تفسیر سورۃ البقرہ - آیت نمبر 30 - نیابتِ الٰہی سے کیا مراد ہے۔۔۔ آدم ؑ خلیفہ بنائے جانے پہ فرشتوں کے خدشات

0 Comments

 اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ ۙوَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙوَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ۔

"اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں (اپنا ) نائب بنانے والا ہوں۔ فرشتوں نے کہا آپ اس(زمین) میں ایسے لوگوں کو (نائب )بنانا چاہتے ہیں جو اس میں فساد کریں گے اور خونریزیاں کریں گے۔ اور ہم آپ کی تسبیح کرتے ہیں(اور)تعریف کرتے اور پاکی بیان کرتے ہیں۔فرمایا جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔"

سابقہ رکوع میں تمام انسانوں کو انکی، ان سے پہلے لوگوں کی اور زمین و آسمان کی تخلیق کا بتلا کر عبادت کا حکم فرمایا۔ اسی تسلسل میں اب انسانیت کی تخلیق کی ابتدا یعنی تخلیقِ آدم علیہ السلام  اس رکوع کا موضوع و مضمون ہے۔

اس آیتِ کریمہ میں آدم علیہ الصلوۃ والسلام کی تخلیق سے پہلے جو فرشتوں سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے گفتگو فرمائی وہ بیان کی جا رہی ہے۔ پہلی بات جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرشتوں کے سامنے رکھی وہ انتہائی قابلِ غور ہے کہ میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں یہ نہیں فرمایا  کہ جس طرح تم ایک مخلوق ہو اسی طرح میں ایک اور مخلوق پیدا فرمانے لگا ہوں بلکہ فرمایا "میں زمین میں نائب بنانے والا ہوں"یعنی وہ مخلوق صرف مخلوق نہیں ہو گی ،وہ صرف کوئی نئی تخلیق نہیں ہو گی بلکہ اس کے پاس میری نیابت ہو گی ،وہ نیابت الٰہی رکھنے والی ہو گااسے میں اپنا خلیفہ اور نائب بنا رہا ہوں۔ حالانکہ اس سے پہلے دو قسم کی مخلوقیں آسمانوں پہ نوری مخلوق یعنی فرشتے اور زمین پہ ناری مخلوق یعنی جنات آباد تھے لیکن ان کے پاس نیابت الٰہی نہیں تھی۔ تخلیق آدم علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ جو خاص بات جڑی ہوئی تھی وہ یہ تھی کہ آدم علیہ السلام کو نیابتِ الٰہی دی جا رہی تھی۔

نیابتِ الٰہی کیا ہے؟

قاسمِ فیوضات حضرت مولانا محمد اکرم اعوان رحمتہ اللہ علیہ اکرم التفاسیر میں فرماتے ہیں: نائب صرف تصرف ہی نہیں کرتا بلکہ جس ہستی کا وہ نائب ہوتا ہے اس سے رابطہ بھی رکھتا ہے ورنہ نیابت کیسی! اس مالک کے ساتھ اس کا بڑا گہرا ربط ہوتا ہے ، اس کی پسند و ناپسند کو پہچانتا ہے ، اس کی رضا اور ناراضگی سے واقف ہوتا ہے، وہ کس بات سے خوش ہو گا ،کس بات سے خفا ہو گا؟ پھر اس سے حکم حاصل کر کے نیچے مخلوق میں تصرف کرتا ہے۔

براہِ راست احکامِ الٰہی کو وصول کرنا ، اس کی رضا کو پہچاننا، اسکی ناراضگی کو جاننا، یہ منصب جنہیں نصیب ہوا وہ اللہ کے نبی اور رسول ہوئے۔ باقی مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی پسند و ناپسند یا احکام، اوامر و نواہی کا علم انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی وساطت سے ہوتا ہے۔خلیفۃالارض آدم  علی نبینا و علیہالصلوۃ و السلام اور ان کے بعد حقیقی خلفاء انبیاء و رسل علیہم السلام ہیں۔ باقی ساری انسانیت اس بات کی مکلف ہے کہ ان سے اللہ کے احکام حاصل کر کے ان کی بجا آوری کرے۔

احکاماتِ الٰہی، خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کے ذریعے سے شریعتِ محمدیہؐ کی صورت میں مکمل ہو چکے، اب قیامت تک جو بھی ،جہاں بھی روئے زمین کے جس بھی گوشے میں ہے ،پوری انسانیت کیلئے احکامات ورہنمائی شریعتِ محمدیہؐ کی صورت میں موجود ہے۔

نیابتِ الٰہی کا ایک دوسرا پہلو جو کہ تمام انسانیت کیلئے ہے کہ جب بھی کوئی بھی خلوصِ دل سے، جستجو اور لگن سے اپنے ر ب کو پانے کی ، خالقِ حقیقی کو پہچاننے کی خواہش کرتا ہے اس کیلئے کوشش  و کاوش کرتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کے لئے سبب اور ذرائع مہیا فرما دیتے ہیں ۔ اور اس کو اپنی ذات تک صالحین و صادقین کے ذریعے، اہل اللہ کے ذریعے رسائی فراہم کر دیتے ہیں۔ پھر بندہ مومن کا خالقِ حقیقی سے ، اپنے رب سے معبودِ برحق سے، اللہ تبارک وتعالیٰ سے وہ تعلق استوار ہو جاتا ہے۔ ایسی معیتِ باری تعالیٰ نصیب ہو جاتی ہے کہ جس کے متعلق خود اللہ رب العزت قرآنِ کریم میں فرماتے ہیں:

وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنْتُمْ  (تم جہاں کہیں بھی ہووہ (اللہ) تمہارے ساتھ ہے         الحدید۔4

لیکن اس کا حصول کیسے ممکن ہے ، معیتِ باری تعالیٰ کیسے حاصل ہو گی ، قربِ الٰہی کی منازل کیسے طے ہوں گی ۔ اس کا طریقہ بھی ارشاد فرما دیا۔ فرمایا:

وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ۔ سورۃ العنکبوت۔69

"اور جو لوگ ہمارے لئے مشقت برداشت کرتے ہیں ہم انکو اپنے رستے ضرور دکھا دیں گے اور بے شک اللہ خلوص والوں کے ساتھ ہے۔"

یعنی جو کوشش کرے گا جو محنت کرے گا اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی طرف اس کی رہنمائی فرما دیتے ہیں۔

اس آیت کریمہ میں جب اللہ تبارک و تعالی نے فرشتوں سے فرمای کہ میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں ۔میں زمین میں ایک ایسی مخلوق پیدا کرنے والا ہوں جس کو میری نیابت حاصل ہو گی ۔ اور مجھ سے احکام لے کر زمین پہ نافذ کرے گا تو فرشتوں نے اپنے محدود علم اور سابقہ تجربے  کی وجہ سے  خدشہ و خیال ظاہر کیا کہ یہ زمین میں فساد برپا کرے گا ،قتل و غارت گری کرے گا۔

اس بات کی جمہور ائمہ تفسیر کے نزدیک دو وجوہات تھیں ایک وجہ تو انسان کے تخلیقی اجزاء تھے،چونکہ اس میں تین قوتیں ہیں : قوتِ شہوانیہ،قوتِ غضبیہ اور قوتِ عقلیہ۔ قوتِ شہوانیہ اور قوتِ غضبیہ کی وجہ سے فرشتوں نے شاید یہ خیال ظاہر کیا کہ یہ فساد کرے گا جبکہ دوسری وجہ زمین پر پہلے جو مخلوق آباد تھی وہ جنات تھے جو آئے روز زمین پر فساد برپا کئے رکھتے تھے تو فرشتوں نے سابقہ  حالات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے شاید یہ خیال ظاہر کیا ہو کہ یہ بھی جنات کی طرح زمین میں فساد برپا کرے گا اور خونریزیاں کرے گا۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس تھی جس کا فرشتوں کو علم نہیں تھا۔ چونکہ تخلیقی اعتبار جنات آگ سے پیدا کردہ تھے تو ان میں شر زیادہ تھا اور فرشتے سراپا خیر تھے ان میں شر تھا ہی نہیں۔

اب جب بات انسان کی آئی جب باری تخلیقِ آدم علیہ الصلوہ والسلام کی آئی، جب اللہ نے خلیفۃ الارض بنانے کا فیصلہ کیا، جب نیابتِ الٰہی عطا کرنے کا ارادہ فرمایا تو اللہ رب العزت نے خاص الخاص تخلیق فرمائی ۔ اس کے مادی اجزاء میں آگ ،مٹی، ہوا اور پانی کو رکھا جس سے نفسِ انسانی کی تخلیق ہوئی اور پھر اس میں جان نہیں ڈالی بلکہ اس کو روح عطا فرمائی۔ جس کے بارے میں فرمایا:

قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي۔    فرما دیجئے کہ روح میرے رب  کےامر  سےہے۔         سورۃ الاسراء۔85

تو بنیادی فضیلت جس نے ابتدا سے ہی انسان کو ممتاز بنا دیا وہ اس کے کثیف و لطیف دونوں اجزاء ہیں۔ مادی طور پہ اس میں تمام بنیادی اجزاء کو جمع فرمایا جبکہ روحانی طور پر اس میں عام جانداروں کی طرح جان نہیں رکھی بلکہ اس کو  روح جو خاص امر الٰہی میں سے ہے عطا فرما کر امتیاز و افضلیت عطا فرمائی اور اس پہ مزید فضیلت یہ کہ اس کو نیابتِ الٰہی کا شرف بخشا۔

فرشتوں کا ایک خدشہ تو یہ تھا کہ یہ زمین میں فساد پیدا کرے گا اور خونریزیاں کرے گا اور دوسرا معاملہ کہ اگر آپ اسے اپنی عبادت و تسبیح کے لئے پیدا فرما رہے ہیں جبکہ  وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ  ہم تیری تسبیح کرتے ہیں تعریف کے ساتھ اور ہم تیری پاکی بیان کرتے ہیں۔

تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ۔ فرمایا جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔

فرشتوں نے چونکہ اپنے محدود علم اور تجربے ککا اظہار کرتے ہوئے پہلا خدشہ فسادو قتل کا ظاہر کیا  جو اس سے پہلے زمین پر جنات کرتے تھے پھر دوسرا خیال جو انہوں نے ظاہر کیا وہ تسبیح و حمد و تقدیس بیان کرنا تھا ۔ چونکہ ان کی ذمہ داری یہ تھی جو کام وہ کرتے تھے انہوں نے انسان کو اس پہ قیاس کرتے ہوئے کہا کہ ہم تیری تسبیح و حمد و تقدیس بیان کرتے ہیں کہ شاید باری تعالیٰ انسان کو اس کام کیلئے تخلیق فرما رہے ہیں۔

اللہ تبارک و تعالی کا یہ فرمان کہ جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے فرشتوں کی ان دونوں باتوں کی نفی کرتا ہے۔پہلی بات کہ زمین میں فساد و خونریزیاں کرے گا لیکن جہاں جہاں اور جب بھی یہ انسان شیطان کی پیروی میں گیا تو فساد اور خونریزیوں کا سبب بنا لیکن وہیں پہ اس کے تدارک کیلئے امن و آتشی کیلئے،محبت و بھائی چارے کیلئے رحمان کے بندے بھی موجود ہوئے۔ انبیاء علیہم الصلوۃ و السلام جیسی عظیم ہستیاں امن و سلامتی کا پیغام لے کر آئیں، صالحین نے اعمالِ صالح کے ذریعے معاشرے کو خوبصورتی دی، شہداء نے جانوں کا نذرانہ پیش کر کے فساد فی الارض کا خاتمہ کیا،صدیقین نے سچائی و محبت سے خوبصورت و خوب سیرت انسانوں کا معاشرہ تشکیل دیا۔

فرشتوں کی دوسری بات کہ ہم تیری تسبیح و پاکی بیان کرتے ہیں تو تخلیقِ آدم کا مقصد کیا ہے؟

عبادت و تسبیح و تقدیس دو قسم کی ہوتی ہے ایک اضطراری اور دوسری اختیاری۔

اضطراری وہ ہے جس میں پسند و ناپسند اور ذاتی خواہش اور مرضی کا دخل نہیں ہوتا ،یہ فرشتوں کی عبادت ہے۔

جبکہ انسان جب عبادت کرتا ہے، تسبیح و تقدیس کرتا ہے، اعمالِ صالح اختیار کرتا ہے تو وہ اس کا اختیاری فعل ہوتا ہے۔ اس میں اس کی پسند و ناپسند اور مرضی شامل ہوتی ہے۔ یہ بنیادی فرق ہے فرشتوں اور انسانوں میں جس کے بارے فرمایا جا رہا ہے کہ جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔ انہوں نے انسان کی عبادت کو خود پہ قیاس کیا جبکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسان میں انفرادی خاصیت یہ رکھی کہ اس کو اختیار دے دیا ، وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِ ۔خیر و شر دونوں بتلا دیئے۔اب وہ چاہے تو خیر کا رستہ اختیار کرے چاہے تو شر کا ۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی

تفسیر سورۃ البقرہ - آیت نمبر 28،29- مقصدِ تخلیقِ بنی آدم۔۔۔ انسان کی چار حالتیں۔۔۔خلاصہ رکوع نمبر 3

0 Comments

اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَ
دْرِیْ
ۙوَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙوَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:  كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ وَكُنْتُمْ أَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ۔

"تم اللہ کا انکار کیسے کر سکتے ہو اور تم بے جان تھے پھر اس نے تم کو حیات دی پھر تم کو موت دے گا پھر تمھیں زندہ کرے گا پھر تم اس کے پاس لوٹائے جاؤ گے۔"

سورۃ البقرہ کے اس تیسرے رکوع کی ابتداء میں بنی نوعِ انسان کو مخاطب کر کے اللہ تعالیٰ نے عبادت کا حکم دیا اور فرمایا کہ اپنے رب  کی عبادت کرو جس نے تمھیں اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا فرمایا۔ تخلیق اور ربوبیت یعنی پروردگاری و پالنہاری  دو ایسی صفات ہیں جن سے کوئی بھی ذی عقل انکار نہیں کر سکتا۔ اس لیے دلیل کے طور پہ فرمایا کہ اس ذات کی عبادت کرو جس نے نہ صرف تمھیں بلکہ تم سے پہلے تمھارے آباؤ اجداد  کو بھی پیدا فرمایا اور نہ صرف پیدا فرمایا بلکہ تمھارا پروردگار بھی ہے، تمھیں زندہ رہنے کےلئے زندگی گزارنے کیلئے تمام ضروریات و آسائشات بھی فراہم فرما رہا ہے۔ تمھارے لئے زمین کو بچھونا اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے پانی برسا کر اس  بنجر و چٹیل زمین کو تمہارے لئے زرخیز بنا کر تمھارے کھانے کیلئے کئی اقسام کے پھل پیدا فرمائے۔

سو کسی کو اس جیسا نہ سمجھو ،کسی کو اس کی برابری و ہمسری میں نہ لاؤ کیونکہ تم ان حقیقتوں کو اچھی طرح جانتے ہو ۔ یہ جو دلائل بیان فرمائے جا رہے ہیں یہ ایسی حقیقتیں ہیں جن سے انکار ممکن ہی نہیں۔ کوئی بھی ذی عقل و ذی شعور  انسان ان حقیقتوں کو نہیں جھٹلا سکتا۔

پھر آیت نمبر 23 میں ارشاد ہوا: وَإِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَّلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ۔ یعنی قرآن ِ کریم کو دلیل کے طور پہ پیش کیا  کہ اگر تمھیں اس کے کلام اللہ ہونے میں شک ہے تو تم بھی اس جیسی ایک سورت بنا لاؤ اور اس کیلئے جو ممکن ہے کر کے دیکھ لو یعنی اپنے تمام مددگاروں اور حمایتیوں  کو اکٹھا کر لو اگر تم اپنی  بات کہ جو تم کہتے ہو کہ یہ من گھڑت اور آپ ﷺ کی اپنی بنائی ہوئی باتیں ہیں یہ اللہ کی طرف سے نازل کردہ نہیں تو اگر تم اس بات میں سچے ہو تو تم بھی ایسی ایک سورت بنا لاؤ۔

پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے خود ہی ان کی بے کسی و بے چارگی کو بھی بیان فرما دیا اور فرمایا: فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا وَلَنْ تَفْعَلُوا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ أُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِينَ۔ نہ صرف یہ بتا دیا کہ تم ایسا نہیں کر سکتے بلکہ تم  ہر گز نہیں کر سکو گے اور جب نہیں کر سکتے تو اس کا نجام و نتیجہ بھی تمھیں معلوم ہونا چاہیے اور بتلا دیا کہ اس کا نتیجہ یہ ہے  کہ پھر ڈرو اس آگ سے جو اتنی سخت ہے کہ اس کا  ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے اور اس کو تم جیسے انکار کرنے والوں کیلئے تیار کیا گیا ہے۔

آیت نمبر 25 میں  ایمان والوں کا بیان ہے یعنی جو مانتے ہیں ،جو حق کو قبول کرتے ہیں ان کیلئے جنت اور اس کی نعمتیں ہیں۔ آیت نمبر 26 اور 27 میں فاسقین کا بیان ہوا جو تفصیل سے سابقہ دروس میں گزرا۔

ان تمام دلائل  اور تینوں گروہوں  یعنی کفار، مومنین اور فاسقین کے بیان کے بعد اب پھر بیان  اسی موضوع و مضمون کا ہے۔ابتدائی آیت میں بات صرف تخلیق کی فرمائی, ربوبیت کا تذکرہ ہوا، اب فرمایا جا رہا ہے:

 كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ (تم اللہ  تعالیٰ کا انکار کیسے کر سکتے ہو)

 حالانکہ :وَكُنْتُمْ أَمْوَاتًا (تم بے جان تھے،مردہ تھے)

فَأَحْيَاكُمْ (اس نے تمھیں زندگی بخشی)

ثُمَّ يُمِيتُكُمْ (پھر تمھیں موت دے گا )

ثُمَّ يُحْيِيكُمْ (پھر تمھیں زندہ کرے گا)

ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ (پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے)

رجوع ہوتا ہے اصل کی طرف لوٹنا، پلٹنا۔ یعنی انسان کی ابتداء جہاں سے ہوئی اس نے وہیں دوبارہ لوٹنا ہے۔

یہاں جو بہت ہی خوبصورت اسلوب بیان ہوا ہے وہ قابلِ غور ہے کہ جیسے کسی چیز کی حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہو یا کسی کام کا نقصان یقینی ہو تو ہم کہتے ہیں بھائی تم یہ کام کیسے کر سکتے ہو حالانکہ اسکا نقصان یقینی ہے بالکل اسی طرح فرمایا گیا  کہ تم اللہ تبارک وتعالیٰ کا انکار کیسے کر سکتے ہو حالانکہ اس میں تمہیں کوئی شک نہیں کہ تم ذرہ بے جان تھے اس نے تمہیں حیات بخشی وہ پھر تمھیں موت دے گا ،اس موت کے بعد پھر تمھیں دوبارہ اٹھائے گا اور روزِ محشر تم اس کے حضور پیش ہو گے وہ تم سے حساب و کتاب لے گا، وہ ہستی تمھارا مواخذہ فرمائے گی۔

ہر ادارے یا آرگنائزیشن کے اپنے اصول و ضوابط ہوتے ہیں ہم جب اس ادارے میں ملازمت اختیار کرتے ہیں تو ہمیں وہ اصول و ضوابط بتائے اور سکھائے جاتے ہیں پھر سختی سے ان پر عمل درآمد کرایا جاتا ہے اور ہم ان پہ عمل کرتے ہیں کس لئے؟ کیونکہ ہمیں پتہ ہوتا ہے کہ اگر عمل نہ کیا تو باز پرس ہو گی اور اس ادارہ کے اصول و ضوابط کے تحت سزا و جرمانہ ہو گا،عزت پہ بھی حرف آئے گا۔تو اگر کوئی چھوٹے سے چھوٹا  ادارہ بھی ہو تو اس کے بھی ضرور کچھ نہ کچھ اصول و ضوابط اور مقاصد  ہوتے ہیں، ضرور کچھ نہ کچھ قاعدے  اور قانون ہوتے ہیں تو کیا جس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اتنی بڑی کائنات بنائی ، ان گنت عالمین پیدا فرمائے اس کا کوئی قاعدہ و قانون  اور مقصدنہیں ہوگا۔اور ان قواعد وضوابط کی خلاف ورزی پہ کوئی باز پرس نہیں ہو گی۔بلا شبہ  اس کے بھی قواعد و ضوابط ہیں اور ان ہی قواعد و ضوابط کو انسانوں تک پہنچانے کیلئے اللہ تبارک و تعالیٰ نےآدم علیہ الصلوۃ والسلام کو خلافتِ ارضی سونپی اور پھر کم و بیش سوا لاکھ انبیاء دنیا میں مبعوث فرمائے اور سب سے آخر میں حضرت محمد ﷺ کو مبعوث فرما کر ان قواعد و ضوابط کو  حتمی شکل دی اور نبوت کو آپ ﷺ پہ تمام کر دیا اور فرما دیا کہ اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ وَ اَتۡمَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ نِعۡمَتِیۡ وَ رَضِیۡتُ لَکُمُ الۡاِسۡلَامَ دِیۡنًا ؕیہی معاملہ اس آیتِ کریمہ میں بیان ہو رہا ہے کہ جب تمھیں اس بات کا علم ہے کہ وہ خالق بھی ہے اور رب العالمین بھی اور نہ صرف یہ کہ اس نے ایک بار پیدا کیا بلکہ اس کے بعد موت بھی آئے گی اور اس موت کے بعد دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور محشر برپا ہو گا ،اس کے حضور پیش کیا جائے گا۔ باز پرس ہو گی  سزا و جزا ہو گی  ۔ كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ۔ تو کیسے تم اس ہستی کا انکار کر سکتے ہو ،تم کیسے اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات سے کفر کر سکتے ہو۔

اس سے اگلی آیت کریمہ میں انسانیت پہ اپنے احسانات کو پھر یاد کرایا گیا  اور فرمایا:

هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُمْ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ فَسَوَّاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ۔

وہی تو ہے جس نے زمین میں سب کچھ تمھارے لیے پیدا فرمایا پھر آسمانوں کی طرف توجہ فرمائی تو سات آسمان درست بنا دیئے۔وہ سب چیزوں سے آگاہ ہے۔

رکوع کے آغاز میں زمین کو بچھونا اور آسمان کو چھت بنانے کا ذکر فرمایا اور زمین سے انواع و اقسام کے پھل اگانے کا ذکر فرمایا ، رکوع کی ان اختتامی آیات میں انہیں نعمتوں کو پھر سے یاد دلایا جا رہا ہے  اور مزید یہ بھی بتلا دیا کہ یہ سب کچھ جو کچھ بھی اس زمین میں ہے یہ سب تمھارے واسطے پیدا فرمایا۔ اور تم ان سب احسانات و انعامات کے باوجود اللہ تعالیٰ کے انکاری ہو  اور تم بے خوف و خطر پھر رہے ہو  اور ڈھٹائی سے اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو استعمال بھی کر رہے ہو اور اس کی ذات برحق سے انکاری بھی ہو  ۔

 تو یہ جان رکھو کہ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ وہ سب چیزوں سے آگاہ ہے ،وہ سب چیزوں کا جاننے والا ہے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی

تفسیر سورۃ البقرہ - آیت نمبر 27- فاسقین کی نشانیاں۔۔۔اللہ سے کیا وعدہ پختگی کے بعد توڑنے کا مطلب

0 Comments


 اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ ۙوَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙوَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: الَّذِينَ يَنْقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَنْ يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ أُولَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ۔

"جو لوگ اللہ سے پکا وعدہ کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور اللہ نے جس کے جوڑنے کاحکم دیا ہے اس کو توڑتے ہیں اور زمین میں خرابی کرتے ہیں یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں"

سابقہ درس میں فاسقین کے بارے میں گفتگو ہو رہی تھی  یہ آیتِ کریمہ بھی اسی موضوع پہ ہے ۔

قرآنِ مجیداور اس میں بیان کردہ باتیں اور مثالیں لوگوں کی  ہدایت کیلئے ہیں لیکن بہت ساروں کے لئے گمراہی ہے ،اب کون ہیں جن کے لئے اس میں گمراہی ہے تو فرمایا  :وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفَاسِقِينَ کہ اس میں گمراہی نہیں سوائے فاسقین کے۔  یہاں سب سے پہلے تو اس بات کی نفی کی گئی کہ اس میں یعنی قرآنِ کریم میں ہر گز گمراہی نہیں  کوئی یہ تصور بھی نہ کرے  کہ اس میں گمراہی ہے۔ اگر کوئی اس سے گمراہ ہوتا ہے یا اسے پڑھنے کے بعد بھی گمراہی کی راہ پہ چلتا ہے تو اس کی وجہ قرآن ِ کریم نہیں بلکہ اس کا اپنا فسق ہے ۔ فاسقین یعنی  جو حد سے تجاوز کرنے والےہیں، جو اللہ تعالیٰ کے احکامات میں کمی بیشی کرتے ہیں ، جو اپنی پسند و ناپسند کے مطابق دینِ الٰہی کو، احکاماتِ باری تعالیٰ کو، شریعتِ مطہرہ کو ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔

احکامات باری تعالی کو ، سنت خیر الانام کو پسِ پشت ڈال کر رواجات اور بدعات وخرافات کی پیروی کرتے ہیں۔ رضائے باری تعالیٰ  کے حصول کے بجائے لوگوں کی پسند وناپسند اور ذاتی شہرت و ناموری کے حصول کے لیے دین کے نام پر طرح طرح کی بدعات و خرافات گھڑتے ہیں۔

فسق کا اعلیٰ درجہ کہ گناہ کو گناہ سمجھنا ہی چھوڑ دیا جائے اور عمل بد کو گناہ کے بجائے صحیح سمجھ کر کرنا  کفر میں  داخل کر دیتا ہے لیکن فسق کا ادنیٰ درجہ کہ گناہ کو یہ جانتے ہوئے کہ یہ گناہ ہے پھر بھی کرنا اتنا ہی خطرناک ہے۔ کیونکہ آہستہ آہستہ پھر وہ گناہ عادت بن جاتا ہے اور پھر جو ہچکچاہٹ یا حیا ہوتی ہے وہ بھی جاتی رہتی ہے اور بالآخر انسان گناہ کو گناہ سمجھنا ہی چھوڑ دیتا ہے جس سے وہ ایمان گنوا بیٹھتا ہے اور کفر میں داخل ہو جاتا ہے۔

اس آیتِ کریمہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فاسقین کی تین نشانیاں بیان فرمائیں پہلی نشانی کہ اللہ سے کیا پختہ عہد توڑتے ہیں۔ دوسری اللہ نے جس کے جوڑنے کا حکم دیا ہے اس کو توڑتے ہیں اور  تیسری فساد فی الارض کا سبب بنتے ہیں۔ اور پھر اس کاانجام اور نتیجہ بیان ہوا کہ یہ لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں،یہ لوگ گھاٹے میں ہیں ،یہ خسارے میں ہیں۔

پہلی نشانی جو بیان ہوئی  فرمایا گیا : الَّذِينَ يَنْقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مِيثَاقِهِ

جو لوگ اللہ سے کیا وعدہ توڑتے ہیں اسے پختہ کرنے کے بعد۔

اللہ تبارک و تعالیٰ سے کیا گیا عہد کیا ہے؟ مفسرینِ کرام نے اس عہد کے بارے میں مختلف آراء بیان فرمائی ہیں ۔ جمہور ائمہ تفسیر نے اس عہد کے بارے میں بیان فرمایا ہے کہ اس عہد سے مراد یومِ الست کو جب تمام ارواحِ انسانی کو جمع کر کے فرمایا گیا"  الست بربکم" کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں تو سب نے یک زبان ہو کر کہا "قالوا بلیٰ" بے شک تو ہی ہمارا پروردگار ہے۔

اللہ تعالیٰ کمی بیشی معاف فرمائے جہاں تک میں سمجھ سکا ہوں  کہ عالمِ ارواح میں کیے گئے اس عہد ہی کیوجہ سے  توحیدِ باری تعالیٰ کا عقیدہ اور احساس ایک حد تک کسی نہ کسی درجہ میں ہر انسان کے اندر پایا جاتا ہے۔ وہ ظاہری حیات میں قبول کرے  یا نہ کرے،اللہ  تبارک وتعالیٰ کو رب العالمین مانے یا نہ مانے اسکی روھ کو اس عہد کا علم ہے ، اسکی روح جانتی ہے کہ اس نے کہا تھا کہ " قالوا بلیٰ"

اسی وجہ سے چاہے کوئی کفر پہ ڈٹا رہے، اپنے لئے جتنے مرضی بت گھڑ لے اس کے اندر یہ احساس موجود ہے کہ اس کائنات کا مالک ، پروردگار ،خالق ذاتِ واحد ہی ہے۔

پھر اسی عہد کے بارے ارشاد ہوا  " مِنْ بَعْدِ مِيثَاقِهِ " اسے مضبوط  کرنے کے بعد

یعنی  جب انسان اس ظاہری حیات میں ، دنیا میں آتا ہے اور حق اس تک پہنچتا ہے ۔ چاہے تو ماں کی گود  میں ہی مل جائے یا پھر اگر کسی کفرستان میں کسی کفار گھرانے میں آنکھ کھولے تو بھی ایک نہ ایک دن ضرور بضرور حق اس تک پہنچتا ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کسی کو حق سے ہمیشہ کیلئے محروم رکھے۔

اب جب وہ ہوش سنبھالتا ہے، عقل و شعور اور سوجھ بوجھ کی عمر میں داخل ہوتا ہے  اور اپنی مرضی اور پسند سے حق کو قبول کرتا ہے ، اللہ تبارک وتعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کرتا ہے ، یہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمدﷺ اللہ کے بندے اور آخری رسول ہیں تو اس نے اس عہد کو جو یومِ الست کو اس سے لیا گیا تھا اس کو مضبوط اور پختہ کر دیا ۔ اب وہ ظاہراً مسلمان کہلانے لگ گیا۔ اب جب اس عہد کع اس نے پختہ کر دیا ، اللہ کی وحدانیت کا اقرار صدقِ دل سے کر لیا اور حضرت محمد ﷺ کو آخری نبی اور رسول مان لیا۔ اس کے بعد بھی اگر تو وہ احکاماتِ شریعت سے روگردانی کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اور اللہ کے رسول ﷺ کی نافرمانی اور گناہ کا مرتکب ہوتا ہے تو اس کے بارے میں یہاں فرمایا گیا کہ   الَّذِينَ يَنْقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مِيثَاقِهِ یعنی جو اللہ سے کیے گئے وعدے کو پختہ کرنے کے بعد توڑتے ہیں۔ یہ فاسقین کی پہلی علامت و نشانی بتائی گئی۔

پھر دوسری نشانی کا تذکرہ ہوا ۔ارشاد ہوتا ہے کہ   وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَنْ يُوصَلَ

اور اللہ تعالیٰ نے جس کے جوڑنے کا حکم دیا ہے اس کو توڑتے ہیں۔

صاحبِ تفسیر ِ قرطبی اس آیت ِ کریمہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کس چیز کو ملانے کا حکم دیا ہے ؟ بعض نے کہا :صلہ رحمی، بعض نے فرمایاکہ : قول کو عمل کے ساتھ ملانے کا حکم ہے یعنی انہوں نے قول و عمل کو جدا جدا کر دیا اس طرح کہ جو انہوں نے کہا اس پہ عمل نہیں کیا، بعض نے کہا کہ : تمام انبیاء کی تصدیق کو ملانے کا حکم دیا یعنی انہوں نے بعض کی تصدیق اور بعض کی تکذیب کر کے اس کو توڑا، بعض نے  فرمایا کہ: یہ اللہ کے دین اور زمین میں اس کی عبادت،شریعت کا قائم کرنا اور شرعی حدود کی حفاظت کرنے کی طرف اشارہ ہے۔

جمہور علماء کا قول یہ ہے کہ یہ ہر اس صورت کو شامل ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے ملانے کا حکم دیا ہے صلہ رحمی اس کا ایک جزو ہے۔

پھر تیسری نشانی بیان ہوئی فرمایا: وَيُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ۔ اور زمین میں خرابی کرتے ہیں۔

فساد کے بارے میں تفصیلی گفتگو سورۃ البقرہ آیت نمبر 11 اور 12 کی تفسیر میں گزری ہے۔

جب کوئی انسان اللہ تعالیٰ کے احکامات اور محمد رسول اللہﷺ کی تعلیمات کو چھوڑ کر، اپنی مرضی اور اپنی پسند پر چلتا ہے جو شریعت ِ مطہرہ کے خلاف ہوتی ہے تو وہ فساد کا سبب بنتا ہے۔ اور یہ فساد نہ صرف اس کی اپنی ذات کو بلکہ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہوتا ہے۔ اسی لئے فرمایا کہ وہ زمین میں فسادو خرابی پید اکرتے ہیں۔ یعنی نہ صرف اپنی ذات کو نقصان پہنچایا  بلکہ پوری دنیا کےلئے، کرہ ارض کیلئے خرابی کا سبب بنے۔ گناہ صرف ذات کو نقصان نہیں دیتا بلکہ پورے ماحول اور معاشرے پہ اپنا اثر چھوڑتا ہے۔

 اور ان کے ان طور طریقوں ، خلافِ شریعت زندگی ، احکاماتِ باری تعالیٰ سے روگردانی کا نتیجہ یہ ہوا کہ  "أُولَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ " یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں انہوں نے نہ صرف اپنی دنیاوی زندگی کو تباہ کیا بلکہ آخرت میں بھی عذاب کے حق دار ہوں گے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی

تفسیر سورۃ البقرہ - آیت نمبر 16- ہدایت کے بدلے گمراہی خریدنا۔۔۔ بدعات و خرافات اور ہمارا کردار؟

0 Comments


 اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہُ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْٗ وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْٗ وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْٗیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: أُولَئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَةَ بِالْهُدَى فَمَا رَبِحَتْ تِجَارَتُهُمْ وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ)16(

انہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی  تو نہ تو انکی تجارت نے انہیں نفع دیا اور نہ ہی وہ ہدایت پا سکے۔

اس آیتِ کریمہ میں جو سب سے پہلی غور طلب بات ہے وہ یہ  ہے کہ یہاں پہ منافقین کے اس عمل کو ان کے نفاق کو تجارت و خرید و فروخت  سے تشبیہ دیا گیا ہے۔ یہ نہیں کہا گیا کہ انہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی اختیار کی بلکہ فرمایا گیا أُولَئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَةَ بِالْهُدَى کہ انہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تجارت  یا خریدو فروخت کا معاملہ جب آپ  کر رہے ہوتے ہیں تو ایک چیز دے رہے ہوتے ہیں اور ایک لے رہے ہوتے ہیں یعنی مال کے بدلے مال یا مال کے بدلے نقد رقم، تو جب آپ خرید و فروخت کرتے ہیں ، تجارت کرتے ہیں تو دونوں چیزیں آپ کے پاس نہیں رہتیں  ، یہ نہیں ہوتا کہ آپ مال بھی لے لیں اور اس کے بدلے کچھ دینا بھی نہ پڑا۔

منافقین جنہیں آپ ﷺ کی صحبت بھی نصیب ہوئی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ساتھ بھی نصیب ہوا لیکن اس کے با وجود انہوں نے ہدایت کو چھوڑ کے ، دین حق کو چھوڑ کر، اطاعت ِ محمد الرسول اللہ ﷺ کو پسِ پشت ڈال کر نفاق کا رستہ اختیار کیا  تو ان کے پاس اب دونوں چیزیں تو نہیں رہ سکتیں ہدایت کو جب چھوڑ کر، ظاہراً خود کو مسلمان کہلوا کر  عملاً  اسلام دشمنی کرتے رہےتو ان کے اس عمل نے ان کے نفاق نے ، انکی اس تجارت نے انہیں کچھ فائدہ نہیں دیا  بلکہ وہ دگنے نقصان کا شکار ہوئے کہ ایک تو اس گمراہی کیوجہ سے ، اس کھاٹے کی تجارت کی وجہ سے دنیاوی ذلت و رسوائی  ان کا مقدر ہوئی اور دوسرا نقصان اخروی ہوا کہ ہدایت یافتہ نہ ہونے کیوجہ  سے وہ نارِ جہنم کے مستحق ہوں گے۔

منافقین کیسے لوگ ہیں ؟ اور نفاق کیا ہے؟

قاسمِ فیوضات حضرت مولانا محمد اکرم اعوان رحمتہ اللہ علیہ اکرم التفاسیر میں فرماتے ہیں : اللہ پناہ دے کہتے رہنا کہ میں مسلمان ہوں ، کلمہ پڑھتے رہنا ، نمازیں پڑھتے رہنا ، روزے رکھتے رہنا ،حج کرتے رہنا ،زکوٰۃ دیتے رہنا  لیکن کردار کی اصلاح نہ کرنا  اور دنیوی لالچ میں آکر کردار میں  برائیاں پیدا کر لینا ، چند ٹکوں کے عوض جھوت بول لینا ، چند سکے کمانے کے لئے دھوکہ دینا ۔ نتائج تو عملی زندگی پہ مرتب ہوں گے، زبانی قول پہ نہیں، کوئی کہتا ہے کہ میں نے زہر کھا لیا  تو صرف کہنے سے نہیں مرتا  لیکن اگر کوئی یہ اعلان نہ بھی کرے اور عملاً زہر کھا لے  تو مر جائے گا ۔ نتائج عمل پہ مرتب ہوتے ہیں ۔ ،منافقین ایسے بدبخت ہیں کہ انہوں  نے ہدایت کو چھوڑ کر گمراہی کو اپنایا۔

اللہ معاف فرمائے ہمارا معاملہ  بھی کچھ اس طرح کا ہے کہ ہمیں دین ِ اسلام کیلئے، نورِ ہدایت کیلئے کچھ بھی محنت و مشقت نہیں اٹھانا پڑی بلکہ الحمد اللہ ہم پیدا ہی مسلمان گھرانوں میں ہوئے، ابتدائی دینی تربیت ماں کی گود سے ہی شروع ہو گئی، پیدا ہوتے ہی ہمارے کانوں میں اذان دے دی گئی، تھوڑے سے بڑے ہوئے تو والدین اور اساتذہ نے بنیادی ارکانِ دین سکھا دیئے، اسلامی معاشرے میں پروان چڑھے، گھر کا ماحول ہو ، سکول کے استاتذہ ہوں یا علماء و مبلغین کے خطبات ہر جگہ دین پڑھایا اور سکھایا جاتا رہا ۔ اب اس سب کے باوجود اگر ہم صراطِ مستقیم کو چھوڑ کر ، راہِ ہدایت کو چھوڑ کر اسلامی تشخص و کردار اپنانے کے بجائے گمراہی کی طرف جاتے ہیں، کافرانہ طرزِ عمل اپناتے ہیں ، ایسی جدت پسندی جو اسلام سے متصادم ہے اسے روشن خیالی کا نام دے کر اسلامی تعلیمات سے روگردانی کرتے ہیں ۔ بے حیائی کو روشن خیالی، سود کو کاروبار، یہود و نصاریٰ جیسی شکل و صورت کو فیشن ، حلال و حرام کی تمیز چھوڑنا وقت کی ضرورت اور جہاد فی سبیل اللہ اور اسلام کے دشمنوں کے خلاف قتال کو دہشتگردی سمجھتے ہیں ، دین میں اپنی پسند و ناپسند سے  طرح طرح کی بدعات و خرافات شامل کرکے انہیں عبادات سمجھتے ہیں، زکوٰۃ و صدقات کے اسلامی طریقے کو چھوڑ کر ذاتی نمائش کیلئے دین کے کاموں میں خرچ کرکے اسے عبادت کا درجہ دیتے ہیں تو ہمارا معاملہ بھی کچھ زیادہ مختلف نہیں ان لوگوں سے۔

مولانا اشرف علی تھانوی رحمتہ اللہ علیہ اپنے ارشادات میں فرماتے ہیں  کہ دین میں جو نئی نئی رسومات ایجاد کی جاتی ہیں، یہ ایسی بدبختی ہیں جنہیں شریعت میں بدعت کہا گیا ہے۔ بدعت کیا ہے؟ دین  کے نام پہ کوئی نئی رسم ایجاد کریں اور اسے شریعت قرار دیں جسے اللہ نے عبادت قرار نہیں دیا ، جسے نبی کریمﷺ نے عبادت قرار نہیں دیا، جو کام خلفائے راشدیں کے دور سے ثابت نہیں ہوتا۔

مولانا تھانوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بدعت کی مصیبت یہ ہے کہ بندے کو توبہ نصیب نہیں ہوتی۔ وجہ کیا ہے؟کیوں کہ جو گناہ کو گناہ سمجھ  کر کرے اسے پتہ ہے کہ یہ کام غلط ہے ،شریعت ِ اسلامیہ کے مطابق گناہ کا کام ہے  تو ممکن ہے اسے کسی وقت احساسِ ندامت ہو جائے اور وہ توبہ کرلے۔ لیکن جو گناہ کو گناہ سمجھ ہی نہیں رہا بلکہ اس کے نزدیک وہ نیکی کا کام کر رہا ہوتا ہے  اب جسے وہ نیکی سمجھ رہا ہوتا ہے  تو نیکی سے توبہ کب کرے گا؟ جبکہ یہ اس کا ذاتی خیال ہوتا ہے اگر وہ اسے شریعتِ اسلامیہ پہ  پرکھے تو وہ نیکی کا کام ہے ہی نہیں۔

یہی بات اس آیتِ کریمہ  میں بیان فرمائی کہ ہدایت کے بدلے ، ہدایت کے میسر ہونے کے باوجود  انہوں نے گمراہی  اختیار کی  تو ان کا معاملہ یہ ہوا ، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ فَمَا رَبِحَتْ تِجَارَتُهُمْ وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ یعنی انکی یہ تجارت ، انکے اس معاملے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا اور دوسرا  نقصان کہ یہ کبھی ہدایت نہیں پائیں گے چونکہ یہ جو کچھ کر رہے ہیں  اسے یہ اچھا سمجھتے ہیں ، اسی یہ اپنی قابل و لیاقت اور اپنے فہم کے مطابق صحیح تصور کرتے ہیں  تو اب اچھے سے ، صحیح سے توبہ کون کرے گا ، مفروضہ نیکی سے توبہ کون کرے گا۔ یعنی یہ نہ صرف دنیا بلکہ آخرت میں بھی نقصان اٹھائیں گے۔

 اللہ تعالیٰ ہمیں بدعات و خرافات میں پڑنے سے بچائے اور خود ساختہ نمائشی کاموں سے بچائے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی

تفسیر سورۃ البقرہ - آیت نمبر 14,15 - ہمارا حال مومنین جیسا یا منافقین جیسا - اللہ کے مذاق کرنے سے کیا مراد ہے؟

0 Comments

 


اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہُ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْٗ وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْٗ وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْٗیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّا  وَإِذَا خَلَوْا إِلٰى شَيٰطِيْنِهِمْ  قَالُوْۤا إِنَّا مَعَكُمْ  إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُونَ

اور جب ایمان والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے اور جب اپنے شریر سرداروں سے علیحدگی میں ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تمھارے ساتھ ہیں۔ہم تو مذاق کیا کرتے تھے۔

اس آیتِ کریمہ میں منافقین کی ایک اور علامت بیان کی گئی کہ جب مومنین سے ملتے تھے تو کہتے تھے کہ ہم دینِ حق کو قبول کرتے ہیں ، شریعتِ مطہرہ کی حقانیت کو تسلیم کرتے ہیں، اسلام کی صداقت کو مانتے ہیں اور پھر جب اپنے ہم خیال، شریر اور گمراہ سرداروں کے پاس جاتے تھے تو کہتے تھے کہ ہم تو تمہارے ساتھ ہیں ہم تو جھوٹا دعویٰ ایمانی کرکے ان سے مذاق کرتے ہیں حقیقت میں تو ہم ایمان نہیں لائے۔

اس آیتِ کریمہ میں جو قابل غور پہلو بیان ہوا کہ ایمان والوں ، نیک لوگوں کے ساتھ  خود کو نیک اور پکا و سچا مومن  ظاہر کرنا جبکہ کافروں ، گنہگاروں ،فاسقوں کے ساتھ ویسا ہو جانا جیسا وہ لوگ ہیں تو یہ منافقین کی صفت ہے۔

دورِ حاضر پہ غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ علامت ہمارے ہاں کثرت سے پائی جاتی ہے ۔ہم جب علماءِ کرام کا وعظ و بیان سن رہے ہوتے ہیں،مبلغینِ اسلام کی صحبت میں بیٹھے ہوتے ہیں ، اولیاءِ کرام  و اہل اللہ  کے پاس ہوتے ہیں  تو ان کا وعظ و بیان ، انکی نصیحتیں ، انکی تبلیغ کو نہ  صرف بڑے غور سے سن رہے ہوتے ہیں بلکہ یہ ظاہر کر رہے ہوتے ہیں کہ ہم آپ کی باتوں کو دل و جان سے قبول کرتے ہیں۔ دینِ اسلام کی حقانیت اور شریعتِ مطہرہ کی تعلیمات پہ ہمیں ذرا برابر بھی کوئی شک وشبہ نہیں ۔ لیکن  پھر جب عام معاشرے میں بے عمل اور بد کردار لوگوں کی صحبت میں آتے ہیں تو ویسے کے ویسے ہو جاتے ہیں جیسے وہ لوگ ہیں ، ہمارا عمل تعلیماتِ اسلامیہ کے بر عکس ہوتا ہے ۔ زبان سے تو اقرار کرتے ہیں لیکن عمل اس کے خلاف کرتے ہیں۔بلکہ یہاں تک میں نے خود لوگوں سے سنا ہے کہ جب دوست احباب نے کسی اچھی اور نیک محفل کے بارے میں دریافت کیا تو کہتے ہیں کہ بس اتفاق سے پھنس گیا تھا ، ان لوگوں کا دل رکھنے کیلئے تھوڑی دیر ان کی باتیں سننی پڑیں۔ ورنہ آپ کو تو پتہ ہی ہے میرا کہ جتنا میں مومن ہوں یا نیک ہوں۔ اللہ ہمیں اپنی پناہ میں رکھے یہی بات منافقین کیا کرتے تھے کہ ہم تو مذاق کرتے ہیں  حقیقت میں تو ہم  تمہارے ساتھ ہیں ،ہم تم جیسے ہی ہیں ،ہم تو بس دل بہلانے کیلئے، دل رکھنے کیلئے  مومنین کی باتیں سن لیتے ہیں۔

اگلی آیتِ کریمہ میں ارشاد ہوتا ہے:

 اَللّٰهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَيَمُدُّهُمْ فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ

اللہ ان سے مذاق کرتے ہیں اور انہیں مہلت دیئے جاتے ہیں کہ وہ اپنی سرکشی میں سرگرداں ہو رہے ہیں۔

قاسمِ فیوضات حضرت مولانا محمد اکرم اعوان رحمتہ اللہ علیہ اکرم التفاسیر میں فرماتے ہیں کہ مذاق کرنا شانِ باری تعالیٰ سے بعید ہے۔ جب اس طرح کا کوئی لفظ اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف منسوب کیا جاتا ہے  یا اس طرح کی کوئی صفت اللہ کریم کی طرف منسوب  کی جاتی ہے  تو اس سے معنیٰ بعید مراد ہوتا ہے۔

معنیٰ بعید وہ ہوتا ہے جو نتیجہ  ہوتا ہے مثلاً آپ کسی سے مذاق کرتے ہیں کہ میں  آپ کو دس ہزار انعام دوں گا  اور آپ دیتے نہیں تو اس میں اس کی سبکی بھی ہے کہ وقتی طور پہ وہ خوش ہوا ، پچاس بندوں کو بتا دیا پھر اسے ملا کچھ بھی نہیں  نتیجہ میں محرومی حصے میں آئی تو  یہاں فرمای گیا  اَللّٰهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ اللہ ان سے مذاق کرتے ہیں  یعنی اللہ کریم ان سے ایسا سلوک کرتےہیں  کہ وہ محروم ہو جاتے ہیں ۔

وہ سمجھتے ہیں کہ ہم مذاق کر رہے ہیں  لیکن اصل میں مذاق ان کے ساتھ ہو رہا ہوتا ہے کہ وقتی طور پہ تو وہ اپنے اس اداکارانہ رویے سے خوش ہو رہے ہوتے  ہیں لیکن اس کا نتیجہ انہیں عذاب کی صورت میں ملے گا اور پھر صرف یہی نہیں بلکہ سزا کے طور پہ  فرمایا گیا کہ  وَيَمُدُّهُمْ فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ انہیں مہلت دیئے جاتے ہیں کہ وہ اپنی سرکشی میں سرگرداں ہو رہے ہیں۔   اللہ تبارک وتعالیٰ انہیں ڈھیل دیے جا رہا ہے انہیں موقع میسر کئے ہوئے ہے تاکہ وہ اپنے اس رویے میں ،اپنی اس سرکشی میں ہی ہمیشہ  پھنسے رہیں ، اس کو اپنا کمال سمجھتے رہیں  اور مزید بھٹکتے رہیں اور آگے سے آگے جاتے جائیں اور پھر آخرت میں اس عذاب کا سامنا کریں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے تیار کر رکھا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ایسی سرکشی سے محفوظ فرمائے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی

تفسیر سورۃ البقرہ - آیت نمبر 13 - صحابہ کرام کو معیارِایمان قرار دیا گیا اور ان سے بغض و عناد کا نتیجہ بھی بتا دیا

0 Comments


 

اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہُ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْٗ وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْٗ وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْٗیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَإِذَا قِيْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا كَمَآ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوْٓا أَنُؤْمِنُ كَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَهَآءُ ۔ أَلاۤ إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَآءُ وَلَٰكِنْ لَّا يَعْلَمُوْنَ

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم بھی ایسا ہی ایمان لاؤ جس طرح  اور لوگ ایمان لائے ہیں۔ تو کہتے ہیں کیا ہم ویسا ایمان لائیں  جیسا بے وقوف لوگ ایمان لائے ہیں؟ یاد رکھو ! یقیناً وہی بے وقوف ہیں مگر جانتے  نہیں۔

 اس آیتِ کریمہ  میں منافقین  کی ایک اور خصلت و عادت بیان فرمائی گئی کہ جب ان پہ دینِ اسلام پیش کیا جاتا ہے ،جب انہیں ایمان کی دعوت دی جاتی ہے کہ مومنین کی طرح تم بھی ایمان لے لاؤ تو کہتے ہیں ہم ویسا ایمان نہیں لائیں گے  جیسا یہ بے وقوف لوگ لائے ہیں۔ یہ منافقین  کا طرزِ عمل تھا۔

یہاں پہ جو اہم بات ارشاد  فرمائی جا رہی ہے وہ ہے   اٰمِنُوْا كَمَآ اٰمَنَ النَّاسُ ایمان لاؤ جیسا اور لوگ ایمان لائے۔

یہ اور لوگ کون ہیں ؟ کون ہیں جن کے ایمان کو مثال کے طور پہ ،نمونے کے طور پہ پیش فرمایا جا رہا ہے ، جو معیارِ ایمان ہیں دوسروں کے لئے۔ یہ ہستیاں تھیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ۔

قاسمِ فیوضات حضرت مولانا محمد اکرم اعوان ؒ اکرم التفاسیر میں فرماتے ہیں کہ یہ آیت بتا رہی ہے کہ قرآن کے معیاری مسلمان  صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں ۔ قرآن کی تفسیر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین  کا کردار ہے ، نبی کریم کے ارشادات  کا مفہوم  صحابہ کرام  رضوان اللہ علیہم اجمعین  کا کردار ہے ۔ اب اگر کوئی گرائمر کی رو سے ، منطق کا زور لگا کر  اور صرف و نحو  کا زور لگا کر  مختلف  معنی گھڑنا چاہے تو وہ نا قابلِ قبول  ہونگے۔ پوچھا یہ جائے گا  کہ جو مفہوم اس آیت کریمہ کا آپ بتا رہے ہیں  یا اس حدیث مبارکہ سے جو نتیجہ آپ اخذ کر رہے ہیں  کیا صحابہ کرام  رضوان اللہ علیہم اجمعین   نے بھی یہی سمجھا تھا ۔صرف اس ایک سوال  پہ سارے اختلافات ختم ہو جاتے ہیں ۔ صرف یہ ایک سند ہے  کہ اگر اس پہ سارے متفق ہو جائیں تو سارے اختلافات ختم ہو جاتے ہیں اور اگر کوئی اختلاف رہتا ہے تو وہ جو باعثِ برکت ہے یعنی اس بات کے دو ، چار، پانچ مثبت پہلو ہوتے ہیں ۔

پھر ارشاد ہوتا ہے : قَالُوْٓا أَنُؤْمِنُ كَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَهَآءُ  کہتے ہیں ہم ویسا ایمان لائیں جیسا بے وقوف لوگ ایمان لائے ہیں

  انکی  جاہلیت اور کم عقلی کی انتہا دیکھیں کہ ایک طرف تو ایمان نہیں لاتے جیسا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین   لائے اور اس پہ انتہا یہ کہ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین   کو ،اوّلین مومنین، جن کو قرآن سبقت لے جانے والے فرما رہا ہے ، ان  کو بے وقوف کہ رہے ہیں۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین    کا یمان کیا تھا فرمایا: وَقَالُوْاسَمِعْنَا وَأَطَعْنَا سنا اور مانا  کوئی حیل و حجت نہیں کی ۔ کوئی عذر، کوئی رشتہ، کوئی تکلیف، کوئی امتحان ان کے رستے کی رکاوٹ نہ بن سکا۔

کوئلوں پہ لٹایا جانا ہو یا  کوڑوں سے مارا جانا، شعبِ ابی طالب کی صعوبتیں ہوں یا اللہ کے دین کیلئے گھر بار چھوڑنا، یہاں تک کہ اللہ کے دین کی سر بلندی کیلئے اپنے سگوں کے مدِ مقابل آگئے، بدر و احد کا میدان سجا تو ایک طرف باپ دوسری طرف بیٹا، ایک طرف چچا تو دوسری طرف بھتیجا، اسلام کی خاطر، اللہ کے دین کی سربلندی کیلئے ، اطاعتِ محمد الرسول اللہ ﷺ میں کسی رشتے کی پرواہ نہیں کی۔ ایک صحابی کو ان کے باپ نے کہا کہ تم میری تلوار کی زد میں آئے  لیکن میں نے وار نہیں کیا  تو انہوں نے فرمایا کہ آپ اگر میری تلوار کی زد میں آتے تو میں نہیں چھوڑتا ۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین   کا  ایمان ، انکا عشقِ رسولﷺ، انکی اطاعت ناقابلِ بیان ہے ۔

فرمایا جا رہا ہے کہ ان جیسا ایمان لاؤ، ان کے نقشِ قدم پہ چلو، ان کی پیروی اختیار کرو، قرآن و حدیث کا وہ مطلب جو انہیں سمجھایا گیا ہے ، جو انہوں نے اختیار کیا ، جس پہ انہوں نے عمل کر کے دکھایا تم بھی ویسے اختیار کرو۔

آج کل کہا جاتا ہے کہ وہ تو صحابہ تھے ہم ایسا کرنے سے قاصر ہیں ، ہم میں اتنی صلاحیت نہیں۔شیخ المکرم حضرت  امیر عبد القدیر اعوان مد ظلہ العالی فرماتے ہیں کہ اس سے بڑا کفر کیا ہو گا ۔ اس سوچ کا اس جملے کا مطلب یہ ہوا کہ شریعتِ  مطہرہ جو قرآن و حدیث کی صورت میں عطا کی گئی ، جس کے مطابق نبی رحمت ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین    کی جماعت تیار کی اور انہوں نے عملاً اسے اختیار کیا  اور تین چوتھائی روئے زمین کے حصے پہ اسے نافذ کر کے دکھایا۔ وہ نعوذباللہ ناقابل عمل ہے  دورِ حاضر میں عملی طور پہ اسے اختیار نہیں کیا جا سکتا۔

مقامِ صحابہ اتنا بلند ہے  کہ اگر روئے زمین کی تمام عبادتیں ، تمام ریاضتیں  اکٹھی بھی کر لی جائیں  تو ادنیٰ ترین صحابی کی شان کا بھی مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ لیکن عملاً اختیار کرنا ویسے ہی  کرنا  ہو گا جیسے صحابہ نے کیا، معیارِ ایمان صحابہ ہی ہوں گے کیونکہ قرآن نے  ایمان کا معیار، اللہ تعالیٰ نے ایمان کا معیار صحابہ کو بنایا۔ کوئی کہاں تک پہنچتا ہے   یہ اس کا نصیب ۔ کوئی صحابہ جیسا ایمان تو نہیں پا سکتا لیکن معیار ایمان وہی رہیں گے۔

منافقین جب ان کے بارے کہ رہے ہیں  کہ یہ تو بے وقوف ہیں (نعوذ باللہ ) تو ارشاد فرمایا گیا:

أَلاۤ إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَآءُ وَلَٰكِنْ لَّا يَعْلَمُوْنَ خوب غور سے سن لو یقیناً یہی بے وقوف ہیں لیکن  یہ علم نہیں رکھتے

خود اللہ نے ان  منافقین کا فیصلہ بھی فرما دیا اور کیا ہی خوبصورت فیصلہ فرمایا کہ جو ان کے ساتھ جو معاملہ رکھے گا میں اللہ تعالیٰ بھی اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ رکھوں گا  جو بھی ان پہ زبان درازی کرے گا ، جو بھی انکو  تنقید کا نشانہ بنائے گا یا ان کی شان میں گستاخیاں کرے گا تو اللہ تعالیٰ بھی اس کے ساتھ ویسا معاملہ فرمائیں گے جیسے اس آیتِ کریمہ میں بیان ہوا کہ انہوں نے کہا کہ یہ بے وقوف ہیں تو اللہ فرما رہا ہے یقیناً یہی بے وقوف ہیں  اور پھر صرف بے وقوف نہیں جاہل بھی ہیں  ولکن الا یعلمون وہ اس کا علم بھی نہیں رکھتے کیونکہ اگر کسی کو اپنی بے وقوفی کی سمجھ آجائے، کسی کو یہ پتہ چل جائے کہ میں غلط ہوں تو وہ درستگی کی کوشش کرے گا، درست راستہ تلاش کرے گا  لیکن اگر کسی کو علم ہی نہیں کہ وہ غلط سمت پہ جا رہا ہے تو  ممکن ہی نہیں کہ وہ درست راہ پہ آئے۔ تو فرمایا کہ یہ علم نہیں رکھتے۔

پھر ایک اور اہم نکتہ یہ سمجھ آتا ہت اس آیتِ کریمہ سے کہ سابقہ آیت میں فرمایا الکن لا تشعرون کہ وہ شعور نہیں رکھتے جبکہ یہاں فرمایا جا رہا ہے ولکن لا یعلمون وہ علم نہیں رکھتے ۔ شعور علم کے بعد کا درجہ ہے فہم و ادراک علم ہونے کے بعد آتا ہے  جبکہ علم ادنیٰ درجہ ہے اور جس کو علم ہی نہیں وہ سمجھ و عقل اور فہم و ادراک تک تو جا ہی نہیں سکتا تو جب معاملہ اصحابِ محمد الرسول اللہ ﷺ کا آیا، جب  بات اللہ کے پیاروں اور نبی ﷺ کے وفاداروں  پہ آئی، جب انگلی  دین میں اسلام میں سبقت لے جانے والوں پہ اٹھی  تو  جاہلیت کا  شعور سے بھی ادنیٰ درجہ  یعنی لا علمی ارشاد فرمایا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں دین اسلام کی حقیقی سمجھ عطا فرمائے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی