اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ،
وَالصَّلاۃُ
والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ
مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔
رَبِّ اشْرَحْ لِیْ
صَدْرِیْ ۙوَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙوَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: فَأَزَلَّهُمَا
الشَّيْطٰنُ عَنْهَا فَأَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيهِ وَقُلْنَا اهْبِطُوا
بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَى
حِينٍ(36) فَتَلَقّٰى
اٰدَمُ مِنْ رَبِّهِ كَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ(37)
پھر
شیطان نے ان کو اس سے بہکایا تو جس (عیش و عشرت) میں تھے اس سے ان کو نکلوا دیا۔
اور ہم نے فرمایا یہاں سے چلے جاؤ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہارے لئے زمین
میں ایک مقررہ وقت تک رہائش اور معاش ہے۔(36) پھر آدم علیہ السلام نے اپنے
پروردگار سے کچھ کلمات سیکھے تو اس نے انہیں معاف فرما دیا بے شک وہ (اللہ)بڑے
معاف فرمانے والے (اور ) رحم کرنے والے ہیں ۔(37)
سابقہ
آیتِ کریمہ میں بیان کردہ آدم علیہ السلام کے جنت میں قیام کے واقعہ کا تسلسل چل
رہا ہے ۔ آدم علیہ السلام کو جنت میں شجرِ ممنوعہ کا پھل کھانے سے روکا گیا بلکہ
حکم ہوا کہ اس کے قریب بھی مت جانا وگرنہ آپؑ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں
گے۔ شیطان یعنی ابلیس لعین جو پہلے ہی آدم علیہ السلام کی عظمت کا انکاری ہو چکا
تھا اور آدم ؑ کی تعظیم بجا لانے سے انکار کر کے، اللہ تبارک و تعالیٰ کے حکم کا
واضح انکار کے صورت میں مردور ٹھہر ایا جا
چکا تھا۔ آدمیت و انسانیت سے اپنی دشمنی کی باقاعدہ ابتدا اس نے یوں کی کہ جب آدم ؑ کو منع فرمایا گیا کہ اس درخت کے
قریب نہ جانا تو شیطان نے مختلف حیلوں بہانوں سے آپ کو بہکانا شروع کیا اور ان کے
دل میں یہ وسوسہ و خیال ڈالا کہ اس درخت کا
پھل کھانے سے آپ ابد الآبادجنت میں رہیں گے اور ہمیشہ کی حیات پائیں گے، اس
کے لئے اس نے مختلف حربے استعمال کیے اور
قسمیں کھائیں تو اس کی ان قسموں پہ آدم ؑ
یقین کر بیٹھے اور اس درخت کا پھل چکھ لیا۔
سوال
یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ جنت میں داخل کیسے ہوا ؟ مفسرین کرام نے اس کی مختلف
توجیہات بیان فرمائی ہیں سب سے معتبر صورت جو مفسرین کرام نے بیان فرمائی ہے کہ اس
نے آپ کے دل میں وسوسہ اور خیال ڈالا جس پہ اسے قدرت حاصل ہے۔
دوسرا
سوال کہ کیسے شیطان نے حضرت آدم علیہ السلام کو بہکا لیا حالانکہ وہ اللہ کے نبی
تھے۔ اس کی ایک وجہ تو تقدیری معاملہ ہے کیونکہ آدم علیہ السلام کا اصل قیام جنت میں
نہیں تھا بلکہ انہیں زمین پہ خلیفۃ
الارض بنا کے بھیجا جانا تھا اور ان کا
اصل قیام تو زمین پہ تھا سو یہ معاملہ اس کا سبب ٹھہرا۔ دوسری وجہ اس سارے واقعے
کی یہ ہے کہ اس سے بنی نوعِ انسان کو سبق سکھایا جا رہا ہے کہ جب بھی کسی کام کی ممانعت اللہ کی طرف سے ہو گی تو
شیطان جو تمہارا ازلی اور سب سے بڑا دشمن
ہے وہ ضرور تمہارے دل میں وسوسے ڈالے گا
اور کوشش کرے کا کہ کسی طرح تم سے
اللہ تبارک و تعالیٰ کی نافرمانی کروا لے۔ اس واقعے میں بھی اس نے آدم ؑ سے یہ فعل
،یہ ممنوعہ کام کروانے کی کوشش کی اور بالآخر ان سے یہ فعل ،یہ خطا ، یہ بھول سرزد
ہو گئی جیسا کہ سورۃ طہٰ آیت نمبر 115 میں
ارشاد فرمایا گیا : فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْمًا ان سے بھول
ہوئی اس میں ان کا ارادہ نہ تھا۔
یہ آیتِ کریمہ عصمتِ انبیاء علیہم السلام پہ بھی
دلالت کرتی ہے کہ آدم علیہ السلام سے گناہ و نافرمانی نہیں ہوئی بلکہ بھول ہوئی
کیونکہ گناہ و نافرمانی ارادتاً ہوتی ہے
جو غیر ارادی ہو وہ بھول یا خطا ہوتی ہے گناہ نہیں۔
اس
بھول کا نتیجہ کیا ہوا فرمایا: فَأَخْرَجَهُمَا
مِمَّا كَانَا فِيهِ پس
جس میں وہ تھے یعنی جنت جہاں وہ عیش و آرام کی زندگی بسر کر رہے تھے اس سے انہیں
نکال دیا گیا۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مقربین کی بھول بھی گرفت کا سبب ہوتی
ہے اور انہیں اس کا نتیجہ بھگتنا پڑتا ہے
اور پھر یہ تو سبب اور بہانہ تھا اصل مقام تو آدم علیہ السلام کا تھا ہی
زمین ،جہاں انہیں نیابتِ الٰہی عطا فرما کر بھیجا جا رہا تھا۔
وَقُلْنَا اهْبِطُوا
بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ
اور ہم نے فرمایا چلے جاؤ تمہارے بعض بعض
کے دشمن ہیں یعنی تم ایک دوسرے کے دشمن ہو
ان
کی اس بھول کے سبب پہلے تو انہیں جنت سے بے دخل کر دیا گیا اب دوسرا نتیجہ جو ان
کی بھول سے مرتب ہوا وہ بیان کیا جارہا ہے
کہ نہ صرف یہاں سے چلے جاؤ بلکہ
بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو
اس
سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ جب بھی کوئی انسان شیطان کے بہکاوے میں آکر اللہ کے
احکامات کی خلاف ورزی کرتا ہے چاہے وہ بھول کر ہی کیوں نہ ہو اس کے دو نتائج مرتب
ہوتے ہیں پہلا کہ وہ اس نعمت سے محروم کر دیا جاتا ہے جو اس کے پاس ہوتی ہے
جیسے آدم و حوا علیہم الصلوۃ والسلام جنت سے محروم کر دیئے گئے۔دوسرا شیطان کی بات ماننے اور اللہ کی نافرمانی کرنے
سے انسان انسان کے دشمن بن جاتے ہیں ۔ سارے نہیں بلکہ فرمایا بَعْضُكُمْ
لِبَعْضٍ عَدُوٌّ تم میں سے کچھ کچھ کے دشمن ہونگے یعنی صرف وہ جو شیطان کی
پیروی کریں گے۔ اللہ کے واضح احکامات کے ہوتے ہوئے ، شارع اعظم ﷺ کے بتائے جانے کے
باوجود خیر کے بجائے شر کا راستہ اختیار کریں گے تو اس سے وہ ایک دوسرے کے دشمن بن
جائیں گے۔ اور یہ حال ہمیں اپنے معاشرے میں عام دیکھنے کو ملتا ہے کہ بھائی بھائی
کا دشمن بنا ہوا ہے ، ہر کوئی ایک دوسرے سے دست و گریبان ہے ، پورے معاشرے میں ایک
فساد کی سی کیفیت ہے ۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ ہم نے اللہ تبارک وتعالیٰ کے
احکامات سے ، اسوہ محمد الرسول اللہ ﷺ سے ، شریعتِ مطہرہ سے روگردانی اختیار کر
رکھی ہے اور نفس و شیطان کے پیروکار بنے ہوئے ہیں ، حرس وہوس ، طمع و لالچ، حسدو
بغض کے اسیر ہو چکے ہیں۔
مزید
فرمایا گیا: وَلَكُمْ
فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ اِلٰى حِينٍ اور تمہارے لئے زمین میں ایک مقررہ وقت تک رہائش اور معاش
ہے۔
یعنی
اب جب تمہیں آسمان سے زمین پہ بھیج دیا
گیا ہے ، جنت سے بے دخل کر دیا گیا ہے اور تمہارا
ٹھکانہ زمین کو بنا دیا گیا ہے اور اس میں تمہارے لئے روزی رکھ دی گئی ہے
تو یہ نہ سمجھ لینا کہ یہ مستقل ٹھکانہ ہے اور یہاں ہمیشہ رہنا ہے بلکہ اِلٰى
حِينٍ ایک مقررہ وقت کیلئے۔
آدم علیہ السلام اللہ کے برگزیدہ بندے اور نبی
ہیں حقیقت میں ظاہراً خطاب ان سے ہے لیکن
بنی آدم کو فرمایا جا رہا ہے کہ جس طرح آدم علیہ السلام سے لے کر اب تک ہزاروں سال
گزر چکے، کتنی دنیا آئی اور چلی گئی تو تم بھی یہ بات یاد رکھو کہ اس زمین کو تمہارے
لئے عارضی قیام گاہ بنایا گیا ہے ،یہاں تمہاری روٹی روزی محدود ہے ۔ ایک دن آخر
کار تمہیں لوٹنا ہے ۔
اگلی
آیتِ کریمہ میں ارشاد ہوا : فَتَلَقّٰى
اٰدَمُ مِنْ رَبِّهِ كَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ(37)
پھر آدم (علیہ
السلام ) نے اپنے پروردگار سے کچھ کلمات سیکھے تو اس (اللہ)نے انہیں معاف فرما
دیا بے شک وہ(اللہ) بڑے معاف فرمانے والے(
اور) رحم کرنے والے ہیں۔
اس بھول کے بعد اللہ تبارک و تعالیٰ نے آدم علیہ
السلام کو خود کچھ کلمات سکھائے۔ یہ کلمات کیا تھے؟ اس میں مفسرین و محدثین کی
مختلف آراء ملتی ہیں ، کچھ نے فرمایا کہ
وہ کلمات تھے: رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا
وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ۔ کچھ نے کہا کہ انہوں نے عرش کے
پائے پہ مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ ٱللَّهِ لکھا ہوا دیکھا تو انہوں نے
ان کلمات کے ذریعے سے سفارش طلب کی تو ان کی سفارش قبول ہو گئی۔
جو بھی کلمات تھے اس سے اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کی
بھول معاف فرما دی کیونکہ وہ ذات معاف
فرمانے والی اور رحم فرمانے والی ہے۔
اس سے ہمیں یہ سبق دیا جارہا ہے کہ جب بھی کوئی غلطی، گناہ یا بھول سرزد ہو
جائے تو فوراً رجوع الی اللہ ہونا چاہیئے، اللہ کے حضور آہ و زاری کرنی چاہیئے،
توبہ کرنی چاہیئے تو اس سے اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور معاف فرما دیتے ہیں کیونکہ خود اللہ تعالیٰ اپنے بارے میں بتلا رہے
ہیں إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ بے
شک وہ برے معاف فرمانے والے اور رحم کرنے والے ہیں۔
اللہ بڑے غفور ہیں ، اللہ بڑے رحیم ہیں ، وہ کسی پہ
سختی یا تنگی کا معاملہ نہیں کرنا چاہتے بلکہ معافی قبول کرنے والی اور رحم کرنے
والی ذات ہے اللہ تبارک وتعالیٰ کی۔
اللہ تبارک و تعالیٰ ہماری خطائیں اور گناہ معاف
فرمائے اور ہمارے ساتھ اپنے رحم و کرم والا معاملہ فرمائے۔
اللہ
تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم
رہنے کی توفیق و ہمت عطا فرمائے۔
آمین
یا رب العالمین
دعاؤں کا طالب
ابو محمد زبیر اویسی