
اسکی روھ کو اس عہد کا علم ہے ، اسکی روح جانتی ہے کہ اس نے کہا تھا کہ " قالوا
بلیٰ"
اسی وجہ سے چاہے کوئی کفر
پہ ڈٹا رہے، اپنے لئے جتنے مرضی بت گھڑ لے اس کے اندر یہ احساس موجود ہے کہ اس
کائنات کا مالک ، پروردگار ،خالق ذاتِ واحد ہی ہے۔
پھر اسی عہد کے بارے
ارشاد ہوا " مِنْ
بَعْدِ مِيثَاقِهِ " اسے مضبوط کرنے کے بعد
یعنی جب انسان اس ظاہری حیات میں ، دنیا میں آتا ہے
اور حق اس تک پہنچتا ہے ۔ چاہے تو ماں کی گود
میں ہی مل جائے یا پھر اگر کسی کفرستان میں کسی کفار گھرانے میں آنکھ کھولے
تو بھی ایک نہ ایک دن ضرور بضرور حق اس تک پہنچتا ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ اللہ
تبارک وتعالیٰ کسی کو حق سے ہمیشہ کیلئے محروم رکھے۔
اب جب وہ ہوش سنبھالتا
ہے، عقل و شعور اور سوجھ بوجھ کی عمر میں داخل ہوتا ہے اور اپنی مرضی اور پسند سے حق کو قبول کرتا ہے
، اللہ تبارک وتعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کرتا ہے ، یہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ
تبارک و تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمدﷺ اللہ کے بندے اور آخری رسول
ہیں تو اس نے اس عہد کو جو یومِ الست کو اس سے لیا گیا تھا اس کو مضبوط اور پختہ
کر دیا ۔ اب وہ ظاہراً مسلمان کہلانے لگ گیا۔ اب جب اس عہد کع اس نے پختہ کر دیا ،
اللہ کی وحدانیت کا اقرار صدقِ دل سے کر لیا اور حضرت محمد ﷺ کو آخری نبی اور رسول
مان لیا۔ اس کے بعد بھی اگر تو وہ احکاماتِ شریعت سے روگردانی کرتا ہے، اللہ
تعالیٰ اور اللہ کے رسول ﷺ کی نافرمانی اور گناہ کا مرتکب ہوتا ہے تو اس کے بارے
میں یہاں فرمایا گیا کہ الَّذِينَ
يَنْقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مِيثَاقِهِ یعنی جو اللہ سے کیے گئے وعدے کو پختہ کرنے کے بعد توڑتے
ہیں۔ یہ فاسقین کی پہلی علامت و نشانی بتائی گئی۔
پھر
دوسری نشانی کا تذکرہ ہوا ۔ارشاد ہوتا ہے کہ
وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَنْ
يُوصَلَ
اور اللہ تعالیٰ نے جس کے
جوڑنے کا حکم دیا ہے اس کو توڑتے ہیں۔
صاحبِ تفسیر ِ قرطبی اس
آیت ِ کریمہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
اس میں علماء کا اختلاف
ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کس چیز کو ملانے کا حکم دیا ہے ؟ بعض نے کہا :صلہ رحمی، بعض
نے فرمایاکہ : قول کو عمل کے ساتھ ملانے کا حکم ہے یعنی انہوں نے قول و عمل کو جدا
جدا کر دیا اس طرح کہ جو انہوں نے کہا اس پہ عمل نہیں کیا، بعض نے کہا کہ : تمام
انبیاء کی تصدیق کو ملانے کا حکم دیا یعنی انہوں نے بعض کی تصدیق اور بعض کی تکذیب
کر کے اس کو توڑا، بعض نے فرمایا کہ: یہ
اللہ کے دین اور زمین میں اس کی عبادت،شریعت کا قائم کرنا اور شرعی حدود کی حفاظت
کرنے کی طرف اشارہ ہے۔
جمہور علماء کا قول یہ ہے
کہ یہ ہر اس صورت کو شامل ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے ملانے کا حکم دیا ہے صلہ رحمی
اس کا ایک جزو ہے۔
پھر تیسری نشانی بیان
ہوئی فرمایا: وَيُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ۔
اور زمین میں خرابی کرتے ہیں۔
فساد کے بارے میں تفصیلی
گفتگو سورۃ البقرہ آیت نمبر 11 اور 12 کی تفسیر میں گزری ہے۔
جب کوئی انسان اللہ
تعالیٰ کے احکامات اور محمد رسول اللہﷺ کی تعلیمات کو چھوڑ کر، اپنی مرضی اور اپنی
پسند پر چلتا ہے جو شریعت ِ مطہرہ کے خلاف ہوتی ہے تو وہ فساد کا سبب بنتا ہے۔ اور
یہ فساد نہ صرف اس کی اپنی ذات کو بلکہ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہوتا
ہے۔ اسی لئے فرمایا کہ وہ زمین میں فسادو خرابی پید اکرتے ہیں۔ یعنی نہ صرف اپنی
ذات کو نقصان پہنچایا بلکہ پوری دنیا
کےلئے، کرہ ارض کیلئے خرابی کا سبب بنے۔ گناہ صرف ذات کو نقصان نہیں دیتا بلکہ
پورے ماحول اور معاشرے پہ اپنا اثر چھوڑتا ہے۔
اور ان کے ان طور طریقوں ، خلافِ شریعت زندگی ،
احکاماتِ باری تعالیٰ سے روگردانی کا نتیجہ یہ ہوا کہ "أُولَئِكَ
هُمُ الْخَاسِرُونَ " یہی لوگ نقصان اٹھانے
والے ہیں انہوں نے نہ صرف اپنی دنیاوی زندگی کو تباہ کیا بلکہ آخرت میں بھی عذاب
کے حق دار ہوں گے۔
اللہ
تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم
رہنے کی توفیق و ہمت عطا فرمائے۔
آمین
یا رب العالمین
دعاؤں کا طالب
ابو محمد زبیر اویسی
.jpg)










0 Comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔