رَبِّ اشْرَحْ لِیْ
صَ
دْرِیْ ۙوَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙوَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: كَيْفَ
تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ وَكُنْتُمْ أَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ
ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ۔
"تم اللہ کا انکار
کیسے کر سکتے ہو اور تم بے جان تھے پھر اس نے تم کو حیات دی پھر تم کو موت دے گا
پھر تمھیں زندہ کرے گا پھر تم اس کے پاس لوٹائے جاؤ گے۔"
سورۃ البقرہ کے اس تیسرے
رکوع کی ابتداء میں بنی نوعِ انسان کو مخاطب کر کے اللہ تعالیٰ نے عبادت کا حکم
دیا اور فرمایا کہ اپنے رب کی عبادت کرو
جس نے تمھیں اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا فرمایا۔ تخلیق اور ربوبیت یعنی
پروردگاری و پالنہاری دو ایسی صفات ہیں جن
سے کوئی بھی ذی عقل انکار نہیں کر سکتا۔ اس لیے دلیل کے طور پہ فرمایا کہ اس ذات
کی عبادت کرو جس نے نہ صرف تمھیں بلکہ تم سے پہلے تمھارے آباؤ اجداد کو بھی پیدا فرمایا اور نہ صرف پیدا فرمایا
بلکہ تمھارا پروردگار بھی ہے، تمھیں زندہ رہنے کےلئے زندگی گزارنے کیلئے تمام
ضروریات و آسائشات بھی فراہم فرما رہا ہے۔ تمھارے لئے زمین کو بچھونا اور آسمان کو
چھت بنایا اور آسمان سے پانی برسا کر اس
بنجر و چٹیل زمین کو تمہارے لئے زرخیز بنا کر تمھارے کھانے کیلئے کئی اقسام
کے پھل پیدا فرمائے۔
سو کسی کو اس جیسا نہ
سمجھو ،کسی کو اس کی برابری و ہمسری میں نہ لاؤ کیونکہ تم ان حقیقتوں کو اچھی طرح
جانتے ہو ۔ یہ جو دلائل بیان فرمائے جا رہے ہیں یہ ایسی حقیقتیں ہیں جن سے انکار
ممکن ہی نہیں۔ کوئی بھی ذی عقل و ذی شعور
انسان ان حقیقتوں کو نہیں جھٹلا سکتا۔
پھر آیت نمبر 23 میں
ارشاد ہوا: وَإِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّا
نَزَّلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ وَادْعُوا
شُهَدَاءَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ۔
یعنی قرآن ِ کریم کو دلیل کے طور پہ پیش کیا کہ اگر تمھیں اس کے کلام اللہ ہونے میں شک ہے
تو تم بھی اس جیسی ایک سورت بنا لاؤ اور اس کیلئے جو ممکن ہے کر کے دیکھ لو یعنی اپنے
تمام مددگاروں اور حمایتیوں کو اکٹھا کر
لو اگر تم اپنی بات کہ جو تم کہتے ہو کہ
یہ من گھڑت اور آپ ﷺ کی اپنی بنائی ہوئی باتیں ہیں یہ اللہ کی طرف سے نازل کردہ
نہیں تو اگر تم اس بات میں سچے ہو تو تم بھی ایسی ایک سورت بنا لاؤ۔
پھر اللہ تبارک وتعالیٰ
نے خود ہی ان کی بے کسی و بے چارگی کو بھی بیان فرما دیا اور فرمایا: فَإِنْ
لَمْ تَفْعَلُوا وَلَنْ تَفْعَلُوا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي وَقُودُهَا
النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ أُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِينَ۔ نہ
صرف یہ بتا دیا کہ تم ایسا نہیں کر سکتے بلکہ تم
ہر گز نہیں کر سکو گے اور جب نہیں کر سکتے تو اس کا نجام و نتیجہ بھی تمھیں
معلوم ہونا چاہیے اور بتلا دیا کہ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ پھر ڈرو اس آگ سے جو اتنی سخت ہے کہ اس
کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے اور اس
کو تم جیسے انکار کرنے والوں کیلئے تیار کیا گیا ہے۔
آیت
نمبر 25 میں ایمان والوں کا بیان ہے یعنی
جو مانتے ہیں ،جو حق کو قبول کرتے ہیں ان کیلئے جنت اور اس کی نعمتیں ہیں۔ آیت
نمبر 26 اور 27 میں فاسقین کا بیان ہوا جو تفصیل سے سابقہ دروس میں گزرا۔
ان
تمام دلائل اور تینوں گروہوں یعنی کفار، مومنین اور فاسقین کے بیان کے بعد
اب پھر بیان اسی موضوع و مضمون کا ہے۔ابتدائی
آیت میں بات صرف تخلیق کی فرمائی, ربوبیت کا تذکرہ ہوا، اب فرمایا جا رہا ہے:
كَيْفَ
تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ (تم اللہ تعالیٰ کا انکار کیسے کر سکتے ہو)
حالانکہ :وَكُنْتُمْ
أَمْوَاتًا (تم بے جان
تھے،مردہ تھے)
فَأَحْيَاكُمْ
(اس نے تمھیں زندگی بخشی)
ثُمَّ يُمِيتُكُمْ (پھر
تمھیں موت دے گا )
ثُمَّ يُحْيِيكُمْ (پھر
تمھیں زندہ کرے گا)
ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ
(پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے)
رجوع ہوتا ہے اصل کی طرف
لوٹنا، پلٹنا۔ یعنی انسان کی ابتداء جہاں سے ہوئی اس نے وہیں دوبارہ لوٹنا ہے۔
یہاں جو بہت ہی خوبصورت
اسلوب بیان ہوا ہے وہ قابلِ غور ہے کہ جیسے کسی چیز کی حقیقت روزِ روشن کی طرح
واضح ہو یا کسی کام کا نقصان یقینی ہو تو ہم کہتے ہیں بھائی تم یہ کام کیسے کر
سکتے ہو حالانکہ اسکا نقصان یقینی ہے بالکل اسی طرح فرمایا گیا کہ تم اللہ تبارک وتعالیٰ کا انکار کیسے کر سکتے
ہو حالانکہ اس میں تمہیں کوئی شک نہیں کہ تم ذرہ بے جان تھے اس نے تمہیں حیات بخشی
وہ پھر تمھیں موت دے گا ،اس موت کے بعد پھر تمھیں دوبارہ اٹھائے گا اور روزِ محشر
تم اس کے حضور پیش ہو گے وہ تم سے حساب و کتاب لے گا، وہ ہستی تمھارا مواخذہ
فرمائے گی۔
ہر ادارے یا آرگنائزیشن
کے اپنے اصول و ضوابط ہوتے ہیں ہم جب اس ادارے میں ملازمت اختیار کرتے ہیں تو ہمیں
وہ اصول و ضوابط بتائے اور سکھائے جاتے ہیں پھر سختی سے ان پر عمل درآمد کرایا
جاتا ہے اور ہم ان پہ عمل کرتے ہیں کس لئے؟ کیونکہ ہمیں پتہ ہوتا ہے کہ اگر عمل نہ
کیا تو باز پرس ہو گی اور اس ادارہ کے اصول و ضوابط کے تحت سزا و جرمانہ ہو گا،عزت
پہ بھی حرف آئے گا۔تو اگر کوئی
چھوٹے سے چھوٹا ادارہ بھی ہو تو اس کے بھی
ضرور کچھ نہ کچھ اصول و ضوابط اور مقاصد ہوتے ہیں، ضرور کچھ نہ کچھ قاعدے اور قانون ہوتے ہیں تو کیا جس اللہ تبارک و
تعالیٰ نے اتنی بڑی کائنات بنائی ، ان گنت عالمین پیدا فرمائے اس کا کوئی قاعدہ و
قانون اور مقصدنہیں ہوگا۔اور ان قواعد
وضوابط کی خلاف ورزی پہ کوئی باز پرس نہیں ہو گی۔بلا شبہ اس کے بھی قواعد و ضوابط ہیں اور ان ہی قواعد و
ضوابط کو انسانوں تک پہنچانے کیلئے اللہ تبارک و تعالیٰ نےآدم علیہ الصلوۃ والسلام
کو خلافتِ ارضی سونپی اور پھر کم و بیش سوا لاکھ انبیاء دنیا میں مبعوث فرمائے اور
سب سے آخر میں حضرت محمد ﷺ کو مبعوث فرما کر ان قواعد و ضوابط کو حتمی شکل دی اور نبوت کو آپ ﷺ پہ تمام کر دیا
اور فرما دیا کہ اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ
لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ وَ اَتۡمَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ نِعۡمَتِیۡ وَ رَضِیۡتُ لَکُمُ
الۡاِسۡلَامَ دِیۡنًا ؕیہی معاملہ اس آیتِ کریمہ
میں بیان ہو رہا ہے کہ جب تمھیں اس بات کا علم ہے کہ وہ خالق بھی ہے اور رب
العالمین بھی اور نہ صرف یہ کہ اس نے ایک بار پیدا کیا بلکہ اس کے بعد موت بھی آئے
گی اور اس موت کے بعد دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور محشر برپا ہو گا ،اس کے حضور
پیش کیا جائے گا۔ باز پرس ہو گی سزا و جزا
ہو گی ۔ كَيْفَ
تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ۔ تو کیسے تم اس ہستی کا
انکار کر سکتے ہو ،تم کیسے اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات سے کفر کر سکتے ہو۔
اس سے اگلی آیت کریمہ میں
انسانیت پہ اپنے احسانات کو پھر یاد کرایا گیا
اور فرمایا:
هُوَ
الَّذِي خَلَقَ لَكُمْ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى
السَّمَاءِ فَسَوَّاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ۔
وہی
تو ہے جس نے زمین میں سب کچھ تمھارے لیے پیدا فرمایا پھر آسمانوں کی طرف توجہ
فرمائی تو سات آسمان درست بنا دیئے۔وہ سب چیزوں سے آگاہ ہے۔
رکوع
کے آغاز میں زمین کو بچھونا اور آسمان کو چھت بنانے کا ذکر فرمایا اور زمین سے
انواع و اقسام کے پھل اگانے کا ذکر فرمایا ، رکوع کی ان اختتامی آیات میں انہیں
نعمتوں کو پھر سے یاد دلایا جا رہا ہے اور
مزید یہ بھی بتلا دیا کہ یہ سب کچھ جو کچھ بھی اس زمین میں ہے یہ سب تمھارے واسطے
پیدا فرمایا۔ اور تم ان سب احسانات و انعامات کے باوجود اللہ تعالیٰ کے انکاری
ہو اور تم بے خوف و خطر پھر رہے ہو اور ڈھٹائی سے اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو
استعمال بھی کر رہے ہو اور اس کی ذات برحق سے انکاری بھی ہو ۔
تو یہ جان رکھو کہ وَهُوَ
بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ وہ سب چیزوں سے آگاہ ہے ،وہ سب چیزوں کا جاننے والا ہے۔
اللہ
تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم
رہنے کی توفیق و ہمت عطا فرمائے۔
آمین
یا رب العالمین
دعاؤں کا طالب
ابو محمد زبیر اویسی
.jpg)










0 Comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔