ایک غلط فہمی اور اس کا ازالہ - کیا تصوف اسلامی ہندو یوگیوں، عیسائیوں یا یہودیوں کی ایجاد ہے؟ کنوزِ دل شرح رموزِ دل تصنیفِ لطیف حضرت مولانا محمد اکرم اعوانؒ - سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ

0 Comments

 

پیشتر اس کے کہ قلب یا ذکرِ قلبی کا ذکر کیا جائے ایک غلط فہمی کا ازالہ ضروری ہے اور وہ یہ کہ تصوف ہندو یوگیوں سے حاصل کیا گیا ہے ہو یہود و نصاریٰ کی ایجاد رہبانیت سے لیا گیا ہے اور یوں ایک ملغوبہ وجود میں آیا جس نے عقائد کو تو نقصان پہنچایا ہی ، ساتھ میں لوگوں کو عمل سے بھی بیگانہ کر دیا۔ یہ بات میں نے اچھے اچھے دانشوروں کی تحریروں میں  بھی پائی بلکہ زوالِ امت کے اسباب میں تصوف کو بھی شامل کیا گیا۔ دراصل یہ تصوف کو نہ جاننے کی وجہ سے ہوا کہ ہمارے دانشور حضرات نے بغیر  پڑھے اور بغیر سمجھے یہ فیصلہ دے دیا ۔

            اسلام میں تصوف کیا ہے؟ یہ سمجھنا ضروری ہے۔ تصوف میرے نزدیک لفظ تزکیہ کا ترجمہ ہے جس سے مراد دل کی صفائی ہے اور صفائے دل کا پہلا نتیجہ یہ ہے کہ عقائد نتھر کر صاف ہو جاتے ہیں ۔ عظمتِ باری کا یقین ، رسالت پر ایمان اور ضروریاتِ دین کے ساتھ پختہ تر ایمان نصیب ہوتا ہے۔ جیسا کہ ترتیبِ قرآن کریم سے ظاہر ہے:

يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ            کہ دعوت کے بعد پہلا کام ، جو قبول کرے اس کا تزکیہ ہے اور اس کے بعد تعلیمِ کتاب و حکمت ہے۔ تو واضح ہے کہ بغیر تزکیہ کے بندہ کتاب و حکمت سے استفادہ کی اہلیت ہی نہیں پاتا اور اس درجہ یقین نصیب نہیں ہو سکتا  جو اتباع  اور اطاعت پر مجبور  کر دے اور نافرمانی سے روکنے کی  طاقت  رکھتا  ہو ،  جو مطلوب ہے۔ بھلا ہندوؤں کی تعلیمات سے یہ نعمت نصیب ہونا  کیسے ممکن ہے ؟  ہاں ہندوؤں کے ہاں بھی  بڑی  شدید  چلہ کشیاں  پائی  جاتی ہیں  مگر یاد رہے کہ اگر بھوکے رہ کر اور نیند نہ لے کر ارتکازِ توجہ کا ایک درجہ حاصل بھی کر لیا جائے تو اس سے ایمان نصیب نہیں ہوتا ، نہ کشفِ الٰہیات نصیب ہوتا ہے کہ برزخ منکشف ہو ،  بالائے آسمان کا مشاہدہ ہو ۔  یہ ناممکن ہے۔  ہاں جو چیزیں  مادی آلات سے  دیکھی جا  سکتی  ہیں اس کا نظر آنا ممکن ہے جیسے ٹی وی وغیرہ سے دور کے واقعات دیکھے جا سکتے ہیں  بلکہ یہ بھی کتب میں ملتا ہے کہ افریقہ میں جنگلیوں کا  ایک ایسا قبیلہ پایا گیا  جو دور سے آپس میں بات بھی کر لیتے تھے ۔ اگر کوئی  گھر سے باہر جاتا تو وقتِ مقررہ پر وہ متوجہ ہوتا ، دوسرا گھر میں متوجہ ہوتا تو بات کر لیتے تھے۔ اس پر روس کی حکومت نے کوشش شروع کی تھی کہ ایسا طریقہ فوجی مقاصد کیلئے اختیار کیا جائے ۔ پھر ان سے ہو سکا یا نہیں ، اللہ کریم جاننے والے ہیں ۔ اسی طرح ایک ہندو یوگی حضرت استاذالمکرم(قلزم فیوضات حجرت مولانا اللہ یار خان رحمتہ اللہ علیہ) کی خدمت میں حاضر ہوا تھا جس نے بتایا کہ اس نے بہت محنت کی ہے جس کے نتیجے میں اسے یہ کمال حاصل ہے کہ جب وہ متوجہ ہوتا ہے تو ایک شکل ظاہر ہو جاتی ہے  جسے وہ جہاں کہے پہنچا دیتی ہے۔ تو حضرت رحمتہ اللہ علیہ نے پوچھا کہ تمہیں اس شکل سے اُنس محسوس ہوتا ہے یا ڈر لگتا ہے ؟تو اس نے کہا ڈر لگتا ہے مگر وہ میری بات مانتی ہے ۔ حضرت رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا وہ شیطان ہے کہ شیطان ، انسان کا دشمن ہے خواہ کافر ہی کیوں نہ ہو اور دشمن سے ڈر ہی لگے گا۔

            تو اس سب کا اسلامی تصوف سے کوئی واسطہ نہیں  کہ تصوف اسلامی میں اس طرح کی چلہ کشی کا کوئی تصور نہیں بلکہ  یہ زندگی بھر کا مجاہدہ ہے کہ ہر کام شریعت کے مطابق کیا جائے اور یہ ایسا چلہ ہے جو نہ تو آسان ہے ، نہ ہی اس کا کوئی بدل ہو سکتا ہے۔

            عہدِ رسالت مآب ﷺ میں ایمان کے بعد جس کو ایک نگاہ نصیب ہوئی اس کا تزکیہ ہو گیا ۔ جس نے آپﷺ کو دیکھا یا آپ ﷺ کی نگاہ ِ پاک جس پہ پڑ گئی وہ درجہ صحابیت پہ فائز ہوا جو بعد نبوت اعلیٰ ترین مقام ہے مگر یہ یاد رہے کہ ذکرِ اسم ِ ذات کا حکم ان سب کیلئے بھی تھا اور آج بھی ہر مسلمان مردو خاتون کیلئے ہے۔

            دوسری بات کہ خلافِ اسلام چلہ کشہ خواہ ہندو فلسفہ سے ہو یا یونانی، انسان کو  دنیوی اعتبار سے ناکارہ بنا دیتی ہے اور اس کی استعدادِ کار ختم ہو جاتی ہے ، مگر تزکیہ جہاں ایمان ِ کامل عطا کرتا ہے وہاں استعدارِ کار بہت بڑھ جاتی ہے اور ایک آدمی زندگی میں کئی آدمیوں جتنا کام کر جاتا ہے ۔ آپ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے لے کر چودہ صدیوں کے حقیقی صوفیاء اور علماء ربانیین کو دیکھئے تو یہ بات واضح ہو جائے گی۔ ا س پر کسی دوسری دلیل کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ بلکہ ایک عام مسلمان کلمہ گو  دنیوی امور میں بھی کافر کی نسبت زیادہ استعدادِ کار رکھتا ہے چہ جائیکہ صوفی۔ یہ حضرات نکمّے نہیں،  نِچَلّے ہوتے ہیں اور زندگی بھر کام کرتے چلے جاتے ہیں کہ کام کرنا اور شریعت کے مطابق کرنا ہی ان کی زندگی کا مقصد بن جاتا ہے اور دوسری عجیب بات یہ بھی  ان حضرات میں پائی جاتی ہے  کہ ایک وقت میں زندگی کے مختلف شعبوں میں کام کرتے ہیں اور ہر شعبے میں کامیاب رہتے ہیں جو سوائے صوفیاء کے کہیں نہیں ملتا۔ بڑے بڑے لوگ ایک اور صرف ایک شعبے میں نام کماتے ہیں جبکہ صوفیاء زندگی کے ہر شعبے میں دوسروں کی راہنمائی  فرماتے ہیں ۔ پھر یہ حکم لگانا کہ یہ لوگ کام نہیں کرتے  کس قدر ناانصافی کی بات ہے ۔ لوگ دماغ سے کام کرتے ہیں جو دوسرے آلات سمع و بصر وغیرہ کا محتاج اور حالات و واقعات سے متاثر ہوتا ہے مگر صوفیاء دِل سے کام کرتے ہیں  جو صرف جذبات پر فیصلہ کرتا ہے جو اس کے اندر پیدا ہوتے ہیں ۔ دِل خارجی اثرات سے بالاتر ہوتا ہے اور جب اس کے اندر اللہ کا ذکر مقیم ہوتا ہے تو اس کا ہر فیصلہ اطاعتِ الٰہی کے مطابق ہوتا ہے۔ نیز حسبِ استطاعت کبھی بیکار نہیں رہتا  بلکہ دماغ، دِل کے تابع اور اعضاء و جوارح دماغ کے تابع ہو کر، اس کی ساری قوت بہترین کام پہ لگی رہتی ہے۔

            ہاں جن لوگوں کو شیخِ کامل نہ ملا اور انھوں نے آخرت کی بجائے دنیا کے  کمالات یا شہرت و دولت پانے کے لیے وطیفے پڑھے اور چلے کاٹے ان کی بات دوسری ہے ۔ ایسے لوگوں پہ یہ حکم  لگایا جا سکتا ہے کہ یہ ہندو ازم یا کسی اور سے متاثر ہوئے اور انھیں صوفی کہنا یا سمجھنا بھی ہرگز  درست نہیں۔

            جہاں تک صوفیاء اور اہل اللہ کا تعلق ہے تو ساری محنت رضائے باری کے لیے کرتے ہیں کہ ذکرِ الٰہی سے توفیق عمل بھی نصیب ہوتی ہے اور گناہ سے بچنے کی توفیق بھی ۔ رضائے باری کے حصول کا واحد ذریعہ اتباعِ رسالت اور اجتناب عن المعاصی یعنی گناہ سے پرہیز ہے۔ صوفیاء کو بھی کشف و مشاہدہ ہوتا ہے۔ اس میں مندرجہ ذیل باتوں پہ نگاہ رکھنا ضروری ہے۔

اوّل۔    کشف و مشاہدہ مقصد نہیں ہوتا۔ ہاں کشف و مشاہدہ ہو جائے تو اللہ کریم کی عطا ہے۔

دوم۔     کشف قدرتِ باری پہ ایمان کو اور مستحکم کرتا ہے اور احکام کی بنیاد سمجھ آتی ہے نیز وضاحت بھی نصیب ہوتی ہے۔

سوم۔    یہ امورِ دنیا یا لوگوں سے اپنا آپ منوانے کیلئے نہیں ہوتا بلکہ اپنے عجز کا احساس شدید تر ہو جاتا ہے۔

چہارم۔  اگر کشف شریعت کے مطابق ہو تو درست، اگر خلاف ہو تو پھر صاحبِ کشف کو غلطی لگی  ہے ۔ وہ قابلِ عمل نہیں ہو گا۔

پنجم۔     اگر کشف میں کوئی بات ظاہر ہو یا کوئی کام کرنے کا اشارہ ملا تو صرف وہ خو د، جو صاحبِ کشف ہے۔ اس پر عمل کرے دوسرا کوئی فرد اس کے کشف کا مکلّف نہیں اور نہ اس پر عمل کرنے کا پابند ہے لہٰذا امورِ دنیا میں تو اس کی ضرورت نہ رہی۔

مقصدِ تصنیف رموزِ دل شرح کنوزِ دل - تصنیفِ لطیف حضرت مولانا محمد اکرم اعوانؒ - سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ

0 Comments

 


اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنْ، وَالصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی  حَبِیْبِہٖ مُحَمَّدٍ وَّآلِہٖ وَصَحْبِہٖ اَجْمَعِیْنَ اَمَّا بَعْدُ! فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ،بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

بندہ نے چند سطور رموزِ دل کے نام سے طالبین کی راہنمائی کیلئے سپردِ قلم کیں۔ مقصد یہ تھا کہ سلوک و تصوف ایک بحرِ نا پیدا کنار ہے اور اس میں ایک لفظ اور ایک بات کی کئی تعبیرات ہو سکتی ہیں لہٰذا شیخ کے ارشادات یا توجہ اور مراقبات کی  تعبیرات میں یکسوئی رہے اور ہر کوئی اپنی الگ تعبیر نہ سمجھے۔ اگرچہ اس میں کوئی خاص اختلاف نہیں ہوتا ۔ اصولی بات تو ایک ہی ہوتی ہے۔ فروعی طور پر اپنی سمجھ ، علم اور استعداد کے مطابق کچھ فرق آ سکتا ہے ۔ یہ فرق بھی خطرے سے خالی نہیں کہ شیطان کچھ بھی القا ء کر کے اس میں فساد پیدا کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ تو اگر تعبیرات بھی  سمجھ میں  آجائیں تو اللہ کریم اس خطرے سے بچنے کا سبب بنا دیتا ہے۔ چنانچہ مختصراً ایک کتابچہ تحریر کر دیا گیا ہے۔ مگر حالات کی ستم ظریفی دیکھئے کہ ذکر اذکار یا سلوک و تصوف کا سرے سے انکار اور اسے ثابت کرنے پہ زورِ قلم صرف کرنا اب علم کی شان سمجھا جا رہا ہے۔ حالانکہ اب سے صرف نصف صدی پہلے تک بر صغیر کے علماء کے حالات پڑھیں تو ملتا ہے کہ فلاں مدرسے سے تحصیلِ علم کے بعد اتنا عرصہ فلاں بزرگ کی خدمت میں رہے اور خرقہ خلافت حاصل کیا۔ اس کے بعد حضرات میدانِ عمل میں قدم رکھتے تھے ۔ مگر آج سارا زورِ قلم ذکر اذکار کے انکار پر صرف کیا جارہا ہے اور اسس کی خاطر  بڑے خوبصورت جال بنے جاتے ہیں ۔ جیسے بندہ نے کل ایک مضمون دیکھا جس میں فاضل مصنف نے سارا زورِ قلم یہ ثابت کرنے پہ صرف فرمایا کہ قرآن کریم میں جہاں بھی ذکر کا لفظ آیا ہے اس سے قرآن ِ کریم ہی مراد ہے۔اس کے علاوہ کوئی ذکر نہیں۔ بہت اچھی بات ہے ۔ قرآن کریم ذکر ہے ، مگر یہ کہنا بے دلیل ہو گا کہ صرف قرآن ہی  ذکر ہے۔ کیا حدیث شریف ذکر نہیں ہے؟ کیا تسبیحات یا درود شریف ذکر نہیں ہے؟ کیا تبلیغ ذکر نہیں ہے؟ کیا عبادات، نماز ،روزہ ، حج،زکوٰۃ ذکر نہیں ہیں؟

قرآن ِ کریم میں جہاں جہاں ذکر کا حکم ہوا ہے کیا ہر جگہ تلاوتِ قرآن کریم مراد لی جا سکتی ہے؟ جیسے لڑائی میں حکم  ہے:

فَاثْبُتُوا وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ۔  الانفال:٤٥

کہ ثابت قدم رہو اور اللہ کا ذکر کثرت سے کرتے رہو ۔

تو کیا ممکن ہے کہ حالتِ جنگ میں لڑائی بھی جاری رکھیں اور تلاوت بھی؟

الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ ۔          آل عمران: ١٩١

تو کیا کھڑے، بیٹھے،لیٹے ہوئے تلاوت ممکن ہے؟ یا

فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللَّهِ وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ۔               سورۃالجمعہ:١٠

سورۃ  جمعہ میں ہے کہ نماز کے بعد اپنے کام پہ جاؤ، مزدوری کرو، رزقِ حلال کماؤ اور اللہ کا ذکر کثرت سے جاری رکھو۔ ذکر کو اگر قرآنِ کریم مانا جائے تو کیا یہ عمل ممکن ہے؟

ہاں یہ درست ہے کہ قرآنِ کریم ذکر ہے، افضل ترین ذکر ہے مگر یہاں 'قرآن بھی ذکر ہے' تو درست ہے، یہ درست نہیں کہ 'قرآن ہی ذکر ہے'۔

ذکر میں اور بھی بہت سے چیزیں ، حتیٰ کہ عقائد سے ایمان اور اعمال تک شامل ہیں۔

تفسیر سورۃ البقرہ - آیت نمبر 33- کیا انبیاء و اولیاء کا علم علمِ غیب ہوتا ہے۔۔۔علمِ غیب کیا ہے - علمِ غیب کس کے پاس ہے اور عالم الغیب کون ہے؟

0 Comments

 اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ ۙوَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙوَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: قَالَ يَا آدَمُ أَنْبِئْهُمْ بِأَسْمَائِهِمْ فَلَمَّا أَنْبَأَهُمْ بِأَسْمَائِهِمْ قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَكُمْ إِنِّي أَعْلَمُ غَيْبَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَأَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا كُنْتُمْ تَكْتُمُونَ

 فرمایا (اے آدم) ان کو ان چیزوں کے نام بتائیں پھر جب انہوں نے ان کو ان کے نام بتائے فرمایا کیا  میں نے تم سے کہا نہیں تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی تمام پوشیدہ باتیں جانتا ہوں اور جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو وہ (سب ) بھی جانتا ہوں۔

جو  معاملہ سابقہ آیات میں بیان فرمایا جا رہا تھا اس آیتِ کریمہ میں اسی معاملے کو یعنی دلیلِ علمِ آدم کو مزید تقویت دی گئی۔ سابقہ آیات میں علمِ آدم ؑ کو فرشتوں پہ دلیل کے طور پہ پیش کیا تو فرشتوں نے مان لیا کہ آپ کی ذات پاک ہے،ہمیں آپ کی عطا کے علاوہ کچھ علم نہیں۔اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات ہی علم و حکمت والی ہے۔

فرشتوں کے اس  اقرار پہ اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ اس  کے بعد علم ِ آدم علیہ الصلوۃ والسلام کا ثبوت پیش کیا گیا جو اس آیتِ کریمہ میں  بیان ہوا:

 قَالَ يَا آدَمُ أَنْبِئْهُمْ بِأَسْمَائِهِمْ  فرمایا (اے آدم ؑ) ان کو ان چیزوں کے نام بتائیں۔

فَلَمَّا أَنْبَأَهُمْ بِأَسْمَائِهِمْ    پھر جب انہوں نے ان کو ان کے نام بتائے۔ 

قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَكُمْ إِنِّي أَعْلَمُ غَيْبَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ

فرمایا کیا میں نے تم سے کہا نہیں تھا کہ میں آسمانوں  اور زمین کی تمام پوشیدہ   باتیں جانتا ہوں ۔

وَأَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا كُنْتُمْ تَكْتُمُونَ

اور جانتا ہوں جو تم ظاہر کرتے ہو اور وہ بھی جو تم چھپاتے ہو۔

اس آیتِ کریمہ میں بہت سی حکمتیں بیان ہوئیں۔ قرآن ِ کریم میں جہاں ایک طرف واقعات و حالات بیان ہو رہے ہوتے ہیں وہیں دوسری طرف اگر غور کیا جائے تو اس واقعے کے بہت سے حکیمانہ پہلو بھی ہوتے ہیں۔شیخ المکرم حضرت امیر عبد القدیر اعوان
مد ظلہ العالی فرماتے ہیں کہ قرآنی آیات پہ غور کرنے سے ہر دفعہ ایک نیا مثبت پہلو سمجھ میں آتا ہے۔اسی طرح سابقہ چاروں آیات سے بھی بہت سے قیمتی نکات اور حکیمانہ باتیں سمجھی جا سکتی ہیں۔

اس فرمان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات چونکہ واقف و آگاہ تھی اس بات سے کہ آدم علیہ السلام  کو جو خلافت سونپی جا رہی تھی  اس پہ فرشتوں اور جنات  جن کا سردار ابلیس تھا، ان سابقہ دونوں مخلوقوں کو ان کی افضلیت و فوقیت تسلیم کرنے میں تردّد ہو گا ،جس کا اظہار فرشتوں نے کر دیا جبکہ ابلیس ابھی اپنے اندر چھپائے بیٹھا تھا۔ تو اللہ تبارک وتعالی ٰ نےان کا یہ اعتراض و شبہ دور فرمایا حالانکہ اللہ کی ذات ِ بر حق محتاج نہیں تھی  انہیں قائل کرنے  کی  جبکہ فرشتوں کے پاس حکم عدولی کا تصور بھی نہیں تھا۔ اس سے یہ نکتہ سمجھ آتا ہے کہ باوجود طاقت و اختیار کے جب آپ کسی پہ کچھ پیش کرو، کوئی دعویٰ کرو تو آپ کے ذمہ ہے فریقِ ثانی کے شبہات و اعتراضات دور کرنا۔ اور پھر شبہات و اعتراضات کو دور کرنے کا طریقہ و سلیقہ بھی سمجھا دیا کہ دعویٰ پیش کرنے کے بعد جب فریقِ ثانی اپنے شبہات کا اظہار کرے تو اس پہ اپنی دلیل پیش کرو  اور جب وہ دلیل پہ قائل ہو جائے تو دلیل کو صرف زبانی کلامی نہ رکھو بلکہ ساتھ ثبوت بھی پیش کرو یعنی دلیل کو عملی طور پہ ثابت کر کے دکھاؤ تاکہ فریقِ ثانی کے دل میں کسی قسم کا شک و تردّد باقی نہ رہے۔جیسے اس واقعہ سے پتہ چلتا ہے کہ باوجود اختیار و طاقت کے اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرشتوں کے شبہات کو دلیل سے دور فرمایا۔ سو جب وہ قائل ہو گئے  تو اس پہ اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کے شبہات کو دور کرنے کے لئے ان پہ علم آدمؑ کو ثابت بھی کر دیا گیا اور فرمایا کہ آدم ؑ ان کو ان چیزوں کے نام بتائیے تا کہ ان میں کسی قسم کا شک و تردّد باقی نہ رہے ۔ا سکے بعد انہیں یہ بات یاد دلائی جا رہی ہے  کہ  قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَكُمْ إِنِّي أَعْلَمُ غَيْبَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ فرمایا کیا میں نے تم سے کہا نہیں تھا کہ میں آسمانوں  اور زمین کی تمام پوشیدہ   باتیں جانتا ہوں ۔اور مزید فرمایا کہ وَأَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا كُنْتُمْ تَكْتُمُونَ اور جانتا ہوں جو تم ظاہر کرتے ہو اور وہ بھی جو تم چھپاتے ہو۔ یعنی نہ صرف ان چیزوں کو جو تم ظاہر کرتے ہو  بلکہ ان کو بھی جو تم چھپاتے ہو۔ ظاہر کیا تھا ؟ ظاہر وہ شبہات تھے جن کا اظہار انہوں نے برملا کر دیا اور چھپانے والی باتیں تھیں جو انہوں نے برملا بیان نہیں کیں لیکن ان کے اندر موجود تھیں مثلاً یہ کہ ہم پاکیزگی و عبادت کی وجہ سے افضل مخلوق ہیں جبکہ خلافتِ ارضی آدم ؑ کو سونپی جا رہی ہے۔یا وہ باتیں جو شیطان نے اپنے اندر رکھی ہوئی تھی جن کا اظہار اس کے انکار کی صورت میں ہوا جب اللہ تعالیٰ نے آدم ؑ کو سجدے کا حکم دیا تو اس کا غرور و تکبر سامنے آگیا اور اس نے سجدے سے انکار کر دیا۔

ایک اور اہم بات جو قاسمِ فیوضات حضرت مولانا  محمد اکرم اعوان رحمتہ اللہ علیہ نے اکرم التفاسیر میں بیان فرمائی ۔ فرماتے ہیں : لوگوں میں یہ بحث چلتی رہتی ہے اور میرے خیال میں یہ فضول بحث ہے کہ علمِ غیب کیا ہے ؟ اور آدم علیہ السلام کو کائنات کی ہر چیز کے بارے میں بتا دیا گیا تو وہ بھی عالم الغیب ہو گئے۔ یہ درست نہیں ہے۔ فرماتے ہیں کہ " علمِ غیب وہ ہوتا ہے جو بغیر کسی سبب کے جانا جائے اور جو جانتا ہو وہ عالم الغیب ہوتا ہے، یہ شان صرف اللہ تعالیٰ کی ہے جو بغیر کسی کے بتائے جانتا ہے ، بغیر کسی کے دکھائے دیکھتا ہے، کسی معاملے میں کسی کا محتاج نہیں، ہر چیز کو ہر وقت ہر آن جانتا ہے، یہ صرف اللہ کی خصوصیت ہے۔انبیاء علیہم السلام کو اللہ کے مقرب بندوں کو علوم عطا کیے جاتے ہیں ۔اب جس کی خبر دی جائے، بتایا جائے وہ غیب نہیں رہتا،بتانے والے نے بتا دیا تو غیب ختم ہو گیا ۔ ہاں آپ کہ دیں کہ اس بندے کو اللہ تعالیٰ نے غیب پر مطلع کر دیا  یا غیب کی خبر دے دی تو قہ انبیاء علیہم السلام کی شان ہے کہ بے شمار ایسے غیب ہیں جو انبیاء اور رسولوں کو بتائے جاتے ہیں۔

وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَجْتَبِي مِنْ رُسُلِهِ مَنْ يَشَاءُ        سورۃ آل عمران-179

لوگو! اللہ کی شان اس سے بلند ہے کہ تم سب کو غیب پر اطلاع دے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں میں سے جسے چاہیں منتخب فرما لیتے ہیں۔

یعنی انبیاء علیہم السلام کو ، اپنے رسولوں کو ، اور یہ بات طے شدہ بات ہے کہ تمام انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو جتنے ضروری علوم دیئے گئے ان سب سے زیادہ علوم آقائے نامدار حضرت محمد ﷺ کو عطا فرمائے۔ ہر نبی کو اس کی اپنی ضرورت اور اس کی اپنی امت کی ضرورت کے  مطابق احکامِ شریعت اور دنیا و آخرت کے علوم عطا فرمائے گئے۔ نبی کریم ﷺ چونکہ سارے انبیاء کے بھی نبی ہیں۔ ساری امتوں کے بھی ان انبیاء کے واسطے سے نبی ہیں۔امام الانبیاء ہیں اور بعثت سے ہمیشہ کےلئے آپ کی نبوت جاری و ساری ہے تو ان ساروں زمانوں میں جو ہونا چاہئے تھا ،جو درست ہے ،جو غلط ہے وہ سارے علوم نبی کریم ﷺ کو عطا فرمائے گئے۔ لیکن وہ علم غیب نہیں ہے وہ اطلاع علی الغیب ہے، غیب پر مطلع فرما دیا گیا۔

یہ بحث فضول ہے کہ علم ِ غیب کسے  ہوتا ہے؟ علمِ غیب خاصہ ہے اللہ تعالیٰ کا ۔ وہ بغیر کسی کے بتائے، بغیر کسی ذریعے کے، بغیر کسی واسطے کے جانتا ہے اور جو غیب نبی جانتے ہیں وہ اطلاع علی الغیب ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں غیب پر مطلع فرما دیتا ہے ۔ انبیاء علیہم السلام کو ،اولیاء کرام کو مطلع فرما دیتا ہے اس کی اپنی مرضی جسے چاہے عطا فرما دے جسے چاہے بتا دے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی

تفسیر سورۃ البقرہ - آیت نمبر 31،32- علمِ آدم علیہ السلام کو بطورِ دلیل پیش کیا جانا - قرآن و حدیث کو اپنے عقل سے سمجھنے والوں کا معاملہ - سر سید کا انکار ملائکہ

0 Comments

 اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ ۙوَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙوَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلَائِكَةِ فَقَالَ أَنْبِئُونِي بِأَسْمَاءِ هَؤُلَاءِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ)31( قَالُوا سُبْحَانَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا إِنَّكَ أَنْتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ)32(

اور آدم علیہ السلام کو تمام چیزوں کے نام سکھا دیئے پھر وہ (چیزیں ) فرشتوں کے سامنے کر دیں تو (فرشتوں سے) فرمایا کہ اگر تم سچے ہو تو ان کے نام(مع خواص) بیان کرو۔

سابقہ آیات میں آدم  علیہ السلام کو خلیفۃ الارض بنائے جانے کا بیان ہوا تو فرشتوں نے کہا کہ یہ زمین میں فساد کرے گا اور خون بہائے گا اور ہم آپ کی تسبیح کرتے ہیں حمد اور پاکی بیان کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوا کہ جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔

اب اللہ تبارک و تعالیٰ نے آدم ؑ کے علم کو فرشتوں پر دلیل کے طور پر پیش کیا آدم ؑ کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے تمام حاضر و غائب چیزوں کے نام مع خواص بتا دیئے اس میں ائمہ تفسیر کا اختلاف ہے کہ آدم ؑ کو کیا سکھایا گیا اور کن چیزوں کے نام و خواص سکھائے گئے۔

امام المفسرین حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ، عکرمہ،قتادہ، مجاہد اور ابنِ جبیررحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آدم ؑ کو تمام بڑی چھوٹی چیزوں کے نام سکھا دیئے۔   

 میں سمجھتا ہوں اس بات پہ بحث و تحقیق بے مقصد ہے کہ آدم ؑ کو کتنا  علم عطا کیا گیا  اور کن چیزوں کا علم عطا کیا گیا کیونکہ یہاں اس معاملے کے بیان کی غرض و غایت فرشتوں پر آدم ؑ کی افضلیت و فوقیت ثابت کرنا تھی۔ فرشتوں کا گمان کہ ہم افضل مخلوق ہیں اور خلافت ہمارے بجائے آدم ؑ کو دی جا رہی ہے تو ان پہ اس کی وجہ ظاہر کرنا مقصود تھا۔پھر جب فرمایا گیا کہ  أَسْمَاءَ كُلَّهَا تمام چیزوں کے نام تو مزید بحث و گفتگو بے مقصد ہے۔

یہاں جو بات قابلِ غور ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی کو علم یا کچھ بھی عطا کرنا چاہتا ہے تو یہ اس کے دستِ قدرت میں ہے وہ جب ،جہاں،جتنا چاہے کسی کو واسطہ یا بلا واسطہ عطا کر دے۔ وہ کسی سبب وسیلے یا ذریعے کا محتاج نہیں۔ جیسے اس نے  آدمؑ کو بغیر کسی واسطے اور ذریعے کے سب کچھ سکھا دیا ۔ اسے اصطلاح میں علم لدنّی کہا جاتا ہے،یعنی جس نے کسی مدرسے یا استاد سے تو نہ پڑھا ہو لیکن اللہ تعالیٰ اسے علوم کے خزانے عطا فرما دے۔ ایسے لوگوں کی ایک لمبی فہرست ہے جن کے نام و احوال  تاریخ کی کتابوں میں ملتے ہیں جو خود تو پڑھے لکھے نہ تھے یا معمولی لکھنا پڑھنا جانتے تھے لیکن بڑے بڑے علماء ان کی مجلس میں حاضر ہو کر ان سے علوم و معارف سیکھتے تھے۔

حضرت عبدالعزیز دباغ رحمتہ اللہ علیہ جو بارھویں صدی ہجری کے مشہور صوفیاء میں سے ہیں۔ امّی تھے،لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو علم لدنّی سے فیض یاب فرمایا۔لوگ ان سے احادیث سنا اور پوچھا کرتے تھے کہ کیا یہ قولِ رسول ﷺ ہے تو آپ من گھڑت کا بھی بتلا دیتے اور یہ بھی بتلا دیتے کہ اس حدیث میں یہ الفاظ زائدہ ہیں اور یہ زبانِ محمد الرسول اللہ ﷺ سے جاری نہیں ہوئے۔ فرماتے تھے کہ الفاظ سے نکلنے والے انوارات بتا  رہے ہوتے ہیں کہ یہ الفاظ آپ ﷺ کے ہیں یا کسی اور کے شامل کردہ۔ یہ اللہ کی شان ہے کہ جس کو جتنا چاہے عطا کر دے۔

آدم علیہ السلام کو تما م نام مع خواص سکھانے کے بعد  ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلَائِكَةِ  پھر وہ اشیاء فرشتوں کے سامنے کر دیں یعنی ان کو وہ تمام اشیاء جن کا علم آدم علیہ السلام کو القاءکیا گیا دکھا دی گئیں اسکے بعد فَقَالَ أَنْبِئُونِي بِأَسْمَاءِ هَؤُلَاءِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ تو فرمایا کہ اگر تم سچے ہو تو ان کے اسماء(مع خواص) بتلاؤ۔

یعنی اگر تم سمجھتے ہو کہ تم آدم ؑ سے افضل ہو ،تم ان سے بہتر ہو  جس کی وجہ سے تم آدم علیہ السلام کو خلیفۃ الارض بنانے پہ شبہات  کا اظہار کر رہے ہو تو اگر تم اپنے ان شبہات میں کوئی سچائی رکھتے ہو ، اپنی ان باتوں کو صحیح سمجھتے ہو، اپنے قول میں وزن رکھتے ہو تو ان اشیاء کے نام جن کا علم ہم آدم علیہ السلام کو دے چکے تم بھی اگر جانتے ہو تو ان کے نام بتاؤ جبکہ یہ تمہارے سامنے ہیں تم ان کو دیکھ سکتے ہو تو بتلاؤ ان کے نام و خواص۔

قَالُوا سُبْحَانَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا إِنَّكَ أَنْتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ

انہوں نے کہا آپ پاک ہیں جتنا علم آپ نے ہمیں دیا ہے اس کے علاوہ ہمیں کچھ معلوم نہیں۔بےشک آپ جاننے والے اور حکمت والے ہیں۔

اپنی کم علمی اور کم مائیگی انہیں سمجھ میں آگئی تو انہوں نے اللہ تبارک و تعالیٰ کی پاکی بیان کی اور اعتراف کیا کہ ہم نہیں جانتے۔ہم صرف اتنا ہی جانتے ہیں جتنا علم آپ نے ہمیں دیا ہے۔ بےشک علیم و حکیم تو  اللہ تبارک و تعالیٰ ہی کی ذات ہے۔ آپ ہی علم والے اور تخلیقِ آدم کی حکمتوں سے آگاہ ہیں۔

یہاں پہ بڑا اہم اور خاص نکتہ یہ واضح ہوتا ہے کہ اگر آپ کو کسی چیز پہ  اعتراض ہے اور اس اعتراض پہ آپ کے سامنے دلیل پیش کیجائے۔ ایسی دلیل جو آپ کو لاجواب کر دے اور آپ کے پاس اعتراض کے باقی رہنے کا کوئی جواز نہ رہے تو اپنی غلطی و نادانی کو مان لینا چاہیے بجائے اسکے کہ ہٹ دھرمی دکھائی جائے اور خواہ مخواہ کی ضد اور انانیت کا مظاہرہ کیا جائے۔ جیسے یہاں پہ  جب فرشتوں کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا تو انہوں نے مان لیا کہ ہم کم علم اور محدود علم رکھتے ہیں ،حقیقی علم و حکمت تو اللہ تبارک وتعالیٰ کے پاس ہے۔اور حکم خداوندی پہ آدم علیہ السلام کے سامنے سر بسجود ہو گئے۔ جس کا ذکر اسی رکوع میں آگے آئے گا جبکہ شیطان واضح دلیل دیکھنے کے بعد  بھی ہٹ دھرمی اور ضد و انانیت پہ قائم رہا جس کی وجہ سے ہمیشہ کیلئے مردود ٹھہرا۔

ایک  اور ضروری بات عرض کرتا چلا کہ اس آیت کی تفسیر میں سر سید احمد خان  کافی تفصیل سے فرشتوں کے بارے میں اپنا عقیدہ لکھتے ہیں جس کا مختصراً حوالہ پیش کر رہا ہوں۔ موصوف اپنی تفسیر القرآن میں رقم طراز ہیں کہ: عرب کے بت پرست فرشتوں کو ایک مجسم  اور متحیر چیز سمجھتے تھے اور جانتے تھے کہ وہ کھاتے پیتے نہیں اور نہ کچھ بشری ضرورت ان کو ہے وہ آسمانوں پہ رہتے ہیں اور زمین پہ آتے جاتے ہیں، وہ یہ سمجھتے تھے کہ انسان بھی فرشتوں کو زمین پہ رہتے چلتے پھرتے دیکھ سکتا ہے، اسی خیال سے وہ آنحضرتﷺ کی نسبت کہا کرتے تھے کہ اگر وہ پیغمبر ہیں تو فرشتے ان کے ساتھ کیوں نہیں ہیں۔

مزید لکھتے ہیں کہ عام مسلمانوں کا بھی یہی عقیدہ ہے جو عرب کے بت پرستوں کا تھا۔وہ فرشتوں کو ہوا کی مانند لطیف اجسام سمجھتے ہیں اور مختلف شکلوں میں ان کے بن جانے کی قدرت جانتے ہیں۔ایسی خلقت کی در حقیقت موجود ہونے کی بھی کوئی دلیل نہیں کیونکہ اس بات کا ثبوت کہ ایسی خلقت ہے ،نہیں ہے۔قرآن مجید سے فرشتوں کا ایسا وجود جیسا کہ مسلمانوں نے اعتقاد کر رکھا ہے ثابت نہیں ہوتا ، بلکہ بر خلاف اس کے پایا جاتا ہے۔ نعوذ باللہ من ذالک

سر سید احمد خان کا حوالہ پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ دورِ حاضر میں بھی کچھ نادان اپنی عقل و دانش پہ بھروسہ کرکے قرآن و حدیث کے من پسند معانی و مفاہیم تراشتے ہیں جو نہ صرف جمہور ائمہ دین کی رائے کے بر عکس ہوتے ہیں بلکہ قرآن و حدیث سے بھی ٹکراؤ کر رہے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی تفاسیر اور احادیث پہ کی گئی تحقیق اگر ظاہراً  ہماری اپنی کم علمی کیوجہ سے ہمیں اچھی بھی لگ رہی ہو  تو بھی ایسے لوگوں سے بچنا چاہیئے۔ کیونکہ یہ اپنی خود پسندی  اور شہرت کے جال میں نہ صرف خود پھنس چکے ہوتے ہیں بلکہ اوروں کی بھی گمراہی کا سبب بن رہے ہوتے ہیں۔ ایسی لوگوں کی واضح شناخت یہ ہوتی ہے کہ وہ خود کو بڑا عالم و فاضل ظاہر کرنے کیلئے اور اپنی علمی دھاک بٹھانے کیلئے  ائمہ دین ،اولیاء کرام ،فقہاء کرام،مفسرین و محدثین پہ  نہ صرف تنقید کر رہے ہوتے ہیں بلکہ ان کی شان میں انتہائی گستاخانہ الفاظ بول رہے ہوتے ہیں۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں ایسے لوگوں سے محفوظ رکھے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی

تفسیر سورۃ البقرہ - آیت نمبر 30 - نیابتِ الٰہی سے کیا مراد ہے۔۔۔ آدم ؑ خلیفہ بنائے جانے پہ فرشتوں کے خدشات

0 Comments

 اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ ۙوَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙوَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ۔

"اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں (اپنا ) نائب بنانے والا ہوں۔ فرشتوں نے کہا آپ اس(زمین) میں ایسے لوگوں کو (نائب )بنانا چاہتے ہیں جو اس میں فساد کریں گے اور خونریزیاں کریں گے۔ اور ہم آپ کی تسبیح کرتے ہیں(اور)تعریف کرتے اور پاکی بیان کرتے ہیں۔فرمایا جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔"

سابقہ رکوع میں تمام انسانوں کو انکی، ان سے پہلے لوگوں کی اور زمین و آسمان کی تخلیق کا بتلا کر عبادت کا حکم فرمایا۔ اسی تسلسل میں اب انسانیت کی تخلیق کی ابتدا یعنی تخلیقِ آدم علیہ السلام  اس رکوع کا موضوع و مضمون ہے۔

اس آیتِ کریمہ میں آدم علیہ الصلوۃ والسلام کی تخلیق سے پہلے جو فرشتوں سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے گفتگو فرمائی وہ بیان کی جا رہی ہے۔ پہلی بات جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرشتوں کے سامنے رکھی وہ انتہائی قابلِ غور ہے کہ میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں یہ نہیں فرمایا  کہ جس طرح تم ایک مخلوق ہو اسی طرح میں ایک اور مخلوق پیدا فرمانے لگا ہوں بلکہ فرمایا "میں زمین میں نائب بنانے والا ہوں"یعنی وہ مخلوق صرف مخلوق نہیں ہو گی ،وہ صرف کوئی نئی تخلیق نہیں ہو گی بلکہ اس کے پاس میری نیابت ہو گی ،وہ نیابت الٰہی رکھنے والی ہو گااسے میں اپنا خلیفہ اور نائب بنا رہا ہوں۔ حالانکہ اس سے پہلے دو قسم کی مخلوقیں آسمانوں پہ نوری مخلوق یعنی فرشتے اور زمین پہ ناری مخلوق یعنی جنات آباد تھے لیکن ان کے پاس نیابت الٰہی نہیں تھی۔ تخلیق آدم علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ جو خاص بات جڑی ہوئی تھی وہ یہ تھی کہ آدم علیہ السلام کو نیابتِ الٰہی دی جا رہی تھی۔

نیابتِ الٰہی کیا ہے؟

قاسمِ فیوضات حضرت مولانا محمد اکرم اعوان رحمتہ اللہ علیہ اکرم التفاسیر میں فرماتے ہیں: نائب صرف تصرف ہی نہیں کرتا بلکہ جس ہستی کا وہ نائب ہوتا ہے اس سے رابطہ بھی رکھتا ہے ورنہ نیابت کیسی! اس مالک کے ساتھ اس کا بڑا گہرا ربط ہوتا ہے ، اس کی پسند و ناپسند کو پہچانتا ہے ، اس کی رضا اور ناراضگی سے واقف ہوتا ہے، وہ کس بات سے خوش ہو گا ،کس بات سے خفا ہو گا؟ پھر اس سے حکم حاصل کر کے نیچے مخلوق میں تصرف کرتا ہے۔

براہِ راست احکامِ الٰہی کو وصول کرنا ، اس کی رضا کو پہچاننا، اسکی ناراضگی کو جاننا، یہ منصب جنہیں نصیب ہوا وہ اللہ کے نبی اور رسول ہوئے۔ باقی مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی پسند و ناپسند یا احکام، اوامر و نواہی کا علم انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی وساطت سے ہوتا ہے۔خلیفۃالارض آدم  علی نبینا و علیہالصلوۃ و السلام اور ان کے بعد حقیقی خلفاء انبیاء و رسل علیہم السلام ہیں۔ باقی ساری انسانیت اس بات کی مکلف ہے کہ ان سے اللہ کے احکام حاصل کر کے ان کی بجا آوری کرے۔

احکاماتِ الٰہی، خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کے ذریعے سے شریعتِ محمدیہؐ کی صورت میں مکمل ہو چکے، اب قیامت تک جو بھی ،جہاں بھی روئے زمین کے جس بھی گوشے میں ہے ،پوری انسانیت کیلئے احکامات ورہنمائی شریعتِ محمدیہؐ کی صورت میں موجود ہے۔

نیابتِ الٰہی کا ایک دوسرا پہلو جو کہ تمام انسانیت کیلئے ہے کہ جب بھی کوئی بھی خلوصِ دل سے، جستجو اور لگن سے اپنے ر ب کو پانے کی ، خالقِ حقیقی کو پہچاننے کی خواہش کرتا ہے اس کیلئے کوشش  و کاوش کرتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کے لئے سبب اور ذرائع مہیا فرما دیتے ہیں ۔ اور اس کو اپنی ذات تک صالحین و صادقین کے ذریعے، اہل اللہ کے ذریعے رسائی فراہم کر دیتے ہیں۔ پھر بندہ مومن کا خالقِ حقیقی سے ، اپنے رب سے معبودِ برحق سے، اللہ تبارک وتعالیٰ سے وہ تعلق استوار ہو جاتا ہے۔ ایسی معیتِ باری تعالیٰ نصیب ہو جاتی ہے کہ جس کے متعلق خود اللہ رب العزت قرآنِ کریم میں فرماتے ہیں:

وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنْتُمْ  (تم جہاں کہیں بھی ہووہ (اللہ) تمہارے ساتھ ہے         الحدید۔4

لیکن اس کا حصول کیسے ممکن ہے ، معیتِ باری تعالیٰ کیسے حاصل ہو گی ، قربِ الٰہی کی منازل کیسے طے ہوں گی ۔ اس کا طریقہ بھی ارشاد فرما دیا۔ فرمایا:

وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ۔ سورۃ العنکبوت۔69

"اور جو لوگ ہمارے لئے مشقت برداشت کرتے ہیں ہم انکو اپنے رستے ضرور دکھا دیں گے اور بے شک اللہ خلوص والوں کے ساتھ ہے۔"

یعنی جو کوشش کرے گا جو محنت کرے گا اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی طرف اس کی رہنمائی فرما دیتے ہیں۔

اس آیت کریمہ میں جب اللہ تبارک و تعالی نے فرشتوں سے فرمای کہ میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں ۔میں زمین میں ایک ایسی مخلوق پیدا کرنے والا ہوں جس کو میری نیابت حاصل ہو گی ۔ اور مجھ سے احکام لے کر زمین پہ نافذ کرے گا تو فرشتوں نے اپنے محدود علم اور سابقہ تجربے  کی وجہ سے  خدشہ و خیال ظاہر کیا کہ یہ زمین میں فساد برپا کرے گا ،قتل و غارت گری کرے گا۔

اس بات کی جمہور ائمہ تفسیر کے نزدیک دو وجوہات تھیں ایک وجہ تو انسان کے تخلیقی اجزاء تھے،چونکہ اس میں تین قوتیں ہیں : قوتِ شہوانیہ،قوتِ غضبیہ اور قوتِ عقلیہ۔ قوتِ شہوانیہ اور قوتِ غضبیہ کی وجہ سے فرشتوں نے شاید یہ خیال ظاہر کیا کہ یہ فساد کرے گا جبکہ دوسری وجہ زمین پر پہلے جو مخلوق آباد تھی وہ جنات تھے جو آئے روز زمین پر فساد برپا کئے رکھتے تھے تو فرشتوں نے سابقہ  حالات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے شاید یہ خیال ظاہر کیا ہو کہ یہ بھی جنات کی طرح زمین میں فساد برپا کرے گا اور خونریزیاں کرے گا۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس تھی جس کا فرشتوں کو علم نہیں تھا۔ چونکہ تخلیقی اعتبار جنات آگ سے پیدا کردہ تھے تو ان میں شر زیادہ تھا اور فرشتے سراپا خیر تھے ان میں شر تھا ہی نہیں۔

اب جب بات انسان کی آئی جب باری تخلیقِ آدم علیہ الصلوہ والسلام کی آئی، جب اللہ نے خلیفۃ الارض بنانے کا فیصلہ کیا، جب نیابتِ الٰہی عطا کرنے کا ارادہ فرمایا تو اللہ رب العزت نے خاص الخاص تخلیق فرمائی ۔ اس کے مادی اجزاء میں آگ ،مٹی، ہوا اور پانی کو رکھا جس سے نفسِ انسانی کی تخلیق ہوئی اور پھر اس میں جان نہیں ڈالی بلکہ اس کو روح عطا فرمائی۔ جس کے بارے میں فرمایا:

قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي۔    فرما دیجئے کہ روح میرے رب  کےامر  سےہے۔         سورۃ الاسراء۔85

تو بنیادی فضیلت جس نے ابتدا سے ہی انسان کو ممتاز بنا دیا وہ اس کے کثیف و لطیف دونوں اجزاء ہیں۔ مادی طور پہ اس میں تمام بنیادی اجزاء کو جمع فرمایا جبکہ روحانی طور پر اس میں عام جانداروں کی طرح جان نہیں رکھی بلکہ اس کو  روح جو خاص امر الٰہی میں سے ہے عطا فرما کر امتیاز و افضلیت عطا فرمائی اور اس پہ مزید فضیلت یہ کہ اس کو نیابتِ الٰہی کا شرف بخشا۔

فرشتوں کا ایک خدشہ تو یہ تھا کہ یہ زمین میں فساد پیدا کرے گا اور خونریزیاں کرے گا اور دوسرا معاملہ کہ اگر آپ اسے اپنی عبادت و تسبیح کے لئے پیدا فرما رہے ہیں جبکہ  وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ  ہم تیری تسبیح کرتے ہیں تعریف کے ساتھ اور ہم تیری پاکی بیان کرتے ہیں۔

تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ۔ فرمایا جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔

فرشتوں نے چونکہ اپنے محدود علم اور تجربے ککا اظہار کرتے ہوئے پہلا خدشہ فسادو قتل کا ظاہر کیا  جو اس سے پہلے زمین پر جنات کرتے تھے پھر دوسرا خیال جو انہوں نے ظاہر کیا وہ تسبیح و حمد و تقدیس بیان کرنا تھا ۔ چونکہ ان کی ذمہ داری یہ تھی جو کام وہ کرتے تھے انہوں نے انسان کو اس پہ قیاس کرتے ہوئے کہا کہ ہم تیری تسبیح و حمد و تقدیس بیان کرتے ہیں کہ شاید باری تعالیٰ انسان کو اس کام کیلئے تخلیق فرما رہے ہیں۔

اللہ تبارک و تعالی کا یہ فرمان کہ جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے فرشتوں کی ان دونوں باتوں کی نفی کرتا ہے۔پہلی بات کہ زمین میں فساد و خونریزیاں کرے گا لیکن جہاں جہاں اور جب بھی یہ انسان شیطان کی پیروی میں گیا تو فساد اور خونریزیوں کا سبب بنا لیکن وہیں پہ اس کے تدارک کیلئے امن و آتشی کیلئے،محبت و بھائی چارے کیلئے رحمان کے بندے بھی موجود ہوئے۔ انبیاء علیہم الصلوۃ و السلام جیسی عظیم ہستیاں امن و سلامتی کا پیغام لے کر آئیں، صالحین نے اعمالِ صالح کے ذریعے معاشرے کو خوبصورتی دی، شہداء نے جانوں کا نذرانہ پیش کر کے فساد فی الارض کا خاتمہ کیا،صدیقین نے سچائی و محبت سے خوبصورت و خوب سیرت انسانوں کا معاشرہ تشکیل دیا۔

فرشتوں کی دوسری بات کہ ہم تیری تسبیح و پاکی بیان کرتے ہیں تو تخلیقِ آدم کا مقصد کیا ہے؟

عبادت و تسبیح و تقدیس دو قسم کی ہوتی ہے ایک اضطراری اور دوسری اختیاری۔

اضطراری وہ ہے جس میں پسند و ناپسند اور ذاتی خواہش اور مرضی کا دخل نہیں ہوتا ،یہ فرشتوں کی عبادت ہے۔

جبکہ انسان جب عبادت کرتا ہے، تسبیح و تقدیس کرتا ہے، اعمالِ صالح اختیار کرتا ہے تو وہ اس کا اختیاری فعل ہوتا ہے۔ اس میں اس کی پسند و ناپسند اور مرضی شامل ہوتی ہے۔ یہ بنیادی فرق ہے فرشتوں اور انسانوں میں جس کے بارے فرمایا جا رہا ہے کہ جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔ انہوں نے انسان کی عبادت کو خود پہ قیاس کیا جبکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسان میں انفرادی خاصیت یہ رکھی کہ اس کو اختیار دے دیا ، وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِ ۔خیر و شر دونوں بتلا دیئے۔اب وہ چاہے تو خیر کا رستہ اختیار کرے چاہے تو شر کا ۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی

تفسیر سورۃ البقرہ - آیت نمبر 28،29- مقصدِ تخلیقِ بنی آدم۔۔۔ انسان کی چار حالتیں۔۔۔خلاصہ رکوع نمبر 3

0 Comments

اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَ
دْرِیْ
ۙوَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙوَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:  كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ وَكُنْتُمْ أَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ۔

"تم اللہ کا انکار کیسے کر سکتے ہو اور تم بے جان تھے پھر اس نے تم کو حیات دی پھر تم کو موت دے گا پھر تمھیں زندہ کرے گا پھر تم اس کے پاس لوٹائے جاؤ گے۔"

سورۃ البقرہ کے اس تیسرے رکوع کی ابتداء میں بنی نوعِ انسان کو مخاطب کر کے اللہ تعالیٰ نے عبادت کا حکم دیا اور فرمایا کہ اپنے رب  کی عبادت کرو جس نے تمھیں اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا فرمایا۔ تخلیق اور ربوبیت یعنی پروردگاری و پالنہاری  دو ایسی صفات ہیں جن سے کوئی بھی ذی عقل انکار نہیں کر سکتا۔ اس لیے دلیل کے طور پہ فرمایا کہ اس ذات کی عبادت کرو جس نے نہ صرف تمھیں بلکہ تم سے پہلے تمھارے آباؤ اجداد  کو بھی پیدا فرمایا اور نہ صرف پیدا فرمایا بلکہ تمھارا پروردگار بھی ہے، تمھیں زندہ رہنے کےلئے زندگی گزارنے کیلئے تمام ضروریات و آسائشات بھی فراہم فرما رہا ہے۔ تمھارے لئے زمین کو بچھونا اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے پانی برسا کر اس  بنجر و چٹیل زمین کو تمہارے لئے زرخیز بنا کر تمھارے کھانے کیلئے کئی اقسام کے پھل پیدا فرمائے۔

سو کسی کو اس جیسا نہ سمجھو ،کسی کو اس کی برابری و ہمسری میں نہ لاؤ کیونکہ تم ان حقیقتوں کو اچھی طرح جانتے ہو ۔ یہ جو دلائل بیان فرمائے جا رہے ہیں یہ ایسی حقیقتیں ہیں جن سے انکار ممکن ہی نہیں۔ کوئی بھی ذی عقل و ذی شعور  انسان ان حقیقتوں کو نہیں جھٹلا سکتا۔

پھر آیت نمبر 23 میں ارشاد ہوا: وَإِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَّلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ۔ یعنی قرآن ِ کریم کو دلیل کے طور پہ پیش کیا  کہ اگر تمھیں اس کے کلام اللہ ہونے میں شک ہے تو تم بھی اس جیسی ایک سورت بنا لاؤ اور اس کیلئے جو ممکن ہے کر کے دیکھ لو یعنی اپنے تمام مددگاروں اور حمایتیوں  کو اکٹھا کر لو اگر تم اپنی  بات کہ جو تم کہتے ہو کہ یہ من گھڑت اور آپ ﷺ کی اپنی بنائی ہوئی باتیں ہیں یہ اللہ کی طرف سے نازل کردہ نہیں تو اگر تم اس بات میں سچے ہو تو تم بھی ایسی ایک سورت بنا لاؤ۔

پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے خود ہی ان کی بے کسی و بے چارگی کو بھی بیان فرما دیا اور فرمایا: فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا وَلَنْ تَفْعَلُوا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ أُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِينَ۔ نہ صرف یہ بتا دیا کہ تم ایسا نہیں کر سکتے بلکہ تم  ہر گز نہیں کر سکو گے اور جب نہیں کر سکتے تو اس کا نجام و نتیجہ بھی تمھیں معلوم ہونا چاہیے اور بتلا دیا کہ اس کا نتیجہ یہ ہے  کہ پھر ڈرو اس آگ سے جو اتنی سخت ہے کہ اس کا  ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے اور اس کو تم جیسے انکار کرنے والوں کیلئے تیار کیا گیا ہے۔

آیت نمبر 25 میں  ایمان والوں کا بیان ہے یعنی جو مانتے ہیں ،جو حق کو قبول کرتے ہیں ان کیلئے جنت اور اس کی نعمتیں ہیں۔ آیت نمبر 26 اور 27 میں فاسقین کا بیان ہوا جو تفصیل سے سابقہ دروس میں گزرا۔

ان تمام دلائل  اور تینوں گروہوں  یعنی کفار، مومنین اور فاسقین کے بیان کے بعد اب پھر بیان  اسی موضوع و مضمون کا ہے۔ابتدائی آیت میں بات صرف تخلیق کی فرمائی, ربوبیت کا تذکرہ ہوا، اب فرمایا جا رہا ہے:

 كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ (تم اللہ  تعالیٰ کا انکار کیسے کر سکتے ہو)

 حالانکہ :وَكُنْتُمْ أَمْوَاتًا (تم بے جان تھے،مردہ تھے)

فَأَحْيَاكُمْ (اس نے تمھیں زندگی بخشی)

ثُمَّ يُمِيتُكُمْ (پھر تمھیں موت دے گا )

ثُمَّ يُحْيِيكُمْ (پھر تمھیں زندہ کرے گا)

ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ (پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے)

رجوع ہوتا ہے اصل کی طرف لوٹنا، پلٹنا۔ یعنی انسان کی ابتداء جہاں سے ہوئی اس نے وہیں دوبارہ لوٹنا ہے۔

یہاں جو بہت ہی خوبصورت اسلوب بیان ہوا ہے وہ قابلِ غور ہے کہ جیسے کسی چیز کی حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہو یا کسی کام کا نقصان یقینی ہو تو ہم کہتے ہیں بھائی تم یہ کام کیسے کر سکتے ہو حالانکہ اسکا نقصان یقینی ہے بالکل اسی طرح فرمایا گیا  کہ تم اللہ تبارک وتعالیٰ کا انکار کیسے کر سکتے ہو حالانکہ اس میں تمہیں کوئی شک نہیں کہ تم ذرہ بے جان تھے اس نے تمہیں حیات بخشی وہ پھر تمھیں موت دے گا ،اس موت کے بعد پھر تمھیں دوبارہ اٹھائے گا اور روزِ محشر تم اس کے حضور پیش ہو گے وہ تم سے حساب و کتاب لے گا، وہ ہستی تمھارا مواخذہ فرمائے گی۔

ہر ادارے یا آرگنائزیشن کے اپنے اصول و ضوابط ہوتے ہیں ہم جب اس ادارے میں ملازمت اختیار کرتے ہیں تو ہمیں وہ اصول و ضوابط بتائے اور سکھائے جاتے ہیں پھر سختی سے ان پر عمل درآمد کرایا جاتا ہے اور ہم ان پہ عمل کرتے ہیں کس لئے؟ کیونکہ ہمیں پتہ ہوتا ہے کہ اگر عمل نہ کیا تو باز پرس ہو گی اور اس ادارہ کے اصول و ضوابط کے تحت سزا و جرمانہ ہو گا،عزت پہ بھی حرف آئے گا۔تو اگر کوئی چھوٹے سے چھوٹا  ادارہ بھی ہو تو اس کے بھی ضرور کچھ نہ کچھ اصول و ضوابط اور مقاصد  ہوتے ہیں، ضرور کچھ نہ کچھ قاعدے  اور قانون ہوتے ہیں تو کیا جس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اتنی بڑی کائنات بنائی ، ان گنت عالمین پیدا فرمائے اس کا کوئی قاعدہ و قانون  اور مقصدنہیں ہوگا۔اور ان قواعد وضوابط کی خلاف ورزی پہ کوئی باز پرس نہیں ہو گی۔بلا شبہ  اس کے بھی قواعد و ضوابط ہیں اور ان ہی قواعد و ضوابط کو انسانوں تک پہنچانے کیلئے اللہ تبارک و تعالیٰ نےآدم علیہ الصلوۃ والسلام کو خلافتِ ارضی سونپی اور پھر کم و بیش سوا لاکھ انبیاء دنیا میں مبعوث فرمائے اور سب سے آخر میں حضرت محمد ﷺ کو مبعوث فرما کر ان قواعد و ضوابط کو  حتمی شکل دی اور نبوت کو آپ ﷺ پہ تمام کر دیا اور فرما دیا کہ اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ وَ اَتۡمَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ نِعۡمَتِیۡ وَ رَضِیۡتُ لَکُمُ الۡاِسۡلَامَ دِیۡنًا ؕیہی معاملہ اس آیتِ کریمہ میں بیان ہو رہا ہے کہ جب تمھیں اس بات کا علم ہے کہ وہ خالق بھی ہے اور رب العالمین بھی اور نہ صرف یہ کہ اس نے ایک بار پیدا کیا بلکہ اس کے بعد موت بھی آئے گی اور اس موت کے بعد دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور محشر برپا ہو گا ،اس کے حضور پیش کیا جائے گا۔ باز پرس ہو گی  سزا و جزا ہو گی  ۔ كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ۔ تو کیسے تم اس ہستی کا انکار کر سکتے ہو ،تم کیسے اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات سے کفر کر سکتے ہو۔

اس سے اگلی آیت کریمہ میں انسانیت پہ اپنے احسانات کو پھر یاد کرایا گیا  اور فرمایا:

هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُمْ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ فَسَوَّاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ۔

وہی تو ہے جس نے زمین میں سب کچھ تمھارے لیے پیدا فرمایا پھر آسمانوں کی طرف توجہ فرمائی تو سات آسمان درست بنا دیئے۔وہ سب چیزوں سے آگاہ ہے۔

رکوع کے آغاز میں زمین کو بچھونا اور آسمان کو چھت بنانے کا ذکر فرمایا اور زمین سے انواع و اقسام کے پھل اگانے کا ذکر فرمایا ، رکوع کی ان اختتامی آیات میں انہیں نعمتوں کو پھر سے یاد دلایا جا رہا ہے  اور مزید یہ بھی بتلا دیا کہ یہ سب کچھ جو کچھ بھی اس زمین میں ہے یہ سب تمھارے واسطے پیدا فرمایا۔ اور تم ان سب احسانات و انعامات کے باوجود اللہ تعالیٰ کے انکاری ہو  اور تم بے خوف و خطر پھر رہے ہو  اور ڈھٹائی سے اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو استعمال بھی کر رہے ہو اور اس کی ذات برحق سے انکاری بھی ہو  ۔

 تو یہ جان رکھو کہ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ وہ سب چیزوں سے آگاہ ہے ،وہ سب چیزوں کا جاننے والا ہے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی