مقامات لطائف اور ان پہ برکات پہلا لطیفہ،قلب - کنوزِ دل شرح رموزِ دل تصنیفِ لطیف حضرت مولانا محمد اکرم اعوانؒ - سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ

0 Comments

یہ اسی گوشت کے لوتھڑے کے اندر ہے جو سارے بدن کو خون پہنچاتا ہے۔ایک لطیفہ ربانی ہے جو عالم امر سے ہے۔اس پر حضرت آدم علیہ السلام کے انوارات آتے ہیں،جو آسمان اول  سے آتے ہیں اور زر درنگ کے انوارات ہوتے ہیں۔ انبیاء علیہم السلام،میں حضورﷺ تو امام الانبیاء ہیں باقی حضرات نبی ہیں،رسول ہیں اور اولوالعزم ہیں۔یہ حضرات پانچ ہیں،حضرت آدم علیہ السلام،حضرت نوح علیہ السلام،حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ  علیہ
السلام جن کا فیض ابتدائی چار لطائف پہ نصیب ہوتا ہے۔ان سب کی اپنی اپنی خصوصیات ہیں۔جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ پہلے لطیفے پر آدم علیہ السلام کے انوارات،آسمان اول سے آتے ہیں زرد رنگ کے ہوتے ہیں اور مختلف خصوصیات کے حامل ہوتے  ہیں۔سب سے پہلی بات کہ جس طرح ان سے بھول ہوئی تو فورا متوجہ الی اللہ ہوئے اور تقرب الٰہی حاصل ہوا۔یہ لطیفہ کرنے سے یہی احساس منتقل ہوتا ہے اور خلوصِ دل سے توبہ نصیب ہوتی ہے اور بندہ حضورِ حق میں ہر خطا کی معافی اور توفیق ِاطاعت کا طلب گار ہوتا ہے۔دوسرا  جس طرح انھیں علمِ لدنی نصیب ہوا اور فرمایا: کہ آدم علیہ السلام کو اشیائے عالم کے اسماء سکھا دیے۔ہر شے کا نام،خصوصیت،طریقہ استعمال اور نفع نقصان بتا دیا۔اسی طرح طالب کو استعدادِ حصولِ علم نصیب ہوتی ہے۔اور دین ودنیا کے جس شعبے میں محنت کرتا ہے،اعلیٰ مقام پاتا ہے۔یاد رہے کہ علوم عقیلہ اور دنیا میں بھی غیر مسلم اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور دین تو خیر حصہ ہی مومن کا ہے۔اسی لیے آج کے ترقی یافتہ علوم کی بنیاد مسلمان محققین کی مرہونِ منت ہے جو سب ذاکر اور ولی اللہ تھے۔آج اگر ہم نے یہ نعمت ترک کر دی ہے تو کافر کے دستِ نگر ہو گئے ہیں۔

یہ آدم علیہ السلام ہی ہے جنھوں نے زمین سے اگانا شروع کیں۔ جڑی بوٹیوں اور دھاتوں کا استعمال شروع فرمایا۔ تو سالک کو ان تمام امور کی استعداد نصیب ہوتی ہے۔

تیسری بات یہ کہ اس عالم میں آپ سری لنکا کے پہاڑ پہ اترے۔اماں حوا عرب میں تھیں۔آپ نے تین سو سال مجاہدہ کیا،سفر کیا، اللہ کریم سے رو رو کر دعائیں کیں تو  اس میں کتنی جسمانی محنت،کتنی دماغی کاوش اور کتنا دردِ دل شامل ہوا۔آخر عرفات میں جبل ِ رحمت پہ ملاقات ہوئی۔تو کیفیات سالک کو بھی استعداد اور طلب میں خلوص کے مطابق نصیب ہوتی ہے۔وہ عبادات میں مجاہدہ کرنے والا،دنیا کے امور سے واقف اور مشکل ترین کام کرنے کی ہمت پاتا ہے اور ان سب انوارت کے باوجود اس کا رابطہ رب کریم سے رہتا ہے۔مدد بھی طلب کرتا ہے اور کمی یا کوتاہی پر بخشش بھی کہ انسان کا مزاج عجیب شے ہے،کبھی اسے اپنی کاوش میں کامیابی نصیب ہوتی ہے تو تکبر کا شکار ہو جاتا ہے اور کہتا ہے یہ میرا کمال ہے مگر جس کا قلب ذاکر ہو اللہ کریم کی طرف متوجہ ہو وہ اس مصیبت سے محفوظ رہتا ہے اور کامیابی کو اللہ کریم کی عطا سمجھتا ہے اور اس کا شکر ادا کرتا ہے۔نہ صرف کامیابی بلکہ محنت کرنے کا حوصلہ اور توفیق کو بھی اللہ کریم کی عطا جانتا ہے اور اس میں مزید عجز اور انکسار پیدا ہوتا ہے۔

اسی طرح اگر ناکامی ہوتی ہے تو ردِعمل میں بیزاری کے ساتھ ساتھ تقدیر کو اس کا ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش بھی کرتا ہے اور یوں تقدیر کے نام پر دراصل اللہ پر الزام لگاتا ہے۔لیکن اگر قلب ذاکر ہو تو تاثر مختلف ہوتا ہے کہ اپنی کوشش پر تو خوش ہوتا ہے اور پھر یہ سوچتا ہے کہ کہیں کوئی کمی مجھ سے ہی رہ گئی جو مطلوبہ نتائج نہ مل سکے اور اگر کوشش بھی درست تھی تو یہ شے یا نتیجہ،اپنے نتیجہ اور مال کے اعتبار سے یقینا میرے حق میں بہتر نہ تھا ۔جب بھی میرے مالک نے بدل دیا۔

اسے یقین ہوتا ہے کہ کوشش اور محنت کا اجرا سے اللہ کریم سے ضرور نصیب ہو گا۔لہذا ناکامی میں بھی ایک کامیابی نظر آتی ہے اور یوں کبھی مایوس نہیں ہوتا،نہ اس کی  آس ٹوٹتی ہے۔وہ محنت ومشقت کو بھی اللہ کریم کی عطا جانتا ہے    اور آرام وسکون کو بھی اس کی بخشش۔چنانچہ اس کی زندگی پر سکون اور آرام دہ ہو جاتی ہے۔

جیسا کہ ارشاد ہے جنت میں کسی کو کوئی دکھ نہ ہو گا۔ اس بات کا ہلکا سا شائبہ ذاکرین کی حیاتِ دنیا میں بھی موجود ہے۔ اس عالم کی زندگی بھی پر لطف ہو جاتی ہے اور آخرت بھی سنور جاتی ہے۔

یوں صرف قلب کا ذاکر ہو جانا ایسا ہے جیسے ان بے شمار نعمتوں کے دروازے اس پر کھول دیے گئے ہوں اور وہ ایک ایسے بڑے دربار میں پہنچ چکا ہوجہاں ہر طرف ،ہر قسم کی نعمتیں اس کی منتظر ہوں۔دیکھیں کہ وہ اس میں کیا کیا حاصل کرتا ہے۔

یہ صرف کہنے کی باتیں نہیں، کرنے کے کام ہیں کہ مشتِ غبار میں وہ انوارات اثر پزیر ہوں جو اولوالعزم کے قلوب پہ وار ہوتے ہیں،تو وہ کیا بن  سکتے ہیں۔مزید بے شمار چیزیں ہوں گی جو سب میں جانتا بھی نہیں اور یہاں لکھنا ممکن بھی نہیں۔

تفسیر سورۃ البقرہ - آیت نمبر 36،37- شیطان کی بھول کر بھی پیروی کرنے کے دو خطرناک نتائج ۔ شیطان کے پیروکاروں کا انجام

0 Comments

اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ ۙوَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙوَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: فَأَزَلَّهُمَا الشَّيْطٰنُ عَنْهَا فَأَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيهِ وَقُلْنَا اهْبِطُوا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ(36) فَتَلَقّٰى اٰدَمُ مِنْ رَبِّهِ كَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ  إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ(37)

پھر شیطان نے ان کو اس سے بہکایا تو جس (عیش و عشرت) میں تھے اس سے ان کو نکلوا دیا۔ اور ہم نے فرمایا یہاں سے چلے جاؤ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہارے لئے زمین میں ایک مقررہ وقت تک رہائش اور معاش ہے۔(36) پھر آدم علیہ السلام نے اپنے پروردگار سے کچھ کلمات سیکھے تو اس نے انہیں معاف فرما دیا بے شک وہ (اللہ)بڑے معاف فرمانے والے (اور ) رحم کرنے والے ہیں ۔(37)

سابقہ آیتِ کریمہ میں بیان کردہ آدم علیہ السلام کے جنت میں قیام کے واقعہ کا تسلسل چل رہا ہے ۔ آدم علیہ السلام کو جنت میں شجرِ ممنوعہ کا پھل کھانے سے روکا گیا بلکہ حکم ہوا کہ اس کے قریب بھی مت جانا وگرنہ آپؑ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔ شیطان یعنی ابلیس لعین جو پہلے ہی آدم علیہ السلام کی عظمت کا انکاری ہو چکا تھا اور آدم ؑ کی تعظیم بجا لانے سے انکار کر کے، اللہ تبارک و تعالیٰ کے حکم کا واضح انکار کے صورت میں مردور ٹھہر ایا  جا چکا تھا۔ آدمیت و انسانیت سے اپنی دشمنی کی باقاعدہ ابتدا اس نے یوں کی  کہ جب آدم ؑ کو منع فرمایا گیا کہ اس درخت کے قریب نہ جانا تو شیطان نے مختلف حیلوں بہانوں سے آپ کو بہکانا شروع کیا اور ان کے دل میں یہ وسوسہ و خیال ڈالا کہ اس درخت کا  پھل کھانے سے آپ ابد الآبادجنت میں رہیں گے اور ہمیشہ کی حیات پائیں گے، اس کے لئے اس نے  مختلف حربے استعمال کیے اور قسمیں کھائیں  تو اس کی ان قسموں پہ آدم ؑ یقین کر بیٹھے اور اس درخت کا پھل چکھ لیا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ جنت میں داخل کیسے ہوا ؟ مفسرین کرام نے اس کی مختلف توجیہات بیان فرمائی ہیں سب سے معتبر صورت جو مفسرین کرام نے بیان فرمائی ہے کہ اس نے آپ کے دل میں وسوسہ اور خیال ڈالا جس پہ اسے قدرت حاصل ہے۔

دوسرا سوال کہ کیسے شیطان نے حضرت آدم علیہ السلام کو بہکا لیا حالانکہ وہ اللہ کے نبی تھے۔ اس کی ایک وجہ تو تقدیری معاملہ ہے  کیونکہ آدم علیہ السلام کا اصل قیام جنت میں نہیں تھا  بلکہ انہیں زمین پہ خلیفۃ الارض  بنا کے بھیجا جانا تھا اور ان کا اصل قیام تو زمین پہ تھا سو یہ معاملہ اس کا سبب ٹھہرا۔ دوسری وجہ اس سارے واقعے کی یہ ہے کہ اس سے بنی نوعِ انسان کو سبق سکھایا جا رہا ہے کہ جب  بھی کسی کام کی ممانعت اللہ کی طرف سے ہو گی تو شیطان جو تمہارا ازلی  اور سب سے بڑا دشمن ہے وہ ضرور تمہارے دل میں وسوسے ڈالے گا  اور کوشش کرے کا کہ کسی طرح تم  سے اللہ تبارک و تعالیٰ کی نافرمانی کروا لے۔ اس واقعے میں بھی اس نے آدم ؑ سے یہ فعل ،یہ ممنوعہ کام کروانے کی کوشش کی اور بالآخر ان سے یہ فعل ،یہ خطا ، یہ بھول سرزد ہو گئی جیسا کہ سورۃ طہٰ آیت نمبر  115 میں ارشاد فرمایا گیا :  فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْمًا  ان سے بھول ہوئی اس میں ان کا ارادہ نہ تھا۔

 یہ آیتِ کریمہ عصمتِ انبیاء علیہم السلام پہ بھی دلالت کرتی ہے کہ آدم علیہ السلام سے گناہ و نافرمانی نہیں ہوئی بلکہ بھول ہوئی کیونکہ گناہ و نافرمانی ارادتاً  ہوتی ہے جو غیر ارادی ہو وہ بھول یا خطا ہوتی ہے گناہ نہیں۔

اس بھول کا نتیجہ کیا ہوا فرمایا:  فَأَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيهِ پس جس میں وہ تھے یعنی جنت جہاں وہ عیش و آرام کی زندگی بسر کر رہے تھے اس سے انہیں نکال دیا گیا۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مقربین کی بھول بھی گرفت کا سبب ہوتی ہے اور انہیں اس کا نتیجہ بھگتنا پڑتا ہے  اور پھر یہ تو سبب اور بہانہ تھا اصل مقام تو آدم علیہ السلام کا تھا ہی زمین ،جہاں انہیں نیابتِ الٰہی عطا فرما کر بھیجا جا رہا تھا۔

وَقُلْنَا اهْبِطُوا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ

 اور ہم نے فرمایا چلے جاؤ تمہارے بعض بعض کے  دشمن ہیں  یعنی تم ایک دوسرے کے دشمن ہو

ان کی اس بھول کے سبب پہلے تو انہیں جنت سے بے دخل کر دیا گیا اب دوسرا نتیجہ جو ان کی بھول سے مرتب ہوا وہ بیان کیا جارہا ہے  کہ نہ صرف یہاں سے چلے جاؤ بلکہ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ   تم ایک دوسرے کے دشمن ہو

اس سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ جب بھی کوئی انسان شیطان کے بہکاوے میں آکر اللہ کے احکامات کی خلاف ورزی کرتا ہے چاہے وہ بھول کر ہی کیوں نہ ہو اس کے دو نتائج مرتب ہوتے ہیں پہلا کہ وہ اس نعمت سے محروم کر دیا جاتا ہے جو اس کے پاس ہوتی ہے جیسے آدم و حوا علیہم الصلوۃ والسلام جنت سے محروم کر دیئے گئے۔دوسرا  شیطان کی بات ماننے اور اللہ کی نافرمانی کرنے سے انسان انسان کے دشمن بن جاتے ہیں ۔ سارے نہیں بلکہ فرمایا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ   تم میں سے کچھ کچھ کے دشمن ہونگے یعنی صرف وہ جو شیطان کی پیروی کریں گے۔ اللہ کے واضح احکامات کے ہوتے ہوئے ، شارع اعظم ﷺ کے بتائے جانے کے باوجود خیر کے بجائے شر کا راستہ اختیار کریں گے تو اس سے وہ ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے۔ اور یہ حال ہمیں اپنے معاشرے میں عام دیکھنے کو ملتا ہے کہ بھائی بھائی کا دشمن بنا ہوا ہے ، ہر کوئی ایک دوسرے سے دست و گریبان ہے ، پورے معاشرے میں ایک فساد کی سی کیفیت ہے ۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ ہم نے اللہ تبارک وتعالیٰ کے احکامات سے ، اسوہ محمد الرسول اللہ ﷺ سے ، شریعتِ مطہرہ سے روگردانی اختیار کر رکھی ہے اور نفس و شیطان کے پیروکار بنے ہوئے ہیں ، حرس وہوس ، طمع و لالچ، حسدو بغض کے اسیر ہو چکے ہیں۔

مزید فرمایا گیا: وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ اِلٰى حِينٍ اور تمہارے لئے زمین میں ایک مقررہ وقت تک رہائش اور معاش ہے۔

یعنی اب جب تمہیں  آسمان سے زمین پہ بھیج دیا گیا ہے ، جنت سے بے دخل کر دیا گیا ہے اور تمہارا  ٹھکانہ زمین کو بنا دیا گیا ہے اور اس میں تمہارے لئے روزی رکھ دی گئی ہے تو یہ نہ سمجھ لینا کہ یہ مستقل ٹھکانہ ہے اور یہاں ہمیشہ رہنا ہے  بلکہ اِلٰى حِينٍ ایک مقررہ وقت کیلئے۔

آدم  علیہ السلام اللہ کے برگزیدہ بندے اور نبی ہیں  حقیقت میں ظاہراً خطاب ان سے ہے لیکن بنی آدم کو فرمایا جا رہا ہے کہ جس طرح آدم علیہ السلام سے لے کر اب تک ہزاروں سال گزر چکے، کتنی دنیا آئی اور چلی گئی تو تم بھی یہ بات یاد رکھو کہ اس زمین کو تمہارے لئے عارضی قیام گاہ بنایا گیا ہے ،یہاں تمہاری روٹی روزی محدود ہے ۔ ایک دن آخر کار تمہیں لوٹنا ہے ۔

اگلی آیتِ کریمہ میں ارشاد ہوا :  فَتَلَقّٰى اٰدَمُ مِنْ رَبِّهِ كَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ  إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ(37)

پھر  آدم (علیہ السلام ) نے اپنے پروردگار سے کچھ کلمات سیکھے تو اس (اللہ)نے انہیں معاف فرما دیا  بے شک وہ(اللہ) بڑے معاف فرمانے والے( اور) رحم کرنے والے ہیں۔

اس بھول کے بعد اللہ تبارک و تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو خود کچھ کلمات سکھائے۔ یہ کلمات کیا تھے؟ اس میں مفسرین و محدثین کی مختلف آراء ملتی ہیں ،  کچھ نے فرمایا کہ وہ کلمات تھے: رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ۔ کچھ نے کہا کہ انہوں نے عرش کے پائے پہ  مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ ٱللَّهِ لکھا ہوا دیکھا  تو انہوں نے  ان کلمات کے ذریعے سے سفارش طلب کی تو ان کی سفارش قبول ہو گئی۔

جو بھی کلمات تھے اس سے اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کی بھول معاف فرما دی  کیونکہ وہ ذات معاف فرمانے والی اور رحم فرمانے والی ہے۔

اس سے ہمیں یہ سبق دیا جارہا ہے  کہ جب بھی کوئی غلطی، گناہ یا بھول سرزد ہو جائے تو فوراً رجوع الی اللہ ہونا چاہیئے، اللہ کے حضور آہ و زاری کرنی چاہیئے، توبہ کرنی چاہیئے تو اس سے اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور معاف فرما دیتے ہیں  کیونکہ خود اللہ تعالیٰ اپنے بارے میں بتلا رہے ہیں إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ بے شک وہ برے معاف فرمانے والے اور رحم کرنے والے ہیں۔

اللہ بڑے غفور ہیں ، اللہ بڑے رحیم ہیں ، وہ کسی پہ سختی یا تنگی کا معاملہ نہیں کرنا چاہتے بلکہ معافی قبول کرنے والی اور رحم کرنے والی ذات ہے اللہ تبارک  وتعالیٰ کی۔

اللہ تبارک و تعالیٰ ہماری خطائیں اور گناہ معاف فرمائے اور ہمارے ساتھ اپنے رحم و کرم والا معاملہ فرمائے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی

تفسیر سورۃ البقرہ - آیت نمبر 35- آدم علیہ السلام کا قیام کونسی جنت میں تھا اور درخت کونسا تھا ؟

0 Comments

ویڈیو دیکھنے کیلئے لنک پہ کلک کریں 

اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ ۙوَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙوَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَقُلْنَا يَاٰدَمُ اسْكُنْ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَكُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظّٰلِمِينَ[35]

اور ہم نے آدم علیہ الصلوۃ و السلام سے فرمایا آپ ؑ اور آپ ؑ کی بیوی جنت میں رہیں اور اس میں سے جہاں سے چاہیں مزے سے کھائیں( پئیں ) اور اس درخت کے قریب نہ جانا ورنہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔

 سابقہ تفاسیر میں اس آیتِ کریمہ کی تفسیر میں چند اختلافی مسائل ملتے ہیں مفسرین نے ان پہ کافی بحث فرمائی اور عقلی و نقلی دلائل پیش کئے کسی کو مطالعے کا شوق ہو تو وہ اکابرین کی تفاسیر میں مطالعہ کر سکتا ہے ،ہم اس بحث میں نہیں جائیں گے اختصار کے ساتھ وہ باتیں آُ کے گوش کزار کیے دیتا ہوں۔

پہلی بات  کہ وہ جنت کونسی تھی جس میں آدم علیہ السلام اور ان کی زوجہ کا قیام رہا اور پھر وہ سے زمین کی طرف نکالے گئے کیا یہ وہی جنت تھی جس کا مومنین سے وعدہ فرمایا گیا اور ہم قرآن و حدیث میں اس کا تذکرہ پاتے ہیں یا آسمانوں پہ کوئی اور مقام جسے جنت کہا گیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ چونکہ قرآن و حدیث میں صراحت کے اس جنت کا بیان نہیں ملتا  تو ہمیں بھی اس بحث میں نہیں پڑنا چاہیئے کہ وہ جنت کونسی تھی۔

دوسری بات  کہ وہ درخت کونسا تھا جس سے آدم علیہ السلام کو منع فرمایا گیا اور آپ علیہ السلام نے اس  کا پھل کھا لیا۔ اس کے بارے میں علمائے تفسیر کی مختلف رائے ملتی ہیں بعض نے  فرمایا  گندم ، بعض نے انجیر جبکہ بعض کے نزدیک انگور۔ لیکن اس درخت کی قسم کے بارے میں بھی قرآن و حدیث میں کوئی واضح الفاظ موجود نہیں تو ہمیں بھی اسے موضوعِ بحث نہیں بنانا چاہیئے کہ وہ درخت کونسا تھا جب اللہ تبارک وتعالی ٰ اور اس کے نبی ﷺ نے نہیں بتایا تو اس بحث میں پڑنا وقت کا ضیاع ہو گا۔

تیسری اور اہم بات ظالمین کی تشریح و تفسیر سے متعلق ہے۔ بعض نے اس کی تفسیر کچھ اس طرح کی کہ نعوذ باللہ آدم علیہ السلام نے ظلم کیا اور گناہ و نافرمانی میں مبتلا ہوئے اور سزا کے طور پہ جنت سے نکالے گئے۔ قاسمِ فیوضات حضرت مولانا محمد اکرم اعوان رحمتہ اللہ علیہ اکرم التفاسیر میں فرماتے ہیں : ظلم ہوتا ہے کسی بھی چیز کو اس کی جگہ سے ہٹا دینا ، کسی چیز کو ایسی جگہ رکھ دینا جو اس کا مقام نہ ہو ، کرسی کو الٹا کر دو تو یہ ظلم ہو  جائے گا یعنی جیسے ہونی چاہیئے تھی ویسی نہیں ہے۔ ا ب یہ الفاظ جب انبیاء علیہم الصلوۃ و السلام کے لئے استعمال ہوتے ہیں تو ان سے اسم ِ فاعل بنانا شرعاً حرام ہے ، کوئی بھی شخص اس سے صیغہ نکال کر  آدم ؑ کو ظالم کہے گا تو حرام کار ہو گا اور یہ سخت گناہ ہے۔ یہ اللہ کا اور اس کے نبی ؑ کا معاملہ ہے ، نبی معصوم ہوتے ہیں ،نبی سے گناہ نہیں ہوتا۔ لیکن یہاں اللہ کریم جسے ظلم قرار دے رہے ہیں اس سے مراد لغوی معنی نہیں ہو گا ۔ عجیب بات ہے یہ معاملہ جنت کا ہے جہاں خود گناہ ہوتا ہی نہیں ، گناہ کا صدور کسی صورت ممکن ہی نہیں، تو یہ وہ گناہ نہیں جو میں اور آپ کرتے ہیں  اور ہم سمجھ رہے ہیں کہ نعوذ باللہ آدم علیہ الصلوۃ والسلام ہماری طرح گناہ گار تھے۔ یہ بات اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول علیہ السلام کے درمیان ہے اور تربیت کا حصہ ہے  کہ زمین پہ آُ مکو بے شمار نعمتیں کھانے کو ملیں گی ، رہنے کو جگہ ملے گی ، بستر ہوں گے ، کپڑے ہوں گے ، گھر ہوں گے لیکن اس میں جا کر آپ نے میرے احکامات کو نافذ کرنا ہے۔

جمہور ائمہ تفسیر و حدیث نے عصمتِ انبیاء علیہم الصلوۃ و السلام پہ  بے شمار دلائل پیش کیے ہیں  اکابرین کی تفاسیر میں ان کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ عصمتِ انبیاء   ہمارے عقیدے و ایمان کا بنیادی جزو ہے۔ میں یہاں اس واقعہ کو بیان کرنے کا جو مقصد ہے اور اس سے عامتہ المسلمین کو جو درس دینا مقصود ہے اس پہ بات کروں گا۔

اللہ تبارک وتعالیٰ نے جب جنت کو آدم ؑ اور انکی زوجہ محترمہ کا مسکن بنایا تو اول تو یہ عارضی قیام گاہ تھی کیوں کہ اس رکوع کے ابتداء میں بتایا جا چکا ہے کہ ان کی اصل منزل زمین تھی انہیں خلافتِ ارضی سونپی گئی تھی۔ پھر جب ان کو اس عارضی قیام گاہ میں سب کچھ کھانے پینے کی اجازت دی گئی تو کیونکر اس ایک درخت سے منع فرما دیا گیا اور نہ صرف پھل کھانے سے منع فرمایا گیا بلکہ الفاظ استعمال ہوئے وَلاَ تَقرَباَ اس کے قریب نہ جانا۔ یہاں معاملہ ظاہراً تو آدم و حوا  علیہم الصلوۃ والسلام کا بیان کیا جا رہا ہے لیکن اگر ہم اس کے عمومی مفہوم و درس کو سمجھیں تو بنی نوع انسان کو سمجھایا جا رہا  کہ اللہ ربارک وتعالیٰ جب تمہیں کسی چیز سے منع فرما دیں ، کسی کام کے کرنے سے روک دیں تو شیطان جو پہلے ہی اللہ کے حکم کا انکار کر کے مردور ہو چکا ہے اور تمہارا دشمن بن چکا ہے تو وہ ضرور آدم علیہ السلام کی طرح تمہارے دل میں بھی وسوسے ڈالے گا، ضرور تمہیں بہکانے کی کوشش کرے گا ، ضرور تمہیں اللہ تبارک وتعالیٰ کی نافرمانی پہ اکسائے گا تو جب وہ ایسا کرے تو تم اس کے بہکاوے سے تبھی بچ سکتے ہو جب اللہ اور اس کے رسولﷺ کی منع کردہ حرام و مکروہ  چیزوں کے قریب بھی نہ جاؤ، کیونکر اگر تم قریب بھی گئے، تمہارے دل میں شیطان نے شک و تردد  پیدا کر لیا تو تمہارے لئے خطرہ اور بڑھ جائے گا ، نافرمانی کا معاملہ جو شیطان کروانا چاہتا ہے اس کے لئے مزید آسان ہو جائے گا ۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے جو حدیں مقرر کر دی ہیں ، جن چیزوں سے روک دیا ہے ان کا خیال بھی ذہن میں نہیں لانا، ان کے قریب بھی نہیں جانا جیسے یہاں اصل معاملہ تو شجرِ ممنوعہ کا پھل کھانا ہے لیکن فرمایا اس  درخت کے قریب بھی نہ جانا کیونکہ اگر قریب گئے تو عین ممکن ہے کہ تم اس کا پھل کھا بیٹھو جیسا کہ آدم علیہ السلام  بعد میں ہوا۔

اگر ہم عمومی زندگی میں دیکھیں تو بہت سی چیزیں بذاتِ خود گناہ نہیں ہوتیں لیکن گناہ کی طرف لے جانے والی ہوتی ہیں تو ان سے بچنا بھی اتنا ہی ضروری ہوتا ہے جتنا کہ بذاتِ خود گناہ کے کاموں سے۔جیسے آج کل ہمارے معاشرے میں بے حیائی اور جھوٹ عام ہو چکا ہے اور اس کا سب سے بڑا ذریعہ ہمارا الیکٹرانک و سوشل میڈیا ہے۔ آپ حالات سے اور اپنے گردو پیش سے آگاہی کیلئے خبریں سننا چاہتے ہیں لیکن جب آپ ایسا کرتے ہیں تو سب سے پہلے تو آپ کا واسطہ بے حیائی سے پڑتا ہے ، ایک بے حیا و بے پردہ عورت آپ کو دیکھنے کو ملتی ہے پھر سب سے زیادہ جھوٹ آج کل ہمارے الیکٹرانک و سوشل  میڈیا پہ بولا جاتا ہے ، سچ کو تلاش کرنے کے لئے کئی گھنٹے جھوٹ سننا پڑے گا پھر بھی کوئی گارنٹی نہیں کہ جسے آپ سچ سمجھ رہے ہیں وہ واقعتاً سچ ہے بھی کہ نہیں۔

بے حیائی و بے پردگی تو اتنی عام ہے کہ اسلامی پروگرام بھی اس سے محفوظ نہیں رہے۔

تو فرمایا گیا کہ جس سے اللہ تعالیٰ منع فرما دیں اس کے قریب بھی نہ جاؤ کیونکہ قریب جانے سے تم خطرے میں آجاؤ گے ، تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤ گے۔

اللہ تبارک و تعالی ٰ ہمیں ظالمین سے محفوظ فرمائے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی


تفسیر سورۃ البقرہ - آیت نمبر 34- آدم علیہ السلام کو ملائکہ کا سجدہ تعظیمی تھا یا حقیقی--ابلیس کا انکار

0 Comments

ویڈیو دیکھنے کیلئے لنک پہ کلک کریں 

 اَلحمدُ للہِ وَحدَہُ ، وَالصَّلاۃُ والسَّلامُ علَی مَن لاَّ نَبِیَّ بَعدَہ ، أمَّا بعدُ : فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔


رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ
ۙوَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْ ۙوَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ ۙیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:   وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰۤئِكَةِ اسْجُدُوا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّٓا إِبْلِيسَ أَبٰى وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ۔

اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم علیہ السلام کو سجدہ کرو تو ابلیس کے علاوہ سب سجدے میں گر گئے اس نے (غرور میں آکر) انکار کیا اور تکبر کیا اور وہ (علم الٰہی میں) تھا ہی کافروں میں سے۔

سابقہ آیات میں آدم علیہ الصلوۃ و لسلام کی افضلیت و فوقیت ثابت کی گئی اب جب کسی پہ کچھ ثابت کیا جا چکا ہوتا ہے تو اس کا امتحان لیا جاتا ہے کہ کیا واقعتاً اس  نے دل و جان سے اس بات کو تسلیم بھی کر لیا ہے یا ابھی اس میں شک و تردّد باقی ہے۔ تو اللہ تبارک و تعالی ٰ نے موجود دونوں مخلوقوں یعنی فرشتے اور جنات کا امتحان لیا۔ اور امتحان کیسے لیا؟

ارشاد ہوتا ہے: وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰۤئِكَةِ اسْجُدُوا لِاٰدَمَ اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا ہے آدم علیہ السلام کو سجدہ کرو

یہاں پر الفاظ سے لگتا ہے کہ شاید یہ حکم فرشتوں کو دیا جا رہا ہے لیکن آیت کا اگلا حصہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ حکم صرف فرشتوں کو نہیں بلکہ جنات کیلئے بھی تھا،ابلیس چونکہ جنات کی نمائندگی کرتا تھا اور فرشتوں کے ساتھ آسمانوں پہ مقیم تھا اور اس مجلس کا حصہ تھا تو حکم صرف فرشتوں کو نہیں بلکہ جنات کیلئے بھی تھا۔

پھر فرمایا: فَسَجَدُوا إِلَّٓا إِبْلِيسَ تو ابلیس کے علاوہ سب سجدہ ریز ہو گئے۔

آیتِ کریمہ کے یہ الفاظ واضح طور پر دلالت کرتے ہیں کہ یہ حکم صرف ملائکہ کےلئے نہیں بلکہ جنات کے لئے بھی تھا جن کی نمائندگی اس وقت اس مجلس میں ان کا سردار ابلیس کر رہا تھا۔

ایک اور بات جو اکثر مفسرین کے درمیان موضوعِ بحث رہی کہ کیا یہ سجدہ تعظیمی تھا یا سجدہ عبودیت اور چونکہ سجدہ عبودیت تو صرف اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات کیلئے ہے تو کیا یہ شرعی سجدہ تھا یا تعظیمی؟

اس بات کو قاسمِ فیوضات حضرت امیر محمد اکرم اعوان رحمتہ اللہ علیہ نے اکرم التفاسیر میں انتہائی وضاحت کے ساتھ بیان فرما دیا۔ آپ فرماتے ہیں: سجدہ اصطلاحِ شریعت میں قبلہ رو ہو کر دونوں گھٹنے ،دونوں پاؤں،دونوں ہاتھ،ناک اور پیشانی زمین پہ رکھنے کا نام ہے جیسے ہم عبادت کرتے ہیں۔ عرفاً احترام و تعظیم کو بھی سجدہ کہا جاتا ہے جیسے شاہی دربار میں جھک کر سلام بجا لاتے ہیں تو اصطلاحاً اس کو بھی سجدہ کہ دیا جاتا ہے۔ اب یہ اللہ جانے کہ فرشتوں سے یہ سجدہ کرایا گیاہے جس طرح نماز میں ہوتا ہے تو بھی کوئی مشکل نہیں، آج بھی ہم بیت اللہ شریف کی طرف منہ کرکے یا بیت اللہ شریف کے سامنے سجدہ کرتے ہیں۔ بیت اللہ تو قبلہ سجود ہے ،سجدہ تو اللہ تعالیٰ کو ہوتا ہے،بیت اللہ ایک مرکز ہے، ایک قبلہ ہے جو اللہ نے مقرر فرما دیا۔ اب ایک جگہ کو اللہ نے مقرر فرما دیا تو وہی پتھر ،وہی گارا جو بیت اللہ شریف میں لگا ہوا ہے وہ تو ہمارا مسجود نہیں، اگر پتھر وہاں سے اکھیڑ لئے جائیں اور اسی گارے اور پتھروں کو کسی اور جگہ لگاتے ہیں تو کوئی اسے سجدہ کرے گا؟ پتھروں کو ،گارے کو سجدہ مقصود نہیں ہے۔ وہ گارا پتھر تو اس جگہ کی نشاندہی کرتے ہیں جسے اللہ نے سجدے کیلئے مرکز بنا دیا جو اس کی تجلیات کا مرکز ہے، لیکن سجدہ تو اللہ کو ہوتا ہے۔ اسی لئے حکم ہے کہ آپ کہیں کسی جنگل میں کھو جائیں اور پتہ نہ چلے کہ شمال جنوب کدھر ہے، کوئی سمجھ نہیں آتی ،رات ہو گئی، نماز پڑھنی ہے تو اندازہ کر لیں
فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِؕ- اگر غلط بھی ہو گیا تو جدھربھی ہوا، وہ قبول کرے گا۔ اگر فرشتوں کا یہ حکم ہوا کہ آدم علیہ الصلوۃ و السلام کو قبلہ سمجھ کر سجدہ کرو تو وہ آدم علیہ السلام کی عظمت ہے، سجدہ پھر بھی اللہ تعالیٰ کو ہے ۔ علمائے کرام نے دونوں باتیں لکھی ہیں ۔ ضروری نہیں کہ یہ عبادت کا سجدہ ہو ،یہ تو تعظیم تھی یعنی آدم ؑ کی عظمت اپنے اوپر قبول کرو۔ یعنی آدم ؑ کو قبلہ بنا کر سجدہ کرایا گیا تو بھی سجدے اللہ کی لئے ہے اور آدم ؑ کی عظمت کا اقرار کرانا مقصود تھا اور یہی مقصد تعظیمی سجدے کا بھی تھا،

اَبیٰ  اس نے یعنی ابلیس نے انکار کیا  سجدہ کرنے سے وَسْتَکْبَرَ اور تکبر کیا ، غرور میں مبتلا ہوا۔ یہاں پہ ابلیس کے دو گناہ بتلائے جا رہے ہیں پہلا گناہ کہ حکم خداوندی سے انکار کیا  اور صرف یہی نہیں بلکہ تکبر و غرور بھی کیا  اور تکبر کیا تھا کہ میں اس سے بہتر ہوں۔ اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُۚ ۔یہ تکبر و فساد کی بنیادی وجہ ہے۔

قاسمِ فیوضات حضرت مولونا محمد اکرم اعوان رحمتہ اللہ علیہ اکرم التفاسیر میں فرماتے ہیں کہ آج بھی اگر ہم دیکھیں ذاتی اور گھریلو زندگی سے لے کر بین الاقوامی زندگی تک تو ہر فساد کی جڑ میں یہ بات موجود ہے کہ میں اس سے بہتر ہوں۔ یہ میرے خلاف کیسے جا سکتا ہے میں اس سے تگڑا ہوں۔گھروں میں جتنے جھگڑے ہوتے ہیں بھائی بھائی سے لڑتے ہیں ،دوست دشمن بن جاتے ہیں ، رشتہ دار برادری لڑتی ہے اگر اس بات کو پیچھے چلایا جائے تو بنیادی وجہ وہی ہوتی ہے کہ میں اس کی بات نہیں مانتا اس لئے کہ میں اس سے اچھا ہوں۔ میں ا کی کیوں مانوں ، میں اس سے زیادہ جانتا ہوں ، میں اس سے زیادہ امیر ہوں یہ فقیر ہے۔ میں زیادہ طاقتور ہوں ،یہ کمزور ہے ،یہ میری بات مانے میں اس کی کیوں مانوں۔ کسی بھی جھگڑے کو آپ پیچھے لے جائیں تو بنیاد میں آج بھی وہی بات ملتی ہے جو شیطان نے اس وقت کہی تھی کہ میں نہیں مانوں گا کیونکہ میں اس سے بہتر ہوں ۔

فرمایا : وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ  اور تھا ہی کافروں میں سے۔

یہ نہیں کہ اللہ کی ذات جانتی نہیں تھی اور ابلیس کے انکار پر یہ معاملہ واضح ہوا بلکہ علم ِ الٰہی میں یہ بات موجود تھی کہ یہ انکار کرے گا اس لئے فرمایا کہ تھا ہی کافروں میں سے کیونکہ اس کا انکار کرنا اللہ تبارک و تعالی ٰ کو معلوم تھا ۔ اس سارے معاملہ میں انسان کو اللہ کریم یہ بتلا رہے ہیں کہ میں نے نہ صرف تمہاری تخلیق کی بلکہ تم سے پہلے جو مخلوق موجود تھی اس پر تمہیں عظمت دی اور تمہاری عظمت کا اقرار تم سے کروایا۔میں نے تمہارے سامنے سجدہ ریز کر کے ان سے تمہاری عظمت کا اقرار کروایا۔ تمہیں اپنی نیابت عطا کی یعنی تمہیں دنیا میں اپنا خلیفہ بنایا۔ میں نے تمہارے سینے کو علوم سے بھر دیا ، آج دنیا میں جتنے بھی علوم ہیں یہ انسان کو آدم علیہ السلام سے وراثت میں ملے ہیں ،تمہیں میں نے مسجودِ ملائکہ بنایا ۔ اور ابلیس جس نے میرا حکم نہیں مانا اور تمہاری افضلیت و فضیلت کا اقرار نہیں کیا ،تمہاری عظمت کو نہیں مانا تو میں نے اسے ہمیشہ کیلئے مردود ٹھہرا دیا۔

کائنات میری ہے ، زمینو آسمان میرے ہیں ،تمام چیزوں کا مالک میں ہوں ،تجھے میں نے اتنی عزت دی کہ تو انہیں اپنی مرضی سے اور اپنی آسانی  اور آسائش کیلئے جیسے چاہے استعمال کرے۔ اور تو میرے احکام سے روگردانی کر کے اس کی بات سنتا ہے جو نہ صرف میرے حکم کا نکاری ہوا بلکہ اس نے تیری عظمت کا بھی انکار کیا۔ جس شیطان نے تجھے حقیر جانا تو اس کا پیروکار بنا ہوا ہے ۔ تجھ میں اگر انسانی غیرت ہوتی تو کبھی شیطان کی بات نہ سنتا بلکہ اپنے حقیقی خالق و مالک کے احکامات پہ عمل کرتا ۔

یہ سارا قصہ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ انسان اپنے ازلی دشمن کو پہچانے اور اسے اپنی عظمت و حقیقت کا ادراک ہو اور  شیطان کی راہ پہ چلنے کے بجائے نیابتِ الٰہی کا حق ادا کرے ۔

اللہ تبارک و تعالیٰ ہماری شیطان مردود سے حفاظت فرمائے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم سمجھنے اس پہ عمل کرنے اور تا دم آخر اس پہ قائم رہنے کی توفیق و ہمت عطا  فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

دعاؤں کا طالب

ابو محمد زبیر اویسی

کشف و مشاہدہ کی اقسام - نبی کے معجزے اور ولی کی کرامت کا فرق - کنوزِ دل شرح رموزِ دل تصنیفِ لطیف حضرت مولانا محمد اکرم اعوانؒ - سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ

0 Comments


 ویڈیو دیکھنے کیلئے لنک پہ کلک کریں

اول یہ ہے کہ اللہ کریم پردہ اورکوئی چیزواضح دکھائی دے اور سمجھ میں آجائے مگر یہ سب اللہ کریم کی عطا پر منحصر ہوتا ہے جو بات واضح فرمانا چاہے اُس کا احسان اور جب چاہےاس کا احسان اور جب چاہے،وہ کرے۔جیسے حضرت یعقوب ؑ سے حضرت یوسف ؑجدا  ہوئے اور انہیں خبر نہ ہو سکی مگر جب اللہ کریم نے بتانا  چاہا  تو  برسوں  بعد جب ان کی بھائیوں سے ملاقات ہوئی اور آپ نے کرتہ مبارک دیا کہ میرے والد گرامی کی آنکھوں پہ پھیرو،تندرست ہو جائیں گی اور قافلہ مصر سے نکلا  تو حضرت یعقوبؑ  نے  کنعان  میں فرمایا  آج  یوسف ؑ  کی خوشبو آ رہی  ہے، حالانکہ دونوں حضرات  اللہ کے  نبی  تھے  پھر  ولی  کی  کیا حیثیت؟

دوسرا  طریقہ  الہام والقاء  ہے یعنی  بات  دل  میں اتر  جاتی ہے  اور  اس پر  یقین  کامل  نصیب  ہوتا  ہے۔  جیسے موسیٰ  کی  والدہ  کو حکم دیا  کہ  بچے  کو  دریا  میں  ڈال  دو  فرمایا: وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى  یعنی  ہم  نے موسیٰ علیہ السلام  کی  والدہ سے بات کی۔یہ اسی طرح ہوتی ہے کہ ان کے دل میں بات  اتر گئی  اور انہیں  اس قدر یقین  ہوا کہ واقعی بچہ دریا میں ڈال دیا۔ مگر یہ صرف ان کے لیے تھا۔اگر بنی اسرائیل کی دوسری عورتیں ان کے وجدان  پر عمل کر کے بچے دریا میں ڈال دیتیں تو وہ غرق ہوجاتے۔ یہ قسم الہام یا  وجدان کہلاتی ہے۔ان تینوں صورتوں میں تھوڑا  فرق ہوتا  ہے۔ جو آزمایا  جا   سکتا  ہے،لکھنا  شاید ممکن  نہ ہو۔

تیسری قسم یہ ہے کہ فرشتہ ظاہر ہو کر بات کرے جیسے حضرت مریم علیہ السلام کا واقعہ کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام  ان پر انسانی شکل میں ظاہر ہوئے اور بات پہنچائی۔ یہ دونوں عظیم خواتین نبی  نہ تھیں۔ سو صوفی کے مشاہدے،کشف یا  الہام و القاء  اور وجدان کی یہ صورتیں دین پر یقین کو مستحکم کرتی  ہیں۔ کتاب وسنت کو سمجھنے کی توفیقِ عمل نصیب ہوتی ہے۔

لہٰذا یہ کہنا کہ صوفی نکمے  ہوتے ہیں،سخت غلط فہمی ہے۔یہ لوگ ہمیشہ بہت زیادہ کام کرتے ہیں کہ انھیں توفیقِ الٰہی نصیب ہوتی ہے۔ہاں نقالوں کی بات الگ ہے۔مگر ہمارے نام نہاد دانشور نقالوں کے قصّے لکھ کر دین کے اس اہم جزو کو بدنام کر کے مسلمانوں کو اس سے محروم کرنے کا سبب  بن  رہے ہیں۔العیاذ باللہ!

کشف ومشاہدہ  کا  ایک  درجہ اور ہےجس میں اشیاء یا بات  واضح نہیں ہوتی بلکہ تعبیر کی محتاج  ہوتی ہے اور ایسی  بات  یا مشاہدہ  جب  طالب ،شیخ  کو پیش  کرتا ہے تو  وہ  اسے تعبیر سے آگاہ  فرماتا  ہے۔ نیز یہ سب نبی کے معجزہ  کی فرع  ہوتی  ہے۔  جیسے نبی کو  نبوت کے ثبوت کے طور پر معجزات عطا  ہوتے  ہیں جو دلیلِ نبوت ہوتے ہیں۔ لہٰذا   ولی کو باتباعِ نبوت کرامات عطا  ہوتی   ہیں جو  دین  کے قیام  اور حق کے اثبات کے لیے  ظاہر ہوتی ہیں۔ جس طرح  نبی  کا  معجزہ  دلیل نبوت  ہوتا ہے ایسے ہی  ولی  کی  کرامت بھی  دین کی حقانیت  کی دلیل کے طور پر ظاہر ہوتی ہے۔ کسی فرد کی بڑائی مقصود نہیں  ہوتی اور کرامات بھی فعل اللہ تعالیٰ  کا  ہوتا  ہے تو  کرامت، فعل اللہ تعالیٰ  کا،اظہار  نبی  کے  ہاتھ  پہ  ہو تو  معجزہ کہلاتا  ہے۔

کرامت چونکہ معجزہ کی فرع ہے لہٰذا نبی کا اتباع ضروری  ہے  ورنہ  نصیب  نہ  ہو گی۔  نیز  کشف وکرامت  از قسم ثمر  ہیں اور ثمرات  ہمیشہ  وہبی  ہوتے  ہیں کہ اللہ کریم کی عطا  ہوتے  ہیں لہٰذا  بندے کی طلب کا نتیجہ نہیں ہوتے کہ  جب  چاہا  کرامت  کا اظہار کر دیا۔ ہاں جب  اللہ چاہے اس کا اظہار ہوتا ہے  اور چونکہ یہ ازقسم ثمرات ہیں لہٰذا  اخروی اجر کے قائم مقام ہوتی ہیں۔ حضرت جی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ جن سےکرامات کا ظہور ہوا  حشر کو خواہش کریں گے کہ کاش یہ نہ ہوا  ہوتا  تو  ہمارا  اجر اور زیادہ ہوتا۔ ہاں دنیا کے حصول یا اپنی  بڑائی  کے اظہار کے لیے کچھ لوگ عجائبات کا اظہار کرتے ہیں۔اول تو وہ شعبدہ ہوتا ہے  جو صرف ہاتھ کی صفائی  ہوتی ہے۔دوسرے استدراج  ہوتا ہے جو شیطانی قوت کے بل بوتے پر کیا جاتا ہے۔مگر وہ نہ تو بالائے آسمان کی بات ہوتی ہے،نہ برزخ کی۔ محض امور دنیا کے بارے وہ بھی اس حد تک جہاں تک مادی آلات کی رسائی  ہو سکتی ہے۔لیکن ان سب امور کو سمجھنے کے لیے توفیق الٰہی اور شعور و آگہی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جیسے نبی اکرمﷺ کا معجزہ کہ ابو جہل کی مٹھی میں کنکریوں نے کلمہ پڑھا اور بد بخت نے کہا کہ یہ جادو ہے۔اب بتایا یہ جاتا ہے کہ کنکریوں نے کلمہ پڑھا۔ یہ معجزہ ہے۔ حالانکہ بات اس سے بہت ہی بڑی ہے۔کنکر،پتھر،جمادات ونباتات  حتٰی کہ ذرہ ذرہ اللہ کی تسبیح کرتا ہے۔ جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَاِنْ مِّنْ شَىْءٍ اِلَّا يُسَبِّـحُ بِحَـمْدِهٖ  کائنات کی ہر چیز اللہ کی تسبیح اور حمد کرتی ہے۔تو پتھر،کنکر،پہاڑ،دریا ہر آن ذکر الٰہی میں مصروف ہیں۔ہمیں ادراک نہیں ہوتا۔ آپﷺ نے انسانی سماعتوں کو  اس وقت وہ لطافت عطا کر دی کہ انھیں کنکریوں کا ذکر سنائی دینے  لگا ادر یہ کمال  ہے کہ بد ترین کفار نے بھی سنا کہ مومن کا سننا تو بڑی بات نہیں۔بلکہ صوفیاء میں آج بھی مراقبہ کرایا  جاتا ہے جس میں جمادات ونباتات سے کلام کرنا سکھایا جاتا ہے۔بندہ کے روبرو ایک بزرگ ساتھی حضرتؒ(مولانا اللہ یار خان رحمتہ اللہ علیہ) کی خدمت میں بیان کر رہے تھے کہ فلاں شخص کی بیٹھک میں،جہاں انھیں ٹھہرنا پڑا تھا،مجھے چھت کی لکڑیاں کہہ رہی تھیں کہ،قاضی صاحب خوش بخت  لکڑیاں ہیں جو مساجد کی چھت بن گئیں اور رات دن اللہ کا ذکر سنتی اور دیکھتی ہیں۔ایک ہم ہیں کہ زنا کے نظارے کرنا پڑتے ہیں۔تو حضرت ؒ نےفرمایا کہ وہ تو نیک آدمی ہے(جس کی بیٹھک تھی)تو عرض کیا کہ اس کے بیٹے،بھتیجے جو نوجوان ہیں ان کا کردار ایسا ہے۔

یہ فیض ہے آپﷺ کا کہ چودہ صدیاں بعد والا بندہ مومن جمادات سے بات کر لیتا  ہے اور ان کی سن لیتا ہے۔معجزہ  یہ ہے کہ بد ترین کافر ایک وقت کےلیے ایسا کر دیا کہ اُس نے جمادات کی باتیں سن لیں۔معجزہ نبویﷺ  کا اصل تابناک پہلو  یہ  ہے جس کی طرف آج شایدکسی کی نظر بھی نہیں جاتی۔

یہی حال کرامات اولیاء کا ہوتا ہے۔کرامت یہ ہے کہ کتنے لوگوں کی اصلاح  ہوئی۔عقائد درست ہوئے  یا  اعمال کی اصلاح  نصیب  ہوئی اور یہی اہل اللہ کا کمال ہے کہ وہ اقامت دین کا کام کر جاتے ہیں۔جو کام تقریروں،تحریروں اور بڑے بڑے جلسوں سے نہیں ہوتا وہ خاموشی سے کر جاتے  ہیں۔دلوں کو ذا کر  بنا  کر روشن کر دیتے  ہیں۔جس کے سبب عملی زندگی کی اصلاح ہوتی ہے۔ بندہ نے حضرت جی ؒ  کی ربع صدی کی رفاقت میں دیکھا کہ کسی آنے  والے کو  ٹوکتے  نہ تھے اور نہ ہی پوچھتے تھے کہ دیوبندی، بریلوی ،اہل حدیث،کون ہو؟مگر دوسرے ہی روز اس بندے کو  خود سے اصلاح عقائد واعمال کی فکر دامن گیر ہو جاتی تھی۔کہ کمال بھی برکاتِ نبوت  کا  ہے  جو  اہل اللہ کے طفیل نصیب  ہوتی  ہیں۔


ذکرِ قلبی اور لطائفِ روحانی - کنوزِ دل شرح رموزِ دل تصنیفِ لطیف حضرت مولانا محمد اکرم اعوانؒ - سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ

0 Comments

 ذکرِ قلبی

ارشاد نبویﷺ ہے کہ جسم کے اندر گوشت  کا ایک لوتھڑا ہے اگر وہ درست اور صالح ہے تو  سارا  بدن  صالح  ہے، اگر   وہ  فساد زدہ  ہے تو  سارا  بدن فساد کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔ (ألَا اِنَّ فِی الْجَسَدِ لَمُضْغَۃً اِذَا صَلُحَتْ صَلُحَ الْجَسَدُ کُلُّہ وَاِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّہ ، الَاَ وَہِیَ الْقَلْبُ) تو قلب سے مراد،گوشت کے لوتھڑے یعنی دل( جو خون پمپ کرنے کی مشین ہے) کے اندر ایک لطیفہ ربانی ہے۔اور عالم امر سے ہے۔

لطائف

جس طرح بدن کے اعضاء رئیسہ ہیں اسی طرح روح کے اعضاء رئیسہ ہیں۔بدن مادی ہے،اعضاء بھی مادی ہیں۔مگر روح عالم امر سے ہے لہٰذا     اس کے اعضائےرئیسہ بھی عالم امر سے ہیں ان کو لطائف کہا جاتا ہے۔

حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ اپنے مکتوبات میں تحریر فرماتے ہیں  کہ انسان  پانچ نہیں دس چیزوں سے بنا ہے۔پانچ اجزائے بدن ہیں اور پانچ لطائف روحانی۔بدن کے اجزاءمٹی، آگ،ہوا،پانی اور ان کے ملنے سے نفس بنا۔جبکہ روح کے پانچ لطائف ہیں۔قلب،روح،سری،خفی اور اخفا۔یہ پانچوں لطائف ہر روح میں موجود ہیں  اور انھیں میں انوارات کو قبول کرنے،محسوس کرنے اور کیفیات پانے کی استعداد ہے۔

یہ پانچویں لطائف تو بنیاد ہیں۔حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ نے تو ان پروارد  ہونے والے انوارات کے رنگ بھی تحریر فرمائے ہیں۔نیز مختلف سلاسل  میں ان پانچویں کو بنیاد  مانا جاتا ہے۔اپنے اپنے ذوق کے مطابق بعض نے لطائف بیان فرمائے کہ سات ہیں اور بعض کے نزدیک گیارہ بھی ہیں۔یہ تو جیہات ذوقی ہیں۔یعنی کشف ومشاہدہ اپنا اپنا ہے۔لیکن سب کی بنیاد یہی پانچ ہیں اور پھر پانچ کا حاصل بھی ایک ہے لطیفہ قلب۔کہ سب اذکار کا حاصل آخر اسی کی روشنی اور جلا ہے۔

ہمارے ہاں سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ میں سات لطائف پہ ذکر کیا جاتا ہے۔جن میں چھٹا لطیفہ نفس ہے،ساتواں لطیفہ سلطان الاذکار۔نیز ان کے مقامات بیان ہوئے ہیں اور یہ اختلاف اپنے اپنے ذوق اور مشاہدے پر مبنی ہے ورنہ منزل سب کی ایک ہے اور شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے رائے  کا  اختلاف باعث برکت ہوا کرتا ہے ۔ الحمدللہ۔ہر آدمی کی اپنا مزاج اور اپنا ذوق ہوتا ہے۔کسی کو ایک طریقہ زیادہ مفید ہے تو کسی کو دوسرا۔یہی وجہ ہے کہ بعض شیوخ طالب کو دوسرے شیخ کے پاس  بھیج دیتے تھے کہ تمہارا حصہ وہاں ہے۔اس سے یہ سمجھنا صحیح نہیں ہے کہ ولایت کوئی جاگیر ہے اور مختلف لوگوں کے پاس اس کے مختلف حصے ہیں بلکہ  وہ ان کا ذوق دیکھ کر اندازہ فرماتے تھے کہ انھیں وہاں سے فائدہ ہو گا۔وگرنہ تو ہر مومن ولی اللہ ہے۔یہ رسید ہے اس بات کی کہ اللہ ہر مومن کا دوست ہے اور اسے ایک درجہ ولایت کا حاصل ہے ہاں مشائخ اسے پالش فرماتے ہیں اور مزید قرب الہی نصیب ہوتا ہے۔مزید توفیق عمل نصیب ہوتی ہے تو قرب الہی میں مزید ترقی نصیب ہوتی ہے اور درجہ احسان یعنی حضور حق کا ادراک نصیب ہوتا ہے۔ 

ذکر کی اقسام - کنوزِ دل شرح رموزِ دل تصنیفِ لطیف حضرت مولانا محمد اکرم اعوانؒ - سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ

0 Comments

 

       ایمان لانا ایک عمل ہے اور اس میں اللہ کریم کی یاد موجود ہے لہٰذا ذکر ہے۔

       دین کا علم حاصل کرنا بہترین اعمال میں سے ہے اور اللہ کی یاد اس میں موجود ہے لہٰذا ذکر ہے۔

       (الف)ہر عمل(جو بھی ہو) خواہ فرض ہو یا واجب ،سنت ہو یا مباح اس میں اللہ کریم کی یاد موجود ہے لہٰذا ذکر ہے۔اس میں عبادت سے لے کر امورِ دنیا تک سب شامل ہیں۔ یہ ذکرِ عملی کہلاتا ہے۔نیز اس میں ذکر لسانی بھی شامل ہوتا ہے کہ عبادات میں تلاوت، تسبیحات ذکر لسانی ہیں۔ اسی طرح دین پڑھنا، پڑھانا، تبلیغ، سب ذکر میں شامل ہیں کہ ان میں اللہ کریم کی یاد موجود ہے۔

            (ب) اگلی قسم ذکرِ لسانی ہے، تسبیحات، اوراد، درود شریف، تلاوت یہ سب ذکرِ لسانی میں شامل ہیں۔

           
(ج) اس سے آگے تیسری قسم ذکرِ قلبی ہے۔

            قلب ایک لطیفہ ربانی ہے جو اس گقشت کے لوتھڑے کے اندر ہے جس کے بارے ارشادِ نبوی علیہ الصلوٰۃ و السلام کے ارشاد کا مفہوم ہے کہ جسم کے اندر ایک لوتھڑا ہے۔ اگر یہ درست ہے تو سارا بدن درست ہے اور اگر یہ کراب ہے تو سارا بدن خراب ہے۔ جان لو یہ دِل ہے ۔ او کما قال رسول اللہ ﷺ

اس (ذکرِ قلبی ) کے احکام بھی موجود ہیں ۔ حتیٰ کہ صاحبِ تفسیرِ مظہریؒ نے تو لکھا ہے کہ ذکرِ قلبی کا حصول ہر مسلمان مردو عورت پر واجب ہے اور احکام کیلئے صرف دو حوالے پیش کیے ہیں۔

       حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کو فرعون کے پاس روانہ فرماتے ہوئے ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَلَا تَنِيَا فِي ذِكْرِي    (طہ۔42)             یعنی میرے ذکر کی طرف توجہ ثانوی نہ ہو جائے۔          

نبی کا ہر ذرہ بدن نہ صرف ذاکر ہوتا ہے بلکہ ذاکر گر ہوتا ہے کہ جو چیز مَس ہو جائے ذاکر ہو جاتی ہے۔ لہٰذا نبی کی شان سے عدم ذکر تو ممکن نہیں ہاں فرعون ایک جابر و ظالم حکمران ،کرّوفر، لاؤ لشکر اور شان و شوکت والا دربار اور وہ اپنی خدائی کا دعویدار، اسے دعوتِ اقرارِ توحید دینا وہ بھی بے سرو سامانی کی حالت  میں ، یہ کام اللہ کا نبی ہی کر  سکتا ہے۔

تاکید فرمائی کہ اس حال میں بھی اوّل توجہ میرے ذکر کی طرف رہے اور فرعون سے کلام ثانوی درجہ میں ہو۔ یہ صورت ذکرِ قلبی کے علاوہ کوئی نہیں ہو سکتی۔

        دوسرا حکم خود سورۃ مزمل میں آتا ہے۔ آقائے نامدار ﷺ کو خطاب فرما کر فرمایا:

وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَتَبَتَّلْ إِلَيْهِ تَبْتِيلًا سورۃمزمل۔8

کہ اپنے پروردگار کے نام کا ذکر کریں یعنی اللہ،اللہ،اللہ اس درجہ کریں کہ ماسوا اللہ(اللہ کے سوا) کسی کی خبر نہ رہے۔ یہاں تلاوت کا حکم الگ گزر چکا تو یہ سب ، ذکرِ اسم ِ ذات اور ذکرِ قلبی ہے۔ ہاں توفیق اللہ کریم کے پاس ہے کہ سمجھنےنکا شعور عطا فرمائے۔