رَبِّ اشْرَحْ لِیْ
صَدْرِیْ ۙوَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙوَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً
قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ
نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا
تَعْلَمُونَ۔
"اور
جب تیرے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں (اپنا ) نائب بنانے والا ہوں۔
فرشتوں نے کہا آپ اس(زمین) میں ایسے لوگوں کو (نائب )بنانا چاہتے ہیں جو اس میں
فساد کریں گے اور خونریزیاں کریں گے۔ اور ہم آپ کی تسبیح کرتے ہیں(اور)تعریف کرتے
اور پاکی بیان کرتے ہیں۔فرمایا جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔"
سابقہ
رکوع میں تمام انسانوں کو انکی، ان سے پہلے لوگوں کی اور زمین و آسمان کی تخلیق کا
بتلا کر عبادت کا حکم فرمایا۔ اسی تسلسل میں اب انسانیت کی تخلیق کی ابتدا یعنی
تخلیقِ آدم علیہ السلام اس رکوع کا موضوع
و مضمون ہے۔
اس
آیتِ کریمہ میں آدم علیہ الصلوۃ والسلام کی تخلیق سے پہلے جو فرشتوں سے اللہ تبارک
و تعالیٰ نے گفتگو فرمائی وہ بیان کی جا رہی ہے۔ پہلی بات جو اللہ تبارک و تعالیٰ
نے فرشتوں کے سامنے رکھی وہ انتہائی قابلِ غور ہے کہ میں زمین میں اپنا نائب بنانے
والا ہوں یہ نہیں فرمایا کہ جس طرح تم ایک
مخلوق ہو اسی طرح میں ایک اور مخلوق پیدا فرمانے لگا ہوں بلکہ فرمایا "میں
زمین میں نائب بنانے والا ہوں"یعنی وہ مخلوق صرف مخلوق نہیں ہو گی ،وہ صرف
کوئی نئی تخلیق نہیں ہو گی بلکہ اس کے پاس میری نیابت ہو گی ،وہ نیابت الٰہی رکھنے
والی ہو گااسے میں اپنا خلیفہ اور نائب بنا رہا ہوں۔ حالانکہ اس سے پہلے دو قسم کی
مخلوقیں آسمانوں پہ نوری مخلوق یعنی فرشتے اور زمین پہ ناری مخلوق یعنی جنات آباد
تھے لیکن ان کے پاس نیابت الٰہی نہیں تھی۔ تخلیق آدم علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ
جو خاص بات جڑی ہوئی تھی وہ یہ تھی کہ آدم علیہ السلام کو نیابتِ الٰہی دی جا رہی
تھی۔
نیابتِ
الٰہی کیا ہے؟
قاسمِ
فیوضات حضرت مولانا محمد اکرم اعوان رحمتہ اللہ علیہ اکرم التفاسیر میں فرماتے
ہیں: نائب صرف تصرف ہی نہیں کرتا بلکہ جس ہستی کا وہ نائب ہوتا ہے اس سے رابطہ بھی
رکھتا ہے ورنہ نیابت کیسی! اس مالک کے ساتھ اس کا بڑا گہرا ربط ہوتا ہے ، اس کی
پسند و ناپسند کو پہچانتا ہے ، اس کی رضا اور ناراضگی سے واقف ہوتا ہے، وہ کس بات
سے خوش ہو گا ،کس بات سے خفا ہو گا؟ پھر اس سے حکم حاصل کر کے نیچے مخلوق میں تصرف
کرتا ہے۔
براہِ
راست احکامِ الٰہی کو وصول کرنا ، اس کی رضا کو پہچاننا، اسکی ناراضگی کو جاننا،
یہ منصب جنہیں نصیب ہوا وہ اللہ کے نبی اور رسول ہوئے۔ باقی مخلوق کو اللہ تعالیٰ
کی پسند و ناپسند یا احکام، اوامر و نواہی کا علم انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی
وساطت سے ہوتا ہے۔خلیفۃالارض آدم علی
نبینا و علیہالصلوۃ و السلام اور ان کے بعد حقیقی خلفاء انبیاء و رسل علیہم السلام
ہیں۔ باقی ساری انسانیت اس بات کی مکلف ہے کہ ان سے اللہ کے احکام حاصل کر کے ان
کی بجا آوری کرے۔
احکاماتِ
الٰہی، خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کے ذریعے سے شریعتِ محمدیہؐ کی صورت میں مکمل ہو
چکے، اب قیامت تک جو بھی ،جہاں بھی روئے زمین کے جس بھی گوشے میں ہے ،پوری انسانیت
کیلئے احکامات ورہنمائی شریعتِ محمدیہؐ کی صورت میں موجود ہے۔
نیابتِ
الٰہی کا ایک دوسرا پہلو جو کہ تمام انسانیت کیلئے ہے کہ جب بھی کوئی بھی خلوصِ دل
سے، جستجو اور لگن سے اپنے ر ب کو پانے کی ، خالقِ حقیقی کو پہچاننے کی خواہش کرتا
ہے اس کیلئے کوشش و کاوش کرتا ہے تو اللہ
تبارک وتعالیٰ اس کے لئے سبب اور ذرائع مہیا فرما دیتے ہیں ۔ اور اس کو اپنی ذات
تک صالحین و صادقین کے ذریعے، اہل اللہ کے ذریعے رسائی فراہم کر دیتے ہیں۔ پھر
بندہ مومن کا خالقِ حقیقی سے ، اپنے رب سے معبودِ برحق سے، اللہ تبارک وتعالیٰ سے
وہ تعلق استوار ہو جاتا ہے۔ ایسی معیتِ باری تعالیٰ نصیب ہو جاتی ہے کہ جس کے
متعلق خود اللہ رب العزت قرآنِ کریم میں فرماتے ہیں:
وَهُوَ
مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنْتُمْ (تم جہاں کہیں بھی ہووہ (اللہ) تمہارے ساتھ ہے الحدید۔4
لیکن
اس کا حصول کیسے ممکن ہے ، معیتِ باری تعالیٰ کیسے حاصل ہو گی ، قربِ الٰہی کی
منازل کیسے طے ہوں گی ۔ اس کا طریقہ بھی ارشاد فرما دیا۔ فرمایا:
وَالَّذِينَ
جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ
الْمُحْسِنِينَ۔ سورۃ العنکبوت۔69
"اور
جو لوگ ہمارے لئے مشقت برداشت کرتے ہیں ہم انکو اپنے رستے ضرور دکھا دیں گے اور بے
شک اللہ خلوص والوں کے ساتھ ہے۔"
یعنی
جو کوشش کرے گا جو محنت کرے گا اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی طرف اس کی رہنمائی فرما
دیتے ہیں۔
اس
آیت کریمہ میں جب اللہ تبارک و تعالی نے فرشتوں سے فرمای کہ میں زمین میں اپنا
نائب بنانے والا ہوں ۔میں زمین میں ایک ایسی مخلوق پیدا کرنے والا ہوں جس کو میری
نیابت حاصل ہو گی ۔ اور مجھ سے احکام لے کر زمین پہ نافذ کرے گا تو فرشتوں نے اپنے
محدود علم اور سابقہ تجربے کی وجہ سے خدشہ و خیال ظاہر کیا کہ یہ زمین میں فساد برپا
کرے گا ،قتل و غارت گری کرے گا۔
اس
بات کی جمہور ائمہ تفسیر کے نزدیک دو وجوہات تھیں ایک وجہ تو انسان کے تخلیقی
اجزاء تھے،چونکہ اس میں تین قوتیں ہیں : قوتِ شہوانیہ،قوتِ غضبیہ اور قوتِ عقلیہ۔
قوتِ شہوانیہ اور قوتِ غضبیہ کی وجہ سے فرشتوں نے شاید یہ خیال ظاہر کیا کہ یہ
فساد کرے گا جبکہ دوسری وجہ زمین پر پہلے جو مخلوق آباد تھی وہ جنات تھے جو آئے
روز زمین پر فساد برپا کئے رکھتے تھے تو فرشتوں نے سابقہ حالات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے شاید یہ خیال ظاہر
کیا ہو کہ یہ بھی جنات کی طرح زمین میں فساد برپا کرے گا اور خونریزیاں کرے گا۔
لیکن حقیقت اس کے برعکس تھی جس کا فرشتوں کو علم نہیں تھا۔ چونکہ تخلیقی اعتبار جنات
آگ سے پیدا کردہ تھے تو ان میں شر زیادہ تھا اور فرشتے سراپا خیر تھے ان میں شر
تھا ہی نہیں۔
اب
جب بات انسان کی آئی جب باری تخلیقِ آدم علیہ الصلوہ والسلام کی آئی، جب اللہ نے
خلیفۃ الارض بنانے کا فیصلہ کیا، جب نیابتِ الٰہی عطا کرنے کا ارادہ فرمایا تو
اللہ رب العزت نے خاص الخاص تخلیق فرمائی ۔ اس کے مادی اجزاء میں آگ ،مٹی، ہوا اور
پانی کو رکھا جس سے نفسِ انسانی کی تخلیق ہوئی اور پھر اس میں جان نہیں ڈالی بلکہ
اس کو روح عطا فرمائی۔ جس کے بارے میں فرمایا:
قُلِ
الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي۔ فرما دیجئے کہ روح میرے رب کےامر
سےہے۔ سورۃ الاسراء۔85
تو
بنیادی فضیلت جس نے ابتدا سے ہی انسان کو ممتاز بنا دیا وہ اس کے کثیف و لطیف
دونوں اجزاء ہیں۔ مادی طور پہ اس میں تمام بنیادی اجزاء کو جمع فرمایا جبکہ روحانی
طور پر اس میں عام جانداروں کی طرح جان نہیں رکھی بلکہ اس کو روح جو خاص امر الٰہی میں سے ہے عطا فرما کر
امتیاز و افضلیت عطا فرمائی اور اس پہ مزید فضیلت یہ کہ اس کو نیابتِ الٰہی کا شرف
بخشا۔
فرشتوں
کا ایک خدشہ تو یہ تھا کہ یہ زمین میں فساد پیدا کرے گا اور خونریزیاں کرے گا اور
دوسرا معاملہ کہ اگر آپ اسے اپنی عبادت و تسبیح کے لئے پیدا فرما رہے ہیں
جبکہ وَنَحْنُ
نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ ہم تیری تسبیح کرتے ہیں تعریف کے ساتھ اور ہم
تیری پاکی بیان کرتے ہیں۔
تو اللہ تبارک و تعالیٰ
نے جواب میں فرمایا: قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا
لَا تَعْلَمُونَ۔ فرمایا
جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔
فرشتوں نے چونکہ اپنے
محدود علم اور تجربے ککا اظہار کرتے ہوئے پہلا خدشہ فسادو قتل کا ظاہر کیا جو اس سے پہلے زمین پر جنات کرتے تھے پھر دوسرا
خیال جو انہوں نے ظاہر کیا وہ تسبیح و حمد و تقدیس بیان کرنا تھا ۔ چونکہ ان کی
ذمہ داری یہ تھی جو کام وہ کرتے تھے انہوں نے انسان کو اس پہ قیاس کرتے ہوئے کہا
کہ ہم تیری تسبیح و حمد و تقدیس بیان کرتے ہیں کہ شاید باری تعالیٰ انسان کو اس
کام کیلئے تخلیق فرما رہے ہیں۔
اللہ تبارک و تعالی کا یہ
فرمان کہ جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے فرشتوں کی ان دونوں باتوں کی نفی کرتا
ہے۔پہلی بات کہ زمین میں فساد و خونریزیاں کرے گا لیکن جہاں جہاں اور جب بھی یہ
انسان شیطان کی پیروی میں گیا تو فساد اور خونریزیوں کا سبب بنا لیکن وہیں پہ اس
کے تدارک کیلئے امن و آتشی کیلئے،محبت و بھائی چارے کیلئے رحمان کے بندے بھی موجود
ہوئے۔ انبیاء علیہم الصلوۃ و السلام جیسی عظیم ہستیاں امن و سلامتی کا پیغام لے کر
آئیں، صالحین نے اعمالِ صالح کے ذریعے معاشرے کو خوبصورتی دی، شہداء نے جانوں کا
نذرانہ پیش کر کے فساد فی الارض کا خاتمہ کیا،صدیقین نے سچائی و محبت سے خوبصورت و
خوب سیرت انسانوں کا معاشرہ تشکیل دیا۔
فرشتوں کی دوسری بات کہ
ہم تیری تسبیح و پاکی بیان کرتے ہیں تو تخلیقِ آدم کا مقصد کیا ہے؟
عبادت و تسبیح و تقدیس دو
قسم کی ہوتی ہے ایک اضطراری اور دوسری اختیاری۔
اضطراری وہ ہے جس میں
پسند و ناپسند اور ذاتی خواہش اور مرضی کا دخل نہیں ہوتا ،یہ فرشتوں کی عبادت ہے۔
جبکہ انسان جب عبادت کرتا
ہے، تسبیح و تقدیس کرتا ہے، اعمالِ صالح اختیار کرتا ہے تو وہ اس کا اختیاری فعل
ہوتا ہے۔ اس میں اس کی پسند و ناپسند اور مرضی شامل ہوتی ہے۔ یہ بنیادی فرق ہے
فرشتوں اور انسانوں میں جس کے بارے فرمایا جا رہا ہے کہ جو میں جانتا ہوں وہ تم
نہیں جانتے۔ انہوں نے انسان کی عبادت کو خود پہ قیاس کیا جبکہ اللہ تبارک و تعالیٰ
نے انسان میں انفرادی خاصیت یہ رکھی کہ اس کو اختیار دے دیا ، وَهَدَيْنَاهُ
النَّجْدَيْنِ ۔خیر
و شر دونوں بتلا دیئے۔اب وہ چاہے تو خیر کا رستہ اختیار کرے چاہے تو شر کا ۔
اللہ
تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم
رہنے کی توفیق و ہمت عطا فرمائے۔
آمین
یا رب العالمین
دعاؤں کا طالب
ابو محمد زبیر اویسی
.jpg)
.jpg)
.jpg)


