رَبِّ اشْرَحْ لِیْ
صَدْرِیْ ۙوَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙوَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَعَلَّمَ
آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلَائِكَةِ فَقَالَ
أَنْبِئُونِي بِأَسْمَاءِ هَؤُلَاءِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ)31( قَالُوا سُبْحَانَكَ
لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا إِنَّكَ أَنْتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ)32(
اور آدم علیہ السلام کو
تمام چیزوں کے نام سکھا دیئے پھر وہ (چیزیں ) فرشتوں کے سامنے کر دیں تو (فرشتوں
سے) فرمایا کہ اگر تم سچے ہو تو ان کے نام(مع خواص) بیان کرو۔
سابقہ آیات میں آدم علیہ السلام کو خلیفۃ الارض بنائے جانے کا بیان
ہوا تو فرشتوں نے کہا کہ یہ زمین میں فساد کرے گا اور خون بہائے گا اور ہم آپ کی
تسبیح کرتے ہیں حمد اور پاکی بیان کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوا کہ جو میں
جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔
اب اللہ تبارک و تعالیٰ
نے آدم ؑ کے علم کو فرشتوں پر دلیل کے طور پر پیش کیا آدم ؑ کو اللہ تبارک وتعالیٰ
نے تمام حاضر و غائب چیزوں کے نام مع خواص بتا دیئے اس میں ائمہ تفسیر کا اختلاف
ہے کہ آدم ؑ کو کیا سکھایا گیا اور کن چیزوں کے نام و خواص سکھائے گئے۔
امام المفسرین حضرت عبد
اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ، عکرمہ،قتادہ، مجاہد اور ابنِ جبیررحمتہ اللہ علیہ نے
فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آدم ؑ کو تمام بڑی چھوٹی چیزوں کے نام سکھا دیئے۔
میں سمجھتا ہوں اس بات پہ
بحث و تحقیق بے مقصد ہے کہ آدم ؑ کو کتنا
علم عطا کیا گیا اور کن چیزوں کا
علم عطا کیا گیا کیونکہ یہاں اس معاملے کے بیان کی غرض و غایت فرشتوں پر آدم ؑ کی
افضلیت و فوقیت ثابت کرنا تھی۔ فرشتوں کا گمان کہ ہم افضل مخلوق ہیں اور خلافت
ہمارے بجائے آدم ؑ کو دی جا رہی ہے تو ان پہ اس کی وجہ ظاہر کرنا مقصود تھا۔پھر جب
فرمایا گیا کہ أَسْمَاءَ
كُلَّهَا تمام چیزوں کے نام تو مزید بحث و گفتگو بے
مقصد ہے۔
یہاں
جو بات قابلِ غور ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی کو علم یا کچھ بھی عطا کرنا
چاہتا ہے تو یہ اس کے دستِ قدرت میں ہے وہ جب ،جہاں،جتنا چاہے کسی کو واسطہ یا بلا
واسطہ عطا کر دے۔ وہ کسی سبب وسیلے یا ذریعے کا محتاج نہیں۔ جیسے اس نے آدمؑ کو بغیر کسی واسطے اور ذریعے کے سب کچھ
سکھا دیا ۔ اسے اصطلاح میں علم لدنّی کہا جاتا ہے،یعنی جس نے کسی مدرسے یا استاد
سے تو نہ پڑھا ہو لیکن اللہ تعالیٰ اسے علوم کے خزانے عطا فرما دے۔ ایسے لوگوں کی
ایک لمبی فہرست ہے جن کے نام و احوال
تاریخ کی کتابوں میں ملتے ہیں جو خود تو پڑھے لکھے نہ تھے یا معمولی لکھنا
پڑھنا جانتے تھے لیکن بڑے بڑے علماء ان کی مجلس میں حاضر ہو کر ان سے علوم و معارف
سیکھتے تھے۔
حضرت
عبدالعزیز دباغ رحمتہ اللہ علیہ جو بارھویں صدی ہجری کے مشہور صوفیاء میں سے ہیں۔
امّی تھے،لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو علم لدنّی سے فیض یاب
فرمایا۔لوگ ان سے احادیث سنا اور پوچھا کرتے تھے کہ کیا یہ قولِ رسول ﷺ ہے تو آپ
من گھڑت کا بھی بتلا دیتے اور یہ بھی بتلا دیتے کہ اس حدیث میں یہ الفاظ زائدہ ہیں
اور یہ زبانِ محمد الرسول اللہ ﷺ سے جاری نہیں ہوئے۔ فرماتے تھے کہ الفاظ سے نکلنے
والے انوارات بتا رہے ہوتے ہیں کہ یہ
الفاظ آپ ﷺ کے ہیں یا کسی اور کے شامل کردہ۔ یہ اللہ کی شان ہے کہ جس کو جتنا چاہے
عطا کر دے۔
آدم
علیہ السلام کو تما م نام مع خواص سکھانے کے بعد ثُمَّ عَرَضَهُمْ
عَلَى الْمَلَائِكَةِ پھر وہ اشیاء فرشتوں کے سامنے کر دیں یعنی ان کو وہ تمام اشیاء جن کا علم آدم علیہ السلام کو
القاءکیا گیا دکھا دی گئیں اسکے بعد فَقَالَ
أَنْبِئُونِي بِأَسْمَاءِ هَؤُلَاءِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ تو فرمایا کہ اگر تم سچے ہو تو ان کے اسماء(مع خواص) بتلاؤ۔
یعنی
اگر تم سمجھتے ہو کہ تم آدم ؑ سے افضل ہو ،تم ان سے بہتر ہو جس کی وجہ سے تم آدم علیہ السلام کو خلیفۃ
الارض بنانے پہ شبہات کا اظہار کر رہے ہو
تو اگر تم اپنے ان شبہات میں کوئی سچائی رکھتے ہو ، اپنی ان باتوں کو صحیح سمجھتے
ہو، اپنے قول میں وزن رکھتے ہو تو ان اشیاء کے نام جن کا علم ہم آدم علیہ السلام
کو دے چکے تم بھی اگر جانتے ہو تو ان کے نام بتاؤ جبکہ یہ تمہارے سامنے ہیں تم ان
کو دیکھ سکتے ہو تو بتلاؤ ان کے نام و خواص۔
قَالُوا سُبْحَانَكَ لَا
عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا إِنَّكَ أَنْتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ
انہوں
نے کہا آپ پاک ہیں جتنا علم آپ نے ہمیں دیا ہے اس کے علاوہ ہمیں کچھ معلوم
نہیں۔بےشک آپ جاننے والے اور حکمت والے ہیں۔
اپنی
کم علمی اور کم مائیگی انہیں سمجھ میں آگئی تو انہوں نے اللہ تبارک و تعالیٰ کی
پاکی بیان کی اور اعتراف کیا کہ ہم نہیں جانتے۔ہم صرف اتنا ہی جانتے ہیں جتنا علم
آپ نے ہمیں دیا ہے۔ بےشک علیم و حکیم تو
اللہ تبارک و تعالیٰ ہی کی ذات ہے۔ آپ ہی علم والے اور تخلیقِ آدم کی
حکمتوں سے آگاہ ہیں۔
یہاں
پہ بڑا اہم اور خاص نکتہ یہ واضح ہوتا ہے کہ اگر آپ کو کسی چیز پہ اعتراض ہے اور اس اعتراض پہ آپ کے سامنے دلیل
پیش کیجائے۔ ایسی دلیل جو آپ کو لاجواب کر دے اور آپ کے پاس اعتراض کے باقی رہنے
کا کوئی جواز نہ رہے تو اپنی غلطی و نادانی کو مان لینا چاہیے بجائے اسکے کہ ہٹ
دھرمی دکھائی جائے اور خواہ مخواہ کی ضد اور انانیت کا مظاہرہ کیا جائے۔ جیسے یہاں
پہ جب فرشتوں کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا
تو انہوں نے مان لیا کہ ہم کم علم اور محدود علم رکھتے ہیں ،حقیقی علم و حکمت تو
اللہ تبارک وتعالیٰ کے پاس ہے۔اور حکم خداوندی پہ آدم علیہ السلام کے سامنے سر
بسجود ہو گئے۔ جس کا ذکر اسی رکوع میں آگے آئے گا جبکہ شیطان واضح دلیل دیکھنے کے
بعد بھی ہٹ دھرمی اور ضد و انانیت پہ قائم
رہا جس کی وجہ سے ہمیشہ کیلئے مردود ٹھہرا۔
ایک اور ضروری بات عرض کرتا چلا کہ اس آیت کی تفسیر
میں سر سید احمد خان کافی تفصیل سے فرشتوں
کے بارے میں اپنا عقیدہ لکھتے ہیں جس کا مختصراً حوالہ پیش کر رہا ہوں۔ موصوف اپنی
تفسیر القرآن میں رقم طراز ہیں کہ: عرب کے بت پرست فرشتوں کو ایک مجسم اور متحیر چیز سمجھتے تھے اور جانتے تھے کہ وہ
کھاتے پیتے نہیں اور نہ کچھ بشری ضرورت ان کو ہے وہ آسمانوں پہ رہتے ہیں اور زمین
پہ آتے جاتے ہیں، وہ یہ سمجھتے تھے کہ انسان بھی فرشتوں کو زمین پہ رہتے چلتے
پھرتے دیکھ سکتا ہے، اسی خیال سے وہ آنحضرتﷺ کی نسبت کہا کرتے تھے کہ اگر وہ
پیغمبر ہیں تو فرشتے ان کے ساتھ کیوں نہیں ہیں۔
مزید لکھتے ہیں کہ عام
مسلمانوں کا بھی یہی عقیدہ ہے جو عرب کے بت پرستوں کا تھا۔وہ فرشتوں کو ہوا کی
مانند لطیف اجسام سمجھتے ہیں اور مختلف شکلوں میں ان کے بن جانے کی قدرت جانتے
ہیں۔ایسی خلقت کی در حقیقت موجود ہونے کی بھی کوئی دلیل نہیں کیونکہ اس بات کا
ثبوت کہ ایسی خلقت ہے ،نہیں ہے۔قرآن مجید سے فرشتوں کا ایسا وجود جیسا کہ مسلمانوں
نے اعتقاد کر رکھا ہے ثابت نہیں ہوتا ، بلکہ بر خلاف اس کے پایا جاتا ہے۔ نعوذ
باللہ من ذالک
سر سید احمد خان کا حوالہ
پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ دورِ حاضر میں بھی کچھ نادان اپنی عقل و دانش پہ بھروسہ
کرکے قرآن و حدیث کے من پسند معانی و مفاہیم تراشتے ہیں جو نہ صرف جمہور ائمہ دین
کی رائے کے بر عکس ہوتے ہیں بلکہ قرآن و حدیث سے بھی ٹکراؤ کر رہے ہوتے ہیں۔ ایسے
لوگوں کی تفاسیر اور احادیث پہ کی گئی تحقیق اگر ظاہراً ہماری اپنی کم علمی کیوجہ سے ہمیں اچھی بھی لگ
رہی ہو تو بھی ایسے لوگوں سے بچنا چاہیئے۔
کیونکہ یہ اپنی خود پسندی اور شہرت کے جال
میں نہ صرف خود پھنس چکے ہوتے ہیں بلکہ اوروں کی بھی گمراہی کا سبب بن رہے ہوتے
ہیں۔ ایسی لوگوں کی واضح شناخت یہ ہوتی ہے کہ وہ خود کو بڑا عالم و فاضل ظاہر کرنے
کیلئے اور اپنی علمی دھاک بٹھانے کیلئے
ائمہ دین ،اولیاء کرام ،فقہاء کرام،مفسرین و محدثین پہ نہ صرف تنقید کر رہے ہوتے ہیں بلکہ ان کی شان
میں انتہائی گستاخانہ الفاظ بول رہے ہوتے ہیں۔
اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں
ایسے لوگوں سے محفوظ رکھے۔
اللہ
تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم
رہنے کی توفیق و ہمت عطا فرمائے۔
آمین
یا رب العالمین
دعاؤں کا طالب
ابو محمد زبیر اویسی
.jpg)
.jpg)
.jpg)
.jpg)
